مشعل راہ حضرت عائشہ صدیقہ اور آج کی مسلم خواتین - رابعہ مظہر

ایک مرتبہ پھر عالمی یوم خواتین کی آمد آمد ہے اور ہر طرف سے تیاریاں زور و شور پر. ہیں اس حوالے سے ہمیں معاشرے میں مختلف طبقات یا گروہ نظر آتے ہیں ایک گروہ وہ ہے جو ہر سال یوم خواتین کے نام پر بے ہنگم اور بھونڈے انداز سے عجیب و غریب اور جہالت پر مبنی پوسٹر اٹھائے.

"حقوقِ نسواں"کی نام نہاد علمبردار بن کر عورت کی تہذیبی و مذہبی غیرت کو تاراج کرتی دکھائی دیتی ہیں اور ایک طرف ہمارے معاشرے کی 80 فیصد خواتین ہیں جو تعلیم اور شعور سے نا بلد شب و روز ایک کوہلو کے بیل کی طرح ایک ہی دائرے میں چکر کاٹتے گزار رہی ہیں انہیں یوم خواتین تو کجا صحیح معنوں میں ان حقوق کا بھی نہیں پتہ جو ایک انسان ہونے کے ناطے رب تعالٰی نے انکے لیے تفویض کیے ہیں .

ایسے میں ہم دین کے لیے نکلنے والی ماؤں اور بیٹیوں کی کوشش ہے کہ اعتدال کی راہ اختیار کرتے ہوئے اس بات کا پرچار کیا جائے کہ قرآن و سنت کی روشنی میں واقعی وہ کونسے مسائل ہیں جو خواتین کے لیے حل طلب ہیں اور کونسے ایسے حقوق ہیں جن کے لیے آواز اٹھانے سے حقیقت میں مسلم معاشرے کی عورت اپنا اصل مقام پا سکتی ہے جو اللّہ تعالیٰ نے اسکے لیے پسند کیا ہے اور جس مقام پر پیارے نبی کے اہل بیت کی خواتین گامز ن تھیں خاص طور پر ہم جس ہستی کے کردار سے راہنمائی حاصل کر سکتے ہیں.

اور جنکی ہستی ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے وہ رسول اللہ کی محبوب ترین ہستی اور ہم سب کی ماں ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ہیں_ وہ حضرت عائشہ صدیقہ جن کو کاشانہ نبوت میں لڑکپن کی عمر سے تربیت و تعلیم کا موقع حاصل ہواجن کی تعلیم و تربیت پر حضور نے خاص توجہ دی اور جن کو اللہ نے ایسی قابلیت عطا کی تھی کہ وہ اس علم کو حاصل کرنے کے بعد تمام عالمِ اسلام کے لیے علم کی شمع کے طور پر نمودار ہوئیں _اور جنہوں نے اسلام کی اشاعت کو اپنی زندگی کا مشن بنایا جن کی زندگی میں آج کے دور کی عورت کے لیے مکمل ضابطہ حیات پنہاں ہے آج ہمارا المیہ ہی انکی ذات اقدس کی تعلیمات اور انکے اسوہ سے دوری ہے اسی لیے آج کی مسلم خواتین "آزادی"اور "برابری" کے سرابوں کے پیچھے بھاگتے بھاگتے دین اور دنیا دونوں گنوانے کے درپے ہیں .

حضرت عائشہ صدیقہ حضرت ابوبکر صدیق کی لخت جگر تھی اور انکی تعلیم و تربیت پر انکے والد نے خاص توجہ دی تھی اور والد سے ہی انہوں نے شعر اور نسب کے علوم میں مہارت حاصل کی تھی یہ وہ دور تھا جب عرب معاشرے میں عورت کا مقام ایک خریدی اور بیچی جانے والی چیز سے زیادہ نہ تھا .اور مرد اسے اپنی مرضی سے جیسے چاہے استعمال کرتا-جب چاہتا طلاق دے دیتا اور جب چاہتا واپس لے آ تا بیٹیوں کو زندہ درگور کر دیا جاتا-ایسے میں حضرت ابوبکر کا اپنی بیٹیوں کی تعلیم و تربیت کا اہتمام کرنا اسلام کا ہی فیض نہیں تو اور کیا تھا؟ حضرت عائشہ وہ خوش نصیب اور با برکت ہستی ہیں .

جنہوں نے جب آنکھ کھولی تو انکے والدین ایمان کی روشنی سے سرفراز ہو چکے تھے اور پھر آپ اپنی زندگی کے اولین سالوں میں ہی رخصت ہو کر حضور کی صحبت مبارکہ میں آ چکی تھیں اس لیے انکو زندگی کے اولین سالوں میں ہی بہترین ہستیوں کی بہترین تعلیم و تربیت حاصل ہوئی .اگر یہ کہا جائے کے حضرت عائشہ آفتاب رسالت کا مہتاب تھیں تو کچھ غلط نہ ہوگا آپ نے حضور کی با برکت تعلیمات کی روشنی کو مسلم معاشرے کی بیٹیوں تک پہنچایا اور انکو صحیح معنوں میں دین کی روح کو سمجھانے میں بنیادی کردار ادا کیا-اپ نہایت ذہین،قابل ،بہترین قوت حافظہ کی حامل،فقیہہ اور صاحبِ علم تھیں-

ایک نبی کی زوجہ میں جو صلاحیتیں ہونی چاہیے آللہ تعالیٰ نے بدرجہ اتم آپکو عطا کیں تھیں -یہی وجہ تھی کے آپ حضور کے دل کے سب سے زیادہ قریب اور انکی محبوب ترین زوجہ تھیں- آج کی عورت کے لیے ام المومنین کی زندگی میں بہترین ضابطہ حیات موجود ہے آپ کی زندگی پر نظر ڈالیے تو بہت سے باطل عقائد جو آج کی مسلم خواتین میں "آزادی"اور "حقوق" کے نام پر راسخ ہو چکے ہیں انکا قلع قمع ہو جاتا- آج نام نہاد لبرل ازم عورت کو ڈراتا ہے کہ اگر وہ پردے میں رہے گی تو اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار نہیں لا سکیں گی _تو آئیں بی بی عائشہ کی زندگی کو دیکھیں جنہوں نے اسی "چادر اور چار دیواری " میں رہتے ہوئے تمام عالمِ اسلام کو دینی احکامات کی شرح اور اختلافی مسائل کا تسلی بخش حل دیا.

جنہوں نے پردے میں رہ کر دو ہزار سے زیادہ احادیث کو روایت کیا- پردے کے پیچھے سے ہی جنھوں نے اس وقت کے لیڈروں کو سیاسی مشورے دیے ، پردے میں ہی آ نے والی نسل کی تعلیم و تربیت ، خطبات اور وقت پڑنے پر امت مسلمہ کے انتشار کو مٹانے کے لیے فوج کی کمان بھی کی ۔ اور یہ سب پر دے کے آ داب کو ملحوظ خاطر رکھ کر کیا ۔ اگر اسلام عورت کے معاملے میں تنگ نظر اور بنیاد پرست ہوتا تو ام المومنین کبھی یہ مثالیں ہمارے لیے قائم کر کے نہ جاتیں۔

انہوں نے ثابت کیا کہ عورت کو اپنی قابلیت ثابت کرنے کےلئے گھر کی فصیلوں کو توڑ کر باہر بھاگنے کی ضرورت نہیں۔اسے اپنے وجود کو فعال بنانے کے لیے پردے کی اوٹ سے باہر نکلنے کی بھی ضرورت نہیں اگر بات میں وزن ہو اور کلمہ حق کا ہو تو وہ آواز اونچی کیے بغیر بھی دنیا کے ایوانوں کو ہلا سکتا ہے۔ضروری نہیں کے دین پر چلنے والی شوہر اور بچوں کی خدمت کرنے والی عورت ناخواندہ،نالائق اور معاشرتی طور پر غیر فعال ہو ۔ہماری ماں حضرت عائشہ ایک بہت خدمت گزار اور بہترین بیوی تھیں اور اسکے ساتھ ساتھ دین کی خدمت کرنے والی بھی ،بہت سے بچوں کی تعلیم و تربیت کا زمہ بھی آپ کے سر تھا اور آپ علمی اور فقہی بحث ومباحثہ میں بھی حصہ لیا کرتی تھیں .

آپ بہت عبادت گزار بھی تھیں اور صحابہ کرام اور خلفائے راشدین کی مشیر بھی تھیں۔ الغرض زندگی کے ہر شعبے کو اعتدال کے ساتھ نبھا کر آپ نے ثابت کر دیا کہ مسلم خاتون دنیا کی کسی بھی دوسرے مذہب اور معاشرے کی عورت سے بہتر ہے ۔اور اسکی تعظیم اور تکریم اللہ کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق زندگی بسر کرنے میں ہی ہے۔انہوں نے اللہ اور اسکے رسول کی اطاعت کو اپنا شیوا بنایا اور اللہ نے انکی برات کے لیے آسمان سے وحی نازل کی اور اس طرح آپ کو وہ تعظیم عطا کی جسکی گواہی رہتی دنیا تک قرآن کی آیات دیں  گیں.

یہ فیضان صرف اسلام نے عورت کو بخشا ہے نہ کے کسی اور مذہب نے تو پھر کس طرح ہم غیر مسلم معاشرے کی اقدار کو عورت کے لیے نجات تصور کر سکتے ہیں اور یہ کیسے فرض کر سکتے ہیں کہ وہ دین جس نے زندگی کے ہر ہر شعبے میں انسان کو انصاف اور عزتِ نفس سے سرفراز کیا وہ عورت کو بے یارو مددگار چھوڑ دے گا ۔یہ صرف اور صرف ہماری دینی تعلیم کی کمی اور اغیار کی اندھی تقلید کا نتیجہ ہے کہ آج ہماری بہو بیٹیاں پردے،دینی اقدار اور مسلم تہذیب سے نالاں نظر آتی ہیں اور اس سے بغاوت پر تلی بیٹھی ہیں ۔اور اس تہذیب کی تقلید پر آمادہ ہیں جس نے اٹھارویں صدی عیسوی تک عورت کو تعلیم کے حق سے ہی محروم رکھا .

جو حق اسلام نے چھٹی صدی عیسوی میں یعنی مغرب سے بارہ سو  سال پہلے عورت کو بنا مانگے عطا کر دیا تھا وہاں انیسویں صدی میں آکر عورت کو ووٹ کا حق نصیب ہوا اور ام المومنین چھٹی صدی عیسوی میں ہی صحابہ کرام اور خلفائے راشدین کے لیے سیاسی امور میں مشاورت کے فرائض انجام دیتی نظر آتی ہیں۔آج شادی کو زنجیر اور قید سمجھنے والی ہماری بہنوں اور بیٹیوں کو حضور اور عائشہ صدیقہ کی ازدواجی زندگی پر نظر ڈالنی چاہیے جہاں حضور اپنی تمام محبتیں اپنی محبوب بیوی پر نچھاور کرتے اور انکے ناز اٹھاتے نظر آتے ہیں اور ام المومنین نازو ادا دکھاتی نظر آتی ہیں۔

ایک محبت ،خلوص اور مان سے لبریز خوبصورت رشتہ جو یہ سمجھانے کے لیے کافی تھا کہ معاشرے کی بنیادی اکائی میاں بیوی کا رشتہ ہے اگر اس رشتے میں توازن اور محبت اللہ کے بتائے احکامات کے مطابق رکھا جائے تو معاشرہ کتنا خوبصورت اور پر سکون ہو جاتا ہے۔اور میاں بیوی دونوں معاشرے میں کارآمد فرد کے طور پر نظر آتے ہیں جہاں حضور نے بیوی کو ادنی غلام نہیں بلکہ گھر کی ملکہ کا درجہ دیا اور فرمایا " تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنی بیویوں کے لیے سب سے اچھا ہے اور میں تم سب سے زیادہ اپنی بیویوں کے حق میں اچھا ہوں " اس سے زیادہ مان عزت اور تکریم کس معاشرے اور مزہب نے عورت کو دی ہے؟

ہم مغرب کی تقلید میں شادی کو قید سمجھتی ہیں اور وہاں مغرب میں شادی سے فرار حاصل کرنے والی عورتیں ٹشو پیپر کی طرح استعمال ہوتی ہیں اور پھر تن تنہا بچوں کا بوجھ اٹھائے اور ایک مرد سے دوسرے مرد کی آسائش کا سامان بنتی نظر آتی ہیں۔اور ہماری پڑھی لکھی،ماڈرن اور نام نہاد لبرل بہنیں اس بات کو سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اس طرح ایک جنس کے طور پر استعمال ہونا اور زندگی کا بار تن تنہا اٹھانا زیادہ قابلِ عزت ہے یا گھر کی ملکہ بن کر اپنے شوہر کے ہم رکاب گھر کی سلطنت کو چلانا اور محبت سے ایک نسل کو پروان چڑھانا زیادہ بہتر ہے۔

اب آتے ہیں "برابری" کے مسئلے کی طرف آج کی ماڈرن عورت کو مرد کے برابر حقوق چاہے۔ اور انہی انجانے اور اندیکھے حقوق کی گونج ہمیں ہر جگہ سنائی دیتی ہے۔ تو میری بہنو اس رب تعالیٰ نے جس نے آپ کو اور مجھے تخلیق کیا وہ آپ سے اتنی ہی محبت رکھتا ہے جتنی وہ اپنے پیدا کیے ہوئے مردوں سے رکھتا ہے۔اسنے عورت کو زندگی کے ہر شعبے میں مکمل انصاف کے ساتھ حقوق عطا کیے ہیں مثلآ مرد صرف اپنے والد کے ترکے کا حصےدار ہے ۔ہاں بھائی اور دیگر رشتے داروں کی اگر اولاد نہ ہو تو اسکو حصہ ملتا ہے .

ہماری بہنوں کو عورت کے جائیداد میں آدھے حصے پر اعتراض ہے اور انکو یہ نہیں معلوم کہ عورت اپنے والد اور شوہر دونوں کے ترکے کی وارث ہے۔ تاکہ اگر کوئی ایک معاشی طور پر غیر مستحکم ہو تو کم از کم دوسرے کے ترکے سے عورت کو حصہ ملے اور وہ معاشی طور پر مستحکم ہو ااتنا تردد مردوں کے لیے تو نہیں کیا گیا ۔اور کس طرح کے حقوق اور آزادی ہم کو چاہیے میرا خیال ہے کہ یہ ایک غور طلب بات ہے کچھ سوچے سمجھے بغیر اغیار کی سازشوں کا نشانہ بن جانا ہمیں زیب نہیں دیتا کہ

ہم مائیں ہم بہنیں ہم بیٹیاں قوموں کی عزت ہم سے ہے . ہم معاشرے کی بنیادی اکائی ہیں نسلیں ہماری ہاتھوں میں تربیت پاتی ہیں اگر ہم دین سے دور اور اغیار کی تہذیب کے قریب ہوں گے تو ہماری امت اخلاقی زوال کا شکار کیوں نہ ہو۔گی۔افسوس تو اس بات کا ہے کہ ہمارا دشمن ہم سے زیادہ ہماری اخلاقی اقدار اور معاشرتی نظام سے واقفیت رکھتا ہے۔وہ جانتا ہے کہ اگر آج کی مسلمان عورت سیرتِ عائشہ کو مشعل راہ بنا لے تو یہ امت پھر سے دنیا۔کے ایوانوں پر حکومت کرنے لگے گی ان ماؤں کی گودوں سے پھر خالد بن ولید اور صلاح الدین ایوبی جنم لیں گے جو انکی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے.

میری پیاری ساتھیو ہمارا دین اور ہمارا رب ہم سے تقاضہ کرتا ہے کہ غیروں کی تہذیب کے ہنڈولوں میں جھولنے بجائے ہم آنکھیں کھولیں اور اپنی عزت اور اپنے مقام کو پہچانیں اور دنیا کو ایسی ایمان سے لبریز خواتین دیں جنہوں نے دین کا کام مردوں کے شانہ بشانہ اور بعض مواقع پر ان سے بڑھ کر احسن طریقے سے انجام دیا۔ جس کا بہترین راستہ اسوہ عائشہ کو جاننا اور اس پر چلنا ہے آج کی مسلمان عورت کی فلاح اسی میں ہے۔