یہ 'Hole ناک ' کیا ہے؟ ۔ عبدالخالق بٹ

ایک معروف ہفت روزہ کے سرِورق پر کلیدی مضمون کی سرخی ہے ’پاکستان کا ہولناک نظریاتی بحران‘۔ عنوان جتنا سنجیدہ ہے اس کے ساتھ موجود تصویر اُتنی ہی مضحکہ خیز ہے۔ وہ یوں کہ ’ہول ناک‘ کے ’ہول‘ کی رعایت سے تصویر میں ’Hole‘ دکھایا گیا ہے۔ یوں ’Hole ناک‘ صورت حال ’مخول ناک‘ ہوگئی ہے۔ بقولِ جوشؔ ملیح آبادی : ’کس درجہ ’ہولناک‘ ہے یہ داستاں نہ پوچھ‘۔

’ہول ناک‘ فارسی ترکیب ہے، جو عربی کے ’ہول‘ اورفارسی کے ’ناک‘ سے مل کر بنی ہے۔ لفظ ’ہول‘ کے معنی میں ’ خوف و دہشت شامل ہے۔ یہ اردو محاورات میں عام استعمال ہوتا ہے۔ جیسے ’ہول اُٹھنا، ہول آنا، ہول طاری ہونا‘ وغیرہ۔ جناب اسعد بدایونی کہہ گئے ہیں:
ہمیں بھی لمحۂ رخصت سے ’ہول‘ آتا ہے - جدا ہوا ہے کوئی مہرباں ہمارا بھی
اب آجائیں ’ہول ناک‘ کی ’ناک‘ پر، فارسی زبان میں ’ناک‘ کا مطلب ہے ’بھرا ہوا، معمور، پُر،آلودہ، اور ڈوبا ہوا‘۔ یوں ’ہولناک‘ کا مطلب ہوا ’ خوف و دہشت سے بھرا ہوا‘۔ اردو میں کتنی ہی ترکیبوں میں یہ ’ناک‘ موجود ہے جیسے المناک، دہشت ناک،درد ناک وغیرہ . ’ہولناک‘ کی ایک صورت ’ پُرہول‘ بھی ہے۔ یوں کوئی پہر، واقعہ، کہانی یا فلم وغیرہ جو ڈر وخوف سے بھرپور ہو تواُسے ’پُرہول‘ بھی کہتے ہیں۔ پروفیسرسحرانصاری کا کہنا ہے:
بد دیانت شبوں کی سیہ کاریاں - ایک ’پُرہول‘ سیلاب سے کم نہیں
’ناک‘ کے تعارف کے بعد پوچھا جاسکتا ہے کہ پھر اردو کی ’ناک‘ کو فارسی میں کیا کہتے ہیں؟ تو جناب فارسی میں ناک کو ’بینی‘، آنکھ کو ’چشم‘ اور کان کو ’گوش‘ کہتے ہیں، جب کہ ’زبان‘ فارسی ہی کا لفظ ہے۔

’زبان‘ کے ذکر سے یاد آیا انگریزی زبان میں ایک پودے کا نام ’Sansevieria trifasciata‘ ہے۔ اس کے پتے لمبے، کچھ لہرائے ہوئے اور نوک دار ہوتے ہیں یوں مجازاً اسے ’snake plant‘ بھی کہتے ہیں۔ چونکہ یہ پودا سانپ جیسا دکھتا ہے اس لیے انگریزخواتین اسے ’mother-in-law's tongue‘ پکار کر دل کے پھپھولے پھوڑتی ہیں۔ لفظ بہ لفظ یہی جذبات ایرانی خواتین کے بھی ہیں جو اس پودے کوفارسی میں ’زبانِ مادرِ شوہر‘ (ساس کی زبان) کہتی ہیں۔ جھگڑا انگریزی ہی میں نبٹ جاتا تو خوب تھا مگر بات فارسی تک پہنچ چکی ہے۔جو اس بات کا ثبوت ہے کہ مغرب ہو یا مشرق‘ ساس بہو کے معاملے میں سماجی رویہ ہر جگہ یکساں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر ساس بہو مل بیٹھیں تو نتیجہ تکرار کی صورت میں نکلتا ہے۔ بقولِ عظمت اللہ خاں:
تم جو بیٹھی ہو ساس کے نزدیک - زلزلہ کوئی آنے والا ہے
ایک وقت تھا جب شادی بیاہ کے دعوت نامے نستعلیق اردو میں ہوتے تھے۔ پھرانگریزی کا چلن بڑھا تو وہ لوگ بھی انگریزی دعوت نامے چھپوانے لگے جنہیں R.S.V.P کا مطلب بھی نہیں پتا۔

خیربات تھی اردو دعوت نامے کی جس میں ایک جملہ ’ہمارا نورِ چشم‘ اہتمام سے لکھا جاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے ’ہماری آنکھ کا نور‘۔ یہاں تک تو بات سمجھ میں آتی ہے، مگر بیٹی کے دعوت نامے میں ’ہماری نورِچشمی‘ لکھنا مضحکہ خیز ہے، وہ یوں کہ فارسی میں ’نورِ چشمی‘ کا مطلب ہے ’تیری آنکھ کا نور‘ ۔ یہ غلطی ’چشم‘ کو اردو قاعدہ کے مطابق مؤنث بنانے کا نتیجہ ہے۔ لڑکا ہو یا لڑکی دونوں کے لیے ’نورِ چشم‘ لکھنا ہی درست ہے۔
اب بات ہوجائے ’گوش‘ کی، جو فارسی میں ’کان‘ کو کہتے ہیں۔ اس گوش کی رعایت سے ایک جانور کا نام اور ایک مشہور محاورہ قابل بیان ہے۔
سنسکرت کا ’کَھر‘ فارسی کا ’خر‘ یعنی گدھا ہے۔ حضرت عیسیٰ کی سواری میں ’خَر‘ بھی تھا، چنانچہ اس رعایت سے فارسی اور اردو میں ’خرِعیسیٰ‘ کی ترکیب مشہورہے۔ نیک شخص کی صحبت میں رہ کر بھی اگر کوئی کسی لائق نہ بن سکے تو اس موقع پر کہتے ہیں ’خَرِعیسٰی بآسماں نہ رَوَد‘ یعنی جناب عیسی علیہ السلام کا گدھا آسمان تک نہیں جاتا۔ اس رعایت سے فارسی کے مشہور شاعر سعدی شیرازی نے اپنی مشہورِ عالم ’گلستان‘ میں ’تاثیر تربیت‘ کے زیر عنوان ایک نظم درج کی ہے۔ اس نظم کا ایک شعر اسی ’خرِعیسیٰ ‘ سے متعلق ہے اورضرب المثل کا درج پا چکا ہے:
خرِعیسیٰ گرش به مکه برند
چون بیاید هنوز خر باشد
یعنی اگر جناب عیسیٰ کا گدھا مکے سے بھی ہو آئے تو بھی گدھا ہی رہے گا۔ مقامِ مقدس کا فیض اسے انسان نہیں بنا سکتا۔ واضح رہے کہ اس شعر کا پہلا مصرع درج ذیل صورت میں بھی مشہورہے: ’خَر عیسٰی اگر بمکہ رود‘ ۔

خیراس تمہید کے بعد اب ’خر‘ کے ’گوش‘ کا بیان ہوجائے۔جس جانور کو ہم ’خرگوش‘ کہتے ہیں یہ اس کا وصفی نام ہے، کیوں کہ اس کے کان (گوش) گدھے (خَر) کی طرح لمبے ہوتے ہیں۔ اس لیے اسے خرگوش(گدھے جیسے کان والا) کہتے ہیں۔ فارسی کی رعایت سے اردو میں ایک محاورہ ’حلقہ بگوش ہونا‘ بولا جاتا ہے۔ بہت سی دیگر ترکیبوں کی طرح ’حلقہ بگوش‘ کی ترکیب بھی عربی اور فارسی الفاظ سے مل کر بنی ہے۔ ’حلقہ‘ عربی زبان کا لفظ ہے۔ اس کے معنی ’گھیرے‘ کے ہیں۔ بعد میں اس کے معنی میں وسعت پیدا ہوگئی۔ یوں اس رعایت سے کڑا، لوہے کا کنڈا، بالی یا بالا، انگوٹھی، صوفیوں کی مجلس، محبوب کی زلفیں، دروازے کی کنڈی، پہیہ، چرخی الغرض دسیوں چیزیں جو گھیر یا دائرے کی صورت رکھتی ہیں، اس حلقے میں داخل ہوگئیں۔ علامہ اقبال کا مشہور شعر ہے:
ہو حلقۂ یاراں تو بریشم کی طرح نرم - رزمِ حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن
زمانے قدیم میں دستور تھا کہ غلام کے کان میں بالی (Earring) ڈال دی جاتی تھی، اسے ’بالا‘ بھی کہتے ہیں۔ یہ بالی غلامی کی علامت ہوتی تھی۔ اور جس کے کان میں بالی ڈالی جاتی تھی وہ ’حلقہ بگوش‘ ہوتا تھا۔ اس وضاحت کے بعد اب میرتقی میرؔ کے شعر کا لطف اٹھائیں:
حسن کو بھی عشق نے آخر کیا حلقہ بگوش
رفتہ رفتہ دلبروں کے کان میں بالے پڑے

یہی وجہ ہے کہ جب کوئی اسلام قبول کرتا ہے تو اسے ’حلقہ بگوش اسلام‘ ہونا کہتے ہیں۔ یعنی اس نے اسلام کی بالادستی کو تسلیم کرلیا اورخود کو اللہ کی غلامی میں دے دیا۔
آغاز میں جس عنوان کا ذکر ہوا اس میں ایک لفظ ’بحران‘ بھی ہے۔ اس سے پہلے کہ اجازت چاہیں اس بحران سے بھی نبٹ لیں۔ بعض محقیقین کے مطابق ’بُحران‘ یونانی زبان سے متعلق ہے تو کچھ اہل لغت اسے سریانی زبان کا لفظ بتاتے ہیں۔تاہم زیادہ تر ماہرین لسانیات کے نزدیک ’بُحران‘ عربی الاصل لفظ ہے۔ اس کی اصل ’حَرّ‘ ہے، جو تپش اور گرمی کو کہتے ہیں۔
مرض میں شدت آجائے اور جسم بخار میں پُھنکنے لگے تو اس حالت کو ’بحران‘ کہتے ہیں۔ بخار کی شدت میں حواس قابو میں نہیں رہتے اس لیے اس کے معنی میں دیوانگی بھی داخل ہے۔ پھر اس رعایت سے حالات و واقعات کے سنگین مرحلے پر پہنچنے کو بھی مجازاً ’بحران‘ کہنے لگے۔ یہ اردو ذرائع ابلاغ میں کثرت سے استعمال ہونے والا لفظ ہے۔ وجہ یہ ہے کہ ملکی اور عالمی صورتحال کو بحران در بحران کا سامنا رہتا ہے۔ شائد اسی لیے جناب انور شعورؔ کو کہنا پڑا ہے:
کل کا وعدہ اور اس بحران میں؟
جانے کل دنیا میں کیا ہو جائے گا

بشکریہ اردو نیوز

Comments

عبدالخالق بٹ

عبدالخالق بٹ

عبدالخالق بٹ گزشتہ دودہائیوں سے قلم و قرطاس کووسیلہ اظہار بنائے ہوئے ہیں۔ وفاقی اردو یونیورسٹی کراچی سے اسلامی تاریخ میں ایم۔اے کیا ہے۔اردو ادب سے بھی شغف رکھتے ہیں، لہٰذا تاریخ، اقبالیات اور لسانیات ان کے خاص میدان ہیں۔ ملک کے مؤقر اخبارات اور جرائد میں ان کے مضامین و مقالات جات شائع ہوتے رہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */