فرحت نعیمہ فرح سے ایک ملاقات

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ...حریم ادب. آپ کا تعارف ؟
فرحت نعیمہ : وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ برکاتہ، مکمل نام تو میرا فرحت نعیمہ اختر ہے مگر امی۔۔ اباجی ہمیشہ فرح ہی پکارتے رہے۔۔ میں اپنے آپ کو ادیبہ یا لکھاری خواتین میں شمار نہیں کرتی مگر کچھ لوگ عزت دے رہے ہیں تو سوچا کیوں نہ لے لوں۔۔ اردو زبان اور اس کا ادب دراصل اپنے والد محترم محمد اسحق جلال پوری مرحوم سے وراثت میں وصول کئے۔ورنہ خود تو اپنی پیشہ وارانہ زندگی میں حیاتیات(بیالوجی) اور نباتیات(باٹنی) کے مضامین کی تدریس سے وابستہ رہی۔اور بقول کسے"بہترین اساتذہ میں شمار ہوتا ہے"۔۔۔۔بس اللہ کا کرم۔

مادری زبان پنجابی ہے مگر شومئ قسمت آج تک روانی سے بول نہیں سکی۔۔ہاں سمجھنے میں کوئی دقت نہیں ۔۔۔۔۔۔بچپن اور نوعمری تو زندہ دلان لاہور کے درمیان گزری ۔لاہور کالج فارویمن( موجودہ یونیورسٹی ) سے ایف ایس سی کے بعد راولپنڈی سیٹلایئٹ ٹاون کے گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج(حال۔ویمن یونیورسٹی ) سے بی ایس سی کیا اور پھر قائد اعظم یونیورسٹی سے ایم ایس سی بیالوجی کا خواب پورا ہو۔۔تعلیمی سفر بے حد سہولت سے گزرا۔۔تعلق ہی تعلیمی و ادبی گھرانے سے تھا۔۔لہذا تعلیم گھٹی میں پڑی تھی۔۔اور کامیابی آ سان لگی۔۔سب کا سب اللہ کا کرم تھا۔الحمدللہ

حریم ادب :قلم سے دوستی کیوں اور کیسے ہوئی؟ اپنے مقصد میں کس حد تک کامیابی ملی۔؟
فرحت نعیمہ :قلم سے دوستی تو بچپن سے ہے آنکھ کھولی تو اپنے اردگرد کاغذ قلم اور کتابوں کا انبار دیکھا۔۔کپڑوں کی الماری میں کتابیں ۔برتنوں کی الماریوں میں کتابیں ۔ پلنگ پر بکھری کتابیں ۔میزوں کے اوپر ہی نہیں نیچے بھی کتابیں ۔صندوق تک تو کتابوں سے بھرے ہوتے۔۔ایک کمرہ تو یوں بھی لائبریری تھا۔میں سوچتی تھی اباجی نے گھر کتابوں کے لئے ہی بنایا ہے ۔اکا دکا ہم بھی نظر آ ہی جاتے تھے اباجی کو کتاب سے سر اٹھاتے اور عینک کے پیچھے سے بھانپتے ہی دیکھا۔۔شعور کی آنکھ کھلی تو اباجی کے زیر تربیت مطالعے کو ہی " غذا" سمجھا اور پھر مطالعہ تو اپنا رنگ دکھا کر ہی رہتا ہے۔۔

بچپن ڈائری اور خطوط لکھتے گزرا بلکہ لکھنے کا آغاز انھی دونوں کاموں سے ہوا۔مگر باقاعدہ تحریریں کالج کے زمانے سے شائع ہونا شروع ہویئں۔مجھے آج بھی روزنامہ نوائے وقت کا صفحہ ء خواتین یاد ہے جس کا نام " آنچل" تھا۔اور میری " رگ تحریر" اس میں " بے آنچل" کی نمایاں تصاویر دیکھ کر " پھڑکی " تھی۔۔یوں میں نے ایڈیٹر کے نام خطوط اور تبصروں کی صورت میں اخبار میں لکھنے کا آغاز کیا۔۔ اباجی مرحوم کی اصلاح اور حوصلہ افزائی آج بھی رہنمائی کرتی ہے۔۔ننھے منے بچوں کے لئے نظمیں اور اصلاحی کہانیوں کی کوشش بھی والد مرحوم کے میری زندگی پر ثبت کردہ اثرات میں سے ہے۔۔۔۔پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کی وجہ سے لکھنے میں کچھ تعطل آیا ۔۔۔لہذا کالج میگزین میں تحریروں کی اشاعت تک محدود۔ رہی۔۔۔ تحریر کا سفر جاری ہے۔مقصد امر بالمعروف و نہی عن المنکر ہونے کی بناء پر دنیا وی کامیابی تو اس کی منزل ہی نہیں ۔بس اللہ قبول فرما لے۔۔اور معاشرے میں سدھار پیدا ہو۔آمین
حریم ادب :سوال نمبر 3۔آپ کی تحریریں ہمارے معاشرے میں شہرت پانے والے لغو اور نقل شدہ ادب سے بالکل مختلف ہیں, کیا آپ کو نہیں لگتا کہ اس طرح نام اور مقام بنانے میں طویل وقت درکار ہوگا ؟
فرحت نعیمہ : جواب نمبر 3۔۔۔اگر نام و مقام کے لئے لکھتی تو میری ڈائری کی ہزار ہا تحریریں شاید مختلف رسائل و جرائد کی زینت ہوتیں ۔۔۔مگر وہ میری زندگی کا اثاثہ نہ کہلاتیں ۔۔۔بس جو بھی اور جتنی بھی صلاحیت اللہ نے دی ہے وہ اسی کی راہ میں خرچ ہو یہی کامیابی ہے .

حریم ادب : آپ کی کاوشوں اور اس مقام تک پہنچنے میں آپ کے اہل خانہ خصوصا شوہر باپ بھائی اور بیٹوں کا کیا اور کیسا کردار رہا؟؟
فرحت نعیمہ :اہل خانہ میں والدین سے بڑھ کر کون مربی ہوتا ہے۔۔امی جان نے عملی طور پر خاموش خدمت اور نماز کی پابندی کے ساتھ صبر وشکر کا درس دیا ۔۔جب کہ والد صاحب نے محض انگلی پکڑ کر چلنا ہی نہیں سکھایا بلکہ زندگی کے ہر موڑ پر نصیحت تربیت اور شفقت سے رہنمائی کی۔۔زبان کے تلفظ سے لے کر قلم کی روانی تک قدم بہ قدم ساتھ رہے۔۔سائنس کی طالب علم ہونے کے باوجود"اردو سے محبت" اباجی ہی نے پیدا کی۔۔بچپن ہی میں میں اور میرے بھائی رسالہ ادبی دنیا کے قاری بن چکے تھے۔۔زندگی میں کچھ کر گزرنے کا جذبہ بھی اباجی کا مرہون منت ہے۔۔۔اور اپنی پیشہ وارانہ زندگی کا تو سارا کریڈٹ ہی میں اباجی کو دیتی ہوں ۔۔۔آج جو کچھ ہوں انھیں کے دم سے ہوں۔۔۔انھی کے تربیت یافتہ میرے تینوں بھائی ہمیشہ میرے لئے حفاظت کی ڈھال اور زندگی کی کٹھن راہوں میں میرے پشت پناہ۔۔۔الحمدللہ۔۔۔شوہر اور بیٹے نہ صرف میرے کام میں ممد و معاون بلکہ ہمیشہ میری کامیابیوں پر شاداں و فرحاں ۔۔۔۔۔میں ان سب کے بغیر نہ پہلے کچھ تھی۔۔۔نہ۔۔اب ہوں۔۔

حریم ادب :5۔آپ کس معاشرے کی نمایندگی کرتی ہیں؟ نیز آپ آج کی عورت کو کیا دلوانا چاہتی ہیں؟ عزت۔دولت۔شہرت۔؟
فرحت نعیمہ :جواب نمبر 5۔۔معاشرے کی نمائندہ؟؟؟ یا طبقے کی نمائندہ؟؟؟ میرا کردار معاشرے میں لکھاری سے زیادہ استاد کا ہے۔۔لہذا میں اساتذہ کے قبیلے سے تعلق رکھتی ہوں۔اور اسی کی نمائندہ ہوں ۔۔۔۔۔۔اس حوالے سے آج کی عورت کے لئے صرف " عزت" کی خواہش رکھتی ہوں ۔۔۔۔۔میرا ایمان ہے کہ اگر ایک عورت معلمہ بھی ہو تو وہ اپنے تعلیمی ادارے کے ذریعے آنے والے "کل" کے لئے با کردار اور با حیا بیٹیاں ۔بہترین بہویئں اور اچھی مایئں تیار کر سکتی ہے۔۔کوشش تو اللہ قبول کرنے والا ہے لیکن آج بھی عورت اپنا اصل کردار ادا کرے تو معاشرہ ضرور عزت دیتا ہے اور یہی ہماری " کمائی " ہے۔ایسی صورت میں دولت اور شہرت کی ضرورت نہیں رہتی۔
حریم ادب ۔۔کتنی مرتبہ آپ کو احساس ہوا کہ کاش میں حجابی نہ ہوتی؟؟
فرحت نعیمہ ۔۔۔زندگی میں ایک مرتبہ بھی یہ احساس نہیں ہوا بلکہ حجاب ہی کی بدولت تو خود اعتمادی بڑھی۔۔ہمیشہ عزت ملی۔۔کبھی شرمندگی نہیں اٹھانی پڑی۔۔۔۔۔البتہ یہ احساس ضرور ہوا کہ کاش اس سے بھی بہتر طریقے سے پردہ کے حکم پر عمل کرتی۔۔

حریم ادب ۔۔۔کون سے رویے ۔مزاج اور مطالبات آپ کو بہت زیادہ تکلیف دیتے ہیں؟؟۔۔۔
فرحت نعیمہ ۔۔۔منافقت ۔۔۔۔۔کے بعد طنزیہ رویے اور تضحیک ۔۔۔کوئی عورت کبھی برداشت نہیں کر سکتی۔۔انھی رویوں نے ہمیشہ تکلیف دی۔ اگرچہ بہت کم ایسا ہوا لیکن معاشرے میں منفی عناصر بھی تو موجود ہیں نا!! ۔لڑکی ہو توا لوگوں کی جانچتی نظریں اس کے کردار کو بھول کر جسمانی خوبصورتی یا بدصورتی ڈھونڈتی طنزیہ نگاہیں ۔۔۔۔تکلیف دیتی ہیں۔۔یہ رویے بچیوں کو کردار سنوارنے کی بجائے چہرہ و جسم سنوارنے کی دوڑ میں مشغول کر دیتے ہیں ۔۔۔۔۔اور جب عورت ہونے کو کمزوری سمجھا جائے تو خود اعتمادی کو ٹھیس پہنچتی ہے ۔۔۔۔دیں پر عمل کرنے والیوں کے لئے تضحیک آمیز رویہ دل کو چیر دیتا ہے۔۔۔۔کاش لوگ سمجھ سکیں کہ وہ ایک عورت کی تضحیک کر کے ایک پورے خاندان کو تباہ کر رہے ہوتے ہیں اور اس طرح پورے معاشرے کی بنیادیں کھوکھلی کرتے ہیں ۔۔۔

حریم ادب :آپ آج کی عورت سے کیا چاہتی ہیں؟ اس کو کہاں اور کیسے دیکھنا چاہتی ہیں؟؟
فرحت نعیمہ :یہی کہ وہ اپنا اصل کردار نبھائے۔اپنی ترجیح میں اپنی عزت و عصمت کی حفاظت کے ساتھ ساتھ اپنے آپ کو نسلوں کی امین سمجھے۔نئی نسل کی تربیت کو اپنا اصل مقصد زندگی قرار دے۔۔۔۔۔۔میں جب آج کی ماوں کو اپنی اولادوں کی تربیت سے غافل ۔۔آج کی استاد کو اپنی شاگردوں کے کردار سے غافل اور آج کی بیٹی اور بہن کو اپنی عزت و عصمت سے غافل دیکھتی ہوں تو شدید صدمہ ہوتا ہے۔اور دل یہ چاہتا ہے کہ اپنی تحریر و تقریر کے ذریعے ان کے قلوب و اذہان کو بدل ڈالوں۔

حریم ادب :آپ کو اپنے عورت ہونے پر فخر ہے کیونکہ۔۔۔۔۔فرحت نعیمہ :کیونکہ میری وجہ سے ایک گھر ایک خاندان جو معاشرے کی اکائی ہے مضبوط بنیادوں پرقائم ہے۔۔۔۔میں مرکز ہوں اس گھر کا۔۔۔۔میری وجہ سے بہت سے رشتے جڑے ہوئے ہیں ۔۔۔اگر میں ٹوٹی اور بکھری ہوتی تو یہ سب لوگ ٹوٹ اور بکھر جاتے۔۔۔۔میں فیملی بانڈ ہوں۔۔۔میں نے سمیٹا ہے ان سب کو اپنے پروں میں۔۔۔۔۔الحمد للہ۔۔
حریم ادب ۔۔اے کاش۔!!!!فرحت نعیمہ :اے کاش میں معاشرے میں بڑھتے بے حیائی اور فحاشی کے سیلاب کو روک سکوں۔۔۔۔تباہ کن نت نئے فتنوں سے اپنی قوم کے نوجوانوں کو بچا سکوں۔۔۔۔۔۔۔اے کاش۔۔اے کاش۔۔۔(حریم ادب نے یہ گفتگو یوم خواتین سیریز کے لیے کی)

ٹیگز
WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */