طاہرہ - سمیرا امام

ہار دیکھ کے انکی آنکھوں میں آنسو آگئے ۔۔۔۔ یہ سطریں پڑھ کر میں کتنی ہی دیر تک ساکت ہوجاتی ہوں ۔ وہ ہار کیا فقط ایک ہار ہی تھا ؟؟
اور پھر مجھے محسوس ہوتا ہے نہیں وہ فقط ایک ہار نہیں تھا ۔ وہ ہار ایک یاد تھی ، محبوب بیوی کی یاد.... میں سوچتی ہوں بھلا کیسی عظیم خاتون ہونگی وہ جن کے بچھڑنے پہ دونوں جہانوں کے سردار نے اس سال کو غم کا سال کہا ۔

جن کا ہار جب انکے ہاتھ میں آیا توآنکھیں نم ہو گئیں ۔ اس ہار سے جڑی یادیں ۔ جب وہ محبوب بیوی کے گلے میں ہوتا ہوگا ۔ اور اب ، اب بیٹی نے ماں کی نشانی اپنے محبوب شوہر کو آزاد کروانے کے لیے دے دی ۔ کیا ایثار ووفا کی مرقع خواتین تھیں ۔ میں زینب رضی اللہ عنہا کی والدہ کو سوچتی ہوں تو میرے دل میں انکی شدید محبت جڑ پکڑنے لگتی ہے ۔ مجھے لگتا ہے یہی تو ہیں دنیا کی سبھی خواتین کے لیے رول ماڈل ۔ سبھی عورتیں اگر دیکھیں کہ " طاہرہ" کیا تھیں ۔ تو جان جائیں گی کہ تاریخ اپنے اوراق میں کن ہستیوں کو جگہ دیتی ہے ۔ وہ عرب کے معاشرے میں " پاک دامن " کے نام سے جانی جاتی تھیں ۔ ایک ذہین کاروباری خاتون ۔ دولت مند اور عزت دار گھرانے کی دختر جنہیں ہر آسائش کی سہولت میسر تھی لیکن سب کچھ پا کر بھی وہ اپنا مقام نہیں بھولیں ۔ اور" طاہرہ " کہلائیں ۔مطہر اور پاک ۔۔۔۔ کیسے خوبصورت الفاظ ہیں جنہیں پڑھ کر روح پاکیزگی سے بھر جاتی ہے ۔ دل میں روشنی کی کرنیں پھوٹ پڑتی ہیں ۔ انسانوں کی بہترین خاصیت انکا مطہر اور پاک ہونا ہی ہے ۔ جب انسانوں کی روح گناہوں کے دلدل میں ڈوب کے پاکی کے تصورسے آزاد ہوجاتی ہے تو ایسے انسان نہ صرف اپنے لیے بوجھ ہوتے ہیں بلکہ وہ معاشرے کا بھی ناسور کہلاتے ہیں ۔

آج کے دور کی عورت شوہر کو محبوب ماننے کی بجائے اس سے ہی مقابلے پہ اتر رہی ہے ۔ اللہ نے جوڑے بنائے تا کہ وہ ایک دوسرے سے سکینت حاصل کر سکیں ۔مودت 'محبت اور رحمت پائیں ۔کیسا خوش کن احساس ہے ۔ شوہر کانپتے ہوئے گھر میں داخل ہوتے ہیں اور طاہرہ کو پکارتے ہیں ۔ ملونی زملونی دثرونی دثرونی وہ پاس بیٹھتی ہیں ۔ چادر اوڑھاتی ہیں ۔ غمگساری اور دل جوئی کرتی ہیں ۔ بہترین الفاظ سے شوہر کی خوبیاں بیان کر کے انکو تسلی دیتی ہیں ۔ اور آج جب خواتین رشتہ ازدواج میں بندھ جانے کے لیے رشتے کا معیار دولت کو گردانتی ہیں تو مجھے سیدہ رضی اللہ عنہا یاد آتی ہیں ۔ جنہوں نے محمدِ عربی صلی اللہ علیہ وسلم کا انتخاب کیا تو پیش نظر کیا تھا ؟؟ انکی صالحیت ' امانت اور صداقت ...نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کو حضرت خدیجہ سے اور حضرت خدیجہ رضہ کو بھی آپ صلی الله علیہ وسلم سے بے پناہ محبت تھی۔ آپ صلی الله علیہ وسلم نے ان کی زندگی میں دوسری شادی کا سوچا تک نہیں اور پورے پچیس سال آپ صلی الله علیہ وسلم نے ان کے ساتھ ہنسی خوشی زندگی گزاری۔نبی کریم صلی الله علیہ وسلم اورحضرت خدیجہ کی محبت کا اندازہ حضرت عائشہ کی بیاج کردہ حدیث سے آسانی سے لگایا جاسکتا ہے۔حضرت عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں:

” مجھے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی بیویوں میں سے کسی پر اتنا رشک نہیں آیا جتنا کہ خدیجہ  پر آیا، حالاں کہ میں نے ان کو دیکھا تک نہیں۔لیکن نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم ان کو کثرت سے یاد کرتے تھے اورکبھی کبھی ایسا ہوتا کہ جب بکری ذبح فرماتے ‘پھر اس کے حصے الگ الگ کرتے تو انہیں خدیجہ کی سہیلیوں کے ہاں بھیجتے۔(حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ) کبھی کبھی میں آپ صلی الله علیہ وسلم سے کہہ دیتی کہ کیا اس دنیا میں صرف خدیجہ ہی ایک عورت ہے۔آپ صلی الله علیہ وسلم فرماتے :” وہ ایسی تھیں‘ایسی تھیں (یعنی ان کی خدمات او ر اوصاف کا ذکر کرتے)اور(یہ بھی فرماتے کہ) ان سے میری اولاد ہوئی۔“
جس عورت پر اس کی سوکن (اورسوکن بھی حضرت عائشہ صدیقہ جیسی )کو رشک آئے تو آپ اور میں اس پاکیزہ خاتون کی فضیلت کا کیا اندازہ لگا سکتے ہیں۔مسلم کی ایک روایت کے آخر میں یہ الفاظ بھی منقول ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے حضرت عائشہکی یہ باتیں سن کر فرمایا:((اِنِّیْ قَدْ رُزِقْتُ حُبَّھَا))
”مجھے ان کی محبت (ربّ العالمین کی طرف سے )عطاکی گئی ہے۔“ حضرت خدیجہ  کی اسلام کے بارے میں بہت خدمات ہیں،جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جب نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اسلام کی دعوت کا آغاز کیا تو غیروں کے ساتھ ساتھ اپنوں نے بھی ساتھ چھوڑ دیا اور طرح طرح کے مظالم آپ صلی الله علیہ وسلم پر ڈھائے گئے۔

ایسے مواقع پر حضرت خدیجہ  کی تسلی اور حوصلہ مرہم کا کام دیتا تھا۔ا س کے علاوہ نبی مکرم صلی الله علیہ وسلم کو مشرکین کی تردید اور تکذیب سے جو صدمہ پہنچتا وہ حضرت خدیجہکے پاس آکر دور ہوجاتا۔وہ آپ صلی الله علیہ وسلم کو تسلی دیتیں‘ حوصلہ افزائی کرتیں اور مشرکین عرب کی بدسلوکیوں کو ہلکا کرکے پیش کرتی تھیں۔اس حوالے سے اُ ن کا یہ قول تاریخ کی کتابوں میں موجود ہے۔ وہ فرماتیں : ” یا رسول اللہ ! آپ رنجیدہٴ خاطر نہ ہوں‘بھلا کوئی ایسا رسول آج تک آیا ہے جس سے لوگوں نے تمسخر نہ کیا ہو۔ شعب ابی طالب میں گزارے گئے مشکل ترین سالوں میں وہ محبوب شوہر کی ہم نوا رہیں ۔ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ ماجدہ حضرت مریم علیہا السلام کو(سابقہ امتوں کی) اورحضرت خدیجہ  کو( اس امت کی )سب سے افضل خاتون قرار دیا ہے۔حضرت علی سے کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ((خَیْرُ نِسَائِھَا مَرْیَمُ ابْنَةُ عِمْرَانَ، وَخَیْرُ نِسَائِھَا خَدِیْجَةُ))․”
(سابقہ) امت کی عورتوں میں سب سے افضل مریم بنت عمران ہیں اور (اس) امت کی عورتوں میں سب سے افضل خدیجہ ہیں۔“ اللہ ہمیں سیدہ خدیجة الکبریٰ کے نقشِ قدم پہ چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */