عورت مارچ، چند سوال اور قابل توجہ پہلو - نصراللہ گورائیہ

ہمارے ہاں آج کل 8 مارچ ”خواتین کا عالمی دن“ کی تیاریاں عروج پر ہیں، اور اس کی کچھ ہلکی پھلکی جھلکیاں سماجی ابلاغیاتی اداروں میں نظر آ رہی ہیں۔ جن سے ان کے جوش و خروش کا اندازہ کیا جا سکتا ہے اور امید کی جا سکتی ہے کہ اس دفعہ بھی 8 مارچ کو دھماکہ خیز ”مارچ“ ہوگا، کیونکہ پچھلے دو تین سال سے اس دن نے ہمارے ہاں خصوصی اہمیت حاصل کر لی ہے اور بالخصوس ان کے نعروں نے تو ہمارے سماج کے تانوں بانوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

کچھ یار لوگ تو سارا سال اس مارچ کا انتظار کرتے رہتے ہیں، کیونکہ اس مارچ کے شر کاء نے گزشتہ دو تین سالوں سے کمال ہوشیاری، دانش مندی اور بھرپور تیاری کے ساتھ اس کو منانے کا اہتمام کیا ہے کہ جس کی باز گشت سال کے بارہ مہینوں میں تواتر کے ساتھ سنی جاسکتی ہے، اور اس کے اثرات کو محسوس بھی کیا جا سکتا ہے۔

بلاشبہ اس مارچ کے شرکاء و منتظمین کی تیاری کو اگر ہم داد نہ دیں تو زیادتی ہوگی، کیونکہ انہوں نے بہت ہی دیدہ دلیری اور حد سے بڑھی ہوئی اخلاق باختگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ لیکن یہ خواتین کون ہیں؟ یہ اچانک کہاں سے نمودار ہو جاتی ہیں؟ یہ سارا سال اس دن کا ہی انتظار ہی کیوں کرتی ہیں؟ کیا یہ ہمارے سماج اور تہذیب سے میل کھاتی ہیں؟ اور کیا پچھلے چند سالوں سے ہونے والے مارچ کے اثرات کو محسوس کیاجا سکتا ہے؟ کیا ہماری جامعات اور تعلیمی اداروں پر اس کے اثرات مر تب ہو رہے ہیں؟ یہ اور اس طرح کے بہت سا رے تشنہ سوالات ہیں جو اہل فکر ودانش، علماء، والدین، اساتذہ اور سماجی راہنماؤں کو دعوت فکر و عمل دے رہے ہیں۔

آج اس کی تپش محسوس کی جا رہی ہے لیکن صرف محسوس ہی کی جا رہی ہے، کہیں پر بھی پیش بندی کا کوئی مناسب انتظام نہیں ہے۔ لے دے کہ چند لوگ 8 مارچ کو ان کے مقابلے میں نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں جو کہ ایک حد تک تو خوش آئند ہے لیکن وہاں پر بھی اس سے زیادہ کی سوچ کارفرما نہیں ہے۔ جس فکر، سوچ اور منصوبہ بندی کا وقت تقاضا کرتا ہے، وہ ناپید ہے اور پوری قوم کو مختلف ہیجانوں میں مبتلا کر دیا گیا ہے تاکہ دشمن اپنا کام نہایت ہوشیاری اور چالاکی سے انجام دے اور کسی کی اس جانب توجہ نہ ہو سکے۔

28 فروری 1909ء کو سوشلسٹ پارٹی آف امریکہ نے نیویارک میں پہلا Women’s Day منایا جبکہ 1910ء میں جرمنی میں "انٹرنیشنل سوشلسٹ وومن کانفرنس" کا اہتمام کیا گیا۔ اس وقت سے لے کر آہستہ آہستہ، دھیرے دھیرے یعنی یہاں تک پہنچے میں پوری ایک صدی لگی۔ جس کا ایک ایک فنکشن ایک دوسرے سے منسلک نظر آئے گا، اور ہدف اور ٹارگٹ بھی پہلے دن سے ہی واضح تھے، لہذا ایک ایک کر کے وہ اپنے کنکر پھینکتے چلے گئے، پیدا ہونے والے ارتعاش کی لہروں کا اندازہ بھی لگاتے گئے اور اس کا تدارک اور دوا دارو بھی ساتھ ساتھ کرتے چلے گئے۔

1967ء فیمنسٹ موومنٹ نے اس کو سرکاری طور پر منانے کا اہتمام کیا اور رفتہ رفتہ ہر سال اس کے فیچرز میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ بالآخر 1957ء میں اقوام متحدہ نے اس دن کو دنیا بھر میں سرکاری طور پر International Women’s Day کے طور پر منانا شروع کر دیا۔ یوں پوری منصوبہ بندی، فکر اور سوچ کے زاویوں کو ہلاتے ہوئے اس تحریک نے اپنا سفر جاری رکھا۔ ہم (امت مسلمہ، پاکستان یا مسلمان) چین کی نیند سوتے رہے۔ وہ ہمارے ملک، ہماری زمینوں اور پھر ہماری فکر پر قدغن بھی لگاتے رہے اور ہم عالم مدہوشی میں مغرب اوریورپ کے گیت بھی گاتے رہے۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا میری بہن ”میرا جسم میری مرضی“ کا کتبہ لے کر سڑک پر نکل آئی اور میں آج حیران اور ششدر کھڑا ہوں، کیونکہ میرے تو حواس ہی جواب دے چکے ہیں کہ میرے ساتھ معاملہ کیا ہوا؟


ایسے جمگھٹے میں کھوگیا ہوں میں

جہاں میرے سوا کوئی نہیں!

رکوں تو منزلیں ہی منزلیں ہیں

چلوں تو راستہ کوئی نہیں


یعنی کم وبیش ایک سو سال تک یہ آگ سلگتی رہی اور ہم خاموش تماشائی بن کر اس کو دیکھتے رہے اوراب جبکہ یہ آگ ہمارے آنگن کو خاکستر کرنے پر تلی ہوئی ہے تو ہمارےپاس سوائے کف افسوس ملنے کے اور کچھ نہیں ہے، لہذا ہم اب بھی کسی Pro – active سوچ کے بجائے Re-actionary ہو کر عمل کرنے کا سوچ رہے ہیں، جس سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ ہم ابھی تک معاملے کی حساسیت اور نزاکت کا اندازہ نہیں لگا سکے۔ اس تناظر میں اس بات کا قوی امکان موجود ہے کہ معاملے کو درست کرنے کے بجائے مزید خراب کر دیا جائے۔ یہ معاملہ ہے ہی اتنا نازک، اور الجھانے والے نے بہت سوچ سمجھ کر اس کو الجھایا تھا، اسے آپ کی صلاحیت اور Capacity کا بھی اندازہ ہے، اس سے پہلے وہ بہت ساری سیریز کو کامیابی سے لانچ کر چکا ہے اور اسے اس کی کامیابی کا بھی صد فیصد یقین ہے لیکن بازی کو الٹا جا سکتا ہے۔

لہذا انتہائی حکمت، تدبر اور زیرک پن کے ساتھ اس معاملے کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔ جذبات اور سطحیت کو ترک کیجیے، لمبا منصوبہ عمل ترتیب دیجیے، اپنوں کو ساتھ ملائیے، ڈائیلاگ اور مکالمہ سے آغاز کیجیے، معاملے کی تہہ تک پہنچیے۔ علم سے اپنے آپ کو مزین کیجیے، اگر لکھ سکتے ہیں تو لکھیے، بول سکتے ہیں تو بولیے، البتہ لہجے کو پروقار ہونا چاہے، بات میں اور الفاظ میں درد ہو اور جوڑنے کی بات کیجیے۔گھر کی سطح سے آغاز کیجیے، محلے کو ساتھ شامل کیجیے، ٹاؤن اور شہر کی سطح پر آگہی کو عام کیجیے۔ اپنے تعلیمی اداروں میں ماحول بہتر بنائیے، گھٹن زدہ ماحول میں تھوڑی سی ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں کا اہتمام کیجیے اور صرف اپنے آپ کو ہی نہیں پورے سماج کو اپنا ہمنوا بنائیں وگرنہ بقول کسے وہ دن گئے جب ہم مغرب سے کہتے تھے کہ تمہاری تہذیب آپ اپنے خنجر سے خود کشی کرے گی۔ یہ واضح ہو گیا ہے کہ وہ ہمیں ساتھ لیے بغیر مرنے والے نہیں اور ہم ان کے بغیر جینے کے روادار نہیں۔ یہ موت کب سے ہمارے دروازے کھٹکھٹا رہی ہے۔ کلچرل گلوبلائزیشن کی حالیہ رفتار سے اگر آپ واقف ہیں تو اسے بعید مت جانیے کہ "ویلنٹائین ڈے" کی کامیاب اور بےپناہ مقبولیت کے بعد پچھلے چند سالوں میں ہماری سوسائٹی میں یکے بعد دیگرے ایسی سرگرمیوں کو بہت ہی سے پذیرائی بخشی جا رہی ہے۔

رونا اس بدکار میڈیا کا نہیں، رونا تو اس بات کا ہے کہ آج ہماری مسجدوں، منبروں اور خانقا ہوں کوسانپ سونگھ گیا ہے۔ اس لیے ان تمام لوگوں کو اپنے ساتھ ملائیے، اپنی بکھری ہوئی طاقت جمع کیجیے، اور میدان عمل میں آئیے کیونکہ آنکھیں بند کرنے سے یا اپنے گھر کی کھڑکیوں کے کوڑا بند کرنے سے طوفان رکتے نہیں ہیں بلکہ تباہی و بربادی چہار سو پھیلا دیتے ہیں لہذا میری بیٹی! میر ی بہن! میرے رب کی رحمت! میرے آنگن کی رونق!


یوں اپنے آپ کو آوارہ اور بد چلن کہہ کر بے توقیر نہ کر

ماں کی ممتا اور باپ کی شفقت کی تحقیرنہ کر


تم زینت ہو، تم عائشہ ہو، تم فاطمہ ہو، تم رقیہ ہو، ہماری عزت وآبرو ہو، تم تو ہمارے سر کا تاج ہو، ہماری لاج ہو!

ان تمام مراحل سے آگے سوچنا اور "امت وسط" اور امت خیر" ہونے کا فریضہ سرانجام دینا وقت اور حالات کا تقاضا بھی ہے اور ہماری ذمہ داری بھی۔ ڈاکٹر مستفیض علوی صاحب نے تو بہت عرصہ پہلے اس بات کی طرف ہماری توجہ مبذول کروانے کی کوشش کی تھی۔


ثقافت مغربی کے تحفے ،

حیا کے دشمن یہ عریاں شعلے

ضمیر انسان بھی جل رہا ہے ،

شعور انسان بھی جل رہا ہے

نہیں نہیں ! یہ ہے غیر کوئی !

جو اپنے ہاتھوں سے آپ اپنی

قبا ئے ہستی جلا رہا ہے !

حیا کی بستی لٹا رہا ہے!

سنو ذرا ! مستفیض علوی ،

یہ کیسی دل میں صدا ہے گونجی

کہ ساری دنیا ہی اپنا گھر ہے

ہر ایک آنگن سنوارنا ہے

ہر ایک دامن اجالنا ہے

Comments

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • پرمغز اور جامع تحریر۔۔۔۔ جذباتی رویہ اختیار کرنے کے بجاے برموقعہ ' دلائل اور تحقیق کیساتھ تہذیبی اور اخلاقی رہنمائی خوش آئند ہے ۔

  • بہت عمدہ تحریر۔طویل المیعادمنصوبہ بندی کی اشدضرورت ہے۔سال بھرمسلسل اس معاملےپرکام کرنےضرورت ہے۔

  • *آپــــ کــــے وہ الفــــاظ بھی*
    *تحـــفہ ہیں*
    *جـــو دوســـروں*
    *کـــــو آگــــے بڑھنـــے کـــــا*
    *حــــــوصلہ*
    *دیتـــــے ہیــــں....*

  • ہم مسلمان هے ہم دین اسلام پر عمل پیرا هے دین اسلام میں عورت یامرد کہ لیے جوبی قانون هے وہ ہم سب مسلمانو کہ لیے سحی هے ہم ایک مسلمان اس پر عمل کری کچ بی نہی هوگا یی میرا جسم میر مرضی یی بات سحی نہی یی جسم اللہ نے دیا اس کااختیار اللہ کہ پاس هے ہم کون هے ہم ہروقت اللہ سے مددمانتا هوں یی چند بیضمیر عورتو کو اللہ هیدایت دے

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com