میں مریضِ وعشقِ رسول ہوں - حبیب الرحمن

پرانے زمانے کی بات ہے کہ ایک بہت بڑی ساری چکی کے پاٹ پر گھر کے سارے چوہے ایک اہم میٹنگ میں مصروف تھے۔ مسئلہ "بلی" سے نمٹنے کا تھا۔ چوہوں کا پُر جوش ہجوم نہ صرف "بلی" کے خلاف نعرے بلند کر رہا تھا بلکہ ہر نو جوان چوہا آپے سے باہر ہوکر بلی کی جارحیت کے خلاف بڑی بڑی منصوبہ بندیاں پیش کر رہا تھا۔

کوئی کہتا کہ ہم امن پسند چوہے نہایت خاموشی کے ساتھ جب "رزقِ حلال" کی تلاش میں مصروف ہوتے ہیں تو اچانک دبے پاؤں کوئی بلی آ جاتی ہے اور ہم میں سے کسی کو دبوچ کر کچا چبا جاتی ہے اور ہمیں اتنا موقع بھی نہیں ملتا کہ جان بچا کر بھاگ سکیں۔ کوئی کہتا کہ ہمیں ایک ساتھ مل کر "بلی" پر ہلہ بول دینا چاہیے اور کوئی کہتا کوئی ایسی ترکیب لڑاؤ کہ کم از کم ہمیں اس کے آنے کا علم ہو سکے اور ہم اپنی اپنی جانیں بچا کر نکل بھاگنے میں کامیاب ہو سکیں۔

غرض جتنے چوہے اتنی ہی باتوں کی وجہ سے چکی کا یہ بڑا سارا پاٹ مچلی بازار کا ایسا سماں پیش کرتا ہوا دکھائی دے رہا تھا کہ کان پڑی آواز تک سنائی نہیں دے رہی تھی۔ اتنے میں ایک نوجوان مگر بہت تن و مند، لمبا چوڑا چوہا بڑے جوش میں اٹھا۔ یہ نوجوان چوہا ان سب کی سرداری کا دعویدار تھا اس لئے اس کو پُر جوش انداز میں اٹھتا دیکھ کر سارے کم سن اور عمر رسیدہ چوہے یک دم خاموش ہو گئے اور سمجھ گئے کہ ہماری ساری مصیبتوں کا اب کوئی نہ کوئی حل نکل ہی آے گا۔

اس نوجوان چوہے نے پہلے تو "بلی" کے متعلق بلبلا بلبلا کر بہت برا بھلا کہا اور ہجوم نے بھی تالیاں پیٹ پیٹ کر خوب دل کی بھڑاس نکالی، پھر اس نے کہا کہ دوستو بلی کے آنے کی خبر ہمیں اس ترکیب کے علاوہ ہو ہی نہیں سکتی کہ ہم اس کے گلے میں ایک گھنٹی لٹکا دیں۔ جیسے ہی وہ ہماری جانب لپکے گی تو گھنٹی کی آواز ہمیں اس کے آنے کی اطلاع دیدے گی۔ یہ سننا تھا کہ سارے چوہوں نے زندہ باد زندہ باد کے نعروں سے آسمان سر پر اٹھا لیا اور اپنے لیڈر کو کندھوں پر اٹھا کر وہ دھوم مچائی کہ کمرے کے در و دیوار لرزنے لگے۔

اس سارے ہجوم سے الگ تھلگ چوہوں کے ایک بڑے میاں بجائے اس تجویز پر خوش ہونے کے برے برے سے منھ بناتے ہوئے سارے ہجوم کی کارروائی دیکھنے میں مصروف تھے۔ چوہوں کے ہجوم نے پہلے تو انھیں بہت خونخوار انداز میں پلٹ کر دیکھا پھر انھیں مارنے کیلئے بڑھے ہی تھے کہ ان کے لیڈر نے کہا کہ ٹھہرو، ان سے ہماری پیش کردہ تجویز پر ناخوش ہونے اور جلسے میں شریک نہ ہونے کا سبب معلوم کرو۔ پھر لیڈر چوہا خود آگے بڑھ کر ان کے پاس گیا اور تیز آواز میں پوچھا کہ آپ کو میری تجویز کیوں پسند نہیں آئی۔

بڑے میاں چوہے نے کہا کہ بیٹا اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ کی تجویز بہت عمدہ ہے لیکن مجھے یہ تباؤ کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون لٹکائے گا؟۔ یہ سننا تھا کہ لیڈر کے چہرے کا رنگ فق ہو گیا اور ہجوم کا سارا جوش ٹھنڈا پڑ گیا۔ ابھی وہ سارے کے سارے صدمے کی حالت میں تھے کہ اچانک ان سب پر بلی نے حملہ کر دیا بس پھر کیا تھا جس کے جدھر سینگ سمائے چیختا چلاتا بھاگ نکلا۔

مولانا فضل الرحمن کا فرمانا بالکل بجا ہے کہ صرف مسند اقتدار پر بیٹھے ہوئے کسی چہرے کو بدل دینے سے پاکستان کے حالات کبھی نہیں بدل سکتے اس لئے کہ جو لوگ بھی اس وقت ایوان میں موجود ہیں وہ لوگوں کی رائے سے نہیں بلکہ نادیدہ طاقتوں کی مرضی و منشا سے ایوانِ اقتدار کی دہلیز تک پہنچے ہیں۔ اسی قسم کی رائے امیر جماعت اسلامی پاکستان جناب سراج الحق کی بھی ہے۔ مردان میں ختم بخاری کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ "ان ہاؤس تبدیلی کی باتیں سراب ہیں، ان سے کوئی تبدیلی نہیں آنے والی، مسئلے کا حل نئے اور شفاف انتخابات میں ہے۔ پرویز مشرف، زرداری، نواز شریف اور عمران خان کی حکومت میں کوئی فرق نہیں۔

عمران خان بھی سابق حکمرانوں کے ایجنڈے پر قائم ہیں اور انہوں نے اپنے سارے وعدے بھلادیے ہیں"۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ جب تک پاکستان میں دوبارہ اور صاف و شفاف الیکشن کے ذریعے حقیقی حکومت تشکیل نہیں پائے گی اس وقت تک نہ تو صحیح معنوں میں عوامی حکومت بنائی جا سکتی ہے اور نہ ہی جمہورت اپنی اصل روح کے ساتھ قائم ہو سکتی ہے۔ جو حکومت عوام کی بجائے کسی اور کی مرہونِ منت ہو وہ کسی بھی صورت میں عوامی مسائل حل نہیں کر سکتی اس لئے کہ وہ عوام کی حقیقی نمائندہ ہی نہیں ہوتی۔ جب کوئی حکومت کسی اور کی مہربانی سے وجود میں آئے تو پھر وہ ہر معاملے میں اپنے محسنوں کا منھ دیکھنے پر مجبور ہوا کرتی ہے جس کی بہترین مثال موجودہ حکومت ہے جو خود یہ کہتی نظر آتی ہے کہ ہمیں بے شک حکومت تو ضرور "دے دی گئی ہے" لیکن "اقتدار" آج تک نصیب نہیں ہو سکا۔

جس قسم کی شکایت موجودہ حکومت کو ہے ٹھیک اسی قسم کی شکایات پاکستان کو ہر جمہوری (بظاہر) حکومت کو رہی ہیں۔ یہ شکایات نہ صرف حکومتوں کو رہی ہیں بلکہ ہر حکومت کے ہر وزیر اور ذمہ دار اسی قسم کی شکایات کرتا ہوا دکھائی دیا ہے۔ موجودہ حکومت کا تو یہ عالم ہے کہ اس کا وزیر اعظم اور صدر بھی بے بسی کی ایک تصویر بنا نظر آتا ہے اور اب تو عالم یہ ہو گیا ہے کہ ہمارے سب سے مقتدر حلقے بھی کوئی فیصلہ بھی دنیا سے پوچھے بغیر کرنے کی جرات نہیں رکھتے جس میں کشمیر اور ہندوستان میں مسلمانوں کے خلاف تیزی سے ابھرتا ہوا تشدد کا رجحان بھی شامل ہے۔

ایک مسلمان اور ایٹمی طاقت والا ملک ہونے کے باوجود بھی پاکستان کسی ملک میں بھی مسلمانوں پر ظلم تشدد کے خلاف کوئی جارہانہ ردِ عمل کا مظاہرہ کرتا ہوا دکھائی نہیں دیتا۔ پاکستان دنیا کا کتنا دست نگر ہے، اس بات کا اندازہ ملائیشیا میں ہونے والی کانفرنس میں عدم شرکت سے سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ مولانا فضل الرحمن ہوں یا سراج الحق، دونوں کے مؤقف اپنی جگہ مگر اس بات کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے کہ کیا پاکستان میں کبھی شفاف الیکشن بھی ہو سکیں گے؟۔ سوال بلی کے گلے میں گھنٹی کون لٹکائے گا پر ہی آکر ختم ہو کر رہ جاتا ہے۔

پاکستان میں الیکشن منعقد کرانے کی ذمہ داری الیکشن کمیشن کی ہی ہوتی ہے لیکن یہ الیکشن کمیشن اتنا بے دست و پا ہے کہ اپنا نہ تو کوئی باقائدہ تربیت یافتہ عملہ رکھتا ہے اور نہ ہی ایسے کڑیل جوان جو الیکشن کے دوران امن و امان کی صورت حال کو اپنے قابو میں رکھ سکیں۔ جو ادارہ اپنی مدد کیلئے اسکولوں کے غیرتربیت یافتہ استادوں یا دیگر غیر تعلیم یافتہ افراد مانگنے اور متعین کرنے پر مجبور ہو اور سکیورٹی کیلئے جانبدار اہل کاروں کی کمک حاصل کرکے الیکشن کرائے اس سے یہ توقع رکھنا کہ وہ پورے ملک میں دیانتدارانہ اور شفاف الیکشن کرا سکتا ہے، دیوانے کا خواب ہی ہو سکتا ہے۔

یہاں قابل غور بات یہ ہے کہ حکومتوں کی ٹوٹ پھوٹ پاکستان میں ایک نہایت طویل عرصے سے جاری ہے۔ پاکستان اپنے آغاز سے ہی حکومتوں کی توڑ پھوڑ دیکھتا آیا ہے۔ کبھی جمہوری حکومتیں فوجی حکومتوں کے ذریعے اور کبھی فوجی حکومتیں جمہوریت پسند سیاستدانوں کی تحریکوں کی نتیجے میں ٹوٹیں لیکن ان کی توڑ پھوڑ سے کبھی ایسا نہیں ہوا کہ پاکستان میں کوئی مثبت تبدیلی آئی ہو۔

یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ کئی جمہوری حکومتیں جمہوریت پسندوں کے ہاتھوں بھی یہ کہہ کر برباد کی گئیں کہ ان کے جانے سے ہی پاکستان میں کوئی مثبت تبدیلی ممکن ہے لیکن بد قسمتی سے لوگوں کا یہ خواب بھی کبھی شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا اور عوام کی مشکلات میں اضافہ ہی ہوتا چلا گیا لہٰذا موجودہ حکومت کو ہٹا بھی دیا جائے اور یہ بھی فرض کر لیا جائے کہ پاکستان میں "فرشتوں" نے اپنی نگرانی میں صاف اور شفاف الیکشن کراکے نیک اور پارسا افراد کو ہی اقتدار تک پہنچا دیا ہے تب بھی اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ وہ طاقتیں جو حکومت کے سارے اختیارات اپنی مٹھی میں بھینچ کر رکھنے کی عادی ہو چکی ہیں وہ "شریف" لوگوں کو سکون سے امور حکومت چلانے دیں گی؟۔

بات بہت سیدھی اور نہایت عام فہم ہے اور وہ یہ ہے کہ جس مقصد کیلئے یہ ملک بنا تھا، وہ مقصد کبھی "چناؤ" سے حاصل ہو ہی نہیں سکتا۔ اللہ کا نظام "رائے" سے نہیں "جہاد" سے ہی نافذ کیا جاسکتا ہے اس لئے کہ ہر معاشرے میں "اہل الرائے" چشیدہ چیدہ ہی ہوا کرتے ہیں۔ پھر یہ بھی حقیقت ہے کہ جو دین اللہ نے بھیجا ہے اس میں کسی کو بھی یہ حق حاصل نہیں کہ اس پر "رائے زنی" کرے۔ یہ تو صرف اور صرف نافذ کرانے کیلئے ہی نازل کیا گیا ہے خواہ یہ عمل اہل کفر کو کتنا ہی برا لگے۔

میں ہر اس جماعت سے جس کا یہ کہنا ہے کہ شفاف انتخابات ہی نیک حکومت کی ضمانت ہیں، کہوں گا کہ سایوں کے پیچھے مت بھاگیں بلکہ اگر وہ دین کیلئے مخلص ہیں تو اس کیلئے عملی جد و جہد کریں۔ دنیا کے دیگر مسلمان دین کیلئے کچھ کرتے ہیں یا نہیں، لیکن پاکستان کے مسلمانوں پر اللہ کے دین کا نفاذ دنیا کے سارے مسلمانوں سے اس لئے زیادہ ہے کہ یہ بنایا ہی اللہ کے نظام کے نفاذ کیلئے تھا۔ یہی ایک واحد راستہ اور یہی وہ مطالبہ ہے جو پاکستان کا ذرہ ذرہ چیخ چیخ پاکستان کے ایک ایک مسلمان سے کر رہا ہے کہ

میں مریضِ عشقِ رسول ہوں جو کرو تو میری دوا کرو

کوئی نام سرورِ دیں کا لو کوئی ذکرِ شاہِ ہدا کرو

یہ سب کچھ اگر کر گزرنے کی ہمت، جرات اور صلاحیت ہے تو ٹھیک ورنہ ہزاروں صاف ستھرے اور شفاف الیکشن بھی پاکستان کی تکمیل کر سکتے ہیں اور نہ ہی عوام کی فلاح ہو بہبود کی کوئی راہ ہویدا ہو سکتی ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */