عورت کا مقام قرآن و سنت کی روشنی میں - مولانامحمد طارق نعمان گڑنگی

عورت ایک بہترین خداکاتحفہ ہے اگراللہ کی طرف سے یہ تحفہ بیٹی کی صورت میں ملاہے تونعمت ہے اگرماں کی صورت میں ملاہے تواس کے قدموں تلے جنت ہے اوراگربیوی کی صورت میں ملاہے توزندگی کابہترین ساتھی ہے اگربہن کی صورت میں ملاہے تووہ جنت کاپھول ہے ۔

اسلام نے عورت کوجومقام ومرتبہ دیادنیاکاکوئی بھی مذہب اسے اس طرح کارتبہ نہیں دیتا۔پیارے مذہب اسلام سے پہلے عورت تحت الثریٰ تھی اسلام نے اس کوفوق الثریاپہنچادیا۔ اس سے پہلے وہ کانٹوں کے بستر پہ تھی اسلام نے اسے پھولوں اورریشم کی سیج پہ بٹھادیا،اس سے پہلے موت وحیات کی چکی میں پس رہی تھی اسلام نے اسے زندگی کاانمول تحفہ عطاکیا،اس سے پہلے وہ بتوں اوردیوتائوں کی بھینٹ چڑھادی جاتی تھی اسلام نے اسے جنت کاضامن بنادیا۔

غیراسلامی تہذیبوں میں عورت کی حق تلفی ہوئی ہے اس کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے اسے ذلیل اورمنحوس سمجھاگیاہے اسے فساد کی جڑثابت کیاگیاہے ،رومیوں نے عورت کوجانورکامقام دیا،نکاح کوعورت کے خریدنے کاذریعہ سمجھاجاتاتھامعمولی سی بات پہ عورت کوموت کی بھینٹ چڑھادیاجاتاتھا،عورت کوبہترین الماری میں سجاکے بازار کی زینت بنایاجاتاتھا،میراث میں بھی عورت کاحق نہیں تھا۔

اہل عرب زمانہ جاہلیت میں لڑکیوں کوزندہ درگور کیاکرتے تھے ان کی کفالت کوایک بوجھ سمجھاجاتاتھاان کورہن اورضمانت کے طورپہ رکھاجاتاتھایہودیوں کے ہاں کافی عرصہ تک اس بات میں بھی اختلاف چلتارہاکہ آیاعورت انسان بھی ہے یانہیں ؟بہت سے لوگوں کایہ خیال تھا کہ عورت انسان نہیں بلکہ مردوں کی خدمت کے لیے انسان نماایک حیوان ہے ۔عیسائیوںکے ہاں عورت کی قدروقیمت کااندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ 582؁ء میں کلیساکی ایک مجلس نے یہ فتویٰ دیاتھاکہ عورتیں روح نہیں رکھتیںجس وقت کلیساکی مجلس یہ فتویٰ صادر کر رہی تھی کہ عورتوں میں روح نہیں ہوتی ۔

اس سے چندسال پہلے جزیرۃ العرب میں اللہ پاک کاوہ آخری نبی پیداہوچکاتھاجوتمام انسانوں کے حقوق کامحافظ ونگران تھااللہ پاک کے آخری نبی ﷺنے عورت کواسی وقت یہ مقام ورتبہ دیتے ہوئے فرمایاکہ:مجھے تمہاری دنیامیں خوشبواورعورتیں پسندہیں اورمیری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز ہے۔ایک سفر میںحضرت انجشہ کوتیزاونٹ چلاتے رسول اللہﷺنے دیکھاتوفرمایا’’دیکھنایہ آبگینیں ہیں ذراآہستہ چلو‘‘اس اونٹنی پرعورتیں سوارتھیںایک اورحدیث شریف میں فرمایاکہ عورتیں مردوں کی بہنیں اوردوسراحصہ ہیں۔

لیکن آج اس بات پہ تعجب ہوتاہے کہ بعض لوگ اسلام کوعورتوں کے حقوق کاغاصب قراردیتے ہیں ذراان ہیں یہ بھی سوچناچاہیے کہ اسلام کے علاوہ کوئی اوردوسرامذہب ہے جس نے اچھی بیوی کوآدھاایمان قراردیاہو؟جس نے بیوائوں کوعزت کے منصب پہ بٹھایاہو؟جس نے عورت کے حسن وجمال کونہیں بلکہ عورت ہونے کاقابلِ احترام ٹھرایاہو؟یادرکھیے !عورت کی نمایاں حیثیتیں چار ہیں۔

بیٹی ہونے کی حیثیت،بیوی ہونے کی حیثیت ،ماں ہونے کی حیثیت،بہن ہونے کی حیثیت ان چاروں حیثیتوں کے اعتبار سے جوعظمت وعزت اورمحبت اسلام نے عورت کودی ہے دنیاکے کسی قانون اورمذہب نے نہیں دی ہے۔

مذہب اسلام میں توہر عورت یہ صدالگاتی ہے کہ

میں بیٹی ہوں توایک ـ’’رحمت ‘‘ہوں

بہن ہوں توایک’’دعا‘‘ہوں

ماں ہوں توایک’’جنت ‘‘ہوں

بیوی ہوں توروح کا’’سکون ‘‘ہوں

قرآن کابیان عورت کامقام

بیٹیوں کے ساتھ زمانہ جاہلیت میں جوسلوک روارکھاجاتاتھاقرآن پاک اس کے بارے میں یوںکہتاہے۔اورجب گاڑھی ہوئی لڑکی سے پوچھاجاوے گاوہ کس گناہ پرقتل کی گئی تھی(سورۃ التکویر)
قیامت کے دن زندہ دفن کی جانے والی بچی سے پوچھاجائے گاتجھے کس جرم میں قتل کی گیاتھا؟کیاتونے کسی کوستایاتھا؟کسی کاخون بہایاتھا؟کسی کادل دکھایاتھا؟آخرکیاجرم کیاتھاتونے؟جس کی پاداش میں تمہیں زندہ درگورکردیاگیا۔

قرآن مجید میں ایک اورمنظربھی ملتاہے کہ جب ان جاہلوں کوبتایاجاتاکہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں بیٹی دی ہے توان کی حالت یہ ہوتی تھی کہ شرم کے مارے چھپتے پھرتے،ان کادل غم سے پھٹنے لگتاتھا،ان کے چہرے پہ نحوست اوربدبختی کی سیاہی پھیل جاتی وہ اپنی لخت جگرکوزندہ درگورکرنے کی سوچنے لگتے اللہ پاک کلام پاک میں فرماتے ہیں۔اورجب ان میں سے کسی کوبیٹی کی خبردی جاوے توسارے دن ان کاچہرہ بے رونق رہے اوروہ دل ہی دل میں گھٹتارہے،جس چیزکی اس کو خبردی گئی اس کی عار سے لوگوں سے چھپتاپھرے آیااس کوذلت پرلیے رہے یا اس کومٹی میں گاڑدے ،خوب سن لو ان کی یہ تجویزبہت ہی بُری ہے(سورۃ النحل)

حضرت عمرؓ فرمایاکرتے تھے کہ زمانہ جاہلیت میں ہم عورتوں کوکچھ نہیں سمجھتے تھے نہ ان سے کوئی مشورہ لیتے تھے ایک طرف یہ جاہلیت تھی یہ معاشرہ تھاجس میں بیٹی کاہوناباعث شرم تھاوہ نحوست سمجھی جاتی تھی ،بدبختی کی علامت تھی لیکن دوسری طرف اسلام نے اسے عزت کامقام دیا دلوں میں اس کی محبت کیسے پیداکی حدیث پاک میں آتاہے جس کی کوئی بیٹی ہووہ اسے زندہ دفن نہ کرے نہ اس کی توہین ہونے دے نہ بیٹے اس پرترجیح دے تواللہ اسے جنت میں داخل کرے گا۔

حضرت انس بن مالک ؓ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایاجس نے دولڑکیوں کی پرورش کی یہانتک کہ وہ بلوغ کوپہنچ گئیں توقیامت کے روز میںاوروہ اس طرح آئیں گے جیسے میرے ہاتھ کی دوانگلیاں ساتھ ساتھ ہیں ۔حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ آپ ﷺنے یہ فرماتے ہوئے اپنی انگشت شہادت والی انگلی کوساتھ ملاکردکھایا۔ان دونوں انگلیوں میں چھوٹابراہونے کے اعتبارسے کچھ فرق توہے لیکن ہیں بہرحال دونوں ایک ساتھ ساتھ ۔

ایک اورروایت میں ملتاہے کہ جس کے ہاں لڑکیاں پیداہوں اوروہ ان کی اچھی طرح پرورش کرے تویہی لڑکیاں اس کے لیے دوزخ سے آڑبن جائیں گی۔یہ توبیٹی ہونے کے لحاظ سے عورت کامقام ومرتبہ بتایاجارہاتھاآئیے عورت بحثیت بیوی ہونے کے اسلام اس کوکیاعزت ومقام دیتاہے دیکھتے ہیں ۔آج ہمارے معاشرے میں عورت کومظلوم ثابت کرنے کے لیے سب سے زیادہ اس بات کواچھالاجاتاہے کہ بحثیت بیوی عورت پہ ظلم ہوتاہے ایک بات واضح ہے کہ اگر کوئی اپنے آپ کومسلمان کہنے والاناجائزکام کرتاہے تواس کی ذمہ داری دین اسلام پہ نہیں ڈالی جاسکتی اسلام نے تواس بات کادرس دیاہے کہ تم میں سے بہترین وہ لوگ ہیں جو اپنی عورتوں کے حق میں بہترین ہوں ۔

حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا(لوگو!جان لوکہ )تم میں سے بہتر وہ ہے جواپنے گھروالوں کے لیے بہتر ہو(اورجان لوکہ)تم میں سے سب سے بہتراپنے گھروالوں سے حسن سلوک کرنے والا میں خود ہوں ۔حضوراکرم ﷺ کوعورتوں کے حقوق کا اس قدرخیال تھا کہ آپ نے حجۃ الوداع کے موقع پہ بھی عورتوں کے ساتھ بہتر سلوک کرنے کی ہدایت فرمائی آپ ﷺ نے فرمایا:پس عورتوں کے بارے میں تم اللہ سے ڈروکیوںکہ تم نے ان کواللہ کے عہد کے ساتھ لیاہے ۔

اورتم نے ان کی شرمگاہوں کواللہ تعالیٰ کے حکم کے ساتھ حلال کیاہے اوراپنی وفات سے چندلمحے پہلے جن اہم باتوں کی امت کوتلقین فرمائی ان میں سے ایک یہ بات بھی ہے نماز کاخیال رکھنااورجن کے تم مالک ہوان کاخیال رکھناعلماء فرماتے ہیں کہ’’ جن کے تم مالک ہو‘‘ان میں بیویاں بھی شامل ہیں نبی پاک ﷺمکہ سے ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے توبعض صحابہ نے شکایت کی کہ عورتیں سرکش ہوتی جارہی ہیں توآپ ﷺنے کچھ سختی کرنے کی اجازت دی اس اجازت کافائدہ اٹھاکربعض لوگوں نے اچھی خاصی پٹائی بھی کردی آپ ﷺ نے تمام لوگوں کومسجد میں جمع فرمایااور ان کے سامنے خطبہ ارشاد فرمایا:

آج محمد(ﷺ)کے گھروالوں کے پاس ستّرعورتوں نے چکر لگایاہے ہرعورت اپنے شوہرکی شکایت کررہی تھی (میں تم سے کہہ دیناچاہتاہوں کہ )جن لوگوں کی شکایت آئی ہے وہ تم میں اچھے لوگ نہیں ہیں۔اسلام میں عورت کامقام ومرتبہ روزروشن کی طرح عیاں ہے ہمیں بھی چاہیے کہ قرآن وسنت کوسامنے رکھتے ہوئے عورت کووہ حقوق دیں جواللہ اوراس کے رسولﷺ نے دیے ہیں اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کوقرآن وسنت پہ عمل کی توفیق عطافرمائے(آمین)

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com