تھرڈ کلاس - سمیرا امام

زندگی میں جب کبھی بھی میں نے پاکستان کے لیے "تھرڈ ورلڈ " کا نام سنا مجھے نہایت حیرت ہوتی کہ پاکستان میں غربت کا عالم اس قدر نہیں ملک زرخیز ہے ۔ لوگ مجموعی طور پہ خوشحال ہیں ۔ پاکستانی شادیاں رہن سہن طور طریقے اور پاکستانیوں کے طور اطوار کیا ہی شاہانہ قسم کے ہوا کرتے ہیں ۔

ہر دلہن کو سونے کے زیورات ملتے ہیں ۔ ایک سجا سجایا بنا بنایا گھر ملتا ہے ۔ والدین بساط سے بڑھ کر جہیز دیتے ہیں بلکہ بسا اوقات تو اس قدر دیتے ہیں کہ جو درکار نہیں ہے وہ بھی دے دیتے ہیں ۔ پھر نا معلوم ہمیں ایک تھرڈ ورلڈ ملک کیوں کہا جاتا ہے ؟ وقت گزرا عمر کے ہندسے آگے بڑھے اور ہم شعور کے مقام پہ آن کھڑے ہوئے ۔ اب سمجھ آئی کہ کوئی بھی ملک ترقی یافتہ ترقی پذیر زوال یافتہ یا زوال پذیر کیونکر ہوا کرتا ہے ۔ یہ اس ملک کے وسائل اور مالی حالات نہیں ہیں جو ملک واسیوں کی قسمت بناتے یا بگاڑتے ہیں ۔ جو ملکوں کو تھرڈ ورلڈ یا سپر پاور کے اعزازات و القابات سے نوازتے ہیں ۔بلکہ یہ اس ملک کی عوام ہے جس کے رویے طرز تمدن ' تہذیب اسے کسی لقب یا اعزاز کا حق دار بناتی ہے ۔ ایک ایسا ملک جس کی عوام دیانت داری ، بے غرضی ، خلوص ، سچائی ، محنت اور لگن جیسے اعلیٰ اخلاقسے نا آشنا ہے ۔ اور اس سب کی بجائے تن آسانی ، عیش پرستی ، سستی ، کاہلی ، شارٹ کٹ ، آسائشات ، تعیشات ، جھوٹ دھوکہ بد دیانتی مفاد پرستی خد غرضی لالچ حرص جیسی برائیوں میں غرق اور ڈوبی ہوئی ہے وہ قوم تھرڈ ورلڈ نہیں تو اور کیا ہوسکتی ہے ؟

جماعت ششم میں میں نے فقط دو نمبروں سے تیسری پوزیشن حاصل کی ۔ والد صاحب نے نتیجہ جاننے کے لیے فون کیا اور جب علم ہوا کہ میری تھرڈ پوزیشن ہے تو کہنے لگے کاش میری بیٹی تم تھرڈ کلاس میں شمار نہ ہوتی ۔ یہ الفاظ آج تک دل پہ نقش ہیں ۔ جب بھی مجھے اپنا آپ دنیا میں سب سے بے وقوف فقط اسلیے لگتا ہے کہ دوسرے کی بے غیرتی اور مفاد پرستی کا علم ہوتے ہوئے میں اسے یہ جتلاتی ہوں کہ مجھے کچھ سمجھ نہیں آئی تا کہ سامنے والے کا بھرم نہ ٹوٹے تو مجھے اپنی اس عادت پہ رونا آتا ہے ۔ جب جب میں ان برائیوں اور غلط باتوں پہ خاموش ہوجاتی ہوں کہ کہیں کوئی میرے سامنے شرمندہ نہ ہو جائے تب تب دوسروں کی ڈھٹائی پہ فقط خود کو کوسنے کو جی چاہتا ہے ۔ جب بھی دوسرے میرے سامنے اس قدر سختی سے جھوٹ بولیں اور میں انکے جھوٹ کو ثابت کر دینے پہ قادر ہوں تو مجھے اپنی خاموشی بے وقوفی کے سوا کچھ نہیں لگتی ۔ ان تمام لمحات میں مجھے یاد آجاتا ہےکہ بابا نے کہا تھا . کاش تم تھرڈ کلاس میں شمار نہ ہوتی ۔ اور میں دل پہ جبر کر جاتی ہوں کہ احسان کر کے جتلا دینے والے فقط تھرڈ کلاس ہوا کرتے ہیں ۔ کسی کا پردہ رکھ کے اس پردے کو چاک کرنے والے تھرڈ کلاس کے سوا کچھ نہیں ہوتے ۔

پس لوگوں کے بھرم رکھ لینے چاہیئیں ۔ یہ اپنی ذات پہ بھی احسان ہے کہ آپ نے خود کو تھرڈ کلاس ہونے سے بچا لیا ۔ اگر پوری دنیا میں آپ اکیلے بھی ایمان داری ، سچائی ، اخلاص اور تمام بہترین اقدار کو سینے سے لگائے ان پہ عمل پیرا ہیں تو جان لیں کہ آپ اپنی ذات کو تھرڈ کلاس ہونے سے بچا رہے ہیں ۔ احساس دنیا کا انمول ترین تحفہ ہے اگر اللہ نے آپکو احساس سے نوازا ہے تو یہ اللہ کی مہربانی اور اسکا فضل ہے لہذا اپنے اندر کی کمینگی کی وجہ سے اللہ کے فضل سے ہاتھ مت دھو لیجیے گا ۔ فرد خود کو تھرڈ کلاس سے نکالے تو ملک ان شاء اللہ فرسٹ کلاس پہ آنے میں قطعاً دیر نہیں لگائے گا ۔ آپ جہاں بھی جس سیٹ پر بھی ہیں ارادا کر لیں آپ نے دھوکہ ، رشوت ، بے ایمانی کام چوری سستی کاہلی تن آسانی اپنی ذمے داریوںسے غفلت سے خود کو بچا کے رکھنا ہے ۔ گھر باہر ہر جگہ اپنے اخلاص کا سو فیصد دینا ہے یقین جانیں اس ملک کو سپر پاور میں لے جانے سے کوئی نہیں روک سکتا ۔ بری باتوں پہ چلاکے انھیں مٹانے کی کوشش بے سود ہے ۔ برا عمل اچھے عمل سے مٹتا جاتا ہے ۔
آئے دن برے واقعات کو کوسنے کی بجائے اپنے اچھے اعمال میں اضافہ کرتے جائیں اللہ آپکا حامی و ناصر ہوگا . ان شاء اللہ