نماز مومن کی معراج - رانا اعجاز حسین چوہان

قمری سال کے ساتویں مہینے رجب کی فضلیت یہ ہے کہ اس ماہ مبارک میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو معراج کے وقت فرضیت نماز کا حکم دیا گیا۔ اور صرف نماز ہی دین اسلام کا ایک ایسا عظیم رُکن ہے جسکی فرضیت کا اعلان زمین پر نہیں بلکہ ساتوں آسمانوں کے اوپر بلند واعلیٰ مقام پر معراج کی رات ہوا۔

نیز اس کا حکم حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ذریعہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم تک نہیں پہنچا، بلکہ اللہ تعالیٰ نے فرضیت ِ نماز کا تحفہ بذاتِ خود اپنے حبیب محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو عطا فرمایا۔ نماز، ایمان کے بعد اسلام کا اہم ترین رُکن ہے۔ قرآن مجید فرقان حمید اور احادیث مبارکہ صلی اللہ علیہ و سلم میں نماز کی مسلمہ اہمیت وفضیلت کو کثرت سے ذکر کیا گیا ہے، صرف قرآنِ پاک میں تقریباً سات سو مرتبہ، کہیں اشارۃ ً اور کہیں صراحۃً مختلف عنوانات سے نماز کا ذکر ملتا ہے۔ جن میں نماز کو قائم کرنے پر بڑے بڑے وعدے اور ضائع کرنے پر سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔

نماز کی ادائیگی کے بارے میںقرآن کریم کر سورۃ العنکبوت کی آیت نمبر ۴۵ میں اللہ ربّ العزت فرماتے ہیں ’’ جو کتاب آپ پر وحی کی گئی ہے اسے پڑھئے اور نماز قائم کیجئے، یقینا نماز بے حیائی اور برائی سے روکتی ہے۔‘‘ نماز میں اللہ تعالیٰ نے یہ خاصیت وتاثیر رکھی ہے کہ وہ نمازی کو گناہوں اور برائیوںسے روک دیتی ہے مگر ضروری ہے کہ اس پرپابندی سے عمل کیا جائے اور نماز کو اُن شرائط وآداب کے ساتھ پڑھا جائے جو نماز کی قبولیت کے لئے ضروری ہیں۔

جیسا کہ حدیث میں ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں آیا اور کہا کہ فلاں شخص راتوں کو نماز پڑھتا ہے مگر دن میں چوری کرتا ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ ُاس کی نماز عنقریب اُس کو اس برے کام سے روک دے گی۔ (مسند احمد) ‘‘ سورۂ البقرۃ کی آیت نمبر ۱۵۳ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’اے ایمان والو! صبر اور نماز کے ذریعے مدد چاہو، بیشک اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔‘‘

جب بھی کوئی پریشانی یا مصیبت سامنے آئے تو مسلمان کو چاہیے کہ وہ اُس پر صبر کرے اور نماز کا خاص اہتمام کرکے اللہ تعالیٰ سے تعلق قائم کرے۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم بھی ہر پریشانی کے وقت نماز کی طرف متوجہ ہوتے تھے جیسا کہ حدیث میں ہے حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کو جب بھی کوئی اہم معاملہ پیش آتا، آپ فوراً نماز کا اہتمام فرماتے۔

(ابو داود ومسند احمد) نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم پانچ فرض نماز وںکے علاوہ نماز تہجد، نماز اشراق، نماز چاشت، تحیۃ الوضوء اور تحیۃ المسجد کا بھی اہتمام فرماتے، اور پھر خاص خاص مواقع پر اپنے ربّ کے حضور توبہ واستغفار کے لئے نماز ہی کو ذریعہ بناتے، سورج گرہن یا چاند گرہن ہوتا تو مسجد تشریف لے جاتے۔ زلزلہ، آندھی یا طوفان حتیٰ کہ تیز ہوا بھی چلتی تو مسجد تشریف لے جاکر نماز میںمشغول ہوجاتے۔ فاقہ کی نوبت آتی یا کوئی دوسری پریشانی یا تکلیف پہنچتی تو مسجد تشریف لے جاتے۔ سفر سے واپسی ہوتی تو پہلے مسجد تشریف لے جاکر نماز ادا کرتے۔ اس لئے ہمیں بھی چاہیے کہ نماز کا خاص اہتمام کریں۔ اور اگر کوئی پریشانی یا مصیبت آئے تو نماز کی ادائیگی اور صبر کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ سے مدد مانگیں۔

سورۂ المائدہ کی آیت ۱۲میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں تمہارے ساتھ ہوں اگر تم نماز قائم رکھوگے اور زکواۃ دیتے رہوگے۔ ‘‘ یعنی نماز کی پابندی کرنے سے بندہ اللہ تعالیٰ کے بہت زیادہ قریب ہوجاتاہے جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا بندے کو اللہ تعالیٰ کا سب سے زیادہ قرب سجدے کی حالت میں حاصل ہوتا ہے۔ ‘‘ قرآن کریم میں ہی ارشاد ربانی ہے’’ یقینا ان ایمان والوں نے فلاح (کامیابی) پائی جو اپنی نماز میں خشوع کرتے ہیں۔۔۔اور جو اپنی نماز کی خبر رکھتے ہیں، یہی وہ وارث ہیں جو (جنت) الفردوس کے وارث ہوں گے جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ (سورۃالمؤمنون) ‘‘ ان آیات میں کامیابی پانے والے مو منین کی چھ صفات بیان کی گئی ہیں پہلی صفت ، خشوع وخضوع کے ساتھ نماز ادا کرنا،اور آخری صفت پھر نماز کی پوری طرح حفاظت کرنا۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نماز کا اللہ تعالیٰ کے پاس کیا درجہ ہے اور کس قدر مہتم بالشان چیزہے کہ مومنین کی صفات کو نماز سے شروع کرکے نماز ہی پر ختم فرمایا گیا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ یہی وہ لوگ ہیں جو جنت کے وارث یعنی حق دار ہوںگے، جنت بھی جنت الفردوس جو جنت کا اعلیٰ حصہ ہے جہاں سے جنت کی نہریں جاری ہوئی ہیں۔ غرض جنت الفردوس کو حاصل کرنے کے لئے نماز کا اہتمام بے حد ضروری ہے۔ ایک دوسری جگہ ارشاد ہے کہ ’’بیشک انسان بڑے کچے دل والا بنایا گیا ہے جب اسے مصیبت پہنچتی ہے تو ہڑبڑا اٹھتا ہے اور جب راحت ملتی ہے تو بخل کرنے لگتا ہے، مگر وہ نمازی جو اپنی نماز کی پابندی کرتے ہیں۔

اور جو اپنی نماز کی حفاظت کرتے ہیں،یہی لوگ جنتوں میں عزت والے ہوں گے۔ (سورۃ المعارج) ‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا ’’قیامت کے دن آدمی کے اعمال میں سب سے پہلے فرض نماز کا حساب لیا جائیگا۔ اگر نماز درست ہوئی تو وہ کامیاب وکامران ہوگا، اور اگر نماز درست نہ ہوئی تو وہ ناکام اور خسارہ میں ہوگا۔‘‘ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے دریافت کیا کہ اللہ کو کونسا عمل زیادہ محبوب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا ’’نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنا۔‘‘ (بخاری ، مسلم)

حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے نماز کا ذکر فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا جو شخص نماز کا اہتمام کرتا ہے تو نماز اس کے لئے قیامت کے دن نور ہوگی، اس (کے پورے ایماندار ہونے) کی دلیل ہوگی ، اور قیامت کے دن عذاب سے بچنے کا ذریعہ ہوگی۔ اور جو شخص نماز کا اہتمام نہیں کرتا اس کے لئے قیامت کے دن نہ نور ہوگا، نہ اس (کے پورے ایماندار ہونے) کی کوئی دلیل ہوگی، نہ عذاب سے بچنے کا کوئی ذریعہ ہوگا۔ اور وہ قیامت کے دن فرعون، قارون، ہامان اور ابی بن خلف کے ساتھ ہوگا۔ (صحیح ابن حبان ، طبرانی، بیہقی، مسند احمد)‘‘ علامہ ابن قیم ؒنے (کتاب الصلوٰۃ) میں ذکر کیا ہے کہ ان کے ساتھ حشر ہونے کی وجـہ یہ ہے کہ اکثر ان ہی باتوں کی وجـہ سے نماز میں سستی ہوتی ہے جو ان لوگوں میں پائی جاتی تھیں۔

پس اگر اسکی وجہ مال و دولت کی کثرت ہے تو قارون کے ساتھ حشر ہوگا، اور اگر حکومت و سلطنت ہے تو فرعون کے ساتھ، اور وزارت یا ملازمت ہے تو ہامان کے ساتھ، اور تجارت ہے تو ابی بن خلف کے ساتھ حشر ہوگا۔ جو لوگ اپنے آپ کو مسلمان کہنے کے باوجود بالکل نماز ہی نہیں پڑھتے یا کبھی کبھی پڑھ لیتے ہیں، وہ غور کریں کہ ان کا انجام کیا ہوگا۔ اللہ پاک اس برے انجام سے ہماری حفاظت فرمائے ، اور ہمیں خشوع و خضوع کے ساتھ باجماعت نماز ادا کرنے کی توفیق عطافرمائے ، آمین۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com