والدین سے حسنِ سلوک سے پیش آؤ - ڈاکٹر میمونہ حمزہ

اللہ کی اطاعت کے بعد قرآن والدین سے نیک سلوک کی تلقین کرتا ہے، گویا انسان پر مخلوقات میں سے سب سے بڑا حق اس کے ماں باپ کا ہے، اولاد پر لازم ہے کہ وہ والدین سے حسنِ سلوک سے پیش آئیں، ان دونوں سے حسنِ معاشرت اختیار کریں، اور ان سے نرمی سے پیش آئیں، قرآن کریم میں ارشاد ہے:

’’اور تمہارے رب نے فیصلہ کر دیا کہ اس کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو، اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آؤ، اگر تمہارے پاس ان دونوں میں سے ایک یا دونوں، بوڑھے ہو کر رہیں تو انہیں اف تک نہ کہو، بلکہ ان کے ساتھ احترام سے بات کرو، اور نرمی اور رحم کے ساتھ ان کے سامنے جھک کر رہو، اور دعا کیا کرو کہ ’’اے پروردگار، ان پر رحم فرما، جس طرح انہوں نے مجھے رحمت و شفقت کے ساتھ بچپن میں پالا تھا‘‘۔ (الاسراء، ۲۴۔۲۳)

قرآن کریم اپنے بلند صوتی آہنگ سے اولاد کے دل میں والدین سے نیکی اور رحمت کا گوشہ کھولتا ہے، کہ یہی زندگی ہے، اور یہی زندوں کا طریقِ زندگی ہے، کیونکہ آگے کی طرف دیکھنے والے اولاد کے حقوق کا تو بہت اہتمام کرتے ہیں، اور ان کی پرورش کی کٹھن ذمہ داریاں اٹھاتے ہیں، جو کہ آنے والی نسل کی تربیت ہے، لیکن ان کی پیچھے کی جانب توجہ اور اہتمام کم ہو جاتا ہے، یعنی والدین کی جانب، جو چراغِ سحری ہیں، یہاں اولاد کو متوجہ کیا جا رہا ہے کہ ان والدین کے ساتھ مہربانی سے پیش آئے۔

والدین فطری طور پر اولاد کی نگہداشت کرتے ہیں اور اس کے لئے ہر قربانی دیتے ہیں، حتی کہ اپنی ذات کی بھی، بالکل ایسے ہی جیسے ایک پودا اپنے وجود میں دانے یا پھل کی تخلیق کرتا اور اسے پکنے تک اپنی غذا سے حصّہ دیتا ہے، جیسے ایک چوزہ انڈے کے اندر غذا پاتا ہے، اسی طرح اولاد بھی اپنے والدین کی زندگی کے ہر پہلو سے حصّہ پاتی ہے، اور والدین بڑھاپے تک اس کی فکر میں غلطاں رہتے ہیں، اور وہ یہ سب خوشی سے کرتے ہیں!

رہی اولاد، تو وہ بہت جلد یہ سب کچھ بھول جاتی ہے، ایک ننھی سی کونپل کو تناور درخت بنانے میں والدین کی کس قدر مشقت اور محنت اور قربانی شامل ہے، اور وہ اپنی زندگی میں مگن ہو جاتی ہے، جہاں انکے ازواج اور اولاد ہیں ۔۔ اور زندگی کا ایک نیا دور شروع ہو جاتا ہے۔والدین اولاد کی نصیحتوں کے محتاج نہیں ہوتے، بلکہ انہیں تو ایسی نسل کی ضرورت ہے جو ان کے احسانات کو یاد رکھے، جو یاد رکھے کہ اس سوکھے بڑھاپے کی جوانی کی طاقتیں اس پر خرچ ہوئی ہیں!

اللہ تعالی نے والدین کے ساتھ احسان کرنے کو ’’قضی‘‘ (فیصلہ کردیا) کہہ کر تاکید کی صورت میں بیان کیا، اوراور اللہ کی بندگی کے بعد اس کا حکم دے کر اس کی تاکید میں بھی اضافہ کر دیا۔ (دیکھئے: فی ظلال القرآن، سید قطب، ص۲۲۲۱)

حافظ ابو بکر البراز نے( اپنی مسند میں ذکر کیا ہے)، بریدہ سے اور انہوں نے اپنے باپ سے روایت کی ہے، کہ ’’ایک شخص اپنی ماں کو اٹھائے ہوئے طواف کر رہا تھا، اس نے نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا: کیا میں نے اس کا حق ادا کر دیا؟ آپؐ نے فرمایا: نہیں، اس کی ایک (تھکاوٹ سے نکلنے والی) آہ کا بھی نہیں۔قرآن کریم میںکئی مقامات پر والدین سے حسنِ سلوک کی تلقین کی گئی ہے۔(البقرۃ۸۳، الاحقاف۱۵، النساء۳۶، الانعام ۱۵۱،العنکبوت۸، لقمان ۱۴،اور الاسراء۲۳۔۲۴)

اورحضرت یحییؑ کی والدین سے فرمانبرداری اور حضرت عیسیؑ کی زبان سے بھی سورہ مریم میں والدہ سے نیک سلوک کا اظہار کیا گیا اور اسی سورہ میں حضرت ابراہیمؑ کی اپنے والد کو نیکی کی راہ پر لانے کی جد و جہد کو بہترین پیرائے میں بیان کیا گیا، ان کے والد نے بڑی سختی سے اس دعوت کو رد کر دیا مگر ابراہیمؑ کی والد سے نیکی پھر بھی قائم رہی، انہوں نے والد سے دعائے مغفرت کا وعدہ بھی کر لیا اور ان کے لئے رب سے مغفرت بھی مانگی، ’’اور میرے والد کو بخش دے، بے شک وہ گمراہوں میں سے ہے‘‘۔(سورہ الشعراء، ۸۶)

غیر معصیت اللہ میں اطاعت
اللہ تعالی نے اپنے بندوں کو والدین کی اطاعت کی وصیت کی، (یہی وصیت پہلی امتوں کو بھی تھی، سورہ البقرہ ۸۳ میں یہودیوں کے اللہ سے عہد کا ذکر ہے) اور اس اطاعت کی حدود یہ ہیں ’’کہ اللہ کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت نہیں‘‘، پس والدین کی اطاعت بھی اللہ کی اطاعت کی حدود میں ہو گی۔ والدین بچے کو دنیا میں لانے کا ذریعہ ہے، اس کی تخلیق ان کے وجود سے ہوتی ہے، وہ ان کے جسم کا حصّہ اور جگر کا ٹکڑا ہے، اس کی پیدائش کے ہر مرحلے میں ان کا بنیادی کردار اور بہت سی قربانیاں شامل ہیں، ماں وہن پر وہن اٹھا کر اسے دنیا میں لاتی ہے، اور دو سال تک اسے اپنے جسم سے غذا فراہم کرتی ہے، باپ اس کی پرورش کی مالی ذمہ داری بھی اٹھاتا ہے۔

اور خون پسینہ ایک کر کے اس کی پرورش کرتا ہے، والدین اس کی تربیت اور تعلیم کے لئے سرگرم رہتے ہیں، تاکہ وہ جوان ہو کر اس معاشرے کی ذمہ داریوں کو اپنے کندھوں پر اٹھا لے، اور اللہ کا بہترین خلیفہ بنے۔ والدین کی اتنی خدمت اور قربانی کا صلہ ادا کرنا مشکل ہے، اللہ تعالی نے اولاد کو محض چند حقوق ادا کرنے کا حکم نہیں دیا بلکہ والدین سے نیک رویہ اختیار کرنے اور ان سے حسنِ سلوک کی تاکید کی اوراللہ تعالی نے اپنے بعد ان کی اطاعت اور ان سے حسنِ سلوک کا حکم دیا ہے، اور اس اطاعت کی حدود مقرر کرکی ہیں:

’’اگر وہ (والدین) تجھ پر دباؤ ڈالیں کہ میرے ساتھ تو کسی ایسے کو شریک کرے جسے تو نہیں جانتا تو ان کی بات ہرگز نہ مان۔ دنیا میں ان کے ساتھ نیک برتاؤ کرتا رہ مگر پیروی اس شخص کے راستے کی کرجس نے میری طرف رجوع کیا ہے۔پھر تم سب کو میری ہی طرف پلٹنا ہے، اس وقت میں تمہیں بتا دوں گا کہ تم کیسے عمل کرتے رہے ہو‘‘۔ (لقمان، ۱۵)
ایک اور آیت میں فرمایا:

’’ہم نے انسان کو ہدایت کی کہ اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرے۔ لیکن اگروہ تجھ پر زور ڈالیں کہ تو میرے ساتھ کسی ایسے (معبود) کو شریک ٹھہرائے ،جسے تو میرے شریک کی حیثیت سے نہیں جانتا تو ان کی اطاعت نہ کر۔ میری ہی طرف تم سب کو پلٹ کر آنا ہے، پھر میں تم کو بتا دوں گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو‘‘۔ (العنکبوت، ۸)

اس میں ایک جانب اہل ِ ایمان اولاد کو بتا دیا گیا ہے کہ کن معاملات میں والدین کو دباؤ ڈالنے کا حق حاصل نہیں، وہیں والدین کو بھی آگاہ کیا گیا ہے کہ اللہ کی نافرمانی میں ان کی اطاعت نہیں اور انہیں اولاد کو خدا کے راستے سے نہ روکنا چاہئے۔یہ آیات حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ کی والدہ کے بارے میں نازل ہوئیں، جب ان کی والدہ حمنہ بنت سفیان بن امیہ (ابو سفیان کی بھتیجی) کو ان کے ایمان لانے کا علم ہوا تو اس نے بیٹے سے کہہ دیا: ’’اے سعدؓ، مجھے خبر ملی ہے کہ مسلمان ہو گئے ہو، جب تک تو محمدؐ کا انکار نہ کرے گا میں نہ کھاؤں گی نہ گی پیوں گی، نہ سائے میں بیٹھوں گی۔ ماں کا حق ادا کرنا تو اللہ کا حکم ہے، تو میری بات نہ مانے گا تو اللہ کی بھی نافرمانی کرے گا‘‘۔ حضرت سعدؓ اس پر سخت پریشان ہوئے، اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں سارا ماجرا پیش کیا۔(تفہیم القرآن، ج۳، ص۶۸۰)

حضرت عبداللہؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: اللہ تعالی کا محبوب کام کیا ہے؟ آپؐ نے فرمایا: نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنا، پوچھا: پھر کون سا؟ آپؐ نے فرمایا: والدین سے نیک سلوک، میں نے پوچھا: پھر کون سا؟ آپؐ نے فرمایا: اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔(رواہ البخاری)

یعنی نماز کی پابندی کے بعد سب سے اہم عمل والدین سے نیکی کرنا ہے، اور ترتیب میں یہ جہاد سے بھی پہلے ہے۔

۔ والدین کی فرمانبرداری میں وارد آیات میں اللہ تعالی نے والدین کی فرمانبرداری کا حکم دیا ہے، اور یہ اختیاری معاملہ نہیں ہے۔

۔ اللہ تعالی نے اپنی عبادت میں کسی کو شریک کرنے سے منع کیا ہے، اور یہ عقیدہء توحید کا حصّہ ہے، اور اس نے والدین کی فرمانبرداری کو اپنی فرمانبرداری کے ساتھ رکھا ہے، جیسے ان دونوں کا شکر ادا کرنے کو اس نے اپنے شکر کے ساتھ رکھا۔(ان اشکر لی ولوالدیک) ’’میرا شکر ادا کرو اور اپنے والدین کا شکریہ ادا کرو۔

۔ ان کے ساتھ نیکی اور احسان یہ بھی ہے کہ انہیں برا بھلا نہ کہے اور ان کی نافرمانی سے بچے۔حضرت مغیرہ بن شعبہؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تعالی نے ماؤں کی نافرمانی ، کنجوسی، بھیک اور بیٹیوں کو زندہ درگور کرنا تم پر حرام کیا ہے‘‘۔ (رواہ مسلم، ۵۹۳)

عبد اللہ بن عمروؓ سے روایت ہے، کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آدمی کا اپنے والدین کو گالی دینا کبائر میں سے ہے، لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسولؐ ، کیا کوئی اپنے والدین کو بھی گالی دیتا ہے؟ آپؐ نے فرمایا: ہاں، وہ کسی کے باپ کو گالی دیتا ہے تو وہ (جواباً) اس کے باپ کو گالی دیتا ہے، پھر وہ اس کی ماں کو گالی دیتا ہے اور وہ اس کی ماں کو گالی دیتا ہے‘‘۔(رواہ مسلم)۔

کیا والدین بیٹے کو بیوی چھوڑنے کا حکم دے سکتے ہیں؟ ابنِ عمرؓ سے روایت ہے کہ میری ایک بیوی تھی، جس سے میں محبت کرتا تھا اور میرے والد (عمر بن خطابؓ) اسے پسند نہیں کرتے تھے، انہوں نے مجھے حکم دیا کہ میں اسے طلاق دے دوں، اور میں نے انکار کر دیا، اور اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا، تو آپؐ نے فرمایا، اے عبد اللہ بن عمرؓ ، اپنی بیوی کو طلاق دے دو‘‘۔ (رواہ الترمذی، حدیث حسن صحیح)

اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت عمر بن خطابؓ نے جب بیٹے کو بیوی کو طلاق دینے کا حکم دیا تو وہ اس میں کچھ ایسا دیکھ رہے تھے، جو بیٹے کو نظر نہیں آیا، اور ہم عمرؓ کے تقوی اور خوف ِ خدا کی مقدارسے واقف ہیں، کہ کئی امور میں ان کی نگاہ کتنی زیرک اور عام آدمی سے بلند تھی، اسی طرح ہمارے سامنے حضرت ابراہیمؑ کا عمل بھی ہے، کہ انہوں نے اپنے بیٹے اسماعیلؑ کو بیوی کو چھوڑ دینے کا حکم دیا ، جب انہوں نے اس میں ایسے تصرفات دیکھے جو ایک نبی کی بیوی کے شایان ِ شان نہیں تھے، (صبر اور برداشت اور شکرکے اوصاف)، اگر حکم دینے والے والدین اللہ سے ڈرنے والے اور تقوی والے ہوں، تو بیٹے کو ان کی بات مان لینی چاہئے، ورنہ وہ نافرمان کہلائے گا، اور اس معاملے کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ کیا اس بیوی سے والدین کو کوئی ضرر پہنچ رہا ہے، وہ ان کے خلاف چالیں چلتی ہے۔

اور اس نے والدین کی زندگی اجیرن بنا رکھی ہے، اور وہ تہدید اور ڈراوے کے بعد بھی اپنا معاملہ درست کرنے کو تیار نہیں، تو بہتر ہے کہ وہ والدین کے کہنے پر اسے طلاق دے دے، لیکن اگر باہمی معاملات میں اس کی بیوی اور والدین کا کوئی تعلق واسطہ نہیں ہے، وہ الگ گھر میں رہتی ہے، اور اس سے والدین کو کوئی گزند نہیں پہنچتی، تو ان دونوں یا ایک کے طلاق کے مطالبے کو پورا نہ کرنا نافرمانی میں نہیں آتا، اور بیٹا دیگر معاملات میں ان سے نیک برتاؤ کرے اور حسنِ معاملہ اختیار کرے۔رہی ان کی رائے تو وہ محض ایک مشورے کی حیثیت رکھتی ہے، جیسے کوئی شخص تجارت میں کسی سے مشورہ لیتا ہے، اب اس کی مرضی ہے کہ وہ اس مشورے کو قبول کرے یا نہ کرے۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ سے کسی متزوج شخص نے پوچھا، کہ اس کی والدہ اس کی بیوی کو ناپسند کرتی ہیں اور اسے طلاق دینے کا کہتی ہیں، تو کیا اسے طلاق دینا جائز ہے؟ امامؒ نے کہا: اسے ماں کے کہنے کی وجہ سے طلاق دینا جائز نہیں، اسے والدہ کے ساتھ نیک سلوک کرنا چاہئیے اور بیوی کو طلاق دینا ماں سے حسنِ سلوک میں شامل نہیں ہے‘‘۔ (اسلام ویب، فتوی ۱۵۴۹)
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص آپؐ کے پاس آیا اور سوال کیا: انسانوں میں سے کون میرے حسنِ سلوک کا زیادہ مستحق ہے؟

آپؐ نے فرمایا: تیری ماں، اس نے عرض کیا، پھر کون؟ آپؐ نے فرمایا: پھر تیری ماں، اس نے عرض کیا پھر کون؟ آپؐ نے فرمایا: پھر تیری ماں، اس نے چوتھی مرتبہ پوچھا: پھر کون؟ آپؐ نے فرمایا: پھر تیرا باپ‘‘۔ (رواہ البخاری) اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ ماں سے محبت اور اس سے مہربانی کرنا باپ سے تین گنا زیادہ ہے، اگر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ اولاد کے حوالے سے تین صعوبتیں اور مشقتیں ماں ہی سے متعلق ہیں؛ ۱۔ حمل کی صعوبت، ۲۔ زچگی کی تکلیف اور ۳۔ رضاعت کی مشقت، رہی تربیت تو اس میں ماں باپ دونوں کا حصّہ ہے۔

والدین سے حسن ِ سلوک صرف مسلمان کے لئے خاص نہیں، بلکہ کافر والدین سے بھی نیکی اور حسنِ سلوک کیا جائے گا، اس کا عمومی حکم تو وہی ہے کہ ہر غیر محارب سے نیکی کا معاملہ کیا جائے، اللہ تعالی کا ارشاد ہے:’’اللہ تمہیں اس بات سے نہیں روکتا کہ تم ان لوگوں کے ساتھ نیکی اور انصاف کا برتاؤ کرو جنھوں نے دین کے معاملے میں تم سے جنگ نہیں کی ہے، اور تمہیں گھروں سے ہیں نکالا ہے، اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے‘‘۔ (الممتحنہ، ۸) عار بن عبداللہ بن زبیرؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ یہ آیت اسماء بنتِ ابی بکرؓ کے بارے میں نازل ہوئی، جاہلیت میں ان کی والدہ قتیلہ ابنۃ عبد العزی ان کے پاس ہدیے لے کر آئیں، تو اسماءؓ نے ان سے کہا: نہ میں آپ کا کوئی ہدیہ قبول کروں گی، اور نہ آپ میرے پاس آئیں، حضرت عائشہؓ نے رسول اللہ ﷺ سے ان کے بارے میں سوال کیا، تو یہ آیات نازل ہوئیں۔ (تفسیر الطبری)۔

والدین سے حسن ِ سلوک اور اچھا برتاؤ کرنا، اور ان کے حقوق کی ادائیگی کی تلقین کی گئی ہے،اوروالدین کی نافرمانی کو کبیرہ گناہ شمار کیا گیا ہے، حضرت ابو بکرہؓ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس تھے، آپؐ نے فرمایا: کیا میں تمہیں (تین) سب سے بڑے گناہوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟ ہم نے عرض کیا: کیوں نہیں، آپؐ نے فرمایا: ’’اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا، ورالدین کی نافرمانی اور جھوٹی گواہی اور جھوٹی بات‘‘، آپ تکئے سے ٹیک لگائے ہوئے تھے، آپؐ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور مسلسل اسی بات کو دہراتے رہے، حتی کہ ہم نے (دل میں) کہا: کاش آپؐ چپ ہو جائیں۔ (متفق علیہ)

اور والدین سے احسان میں یہ بھی ہے کہ کفایہ جہاد میں ان کی اجازت کے بغیر شامل نہ ہوں، حضرت عبد اللہ بن عمروؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسولِ کریم ﷺ کے پاس آیا، اور جہاد کی اجازت چاہی، آپؐ نے پوچھا: کیا تیرے والدین زندہ ہیں؟ وہ بولا: جی ہاں، آپؐ نے فرمایا: ان کے پاس رہو، یہی جہاد ہے، یہ مسلم کے الفاظ ہیں اور بخاری میں اس پر اضافہ ہے: اور میں انہیں روتا چھوڑ آیا ہوں۔آپؐ نے فرمایا: جاؤ، اور انہیں اسی طرح ہنساؤ جیسے رلایا تھا۔ (متفق علیہ)

یہ حدیث اس باب میں آئی ہے کہ جب عام نفیر نہ ہو تو والدین کی اجازت کے بغیر جہاد کے لئے نہ نکلا جائے۔
۔ کیا جہاد میں نکلنے کے لئے کافر والدین کی اجازت بھی درکار ہے، اس پراختلاف ہے، ثوریؒ کہتے ہیں کہ ان کی اجازت کے بغیر جہاد نہ کرے گا، جبکہ امام شافعی کی رائے میںوہ ان کی اجازت کے بغیر جہاد میں شامل ہو گا۔

۔ والدین جن لوگوں سے محبت کرتے ہوں ان سے حسنِ سلوک بھی احسان میں داخل ہے، حضرت عبد اللہ بن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آدمی کا اپنے والد کے بعد اس کے دوستوں سے محبت کرنا بھی ان سے نیکی کی مثال ہے۔ ابو اسیدؓ بدری صحابی ہیں، وہ کہتے ہیں، میں نبی کریمﷺ کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک شخص آپ کے پاس آیا اور پوچھا: کیا اولاد پر والدین کی موت کے بعد بھی کیا کوئی حق باقی رہ جاتا ہے، آپؐ نے فرمایا:’’ ہاں، ان دونوں کے لئے رحمت کی دعا کرنا، ان کے لئے بخشش مانگنا، ان کے بعد ان کے وعدوں کو نباہنا، ان کے دوستوں کا اکرام کرنا، اور صلہ رحمی کرنا‘‘۔

رسول ِ کریمﷺ حضرت خدیجہؓ کی وفات کے بعد ان کی سہیلیوں کو ہدیہ بھجوایا کرتے تھے، وہ آپؐ کی زوجہ تھیں، تو پھر والدین کے حقوق اس سے بھی بڑھ کر ہیں۔ جب والدین بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان سے ضعف اور کبر میں بہت مہربانی اور احسان کا سلوک کرنا، انہیں اف تک نہ کہنا، انہیں نہ جھڑکنا، اور ان کے سامنے کندھے جھکا کر رکھانا اور ان کے لئے اللہ سے رحم کی دعا مانگنا؛ یہ حالت خاص ہے اور خصوصی رعایت چاہتی ہے، وہ دونوں بھی ہو سکتے ہیں اور ایک بھی، اس میں سب سے پہلے بیٹے مخاطب ہیں، کیونکہ والدین کا مسلسل محتاج ہونا، اور اپنا بوجھ نہ اٹھا سکنا بیٹوں پر بار گزرتا ہے، اور بسا اوقات ان میں ترشی آ جاتی ہے، اور وہ بلند آواز سے مخاطب کرنے لگتے ہیں۔

یہ اتنی نا پسندیدہ حرکت ہے کہ اس کا سب سے ہلکا اظہار ’’اف‘‘ بھی (جو محض منہ کی پھونک ہے) منع ہے، اور ان سے ایسا ہی معاملہ کرنے کا حکم ہے جیسے وہ ان کی تونگری میں، صحت مند اور جوان ہوتے ہوئے اختیار کرتا تھا، ’’نہ اف کہو، نہ جھڑکو، اور ان سے تکریم سے بات کرو‘‘۔حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’خاک آلود ہوئی اس کی ناک ، جس کے سامنے میرا ذکر آیا اور اس نے درود نہ بھیجا، خاک آلود ہوئی اس کی ناک، جس نے والدین کو یا ان میں سے ایک کو بڑھاپے میں پایا، اور پھر وہ (ان کی خدمت کر کے ) جنت میں داخل نہ ہوا، خاک آلود ہوئی اس کی ناک، جس نے رمضان کا مہینا پایا اور پھر جنت میں داخل نہ ہوا۔ (رواہ مسلم)(تفسیر قرطبی)

۔ اس ایک پہلو یہ بھی ہے کہ بڑھاپے میں بسا اوقات والدین اپنی حاجت بھی خود پوری نہیں کر سکتے، تو جس طرح بچپن میں انہوں نے اف کہے بغیر بچوں کی ضروریات پوری کیں، اور ان کی گندگی کو ملامت کے بغیر صاف کیا، کبر سنی میں اولاد بھی ان سے تکریم کا معاملہ کرے اور اکتاہٹ کا رویہ نہ رکھے، مجاہد کا قول ہے کہ اس سے مراد:’’بڑھاپے میں ان کا بول و براز دیکھ کر ناک بھوں چڑھانا ہے، جیسا کہ وہ تمہیں بچپن میں پال چکے ہیں، اس سے کراہت محسوس کر کے اف نہ کہو‘‘۔ یہ آیت اپنے مفہوم میں عام ہے، اور اس میں ہر طرح کے معاملے پر تنگ دلی اور زچ ہونے کا اظہار ہے۔ اف کسی رویے پر ہو یا گندگی اور بدبو کی کراہت کے اظہار کے لئے، سب اس میں شامل ہے، اور والدین کے تکریم کے خلاف رویہ ہے۔ (دیکھئے، تفسیر قرطبی)
۔ انہیں جھڑکنے سے باز رہے، اور ان سے نرمی سے بات کرے۔

انہیں نام سے بلانے کے بجائے لقب (امی جان، ابو جی، یا ایسے نام سے جس سے اظہار ِ محبت ہو) پکارے۔ابن البداح التجیبیؒ کہتے ہیں کہ میں نے ابن المسیبؒ سے پوچھا: قرآن کریم میں والدین سے نیکی کرنے کے تمام احکامات مجھے سمجھ آ گئے ہیں، سوائے اس قول کے؛ ’’وقل لھما قولاً کریماً‘‘ آپ بتائیے اس سے کیا مراد ہے، وہ بولے: ’’گناہگار غلام کی اپنے درشت رو سخت گیر آقا سے گفتگو‘‘۔ (تفسیر قرطبی)

والدین سے احسان
۔ والدین کی اطاعت کرنا اور ان کی نافرمانی سے باز رہنا، اور ان کی اطاعت کو دوسروں کی اطاعت پر فوقیت دینا، الا یہ کہ وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی معصیت پر مبنی ہو، سوائے عورت کے کہ اس کے لئے شوہر کی اطاعت کا درجہ زیادہ ہے۔

۔ قول اور عمل میں ان سے احسان کا رویہ اختیار کرنا، بلکہ ہر معاملے میں حسنِ سلوک کو اولیت دینا۔

۔ اپنے کندھوں کو ان کے سامنے جھکا کر رکھنا، یعنی ان کے سامنے پست ہو کر رہنا، اور ان سے آگے بڑھنے کی کوشش نہ کرنا۔

۔ ان کو ڈانٹ ڈپٹ نہ کرنا، ان دونوں سے مہربانی سے پیش آنا، درشت کلامی اور سختی سے بات کرنے سے گریز کرنا۔

۔ ان کے کسی حکم پر ’’اف‘‘ نہ کرنا، نہ ڈانٹنا، اللہ تعالی نے فرمایا ہے:

’’ان دونوں کو اف تک نہ کہو اور نہ انہیں جھڑکو‘‘۔ (الاسراء، ۲۳)

۔ ان سے خندہ پیشانی اور محبت سے ملنا، اور ان کے سامنے ماتھے پر شکن نہ لانا۔

۔ ان سے محبت کرنا، جب بھی انہیں ملیں محبت سے سلام کرنا، ان کے لئے جگہ بنانا، ان کو چوم لینا، انہیں کھانا پہلے پیش کرنا، اوران کے پیچھے چلنا۔

۔ مجلس میں انہیں نمایاں جگہ دینا، یا ان کے آرام کی جگہ پر بٹھانا، اور اہانت والی چیزوں سے دور رکھنا۔

۔ ان کا کام اور خدمت کرتے ہوئے انہیں احسان نہ جتانا، کیونکہ یہ برا اخلاق ہے۔

۔ ماں کے حق کو تقدیم دینا، اور یہ حدیث کے مطابق ہے :

۔ کام کاج میں ان کی مدد کرنا، کیونکہ یہ حسنِ خلق نہیں ہے کہ ماں باپ کام میں لگے ہوں، اور اولاد کھڑے ہو کر بس ان کے فارغ ہونے کا انتظار کرے۔

۔ نیند سے ان کو نہ جگانا، یا ان کے آرام میں خلل نہ ڈالنا۔

۔ ان کے سامنے لڑائی جھگڑے اور شور شرابے سے احتراز کرنا۔انہیں بہن بھائیوں کی لڑائی اور اختلاف میں نہ الجھانا۔

۔ ان کی پکار پر تیزی سے پہنچنا، الا یہ کہ آپ ایسی مشغولیت میں ہوں کہ فوراً نہ پہنچ سکتے ہوں۔

۔ والدین کے درمیان ہونے والے اختلاف کو سلجھانے کی کوشش کرنا۔

۔ ان سے اجازت لیکر ان کے پاس آنا۔

۔ ان کی رائے اور تجربے سے استفادہ پانا۔

والدین سے نیکی کی صورتیں

والدین جب تک زندہ ہوں اولاد ان کی خدمت کر کے نیکی کما سکتی ہے، ان میں سے چند درج ذیل ہیں:

۔ ان کے لئے دعا؛ والدین کے لئے اولاد کو دعا کا سب سے بڑھ کر اہتمام کرنا چاہئیے، ان کے لئے رحمت اور مغفرت کی دعا، ان کی صحت اور طاقت، دین، اور رزق کے لئے دعا، اور دعا کے لئے ایسے وقت کا تعین جب دعائیں قبول ہوتی ہیں۔

۔ ان کی طرف سے صدقہ؛ اور ایسے صدقات جو ان کے لئے صدقہء جاریہ بن جائیں، جیسے پانی کی سبیل، یا کنواں کھدوانا، اسلام کی اشاعت کے لئے رقم یا اللہ کا کلمہ بلند کرنے کے لئے، اور ان جگہوں پر جہاں وہ خرچ کرنا چاہیں۔

۔ ان کی خوشی کا سامان کرنا؛ جیسے انہیں چہل قدمی اور سیر کے لئے لیکر نکلنا، ان کے پسندیدہ لوگوں سے ان کی ملاقات کا اہتمام کروانا، ان کے لئے ایسی سرگرمیاں تشکیل دینا جس سے ان کے دلوں کو سرور حاصل ہو۔

۔ ان سے محبت کا اظہار؛ جیسے ان کو ہاتھ پر بوسہ دینا، یا سر چوم لینا، اپنی نگاہوں، زبان اور جسمانی حرکات سے احترام کا اظہار کرنا، ان کے سامنے جھک کر رہنا اور عاجزی کا اختیار کرنا۔

۔ ان کا شکریہ ادا کرنا؛ انکی تعریف و توصیف بیان کرنا، ان کے احسانات اور نیکیوں کا جو اولاد پر کیں، ان کا تذکرہ کرنا، کیونکہ اولاد کے مال، منصب، تعلیم، کامیابی، سب میں والدین کا حصّہ بھی ہے، دل سے بھی ان کی قدر دانی کرے اور زبان سے بھی۔
۔ا ن کی حاجات پوری کروانے کا اہتمام؛ انہیں سہارے کی ضرورت ہو تو سہارا دینا۔

۔ ان سے مشورہ؛ اہم معاملات جیسے شادی، سفر، کاروبار وغیرہ کے بارے میں ان سے مشورہ کرنا۔

۔ ان کی بات توجہ سے سننا؛ اور خوشی سے سننا، جیسے ان کی جانب دیکھنا، اور سر ہلا کر اثبات کرنا۔

۔ انہیں تحائف دینا؛ ان سے اچھے تعلقات قائم رکھنا، ان سے اچھی گفتگو کرنا، اور کسی حقیقی سبب کے بغیر ان سے تعلق نہ توڑنا۔

والدین سے نیکی کا پھل اولاد دنیا میں بھی چنتی ہے اور آخرت میں بھی اس کا ثمرہ پائے گی۔

اللہ کے بعد انسانوں میں سب سے مقدم حق والدین کا ہے۔ اولاد کو ان کا مطیع، خدمت گزار اور ادب شناس ہونا چاہئے۔ معاشرے اجتماعی اخلاق ایسا ہونا چاہیے جو اولاد کو والدین سے بے نیاز بنانے والا نہ ہو، بلکہ ان کا احسان مند اور ان کے احترام کا پابند بنائے، اور بڑھاپے میں ان کی اسی طرح خدمت کرنا سکھائے جس طرح وہ بچپن میں اس کی پرورش اور ناز برداری کر چکے ہیں۔

یہ حکم صرف اخلاقی سفارش نہیں ہے بلکہ اس کی بنیاد شرعی حقوق و فرائض کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں، اسلامی ریاست اپنے قوانین اور انتظامی احکامات اور تعلیمی پالیسی کے ذریعے خاندان کے ادارے کو مضبوط اور محفوظ کرنے کی کوشش کرنے کی پابند ہو گی۔

Comments

Avatar

میمونہ حمزہ

ڈاکٹر میمونہ حمزہ عربی ادب میں پی ایچ ڈی ہیں اور انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی میں اعزازی طور پر تدریس کے فرائض ادا کرچکی ہیں۔ کئی کتابوں کے عربی سے اردو میں تراجم کر چکی ہیں، جن میں سے افسانوں کا مجموعہ "سونے کا آدمی" ہبہ الدباغ کی خود نوشت "صرف پانچ منٹ" اور تاریخی اسلامی ناول "نور اللہ" شائع ہو چکے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */