آو مل کر عورت مارچ کے بینرز بناتے ہیں - بشریٰ زاہد

میرے کچھ دوست احباب کہنے لگے ، آپ کیوں اتنی نالاں ہیں ان گنتی کی چند عورتوں سے جو ہر سال اپنی سمجھ کےمطابق کچھ نئے نرالے سے نعرے بنا لاتی ہیں؟ انہیں کرنے دیں انکی مرضی۔ یہ محدود سا طبقہ ہے جو مخصوص سوچ رکھتا ہے۔ آپ ان کے خلاف آواز اٹھا کر معاشرے کو جنگ کی جہت پر نہ لے کر جائیں۔

محو حیرت ہوں کہ پھر کریں تو کیا کریں؟ خاموش تماشائ بن کر معاشرہ جس ڈگر پر چل رہا ہے ، اسے چلنے دیں ؟ ایسا کریں تو قرآن کی سورہ اعراف کی آیات یاد آ جاتی ہیں ۔جب سبت والے تین گروہوں میں بٹ گئے۔ ایک گروہ وہ تھا جو برائ کرتا تھا، ایک گروہ انکو روکتا تھا اور ایک تیسرا گروہ تھا جو کہتا تھا ،"ان کو کیوں برا بھلا کہتے ہو؟ اپنے کام سے کام رکھو"۔ اللہ رب العزت کے قہر اور عذاب سے صرف وہی گروہ بچ سکا جو منع کرتا تھا۔

کچھ ساتھیوں نے یہ بھی کہا کہ ان کی یہ سوچ عورت کے ساتھ ہونے والی نا انصافیوں اور ظلم و تشددنے بنائ۔ یہ معاشرے کی آواز ہیں۔ سورہ البقرہ کی آیت یاد آگئ۔ " جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ پھیلاو تو کہتے ہیں ۔ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں۔ خبردار ! اصل میں یہی لوگ مفسد ہیں۔لیکن یہ جانتے نہیں" یہی تو کرنا ہے بس جو اللہ رب العزت نے فرمایا ۔ خبردار ۔۔۔ بس خبردار ہی تو کرنا ہے ہمارا کام ۔اللہ نے انبیا کو بھی اسی کام کے لیے مبعوث کیا۔ یہی تو طعنہ تھا جو حضرت شعیبؑ کو موصول ہوا۔ " کیا تمہاری نماز تمہیں حکم دیتی ہے کہ تم ہمیں ٹوکو؟ "یہ ویسا ہی جملہ ہے جو آج کل ہم کہتے ہیں۔

دین پڑھائیں۔ نماز روزہ کریں۔ اپنی عبادات بخوبی بجا لائیں۔ معاشرے میں ہونے والی بد اعمالیوں پر اپنی آواز نہ بلند کریں۔ کوئ بات نہیں ، اگر ہمیں کوئ دقیانوس اور برا بھلا کہے ۔یہ سعادت تو ہر دور میں انبیا کو بھی نصیب ہوئ۔ ہمارا کام آواز اٹھانا ہے۔ اللہ نے نتیجہ بھی بتا دیا " وما کان اکثرھم مومنیں" (اکثریت نہیں مانے گی)۔ جب نبیوں کی نہ مانی تو میری اور آپکی کہاں مانے گی ؟ہاں اس چڑیا کی طرح جو اپنی چونچ میں پانی بھر کر ابراہیمؑ کی آگ کو بجھا رہی تھی۔ میں اور آپ، یہ تو کہ سکیں گے کہ اے میرے رب ! میں نے اپنا حصہ ڈالا، میں نے اپنی سی کوشش کی ۔ میرے ساتھیو! ہمارا جھگڑا کسی سے نہیں۔

اس میں کوئ شک نہیں کہ ہر دور میں عورت ظلم کا نشانہ بنتی رہی ۔ لیکن اس کا حل افراط و تفریط نہیں ہے۔ ہر معاشرے نے جب بھی اللہ سے رہنمائ لینے کے بجائے ، اپنی عقل سے انصاف تلاش کرنا چاہا، نتیجہ یہی نکلا۔ کچھ طبقات اور معاشروں نے تو عورت کو پاوں کی جوتی بنا دیا اور بعض نے جب ان کے حقوق کی بات کی تو انہیں مادر پدر آزاد بنا ڈالا۔ اتنا آزاد کہ اس نے اپنی فطری جبلت بھی کھو ڈالی، اتنا آزاد کہ وہ اپنی پہچان بطور عورت (ڈھانپ کے رکھی جانے والی چیز) بھی کھو بیٹی ۔ معاشرے کے ہر طبقے، ہر گروہ اور ہر فرد کے حقوق و فرائض کا تعین وہی ذات کر سکتی ہے جو اسکو بنانے والی ہے۔

اللہ رب العزت کی ذات۔ اللہ خود فرماتا ہے ۔ الا یعلم من خلق؟ " بھلا وہی نہ جانے گا ، جس نے پیدا کیا ؟ " میری گزارش ہے ان حقوق نسواں کی علمبرداروں سے، آپ کا رب آپ سے ستر ماوں سے بھی بڑھ کر پیار کرتا ہے ، اس نے آپ کے نام سے تو ایک سورة کا عنوان بھی رکھا ہے۔ "نسا" (عورت)اس نے ساتویں عرش پر ایک عام سی عورت کو جب زارو قطار روتے دیکھا تو اس کے مسلے کو حل کرنے کے لیے بھی آیات نازل کیں ۔جس کا آغاذ ہی بڑا پیارا ہے۔ قد سمع اللہ قولا التی (اللہ نے سن لی اس عورت کی بات)۔ اس رب کی ذات پر یقین رکھیں ۔

وہ آپ کے ساتھ نا انصافی نہیں کرے گا۔ اس کی چٹھی (القرآن) کو پڑھیں اور پھر اپنے حقوق کی آواز بلند کریں۔ ہم بھی آپکا ساتھ دینگے۔ کتنے خوبصورت بینر بنیں گے۔ مثال کے طور پر " عورتوں کے بھی ویسے ہی حقوق ہیں جیسے مردوں کے " " جو بھی نیکی کرے گا اجر پائے گا ، خواہ مرد ہو یا عورت" " عورتوں کو ان کے مہر خوش دلی سے دو"

" طلاق ہو جانے پر جب رخصت کرو تو کچھ دے دلا کر بھلے طریقے سے کرو" " عورت کو وراثت میں اس کا حصہ دو" آئیں مل کر آواز بلند کرتے ہیں ؟ نہ آپ ہم سے جھگڑیں ۔نہ ہم آپ سے۔ اللہ رب العزت تو اہل کتاب سے بھی کہتا ہے ۔ تعالو الی کلمة سوا بیننا وبینکم (آو! اےاہل کتاب ! اس بات کی طرف جو تم میں اور ہم میں یکساں ہے ) ۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com