قوموں کی عزت ہم سے ہے- مدیحۃالرحمن

آٹھ مارچ کو ساری دنیا کی خواتین اقوام متحدہ کے تحت عورتوں کا عالمی دن مناتی ہیں۔عورتوں کے ساتھ جو صنفی امتیاز برتا جاتا ہے ان پر تشدد کرکے انھیں حقوق سے محروم کیا جاتا ہے ان عورتوں کا یہ حق ہے کہ اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر آکر دنیا کو اس طرف متوجہ کریں۔

بحثیت مسلمان عورت ہمیں اپنے حقوق مانگنے سے نہیں ملے۔آج سے چودہ سو برس پہلے حقوقِ خواتین کا مکمل اور جامع چارٹر اسلام نے دنیا کے سامنے پیش کیا۔۔۔ولقد کرمنا بنی آدم ۔۔یہ قرآن کا ارشاد ہے۔یعنی اکرام میں قدر ومنزلت میں عورت مرد کے درمیان کوئی تفریق نہیں ہے۔انکی قدر ومنزلت مشترکہ ہے ۔ہم دیکھتے ہیں کہ جنت میں جانے کے لئے جنس نہیں ۔۔من عمل صالحا شرط ہے ۔یعنی نیک عمل چاہے مرد کرے یا عورت اس کا درجہ اس کے اعمال سے متعین ہوگا۔روز حشر ایسا نہیں ہوگا کہ مرد کے اعمال کو فوقیت دی جائے گی یا عورت کے ساتھ دوسرے درجے کے شہری جیسا سلوک کیا جائےگا۔

قرآن کی روح مساوات کا درس دیتی ہے۔بلکہ مردوں کو زیادہ ذمہ دار ٹہراتی ہے اور عورت کے حقوقِ کی نگرانی میں شریعت مرد پر بوجھ ڈالتی ہے نہ صرف کفالت کا بلکہ عورتوں کے احساسات وجذبات کا خیال رکھنے کا بھی۔کائنات میں انسانی وجود کی تخلیق جیسا نازک کام شریعت نے ماں کے حوالے کیا ہے اسی لیے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کو قواریر یعنی نازک آبگینہ سے تشبیہ دے کر اس کو جو مقام دیا رہتی دنیا تک یہ خوب صورت خطاب اس سے کوئی نہیں چھین سکتا۔

اب بات آتی ہے کہ مرد کیوں یہ کام کرے اور عورت کیوں خانگی زمہ داری کا بوجھ اٹھائے۔ہمارے خاندان ہماری جنت ہیں۔عورت اپنے گھر کی ملکہ ہے۔کاموں کی تقسیم کار فرق اس کی نفسیات کے حساب سےہے۔اگر اسلام میں عورت کے مقام کی بات کریں تو رسالت کی پہلی گواہی عورت یعنی حضرت خدیجہ کی ہے۔اسلام کی پہلی شہید ایک عورت حضرت سمیہ ہیں۔عورت کو اس کی صلاحیتوں کے استعمال سے نہیں روکا گیا نہ ہی حالت مجبوری یا ہنگامی حالات میں اس پر قدغن ہے۔اس کی اس سے بڑی گواہی کیا ہوگی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۂ احد کے موقع پر فرمایا کہ میرے دائیں بھی عمارہ تھی بائیں بھی عمارہ۔آگے بھی اور پیچھے بھی۔۔انکے جسم کے پر تیروں کے درجنوں نشانات تھے۔

اسلام میں عورت کا کردار ایک زندہ اور جاندار کردار ہے۔اسلام نے جتنی آزادی اکرام کے ساتھ اسے عطا کی ہے تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔البتہ ہمیں آزادی کا مفہوم نہیں بدلنا چاہیے.
اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت پاکستانی عورت بے شمار مسائل کا شکار اور ناحق بوجھوں تلے دبی ہوئی ہے۔یہ بوجھ معاشی بھی ہیں،معاشرتی بھی،روایتی اور قبائلی بھی۔ہمیں عورتوں کے حقوق کے لیے جدوجہد کرنا ہے اور مجبور عورت کی آواز بننا ہے۔ شریعت نے اور آئین و قانون نے اسے جو تحفظ دیا ہے اس کے لیے آواز اٹھانا پاکستانی عورت کا حق ہے۔.

اس سارے منظر نامے میں پچھلے کچھ سالوں سے ایسی آوازیں ایسے نعرے اور ایسے نظریات کا غلبہ ہونا شروع ہو گیا ہے جو کسی بھی طور پاکستانی عورت کی نمائندہ آوازیں نہیں ہیں. اس سے نہ صرف یہ کہ عام پاکستانی عورت کا امیج مسخ ہو رہا تھا بلکہ سب سے بڑا نقصان یہ تھا کہ عام عورت کے اصل مسائل پس منظر میں جا رہے تھے. جب ایشوز کی جگہ نان ایشوز کو دے دی جائے تو ایشوز ختم نہیں ہو جاتے لیکن دب جانے کی وجہ سے حل سے محروم ہو جاتے ہیں.

اس بات سے کسی کو انکار نہیں کہ ہماری عورت کو اپنے حقوق کے حصول کے لیے ابھی کئی مشکلات سے گزرنا ہے مگر ان مشکلات کے اظہار کے لیے ایک سوبر سنجیدہ اور با وقار اظہار پاکستان اور پاکستانی عورت دونوں کی درست نمائندگی کرتا ہے۔ اگر اس نمائندگی کا حق از خود ایک ایسا طبقہ لے لے جس کے نزدیک مسائل کا حل مادر پدر آزادی ہے تو یقیناً اصل مسائل میں گھری عورت مزید مشکلات اور دباؤ کا شکار ہو گی نہ کہ حل کیطرف بڑھے گی۔

عورت ہمیشہ سے عزت کے قابل سمجھی جاتی رہی اور اب اس عزت کو ننگے منہ سے وابستہ کر کے ،اسکو مزید بے حیائی کی طرف موڑنے کی سر توڑ کوششوں میں شامل ہونا ہمیں ہرگز زیب نہیں دیتا۔۔۔کیونکہ ہم جانتے ہیں ہمارے دشمن کو مرد کی داڑھی سے کہیں زیادہ عورت کا حجاب خوف زدہ کرتا ہے۔

اسی لیے وہ ایسے اوچھے ہتھکنڈوں کو استعمال کر کے چند عاقبت نا اندیش خواتین کو “آزادی” کے نام پہ دھوبی کے اس کتے کی مانند بنا رہا ہے جو نہ گھر کا رہتا ہے نہ گھاٹ کا۔۔۔ضرورت اس امر کی ہے کہ بلی کو دیکھ کر کبوتر کی طرح آنکھیں بند نا کی جائیں بلکہ معاشرے کو باوقار عورت کا اصل چہرہ دکھایا جائے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com