پھٹا فراک (افسانہ) محمد اویس حیدر

دیکھیں نا پاپا ، تیار ہونے میں ماما کتنا وقت لگاتی ہیں۔ کب سے مجھے اور بھائی کو تیار کر کے بٹھایا ہوا ہے اور خود تیار ہی نہیں ہو پا رہیں۔ ننھی زینب نے موبائل میں مگن ابو سے اپنی امی کی تیاری کا گلہ کرتے ہوئے کہا۔

حمید جو موبائل فون کے استعمال میں یوں مگن تھا گویا اس کے لیے اردگرد کی دنیا اپنا وجود کھو چکی ہو۔ ننھی زینب کی آواز نے اسے واپس اس دنیا میں کھینچ لیا اور اس نے سکرین پر جمی نظروں کو اٹھا کر پہلے دائیں بائیں دیکھا، پھر جب اس عالم میں آمد کے بعد حواس کچھ بحال ہوئے تو آئینے کے سامنے تیار ہوتی اریبہ سے مخاطب ہوا۔ ارے اتنا وقت کیوں لگا رہی ہو دیکھو اب تو زینب بھی تنگ آ گئی ہے تمہاری تیاری کو دیکھ دیکھ کر۔

بس ابھی دس منٹ نہیں گزرے ہوں گے مجھے یہاں کھڑے ہوئے اور سب تنگ بھی آ گئے۔ اریبہ چلائی۔ آپ کو موبائل دیکھنے سے فرصت ملے تو اردگرد بھی کچھ دکھے گا ناں! پہلے چھوٹے دانیال کو پانی گرم کر کے نہلایا ہے کہ کہیں ٹھنڈ نہ لگ جائے اور نئے کپڑے پہنا کر فیڈر دے کر بیڈ پر سلا دیا تا کہ شور نہ کرے۔ پھر دوبارہ پانی گرم کر کے زینب کو بھی احتیاطََ گرم پانی سے ہی نہلایا اور تیار کیا۔ رات سے یہ نیلا فراک ٹانگ رکھا تھا استری کر کے زینب کے لیے، مگر نہیں ۔

اب جب پہننے کی باری آئی تو اچھا ہی نہیں لگ رہا میڈم کو، اسی ضد میں اڑی رہی کہ نہیں دوسرا پہننا ہے وہ سرخ رنگ کا جو بکسے میں بند پڑا تھا۔ آخر اس کی ضد کے آگے تھک ہار کے وہی فراک نکالا اور استری کر کے پہنایا جو وہ مانگ رہی تھی۔ پھر تیار ہوتے ہی اسے بھوک ستانے لگی۔ حالانکہ میں نے کہا بھی کہ ہم نے کچھ دیر میں ہی شادی کے لیے نکل جانا ہے تھوڑی بھوک برداشت کر لو پھر وہں جا کر کھا لینا۔ اگر گھر سے ہی کھا کر جاو گی تو پھر وہاں کیسے بھوک لگے گی ؟ مگر نہیں ۔ان میڈم نے تو جو منہ سے نکال دیا اسے اسی وقت پورا کرنا بےحد ضروری ہے، ورنہ تو طوفان آ جائے گا۔ بس اسی طوفان کا رستہ روکنے کے لیے چولہا جلا کر اسے تازی روٹی پکا کر دی۔

سالن فریج میں پڑا تھا ٹھنڈا برف بنا ہوا، اسے نکالا اور توے پر ڈال کر گرم کیا اور پھر جب میڈم کے آگے رکھا تو گنتی کے چار نوالے کھا کر چھوڑ دیا، ایک روٹی پوری نہ کھا سکی، اگر اتنی سی بھوک تھی بھلا تو کچھ دیر رک ہی جاتی۔ اور اب جب سب کے کام مکمل کر کے خود تیار ہونے کھڑی ہوئی ہی ہوں تو ساتھ ہی بےچین ہو گئے سب جیسے صبح سے میری ہی تیاری دیکھ رہے ہوں اور گھر کے کام سارے تو بھوت آ کر نمٹا رہے ہیں۔

اریبہ نے سب ایک ہی سانس میں چیختے ہوئے بول دیا جسے سننے کے بعد حمید نے فوراََ اپنے موبائل میں پناہ لی اور سوشل ایشوز کی پوسٹس پر کھل کر اپنا اظہار خیال کامنٹس کی صورت بیان کرنے لگا۔دراصل شادی کی تیاری کا آغاز تو تبھی سے ہو گیا تھا جب قریب ایک ماہ پہلے اریبہ کو اپنی کزن کی شادی کا دعوت نامہ موصول ہوا۔ شادی کا کارڈ دینے اریبہ کی خالہ اور خالو خود آئے تھے۔ اریبہ نے انہیں کہا بھی کہ اب تو موبائل اور انٹرنیٹ کا زمانہ ہے۔

آپ نے خوامخواہ اتنی زحمت کی بھلا کارڈ واٹس ایپ کر کے صرف ایک کال کر دیتے ہم نے تو شادی پر آ ہی جانا تھا۔ لیکن خالو کہنے لگے کہ نہیں بھئی ہم تو ابھی بھی پرانی سوچ کے ہی قائل ہیں اور وہ یہ کہ رشتوں کی چاشنی تو بالوجود ملاقات میں ہے۔ اگر بغور دیکھا جائے تو آج کل کے ان موبائلوں اور انٹرنیٹ پر تصویروں کے تبادلے نے انسانوں میں فاصلے پیدا کرنے کے سوا کچھ نہیں کیا۔

ارے وہ کیسے انکل ؟ بلکہ اس نے تو سب کچھ آسان کر دیا ہے۔ آج ہر انسان سے رابطہ تو صرف فنگر ٹپس پر ہے خواہ قوسوں دور ہی کیوں نہ بیٹھا ہو۔ اریبہ نے خالو کی بات پر حیران ہوتے ہوئے جواب دیا۔ہاں بیٹی ٹھیک کہا تم نے، رابطہ اب صرف فنگر ٹپس پر ہی رہ گیا ہے۔ خالو مسکراتے ہوئے بولے۔ دراصل یہی تو بات تو میں کہہ رہا ہوں کہ پہلے رابطہ نہیں تعلق ہوا کرتا تھا۔ جو دل میں یاد کی صورت قائم رہتا تھا۔ مگر ان ڈیوائیسز نے تعلق کو صرف رابطہ بنا دیا ہے۔

پہلے کوئی بندہ کسی کی طرف جاتا تھا تو ہم اسے کہتے فلاں کو ہمارا بھی سلام دینا اور خیریت پوچھنا، ایک لطف ہوتا تھا اس بات کے کہنے میں بھی۔ مگر اب اگر کہیں تو دوسرا کہتا ہے لو بھلا ۔۔۔۔۔ موبائل پر کال کر کے خود ہی کہہ لیں۔ بیٹی اصل بات یہ ہے کہ ہر وقت کے رابطے کے اس احساس نے ہمیں یقین دلا دیا ہے کہ کوئی شخص بھی ہم سے دور نہیں اور اسی لیے ہم بالوجود ایک دوسرے سے پرے ہو چکے ہیں، تبھی تو آج رشتوں میں رابطے آسان لیکن افسوس کہ تعلق مفقود ہو گئے ہیں۔

اریبہ کی سمجھ میں اپنے ادھیڑ عمر خالو عجیب و غریب باتیں نہیں آئی تھیں، بلکہ وہ سوچ رہی تھی کہ شادی کا ایک پیغام ہی تو تھا بھلا فون پر ہی دے دیتے تو کم از کم مہمان نوازی کا ہمارا اتنا خرچہ تو بچ جاتا۔ ابھی شادی پر جا کر سلامی کا لفافہ الگ دینا پڑے گا۔ پھر خالہ خالو کے جانے کے بعد تبھی سے اس نے شادی پر پہننے کے لیے اپنے کپڑوں کے بارے سوچنا شروع کر دیا تھا۔ اس نے آئندہ دنوں میں اپنی کئی دوسری کزنز کو باری باری فون کیا اور انہیں ٹٹولا کہ شادی پر وہ کس کس رنگ اور ڈیزائن کے کپڑے پہن کر آنے والی ہیں۔
چونکہ شادیوں کا موسم تھا لہذا مارکیٹس میں دکانداروں نے بھی دام خوب چڑھا رکھے تھے۔

ہر دکاندار دعویدار تھا کہ اس جیسا سوٹ کسی اور کے پاس آپ کو نہیں ملے گا۔ البتہ مختلف خواتین کو ایک جیسے سوٹ بیچنے کے لیے ہر ایک دکاندار کے پاس کافی سٹاک موجود تھا۔ خریداروں کے لیے دکانوں میں رکھے سٹیچوز کے مختلف لباس دیکھ کر یہی لگتا تھا کہ ڈیزائنر نے انہیں خوب سوچ سمجھ کر سلائی کیا ہے کہ پہننے کے بعد بدن کے تمام خدوخال ضرور نمایاں نظر آئیں۔ ایک ایک دوکاندار کے ساتھ خاصی تکرار کے بعد اریبہ نے اپنے لیے مہندی، بارات اور ولیمہ کے لیے جوڑے خریدے، پھر ان کے ساتھ ہم آہنگ مصنوعی زیورات اور جوتیاں بھی لیں، اور پھر اسی طرح بچوں کے لیے بھی کپڑے خریدے۔

ننھے دانیال کو گود میں اٹھائے حمید کے لیے شاپنگ کا یہ پورا وقت انتہائی تھکا دینے والا اور جیب پر خاصہ وزنی تھا۔ مگر اس وزنی وقت میں حمید کے لیے فرحت کا سبب نازک اجسام پر دھرے وہ خوبرو چہرے تھے جو تروتازگی کا ایک جھونکا بن کر آس پاس سے گزرتے دکھائی دیتے اور انہی خوشنما جھونکوں کے چہروں پہ پھسلتی نگاہوں کی ملائمیت کے احساس میں چلتے ہوئے جیب پر بوجھ بنی شادی کی خریداری بھی بالآخر مکمل ہو ہی گئی۔ پھر گھر آ کر اریبہ نے حمید سے کہا کہ وہ بھی اب اپنے لیے جلد ہی کچھ شاپنگ ضرور کر لیں اس طرح شادی پر دلہا دلہن کے ساتھ اترنے والی تصویروں میں دونوں اچھے نظر آئیں گے۔

ننھا دانیال دودھ سے بھرا فیڈر پی کر پلنگ پر گہری نیند سو رہا تھا اور قریب ہی بیٹھا حمید اپنے موبائل میں مصروف تھا۔ ننھی زینب کمرے میں اٹھکیلیاں کرتی اکیلے کھیل رہی تھی۔ پھر جب یوں کھیلتے تھک جاتی تو زمین پر رکھی اپنی ایک بڑی گڑیا کی دوسری ساتھی بن کر اس کے ساتھ باتیں کرنے لگتی۔ کبھی اپنے چھوٹے چھوٹے برتنوں میں اس کے سامنے خیالی کھانا رکھ کر انہیں کھلاتی تو کبھی اس کے بال سنوارنے لگتی۔ شائد گڑیوں سے کھیلنے کا یہی شوق کبھی انہیں لاشعوری طور پر ماں بننے کا ہنر بھی سکھا دیتا ہے۔

اریبہ آئینے کے سامنے کھڑی تیار ہو رہی تھی۔ اس نے دوپہر سے ہی بالوں میں رولر لگا رکھے تھے۔ اب آئینے کے سامنے کھڑی ہو کر اس نے پہلے چہرے پر بلیچ کریم لگائی اور اس کے سوکھنے تک تھوڑی محنت کے ساتھ اپنے بالوں پر لگے رولرز کھول لیے۔ کچھ دیر بعد بلیچ لگے چہرے کو بھی دھو لیا اور اس پر بیس لگانی شروع کی۔ میک اپ کا سارا سامان اریبہ نے گھر ہی میں خرید رکھا تھا جنہیں بیوٹی پارلر پر کام کرنے والی ایک سہیلی اور انٹرنیٹ پر موجود ویڈیوز کی مدد سے اس نے لگانا بھی خوب سیکھ لیا تھا۔

اس طرح وہ خود کو خود ہی تیار کر کے پارلر میں ہونے والے خرچے کو بچا لیتی تھی۔ چہرے پر بیس لگانے کے بعد اس نے بلش آن سے کافی محنت کے ساتھ اپنے نقوش کو ابھارا، پھر چہرے کے خدوخال کو پرکشش بنانے کے بعد آنکھوں کو سنوارا اور آخر میں ان میں لینز فٹ کیے اور پلٹ کر حمید کو دیکھا اور پوچھا۔میں کیسی لگ رہی ہوں ؟حمید نے نظر اٹھا کر اریبہ کو دیکھا اور کہا ” بہت پیاری “آئینے کے سامنے گھنٹوں پہلے شروع ہوئی اریبہ کی پوری تیاری کو حمید کے ان دو الفاظ نے اب مکمل کر دیا تھا۔

اگرچہ اسے اپنا آپ آئینے میں بھی دکھائی دے رہا تھا مگر ایک بیوی کی خوبصورتی کو جب تک شوہر کی تعریفی تصدیق نہ ملے تو وہ ادھوری ہی رہتی ہے۔ حمید کو اپنی بیوی سے پیار تھا اس لیے وہ اریبہ کو جب بھی دیکھتا، نظر بھر کر دیکھتا اور حمید کا یوں نظر بھر کے دیکھنا اریبہ کے وجود کو زندگی کی روشنی سے بھر دیتا اور وہ مکمل ہو جاتی۔ ایک مکمل عورت ہی گھر کو مکمل رکھ سکتی ہے۔

ننھی زینب نے اپنی گڑیا اٹھائی اور حمید کے پاس آ کر کہنے لگیپاپا اس کو بھی لے چلیں ساتھ ؟ یہ بھی شادی دیکھ کر خوش ہو جائے گی!ارے پاگل یہ تو گڑیا ہے اسے بھلا کیا پتہ شادی کا فنکشن کیا ہوتا ہے۔ حمید نے ہنستے ہوئے زینب سے کہا نہیں پاپا یہ میری فرینڈ ہے، میں نے اسے بتایا ہے کہ ہم شادی پر جا رہے ہیں تو اس نے کہا کہ میں نے بھی ساتھ جانا ہے، ہم کب سے تو آپس میں باتیں کر رہے ہیں۔ زینب نے معصومیت سے جواب دیا۔

حمید کو زینب کی بات سن کر خیال گزرا کہ واقعی وہ کب سے بیٹھا موبائل کے ذریعے دور بیٹھوں کی پوسٹس کو پڑھنے اور ان پر کامنٹ کرنے میں مگن ہے جبکہ قریب بیٹھی اپنی بیٹی کے ساتھ اس نے کوئی بات بھی نہیں کی۔شخص کوئی بھی ہو رشتہ کیسا بھی ہو۔ بات نہ کرنا بھی ایک نامحسوس خلا پیدا کر دیتا ہے۔ اور پھر اگر اس خلا کو ختم کرنے کی کوئی سعی نہ کی جائے تو اسے پُر کرنے ہر دو کے درمیان تیسرے وجود کا آنا لازم ہے خواہ بےجان پتلا ہی ہو۔

حمید نے ننھی زینب کو دونوں ہاتھوں سے تھام کر اپنی گود میں بٹھا کر پیار سے اس کی گال کو چوما اور اسے گدگداتے ہوئے کہنے لگا ” پاپا تو بس اپنی گڑیا کو ہی لے کر جائیں گے اپنے ساتھ، کیونکہ یہ تو پاپا کے ساتھ باتیں کرتی ہے ۔۔۔۔۔ اور وہ گڑیا تو کچھ بھی نہیں کرتی، بس یونہی پڑی رہتی ہے، اس لیے اسے یہیں پڑا رہنے دیتے ہیں، ٹھیک ہے نا ؟ زینب پاپا کی آغوش میں بیٹھ کر اس کے ہاتھوں کی گدگدی سے کھلکھلا کر ہنس رہی تھی ۔ اسے اب اپنی گڑیا سے بڑا دوست مل گیا تھا اس لیے اس نے فوراََ ہاں کہہ کر گڑیا کو یہیں چھوڑ دیا۔

تیاری کے بعد اب ایک مسئلہ سب کا موٹرسائیکل پر سوار ہونا تھا۔ حمید نے خود بیٹھ کر پہلے موٹرسائیکل سٹارٹ کی، پھر اریبہ نے گود میں اٹھائے ننھے دانیال کو حمید کے حوالے کیا اور خود پیچھے بیٹھی اور بیٹھ کر دانیال کو حمید سے واپس اپنی گود میں پکڑ لیا۔ پھر قریب کھڑی زینب کو حمید نے اٹھا کر اپنے آگے ٹینکی پر بٹھایا اور مڑ کر اریبہ سے پوچھا کہ وہ دانیال کو پکڑ کر پیچھے ٹھیک طرح بیٹھ گئی ہے ؟ اریبہ کے ہاں کہنے پر حمید نے موٹرسائیکل آگے بڑھا دی۔

رات کے آٹھ بج رہے تھے اور سڑکوں پر بھی کافی رش تھا۔ یوں لگتا تھا کہ ہر شخص نے کہیں نا کہیں بہت جلدی پہنچنا ہے۔ یہ جلدی شائد اس لیے تھی کہ کوئی بھی وقت کے ساتھ نہیں چلتا ۔۔۔۔۔ وقت پہلے نکل جاتا ہے اور پھر انسان اس کے پیچھے ہانپتا ہوا تیز تیز بھاگتا ہے تاکہ وقت پر پہنچ سکے یا کم از کم زیادہ دیر سے نہ پہنچے۔ وقت اور انسان کی اس دوڑ کا میدان سڑکیں بن جاتی ہیں جہاں جلدی جلدی پہنچنے کی غرض سے لوگ اکثر ٹریفک پھنسا کر پھر گھنٹوں تک رکے رہتے ہیں۔

اسی طرح پھنسی ٹریفک سے نکل کر حمید نے شادی پر جلد پہنچنے کے لیے اپنی موٹرسائیکل کی رفتار بڑھائی اور پھر وہ ایک بڑی روڈ پر آن پہنچا جہاں وہ اپنے الٹے ہاتھ کی طرف تیزی کے ساتھ موٹرسائیکل چلاتا ایک سیدھ میں رواں تھا۔ ایک سیاہ رنگ کی گاڑی جو کافی پیچھے سے مختلف گاڑیوں کو بائی پاس کرتے ہوئے تیزی تیزی کے ساتھ آگے بڑھتی آ رہی تھی۔ جب وہ حمید کی موٹرسائیکل کے قریب پہنچی تو اس نے اپنی رفتار ان کے برابر کر دی۔ گاڑی کو ایک نوجوان چلا رہا تھا اور ساتھ دو نوجوان مزید بیٹھے تھے۔ گاڑی میں لگی ایل سی ڈی پر ویڈیو کے ساتھ مدھم آواز میں گانے چل رہے تھے جبکہ انکا اپنا قہقہوں کا شور اس آواز سے زیادہ تھا۔

گاڑی کو چلانے والا نوجوان موٹرسائیکل پر شادی کے لیے تیار ہو کر بیٹھی اریبہ کے چہرے کو دیکھنے کی کوشش کر رہا تھا لیکن موٹرسائیکل گاڑی کے بائیں جانب تھی اس لیے صرف پشت دکھائی دے رہی تھی۔ انہوں نے پہلے اپنی گاڑی کو حمید کی موٹرسائیکل کے عین پیچھے کیا پھر بائیں جانب سے موٹرسائیکل کو کراس کرنے کی کوشش کی تاکہ اس پر بیٹھی لڑکی کا چہرہ پوری طرح نظر آ جائے۔ اسی کوشش میں جب انکی گاڑی موٹرسائیکل کو انتہائی قریب سے کراس کرتے ہوئے آگے بڑھ رہی تھی تو اس کا سائیڈ مِرر حمید کی موٹرسائیکل سے ٹکرایا جس کے نتیجے میں وہ یک دم اپنی گرفت مضبوط نہ رکھ سکا اور موٹرسائیکل پہلے ایک جھٹکے کے ساتھ ڈولی اور پھر دھڑام سے سڑک پر گر گئی۔

سیاہ رنگ کی گاڑی تیزی کے ساتھ آگے نکل گئی تھی جبکہ حمید، اریبہ اور دونوں بچے سڑک پر گرے پڑے تھے۔ حمید نے بمشکل خود کو موٹرسائیکل کے نیچے سے نکالا اور اریبہ کے ہاتھ سے چھوٹ کر گرے ننھے دانیال کو سڑک پر سے اٹھا کر فٹ پاتھ پر لٹایا پھر اسے روتا چھوڑ کر پلٹ کے دیکھا تو کچھ اور لوگ بھی رک کر اردگرد اکٹھے ہو گئے تھے۔ اریبہ کے گھٹنے پر بھی شدید چوٹ آئی تھی جس کے باعث وہ اٹھ نہیں پا رہی تھی اور چہرے پر بھی واضح موٹی موٹی خراشیں دکھائی دے رہیں تھیں جبکہ ننھی زینب کے ماتھے پر سے خون کی سرخ سرخ بوندیں بہنے لگی تھیں۔ پاس اکٹھے ہو چکے ہجوم میں سے کسی نے موٹے موٹے آنسووں کے ساتھ روتی زینب کو گود میں اٹھا کر فٹ پاتھ تک لاتے ہوئے پوچھا۔ بیٹا آپ ٹھیک ہو نا ۔۔۔۔۔ کیسے گرے آپ لوگ ؟

وہ گندے انکل ۔۔۔۔۔ ہمیں ٹکر مار کے پھینک گئے ہیں۔ روتی زینب نے آدمی سے کہا۔ بیٹا پیٹ میں جب حرام کے انگارے بھرے ہوں تو انسان یونہی دوسروں کی زندگیوں میں آگ لگا دیتا ہے۔ آدمی غصے میں زیرلب بڑبرایا۔پھر زینب اس آدمی کی گود سے اتری اور اپنے باپ کا ہاتھ پکڑ کر اسے جھنجھوڑتے ہوئے بولیدیکھیں نا پاپا میرا فراک بھی سارا پھٹ گیا ۔۔۔۔۔ اب ہم شادی پہ بھلا کیسے جائیں گے ؟ ننھی زینب باپ کے سامنے بلک بلک کے رو رہی تھی۔

Comments

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • ماشاءاللہ بہت اچھا افسانہ لکھا آپ نے... کہانی کی بنت, ترتیب اور عکاسی خوب ہے... کچھ املا , رموز اوقاف کی اور ٹیکنیکل غلطیاں بھی ہیں.
    جیسے...
    قوسوں... کوسوں
    ناں... نا
    احتیاط... احتیاطاً
    ٹانگ رکھا تھا... لٹکا رکھا تھا
    بکسے میں... اٹیچی میں یا الماری میں
    وہں... وہیں
    چولہا... چولھا
    (ہمیں یہ تصور اب ختم کرنا چاہیے کہ شادی والے گھر ہم کھانا کھانے جا رہے ہیں... بلکہ یہ سوچ ہو کہ خوشیوں میں شامل ہونے جا رہے ہیں)
    بچی کو بار بار طنزیہ میڈم کہنا اخلاق سنوارنے والی نہیں بگاڑنے والی بات ہے.
    ایک سانس میں اتنی باتیں نہیں بولی جا سکتیں... اور وہ بھی چیخ کر...
    کامنٹس... کومنٹس
    بالوجود کی جگہ بالمواجہہ یا بالمشافہہ زیادہ بہتر ہے
    سلام دینا... سلام کہہ دینا
    (انکل کی طرف سے بہت حساس پیغام ہے... کوئی سمجھے تو)

    یہ سوچ بھی عجیب لگی کہ مہمان کا خرچہ اور لفافہ دینا دوبھر لگا اور خود شاپنگ ہزاروں کی کر ڈالی.

    دام چڑھا... دام بڑھا

    خدوخال نمایاں کرنے والی سوچ نے بھی ہمارے معاشرے کو بہت نقصان پہنچایا ہے.

    جوتیاں... جوتوں کے جوڑے
    خاصہ... خاصا
    انہی... انھی
    ملائمیت... ملائمت
    دولھا دلھن
    شائد... شاید
    دور بیٹھوں... دور بیٹھے لوگوں
    کہیں نا کہیں... کہیں نہ کہیں
    جھٹکے سے ڈولی... اچانک توازن برقرار نہ رکھ سکی
    تیزی کے ساتھ... تیزی سے
    اور بھی اغلاط ہیں...
    آخری سبق بہت اچھا دیا آپ نے... حرام کے انگارے والا.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com