ذات النطاقین - ( اسوہ صحابیات ) سمیرا امام

جب بھی ہم سگھڑاپے کا لفظ سنتے ہیں تو ہمارے ذہن میں اس لفظ سے جڑا ایک اور لفظ بھی ضرور آتا ہے ۔ اور وہ ہے " خواتین " خاتون اگر سگھڑ اورسلیقہ شعار نہ ہو تو گھر بد نظمی اور بے ترتیبی کا شکار ہوکر مکینوں کے راحت وآرام کو تباہ کر دیتا ہے ۔

سلیقہ بہت چھوٹی چھوٹی چیزوں کو ترتیب دینے کا نام ہے ۔ جیسے ہم گھر کی صفائی کریں تو سامنے سامنے سے جھاڑو پوچھا لگا لیں لیکن ہمارے بستروں کے نیچے چھپا گند وہیں پڑا رہے ۔ یا گھر میں بکھری سبھی چیزوں کا اٹھا کر بے ترتیبی اوربد نظمی سے کسی کونے کھدرے میں چھپا دیں ۔ تو یہ سلیقے کی نشانی نہیں۔ گھر سے ابو ، بھائی اور میاں کو کام پہ بھیجتے ہوئے انھیں ساتھ لے جانے کے لیے بہترین کھانا دیں لیکن کھانے کے برتن پھوہڑ پن سے بند کیے جائیں اور سارا کھانا راستے میں گر جائے تو دوہرے نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ کھانے کا ضیاع اور اپنے پیاروں کا بھوکا رہ جانا ۔ اس اہم نکتے کو ایک پیاری اور سلیقہ مند بچی نے پا لیا تھا ۔ جب رات کے اندھیرے میں اسے اپنے بابا جان اور انکے محبوب ساتھی کے لیے کھانا بنا کر بھیجنا تھا ۔ تیرہ برس تک مکہ مکرمہ میں دعوت دین دینے کے بعد حضور ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہجرت کا حکم ہوا ۔ حضور ﷺ نے بہت راز داری کے ساتھ ہجرت کی تیاری فرمائی اور اس مبارک سفر کے لیے اس پیاری بچی کے بابا جان حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو منتخب فرمایا ۔

ہجرت کی رات حضور ﷺ کے گھر کے باہر مشرکین کا پڑائوتھا لیکن اللہ نے ان لوگوں پر غفلت طاری کر دی اور حضور اکرم ﷺ اپنے گھر سے نکل کر حضرت ابو بکر ؓ کے گھر تشریف لے آئے ۔حضرت ابو بکر ؓ آپ ﷺ کا انتظار کر رہے تھے ۔اور پیاری بیٹی حضرت اسماء ؓ نے سفر کا سامان تیار کر رکھا تھا ۔ حضور ﷺ تشریف لے آئے تو حضرت اسماء ؓ نے کھانے کے تھیلے اور پانی کے مشکیرے کو باندھنا چاہا لیکن فوری طور پر کوئی رسی نہ ملی ۔ اس زمانے میں عورتیں اپنے لباس کے اوپر کوئی رومال یا کپڑا کمر کے گرد باندھ لیتی تھیں ۔ حضرت اسماء ؓ کے پاس بھی ایسا ہی کمر بند تھا ۔ انہوں نے کمر بند کے دو ٹکڑے کے اور ان کی مدد سے کھانے کے تھیلے اور مشکیرے کو باندھ دیا اس قسم کا کمر بند’’نطاق‘ کہلاتا تھا ۔ حضور ﷺ نے اس موقع پر حضرت اسماء ؓ کو ’’ذات النطاقین‘‘ کا لقب عطا فرمایا یعنی دو کمر بند والی ۔حضرت اسماء کے سگھڑاپے اور جان نثاری کا یہ واقعہ اس قدر اثر انگیز ہے کہ دل و دماغ پہ اپنا گہرا نقش چھوڑ جاتا ہے ۔ حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا اللہ کے رسول ﷺ کے سب سے محبوب ساتھی حضرت ابو بکر صدیق ؓ کی صاحب زادی تھیں ۔

صحابیات میں حضرت اسماء ؓ کا مرتبہ بہت بلند ہے ۔ آپ ؓ کے شوہر حضرت زبیر بن العوام ؓ مشہور صحابی ؓ ہیں ۔ وہ ان دس صحابۂ کرام ؓ میں شامل ہیں جن کو اللہ کے رسول ﷺ نے جنت کی خوش خبری سنا دی تھی ۔ ان دس صحابہ ؓ کو ’’عشرہ مبشرہ‘‘ کہا جاتا ہے ۔ حضرت اسماء کے صاحب زادے حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ بھی صحابی تھے ۔حضرت اسماء ؓ کی چھوٹی بہن حضرت عائشہ ؓ تو ام المومنین ہیں ۔ حضرت اسماء ابی بکر ؓ ہجرت نبوی سے ستائیس سال پہلے مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئیں ۔ ایمان لانے والوں میں ان کا نمبر اٹھارہواں ہے ۔ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کی شخصیت کے گہرے رنگ ہمیں بہ حیثیت ایک بہترین بیوی اور ایک عظیم ماں کے طور پہ بھی ملتے ہیں ۔ اللہ ہمیں آپ رضی اللہ عنہا کے نقشِ قدم پہ چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں اپنے گھروں میں سکھ بکھیرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین تا کہ گھر والے ہم سے اور ہم ان سے راحت پا سکیں ۔ آمین

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com