یہ ہیں ترکی کے صدر جناب رجب طیب اردوان

وہ استنبول کے مضافات میں، ایک درمیانے درجے کے خاندان میں پیدا ہوا. اس کی تاریخ پیدائش 26 فروری 1954 تھی. ان کی مالی حالت اچھی نہیں تھی.اچھی جسمانی ساخت کے ساتھ، اس نے مدرسہ تو شروع کر دیا لیکن اس کے خاندان کی مالی حالت اچھی نہیں تھی.

وہ بچپن سے عجیب و غریب عادات کا مالک تھا. اس کو لفظ " آزادی" سب سے اچھا لگتا تھا. اس نے خاندان کی حالت کا اندازہ لگا لیا تھا اور بجائے میرے ھم وطنو کی طرح رونا پیٹنا یا دوسروں کو ہر وقت اپنی رام لیلا سنانے کی بجائے، وہ گھر میں بہترین شکنجبین تیار کرتا اور شہر کی سڑکوں پر بیچتا، جب اس کو شکنجبین سے اچھے پیسے آنے لگے تو اس نے ساتھ ڈبل روٹی بھی بیچنا شروع کر دی.

مدرسہ و سکول اور پھر یونیورسٹی، وہ سیاسی معاملات میں بہت زیادہ دلچسپی لیتا. وہ سیاست میں " نجم الدین اربکان" کو اپنا پیر و مرشد مان چکا تھا. وہ بہت تیزی سے مقبول ھو رہا تھا. اس میں عاجزی اور محبت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی. وہ یونیورسٹی ھی میں یونین کا " چیرمین" بن گیا. اس کی مقبولیت اتنی بڑھی کہ وہ 1994 میں ترکی کے اہم ترین شہر یعنی استنبول کا " میئر" بن گیا, یہ وھی استنبول تھا جس کی سڑکوں پر وہ شکنجبین اور ڈبل روٹی بیچتا تھا . استنبول قرضوں میں جکڑا ھوا تھا.

اس نے قرض اتارنے تک شراب اور جوئے سے آنکھیں بند کر لیں. جس دن استنبول، قرضوں سے آزاد ہوا، اس نے کہا کہ " اب استنبول میں کوئی کھلے عام شراب پی کر اور جوا کھیل کر دکھائے.....وہ 1998 تک استنبول کا میئر رھا. 1997 میں پہلی دفعہ اس پر آفت نازل ھوئی کیونکہ اس نے ایک بہت بڑے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے، سیکولر ترکی میں کہہ ڈالا،

" یہ مسجدیں ھماری بیرکس ہیں. ان کے گنبد ھمارے

ہیلمٹ ہیں. ان کے مینار ھماری سنگینیں ہیں. اور

وفاداری، ھماری فوج ھے " "" "" "

ہر طرف سناٹا چھا گیا. پورے ترکی میں کان کھڑے ھو گئے. جیوری بیٹھ گئی اور ساری تقریر بار بار سننے کے بعد 10 ماہ کی سزا سنا دی. 2001 میں اس نے نجم الدین اربکان کی تعلیمات پر " جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ " پارٹی کی بنیاد رکھی. اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ ترکی کے لوگوں کی آنکھوں کا تارا بن گیا. 2003 میں اس کی پارٹی نے جھاڑو پھیر دیا. اس طرح وہ 2003 میں ترکی کا وزیر اعظم بن گیا. پھر اس نے پلٹ کر نہ دیکھا. وہ 2014 تک وزیراعظم رھا. پھر اس نے نئے آئین کے لیے ریفرنڈم کرایا اور تمام اختیارات صدر کو دیتے ہوئے، صدارتی نظام نافذ کر دیا. عبداللہ گل کی جگہ صدر بن گیا. اس نے جو صدارتی محل بنوایا وہ " وائٹ ہاؤس اور کریملن" سے بہت بڑا ھے.

جس میں 1150 کمرے ہیں. جس میں ہر پودے کی قیمت 4000 ڈالرز ھے. اور یہ صدارتی آفس دنیا میں کسی بھی جگہ سے زیادہ سر سبز ھے.2016 میں جب وہ چھٹیوں پر تھا تو فوج نے بغاوت کر دی. اور پھر چشم فلک نے اس کے لیے گوشت کے بندوں کو ٹینکوں کے آگے لیٹتے دیکھا. وہ پھر واپس پلٹا، ائیر پورٹ پر لوگوں کا سمندر تھا.

اس نے ایک دفعہ اقوام متحدہ کے اجلاس میں اسرائیل کے صدر کو سب کے سامنے " قاتل" کہہ دیا. اس کے پاس تقریباً 7 لاکھ لڑنے اور مارنے والی فوج ھے.دنیا اس وقت اس کے ذکر کے بغیر نامکمل ھے۔“

جی بالکل ، یہ ہیں ترکی کے صدر،
جناب رجب طیب اردوان.