کرونا وائرس - ہادیہ امین

میں زینب ہوں, وہی قصور کی زینب جس کے بارے میں آپ نے جنوری 2018 میں سنا تھا اور اسکے بعد بھی کئی بچیوں اور بچوں کا سنا جنکو بےدردی سے جنسی زیادتی کے بعد قتل کر دیا گیا, آج کل پاکستان میں کرونا وائرس کی دھوم ہے اور سنا ہے بچوں کو کئی دن کی چھٹیاں بھی ملی ہیں, چھ سال کی بچی تھی میں اور بچے تو گلہ کرتے ہی ہیں.

وہ پوچھنا یہ تھا کہ کرونا اتنی تیزی سے تو نہیں پھیلا جتنی تیزی سے میرے جیسے کیسز سامنے آ رہے ہیں ؟ کرونا نے تو پاکستان میں ابھی تک کسی کی جان نہیں لی مگر کتنے بے رحموں نے مجھ جیسے معصوموں کی جان لے لی؟ کرونا یہاں اتنا ظالم تو نہیں ہے جتنے ظالم معاشرے میں بے رحم درندے ہیں؟ کیا بچوں کو خطرہ اس معاشرے میں صرف کرونا سے ہے؟ میں تو صرف عنوان تھی, اس کے بعد تو کوئی علاقہ,کوئی قصبہ ہوس پرستوں سے محفوظ نہیں رہا. کاش مجھے بھی اہمیت ملتی, آئندہ بچوں کے تحفظ کے لیے قانون پہ سختی سے عمل کرایا جاتا, ظالموں کو ایک بڑی جماعت کے سامنے کوڑے مارے جاتے, کیا سلوک کرینگے آپ لوگ اگر کرونا انسانی شکل میں آجائے؟ کیا کیا نہیں کرینگے مگر مجھ جیسے پھولوں کے قاتل آپکے آس پاس ہی ہوتے ہیں, کچھ وقت میڈیا پہ گردش کرتے ہیں اور پھر محو ہو جاتے ہیں!! قتل و غارت کے اس بازار میں جہاں چند پیسوں کے لیے جانیں چلی جاتی ہیں.

اس معاشرے میں کرونا کا اتنا خوف!! میں چھوٹی ہوں نا شاید اس لیے مجھے سمجھ نہیں آ رہا.. مگر آپ تو بڑے ہیں نا!! پتہ ہے مجھے اور باقی سب بچوں بچیوں کو یہاں ایسا لگتا ہے کہ انصاف ہار گیا اور مفاد جیت گیا, زینب ہار گئ اور کرونا جیت گیا!

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */