عورت مارچ غلط رخ پر - صہیب جمال

کون نہیں جانتا کہ جہاں قانون نہ ہو انصاف نہ ہو وہاں مرد عورت کسی کا بھی مال ، عزت اور جان محفوظ نہیں ہوتی ہے ۔ دوسری بات جہاں تعلیم نہ ہو وہاں بےامنی بھی ہوتی ہے اور بہت خطرناک ہوتی ہے ، افریقہ کے کئی ممالک تو بہت ہولناک ہیں جہاں متعدّد گروپس آپس میں دست و گریباں رہے ہیں کچھ ممالک میں تو اب بھی خونریزی رہتی ہے ۔

جہاں انصاف نہ ہو قانون کی بالادستی نہ ہو وہاں کمزور طبقہ پٹتا رہتا ہے عتاب کا شکار رہتا ہے ۔مجھے عورت مارچ پر شدید اعتراض ہے ، ان کے نعرے طبقاتی اور جنسی رقابت ظاہر کر رہے ہیں ، ان کی خواہش ہے کہ ان کو یعنی عورتوں کو آزادی چاہیے ، جبکہ میں دیکھ رہا ہوں کہ ان کو مکمل آزادی ہے ، شاپنگ مال میں یہ آزادی سے خریداری کر رہی ہیں ، اسکول ، کالج ، یونیورسٹیز میں پڑھ رہی ہیں ، ہسپتالوں میں ڈیوٹی انجام دے رہی ہیں ، اداروں میں کام کر رہی ہیں ، کون روک رہا ہے ؟ کس نے ان کی آزادی پر قید لگائی ہوئی ہے ؟

کچھ این جی اوز کی پَر کٹی آنٹیز ان کو استعمال کر رہی ہیں اور کچھ بچیاں اور خواتین ٹرک کی بتی کے پیچھے ہیں ، ان کی این جی اوز ان نعرے لگاتی عورتوں کی وجہ سے پھلتی پھولتی ہیں ، غیرملکی فنڈز اور دورے ہوتے ہیں ، خون پسینہ استعمال ہوتا ہے ان ٹرک کی بتیوں کے پیچھے لگی خواتین کا ۔

خواتین اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھائیں ، اسلام نے جو ان کے حقوق رکھے ہیں وہ مانگیں ، وراثت میں حق ، مرضی کے رشتوں کا حق ، تعلیم کا حق ، آزاد اور محفوظ ماحول کا حق ، شرم و حیاء کے قائم رہنے کا حق ، ونی اور کارو کاری جیسی غیر اسلامی اور غیر انسانی رسومات سے نجات کا حق ، جنسی ہراسمنٹ سے بچنے کا حق ، تھانوں اور عدالتوں میں مفت اور آسان انصاف کا حق ، یہ حقوق مانگیں ہم ان کے ساتھ ہوں گے ۔

یہاں تو معاملہ ہی الٹ ہے ، یہ نعرہ لگا رہی ہیں کہ ان کو سڑکوں پر آزادی چاہیے ، سڑکوں پر کیا آزادی چاہیے ؟ ناچنا ہے ؟ کرکٹ کھیلنی ہے ؟ چوکڑی مار کر بیٹھنا ہے ؟ بیٹھیں کھیلیں کس نے منع کیا ہے ، مگر اس کے لیے پہلے محفوظ معاشرہ تو تشکیل دیں ، ایسا ماحول تو ہو کہ آپ یہ سب کریں اور کوئی نظر اٹھا کر نہ دیکھے اگر دیکھ بھی لے تو ہمت نہ ہو کہ ہاتھ لگا سکے آواز کس سکے ۔

کوئی روٹی ، غیرت ، مذہب کے نام پر مار نہ سکے ، مجھے ذاتی طور پر اس عورت مارچ کے عزائم و نعروں پر اعتراض ہے ، یہ ابھی تک یہ طے نہیں کرسکے کہ یہ عورت مارچ میں آزادی کس سے مانگ رہے ہیں ؟ یہ ابھی تک مطمئن نہیں کرسکے ہیں ۔جناب مظلوم کی نہ کوئی جنس ہوتی ہے نہ قوم ، اسی طرح ظالم بھی نہ جنس دیکھتا ہے نہ قوم ، مظلوم کی بات کریں اور ظالم کے احتساب کی بات کریں ، ظالم کے ہاتھ روکنے کی بات کریں ۔

اس عدالتی نظام کے خلاف کھڑی ہوں جہاں ایک باپ اپنی بیٹی کی عزت تار تار ہونے کے بعد اس کو انصاف دلانے کے لیے اپنی جان دے دیتا ہے ، اس نظام کی بات کریں جہاں ظالم میڈیکل رپورٹ پر اثر انداز نہ ہو
۔
آئیں مل کر ایسی ریاست کی تشکیل کرتے ہیں ، جہاں عورت کا مقام ماں ، بہن ، بیٹی کا ہو اور ان کی مرضی کا ان کا جیون ساتھی ہو ۔یہی ہمارا دین بھی کہتا ہے ، دینِ فطرت اسلام میں دیے حقوق سے زیادہ مانگیں گی تو ایک مشکل سے دوسری مشکل میں جا گریں گی ۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com