کراچی کی تباہی اور پاکستان - حبیب الرحمن

یہ بات نہیں کہ پاکستان کے معالجوں کو پاکستان کے مرض کا علم نہیں، مرض کی تشخیص نہیں ہو پائی یا انھیں مرض کے مطابق درست دوا کا علم نہیں۔ مرض کا علم بھی ہے، تشخیص بھی بہت عمدہ اور درست درست کر لی گئی ہے، مرض کی پوری حقیقت سے آگاہی ہے ۔

اور اس کی دوا نہ صرف معلوم ہے بلکہ ہوا اور پانی کی طرح وافر اور نہایت ارزاں قیمت پر موجود ہے۔ فتور ہے تو صرف نیتوں کا ہے جس نے آنکھوں پر پردے ڈالے ہوئے ہیں۔ پاکستان کا کوئی ایک ذی شعور، صاحب عقل، اینکر، ادیب، شاعر، فلسفی، سیاستدان یا فوجی حکمران ایسا نہیں جو یہ نہ کہتا ہو کہ کراچی ترقی کریگا تو پاکستان ترقی کریگا۔ کراچی کے حالات ٹھیک ہونگے تو پاکستان کے حالات ٹھیک رہیں گے اور کراچی پر امن ہوگا تو پاکستان امن، سکھ اور چین کا سانس لے سکے گا۔

پاکستان میں کوئی ایک فرد بھی ایسا نہیں جو اس بات کا معترف نہ ہو کہ پاکستان کی ترقی کراچی کی ترقی و خوشحالی میں ہی پنہاں ہے اس کے باوجود بھی پاکستان میں جتنے بھی "پاکستانی" ہیں وہ کراچی کو اپنا سمجھنے کیلئے کیوں تیار نہیں ہیں اور کیوں نہیں چاہتے کہ کراچی ترقی کرے اور اس کی ترقی کی وجہ سے پاکستان دنیا کے خوشحال ممالک میں سر فہرست آ جائے؟۔
کوئی بھی خطہ زمین اپنے اوپر آباد لوگوں سے ہی آباد اور با رونق نظر آیا کرتا ہے۔

اس حقیقت سے بھی انکار مشکل ہے کہ کراچی میں جو آبادی اس وقت واضح اکثریت میں ہے وہ اس سرزمین والوں کی نہیں بلکہ ایک بہت بڑی تعداد ان افرد کی ہے جو برِ صغیر کی تقسیم کے بعد موجودہ پاکستان کی سرحدوں کے اُس پار سے آکر آباد ہوئے۔ گو کہ یہ سارے کے سارے مسلمان اور پاکستان بنانے والی تحریک میں شامل افراد کی اولادوں میں سے ہیں لیکن جس خطہ زمین کو انھوں نے اپنا مسکن بنایا یا ہے، ان کی اور یہاں پر آباد مقامی آبادی والوں کی بود و باش میں بہت واضح فرق تھا۔ یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے جس خطے میں سرحد کے اُس پار سے آئے لوگ یہاں آباد ہوئے، یہاں کے مقامی لوگوں نے نہایت دریادلی کے ساتھ انھیں خوش آمدید کہا اور ان کیلئے اپنی سر زمین کو امن کی سرزمین بنا کر ان کے آباد ہونے پر کسی قسم کے منفی ردِ عمل کی بجائے، پیار اور محبت کا مظاہرہ کیا۔

تاریخ اس بات کی بھی گواہ ہے کہ یہاں کے مقامی باشندوں اور اور سرحد پار سے آکر آباد ہونے والوں کی محبت میں آج بھی کسی قسم کی کوئی کمی نہیں دیکھی جاسکتی۔ ایک ہی محلے میں ہر قومیت کے افراد ایک دوسرے کے ساتھ شیر و شکر نظر آتے ہیں۔ کوئی مسجد، مدرسہ، اسکول، بازار، گلی اور آبادی ایسی نہیں جہاں پاکستان کے سارے رنگ آپس میں قوسِ قزح کی مانند نہ دیکھے جاتے ہیں۔

پاکستان کو بنے 70 برسوں سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے اور اب تو تقریباً ہر قوم ہر دوسری قوم سے رشتہ ازدواج تک میں اس طرح جڑ چکی ہے کہ ان کی نئی نسل یہ کہہ ہی نہیں سکتی کہ وہ والد کے رشتے داروں سے قریب ہیں یا دودھ کا رشتہ انھیں زیادہ عزیز ہے۔ان تمام حقائق کے باوجود قابل افسوس بات یہ ہے کہ جب بھی بات کراچی کی آتی ہے، حکمرانوں کی نیت معلوم نہیں کیوں اپنا اخلاص کھو دیتی ہے اور ان کی توجہ کراچی کی جانب سے کیوں ہٹ جاتی ہے۔

ذوالفقار علی بھٹو کے زمانے میں ایک قانون بنا جس کو "کوٹہ سسٹم" کا نام دیا گیا تھا۔ کوئی دیانتداری سے بتائے کہ "شہری" اور "دہی" تفریق کے اس قانون سے سندھ کا وہ کونسا شہر، اور وہ کونسی آبادی تھی جو اس کی زد میں آ سکتی تھی؟۔ پھر یہی نہیں کہ بھٹو دور کے ختم ہونے کے بعد اس قانون میں ترمیم کر لی گئی بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ جو قانون صرف 20 برس کیلئے بنایا گیا تھا، اس میں توسیع ہوتے ہوتے آج کا دن آن پہنچا ہے لیکن وہ قانون بالکل اسی انداز میں موجود ہے اور مستقبل میں بھی اس بات کا کوئی امکان نہیں کہ اس میں کسی قسم کا کوئی رد و بدل ہو سکے گا۔اس سے بحث نہیں کہ اس قانون کے اب تک تسلط میں کن کن سیاسی پارٹیوں کی شرکت یا قصور رہا ہے، بحث ہے تو اس بات سے کہ اس قانون کی زد سندھ میں آباد کس کمیونٹی پر زیادہ پڑی ہے۔

کوٹا سسٹم کا اصل مقصد اس کے علاوہ اور کچھ نہیں تھا کہ سندھ کے وہ پسماندہ علاقے جہاں بنیادی یا اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی سہولیات نہیں ہیں یا بہت کم ہیں، وہاں کے طالبِ علموں کو اوپر آنے کا موقع ملے۔ مجھے اس قانون سے بے شک کبھی اتفاق نہیں رہا اس لئے کہ اعلیٰ اور پروفیشنل تعلیم کی سہولت 70 برس گزرجانے کے بعد اب بھی صرف اور صرف سندھ کے ایک دو شہروں میں ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب کسی بھی علاقے کا کوئی طالبِ علم ایک مرتبہ کسی پروفیشنل تعلیمی درس گاہ میں داخلے کا حق دار بن جاتا ہے تو پھر اس کے فرسٹ کلاس ڈاکٹر یا انجینئر بننے کے بعد دہی اور شہری کی تفریق کوئی معنی نہیں رکھتی البتہ مڈل کلاس تک کی تعلیم کی اور بات ہے۔

باقی رہا بورڈ کا معاملہ تو خواہ وہ میٹرک بورڈ ہو یا انٹر بورڈ، پورے سندھ کا معیار بہر صورت ایک ہی ہوتا ہے یہاں تک کہ کہیں کے پرچوں اور ان کے سوالات کا معیار ایک دوسرے کے متوازی ہی ہوتا ہے۔ جب معیار متوازی ہی ہوا تو پھر معیار (میرٹ) میں تفریق کی ضرورت ہی خود بخود ختم ہوجاتی ہے۔ ہوا یہ کہ بورڈ کے متوازی معیارات اور اعلیٰ یونیورسٹیوں اور پروفیشنل یونیورسٹیوں کے ایک جیسے معیار ہونے کے باوجود "شہری اور دہی" تفریق کو بر قرار رکھا گیا۔ ایک ستم یہ بھی ہوا کہ ان لوگوں کی اولادیں جو سر حد کے اس پار سے موجودہ پاکستان میں آباد ہیں کیونکہ ان کا یہاں کوئی "دیہات" نہیں تھا اور وہ صرف اور صرف شہری کوٹے پر ہی کسی جاب کیلئے منتخب ہو سکتے تھے وہ اکثر شہری نشست سے منتخب ہونے سے یوں بھی رہ گئے کہ جن کا دیہات تھا وہ شہروں میں بھی اپنی جڑیں بہت گہری رکھتے تھے۔

جب کوٹا سسٹم متعارف ہوا، اس وقت میں کالج گوانگ تھا۔ میں نے کہا کہ اول تو یہ ایک "متعصابنہ" قانون ہے لیکن پھر بھی میں یہ رائے دینا چاہتا ہوں کہ بے شک کسی بھی آسامی پر انتخاب شہری کوٹے سے ہو یا دہی کوٹے سے، لیکن خدارا اس بات کو پھر بھی یقینی بنایا جائے کہ جس کا بھی انتخاب کیا جائے وہ بہر کیف صرف اور صرف "اہلیت" (میرٹ) پر کیا جائے۔ لیکن پاکستان کی اور خصوصاً سندھ کی یہ بد قسمتی تھی کہ ذوالفقار علی بھٹو کے دور سے تا حال، پاکستان کے کسی بھی گورنمنٹ کے محکموں میں کوئی ایک آسامی بھی اہلیت کی بنیاد پر پُر نہیں کی گئی۔

کیونکہ کوٹا سسٹم سے متاثر ہونے والے سندھ کے بڑے بڑے شہر اور خاص طور سے کراچی تھا (بلکہ آج تک ہے) اس لئے پاکستان کو ترقی کی دوڑ میں لازماً پیچھے ہی رہجانا تھا۔
ایک ایسا شہر جس کی آبادی سے وفاق کا یہ مطالبہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو صرف اور صرف "پاکستانی" کہے اور صوبے والوں کا یہ کہنا ہے کہ وہ اپنے آپ کو سندھی سمجھے، وہاں کے باشندوں پر نہ تو سندھ کوٹا سسٹم کی تلوار کو ان کے سروں سے ہٹانا چاہتا ہے اور نہ وفاق ان کو مخلص پاکستانیوں میں شمار کرنے کیلئے تیار ہے۔

کراچی دشمنی کی وجہ سے پورے پاکستان میں میرٹ کا جو خون ہوا اس کے نتائج آج پورے پاکستان کے سامنے ہیں جس کا سب سے بڑا ثبوت وزیر اعظم پاکستان کی تقریر کے وہ الفاظ ہیں جس میں انھوں نے صاف صاف یہ بات کہی کہ "نوجوان اگر اپنے آپ کو اور اپنی صلاحیتوں کو تباہ و برباد کرنا چاہتے ہیں تو سرکاری ملازمت اختیار کر لیں۔ سرکاری ملازمتیں حاصل کرنے کا ان کے نزدیک کوئی اور مقصد ہے ہی نہیں کہ وہ کام کریں یا نہ کریں تنخواہیں ان کو لازماً ملیں گی اور ریٹائرمنٹ کے بعد پنشنیں ان کے پیٹ عمر بھر بھرتی رہیں گی"۔ وزیر اعظم کو اس بات پر بے شک پورے پاکستان سے سخت تنقیدوں کا سامنا ہے لیکن کیا انھوں نے یہ بات غلط کہی ہے؟۔

کراچی تو بے شک اس انداز میں آگے نہ بڑھ سکا جیسا اسے بڑھنا اور پاکستان کا ایک کڑیل بیٹا بننا چاہیے تھا لیکن کوئی مجھے صرف اتنا بتائے کہ کیا اہل کراچی فاقوں کی وجہ سے بھوک سے مر رہے ہیں؟۔ جن کے شہر کے بینک، ملیں، کارخانے، ہسپتال، تعلیمی ادارے، ٹراسپورٹ سرکاری اور صوبائی محکمے حتیٰ کے مقامی پولیس بھی اب ان کی نمائندگی سے محروم ہے، ان کو تو کب کا مر کھپ جانا چاہیے تھا تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آج بھی ان کا ہر ایک گھر اتنا متوول کیوں ہے کہ پاکستان کی ہر قومیت ان کے گھروں میں ملازمتیں کرکے اپنے بیوی بچوں کیلئے دو وقت کی روٹی کا بند و بست کرتی نظر آتی ہے۔

یہ اہل پاکستان سے شکوہ نہیں بلکہ "توجہ دلاؤ نوٹس" ہے کہ جو اپنے لئے راہیں تلاشنا جانتے ہوں، ان کو جب تک معیشت کی بڑھوتری کیلئے آگے آنے کا آزادانہ موقع فراہم نہیں کیا جائے گا، ہر آسامی اہلیت کی بنیاد پر پُر نہیں کی جائے گی، میں اپنے پورے یقین کے ساتھ یہ بات کہہ سکتا ہوں کہ اس وقت تک کراچی صحیح معنوں میں کبھی ترقی نہیں کر سکے گا۔

اور یہ بات بھی پتھر کی لکیر ہے کہ جب تک کراچی ترقی نہیں کریگا اس وقت تک کوئی یہ سمجھتا ہے کہ پاکستان دنیا کا ایک خوشحال ملک بن سکتا ہے تو 72 سال تو گزر ہی چکے ہیں اگر یہ کافی نہیں تو اور 72 سال اپنے اپنے تجربے کر کے دیکھ لیں، نتیجہ مزید منفی تو سامنے آسکتا ہے، مثبت کبھی نہیں آ سکتا۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */