کرونا وائرس - ہادیہ امین

یہ ایک مشہور گورمنٹ کالج کا اسٹاف روم تھا جب ایک سینئر لیکچرار نے ساتھ بیٹھی دوسری ٹیچرز سے سوال کیا, "آپ میں سے کون کہتا ہے کہ چائینا میں کرونا وائرس ﷲ کا عذاب ہے؟"
یکے بعد دیگرے سب ہی نے ہاتھ بلند کیا سوائے ایک کے,یہ ایک نئی ٹیچر تھیں جنہوں نے کچھ ہی عرصے پہلے اپنے فرائض سنبھالے تھے, بہت قابل ہونے کے باوجود بھی, بحرحال تجربے میں دوسروں سے کم تھیں.. سینئر لیکچرار کی نظروں کا تعاقب کرتے ہوئے سب نے انکی طرف دیکھنا شروع کیا.

"کیوں مس منال؟ کیا آپ ایسا نہیں سمجھتیں؟" یہ کوئی کشیدہ ماحول نہ تھا, آس پاس بیٹھے لوگ باشعور اور دوسروں کے نکتہ نظر کو اہمیت دینے والے تھے.. "میری سوچ اس معاملے میں مختلف ہے, شاید ہر کوئی اتفاق نہ کرے"اپنے نکتہ نظر میں منفرد مگر جواب پراعتماد تھا."کوئی حرج نہیں, اپنی رائے دیجئے..." سینئر لیکچرار نے توجہ سے سننا چاہا..سینئر موسٹ ہونے کے باوجود ان میں کوئی تکبر نہ تھا.
"ضروری نہیں کہ ہر مسئلہ, ہر پریشانی سزا ہی ہو, ہو سکتا ہے کسی کے لیے آزمائش کا پہلو بھی ہو, مگر اس بات سے صرف نظر کیجیے اور سوچیے کہ ہم کون ہوتے ہیں آزمائش یا عزاب کا سرٹیفکیٹ دینے والے"ایک اور ٹیچر متوجہ ہوئیں, "چائنا میں مسلمانوں کے ساتھ جو ہوا وہ سب کے سامنے ہے, نماز, روزہ, قرآن, حجاب پر پابندی اور مسلمانوں کے ساتھ انتہائی بد ترین سلوک, آپ نے سوشل میڈیا پر دیکھا ہوگا؟ کیا آپ کے نزدیک یہ وہ مظالم نہیں کی جن پہ ﷲ کا عزاب آئے؟"

بظاہر بات میں وزن بہت تھا."میں معذرت چاہتی ہوں کہ آپ کو اپنی بات سمجھا نہ سکی, میں کسی صورت چائنا کی حمایت نہیں لے رہی, مگر ہم کو کسی کی مصیبت کو ﷲ کا عزاب کہنا, کسی کو جنت دوزخ بانٹتے رہنا, یہ زیب نہیں دیتا جب تک کہ ہمارے اپنے اعمال بہترین نہ ہوں, اگر انہوں نے حجاب پر پابندی لگائی, ظلم تھا, بے پناہ ظلم تھا, مگر کیا ہم نے کسی ایک عورت کو بھی اپنی زندگی میں باحجاب بنانے کی کوشش کی؟ ﷲ کہتا ہے ہر کوئی قیامت میں اس کے دربار میں اکیلا آئے گا, محض اپنا ذاتی عمل لے کر,اگر انہوں نے مساجد مسمار کیں, تو ہم نے آباد کرنے کی کیا فکر کی؟

کیا ہمارے عمل سے کوئی ایک بے نمازی نماز کے قریب آیا؟ کیا ہم نے زندگی میں ﷲ کے پیغام کو عام کرنے کے لیے وہ جدو جہد کی جو ہم اپنے کسی ذاتی مفاد کے لیے کرتے ہیں؟ اور کچھ نہیں تو کیا ہم نے کبھی چائنا کے مسلمانوں کے لیے دعائیں کیں؟ کبھی تحجد میں ان کے لیے روئے...گر ہمارا تقویٰ کا معیار انتہائی بہترین ہو,تو شاید یہ کہتے ہم اچھے لگیں""حضرت نوح علیہ السلام اور دیگر الانبیاء کی قوموں پر بھی تو نافرمانی کے سبب عزاب آیا تھا؟"

ایک اور ٹیچر نے سوال اٹھایا."جی آپ صحیح کہ رہی ہیں, اس کو ﷲ اور رسول کی زبانی عزاب کہا گیا ہے, مگر میری رائے کے مطابق ساڑھے نو سو سال کی تبلیغ کے بعد جو حضرت نوح علیہ اسلام پر ایمان لائے وہ وہ لوگ تھے,جن کی مخالفت سارا معاشرہ کر رہا تھا, جو بہاؤ کے مخالف سمت چلے مگر راہ راست سے نہ ہٹے, مگر ہم مجموعی طور سے جائزہ لیں تو ہم نے اپنے دین کو مکس مٹھائی بنا لیا, جو حکم اچھا لگا اس پر سختی سے عمل کر کے باقی احکامات کی نافرمانی کی, اور بعض اوقات تو دھجیاں بکھیر دیں.. کہیں دین داری کا تکبر کسے کے اعمال لے گیا, کہیں حقوق ﷲ نبھائے اور حقوق العباد میں ڈنڈی مار دی,میں عمومی بات کر رہی ہوں کہ ہم بھی کوئی کم گناہ گار قوم نہیں ہیں.

استغفار کی سب سے زیادہ ضرورت تو ہمیں بھی ہے, ہم عمرانیات میں پڑھتے ہیں کہ معاشرے میں ہونے والا ہر عمل زندگی کے ہر شعبے میں اپنا اثر دکھاتا ہے, اگر کرونا وائرس کی وجہ سے کوئی ایک اپنے رب سے قریب ہو گیا اور اسلام کی نعمت میسر آگئی تو اس کا اسلام تو ماقبل کے تمام گناہوں کو معاف کردے گا اور ہم اپنے اعمال سے بےخبر ہی رہ جائینگے."تہذیب کے دائرے میں کہی گئی باتوں نے سب کو کچھ سوچنے پر مجبور کیا.. بیل بج گئی تھی, منال اٹھ کھڑی ہوئی, داد نہ مل سکی تو کیا ہوا, ﷲ والے اجر کی امید کسی اور دنیا میں کرتے ہیں.