یہ خاکی زندہ تر، پائندہ تر، تابندہ تر نکلے - عبدالخالق بٹ

سکندرمقدونی ایک بیدار مغز حکمران اورحوصلہ مند سپہ سالار تھا۔ چوتھی قبل مسیح کے نصف دوم میں سکندر نے مشرق کی سمت پیش قدمی کی تو راہ میں آنے والی کتنی ریاستیں پکے پھل کی طرح اس کی جھولی میں آ گریں۔ 334 قبل مسیح میں اس نے درہ دانیال عبور کیا اور درہ گرانیک کے کنارے عظیم ایرانی ہخامنشی حکومت کی افواج کو پہلی شکست دی جو آخری شکست کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔ دارا سوم کی کئی گنا بڑی فوج سکندر کا راستہ نہ روسکی، یہاں تک ’گوگا میل‘ کا میدانِ جنگ ہخامنشی سلطنت کا قبرستان بن گیا۔ سائرس اعظم کے ہاتھوں قائم ہونے والی سلطنت سکندرِ اعظم کے ہاتھوں پیوند خاک ہوگئی۔ ہخامنشیوں کا آفتاب ہمیشہ کے لیے غروب ہوگیا۔ اب ’سکندر‘ معلوم انسانی دنیا کا یک و تنہا دعویدار تھا۔ اس کی عظمت کا اعتراف اس کے نام کے ساتھ ’اعظم‘ لگا کرکیاجاتا ہے۔ مصر کا مشہور شہر اس ہی کی نسبت ’اسکندریہ‘ کہلاتا ہے۔

مؤرخ سکندراعظم کی فتوحات کا ذکر فخر وتمکنت سے کرتا ہے، وہ بتاتا ہے کہ سکندر نے ہندوستان میں راجا پورس کو کتنی آسانی سے زیر کیا۔ وہ یہ بھی لکھتا ہے کہ کس طرح راجا پورس کے ہاتھیوں نے اپنی ہی فوج کو روند ڈالا۔ مگر مؤرخ یہ نہیں بتاتا کہ ایران اور ہندوستان کے درمیان ایک پڑاؤ موجودہ ’افغانستان‘ بھی تھا۔’وادیٔ پنج شیر‘ میں سکندر کو گھیرلیا گیا تھا۔ فاتح عالم ان افغانوں کے سامنے بے بس ہوگیا۔ کامل دو سال تک سکندر اعظم پیش قدمی نہیں کرسکا۔ قریب تھا کا پنج شیر کی وادی یونانی فوجوں کا آخری مسکن ثابت ہو، یونانی فاتح کو افغانوں سے ’تاوانِ جنگ‘ پر صلح کرنی پڑی،اوریوں محفوظ راستہ ملنے پر وہ آگے بڑھ سکا۔

یہ ذکر تھا قبل از مسیح کا، مگر برطانیہ عظمیٰ کہ اس کی سلطنت میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا۔ اِنہیں غیور افغانوں کے ہاتھوں شکست سے دوچار ہوچکا ہے۔ 1839ء تا 1842ء کے درمیان لڑی جانے والی پہلی اینگلو افغان جنگ میں برطانیہ کے قدم جمنے سے پہلے ہی اکھڑگئے تھے۔ کابل کی جانب پیش قدمی کرنے والی 4500 سپاہ میں سے صرف ایک فوجی سرجن ’william brydon‘ ہی جان بچ سکا تھا۔ زخموں سے چُور سرجن ولیم برائیڈن جلال آباد پہنچا تو انگریزوں کا پتا چلا کہ ان کی بھیجی گئی کُل فوج کا صفا یا ہوچکا ہے۔

افغانوں کے ہاتھوں برطانیہ کی اس عبرتناک شکست کی عکاسی برطانوی مصورہ ’Elizabeth Thompson‘ نے اپنی مشہور زمانہ پینٹنگ ’Remnants of an Army‘ میں کی ہے۔ اس پینٹنگ میں تباہ حال ’ویلم برائیڈن‘ کو خستہ حال خچر پر سوار دکھایا گیا ہے۔

پھر روس کی افغانستان میں شکست بھی تو کل ہی کی بات ہے۔ وہ سوشلسٹ روس جسے بدمست ہاتھی کہا جاتا تھا، جو کسی ملک میں داخل ہونے کے بعد کبھی واپس نہیں ہوا تھا۔ افغانوں سے شکست کھا کر ایسا پلٹا کہ اُسے کتنی ہی مقبوضات سے دست بردار ہونا پڑا۔ یوں وسط ایشیا، کاکیشیا اور مشرقی یورپ کو روس کے آہنی پنجے سے رہائی نصیب ہوئی۔

اور اب امریکا بہادر کی رسوائی دوحہ میں دیکھی جاسکتی ہے۔ امریکا جسے معلوم انسانی تاریخ میں سب سے زیادہ جنگی وسائل حاصل ہیں۔ رسوائی سے بچنا چاہتا تھا۔ اُسے محفوظ راستہ مطلوب تھا جو کل 29 فروری2020 کو دوحہ (قطر) میں ہوئے معاہدے میں طالبان نے اپنی شرائط فراہم کردیا ہے۔ اللہ اکبر
افغان باقی، کہسار باقی
الحکم للہ ، الملک للہ

Comments

عبدالخالق بٹ

عبدالخالق بٹ

عبدالخالق بٹ گزشتہ دودہائیوں سے قلم و قرطاس کووسیلہ اظہار بنائے ہوئے ہیں۔ وفاقی اردو یونیورسٹی کراچی سے اسلامی تاریخ میں ایم۔اے کیا ہے۔اردو ادب سے بھی شغف رکھتے ہیں، لہٰذا تاریخ، اقبالیات اور لسانیات ان کے خاص میدان ہیں۔ ملک کے مؤقر اخبارات اور جرائد میں ان کے مضامین و مقالات جات شائع ہوتے رہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */