مودی کانظریہ ختم ہوچکاہے! محمد عنصر عثمانی

امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ دوروزہ دورہ بھارت مکمل کرکے واپس جاچکے ہیں۔بھارت میں ٹرمپ کی موجودگی میں آر ایس ایس کے گنڈوں نے جو کارنامے سرانجام دیے ہیں وہ بھی دنیا نے دیکھے ہیں۔ مسلمانوں پر کھلے عام حملے کیے گئے۔ دلی کو یرغمال بنا کر ایک دن میں 20 مسلمانوں کو شہید ، 200 کو شدید زخمی کیا گیا۔

نئی دہلی کے مشرقی علاقے اشوک نگر میں مسلم اکثریتی آبادی کوہندوؤں نے نشانہ بناتے ہوئے مساجد کی بے حرمتی کی اور آر ایس ایس کے مسلح بردار جٹھوں نے مذہبی عبادت گاہوں کو بھی نہ بخشا ۔ مساجد کے مناروں پرہلال کی علامات کو اتار کر آر ایس ایس کے چمکتے زعفرافی جھنڈے لہرادیے۔ 25 فروری کے دن نئی دہلی کے مسلمانوں نے شوسل میڈیا سائٹس پر شہری آبادی پر مظالم کی تصاویریں ، ویڈیوز اپلوڈ کیں جنہیں دیکھ کر شہر کا حال جنگ زدہ لگ رہا تھا۔ ایسا محسوس ہورہا تھا کہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت ٹرمپ کو ہندوتوا نظریہ سے روشناس کرایا گیا، تاکہ امریکہ کشمیر ایشو پر سنجدیدگی سے بات نہ کرسکے۔‌آزر ایس ایس فکر کی حامل بی جے پی نے صدر ٹرمپ کی خوشامدی حاصل کرنے کے لیے بھارتی اکانومی کا تیا پانچے کرنے بعد اپنے مقاصد تک نہیں پہنچ سکی۔ایک اندازے کے مطابق صرف دہلی شہر کی تزین و آرائش پر 40کروڑ روپے بھارتی روپیہ جھونک دیا گیا۔ دو ہفتے قبل حکومت ہند نے ملک کی تقریبا تمام بڑی ریاستوں میں پان ، چھالیاں کھانے والوں پر پابندی لگا دی تھی۔

اتر پردیش ، نئی دہلی، احمد آباد سمیت بھارت کے کونے کونے سے جن لوگوں کو صدر ٹرمپ کے خطاب کے لیے اسٹیڈیم میں جمع کیا گیا تھا ان میں بڑی تعداد میں خواتین شریک تھیں۔ مردوں عورتوں کو بھارتیہ جنتا پارٹی کی مماثلت والا دوپٹہ ،کیپ دی گئی۔ یوں کہا جائے تو برا نہیں ہوگا کہ پورے اسٹیڈیم کو مودی سرکار نے اپنے کارکانوں سے بھر دیا تھا۔ لیکن لاکھوں کے اس مجمعے پر بجلی اس وقت گری جب ٹرمپ نے واشغاف الفاظ میں پاکستان کی تعریف کی۔ مودی سمیت پورا مجمع دم بخود رہ گیا. صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ سے قبل وائٹ ہاؤس سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ امریکہ بھارت سے غیر آئینی شہریت بل اور کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کرے گا،عالمی میڈیا جو کشمیر کے کئی سروے کرنے کے بعد یہ بتا چکا تھا کہ بھارت کشمیریوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کا مرتکب ہو رہا ہے۔ کشمیر کی خصوصی حیثیت کی بحالی اور بھارت کا مکروہ چہرہ پہلے ہی عالمی میڈیا دنیا کو دکھا چکا تھا۔ پاکستان نے امریکہ کو بھارتی جارحیت پر پرزور الفاظ میں مذمت کی تھی جس پر صدر ٹرمپ کشمیر پر ثالثی پر غور و غوض کررہے تھے۔

یہ وجہ ہے کہ بھارت کے دورے کے دوران بھرے مجمعے میں ٹرمپ نے پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات کا ذکر کیا ،پاکستان کی دہشت گردی میں قربانیو ں کا اعتراف کیا۔ جس کے بعد بھارتی میڈیا میں صف ماتم بچھ گئی۔ امریکی صدر کے دورے سے امید کی ہلکی سی کرن نظر آرہی تھی کہ ٹرمپ کشمیر ایشو کو حل کی طرف لے جانے کی کوشش کریں گے، مگر ٹرمپ کے گہرے دوست مودی کی آر ایس ایس نیفسادات بپا کرکے کشمیر مسئلے پر قدغن لگادی۔ منگل کی سہ پہر کو اشوک نگر میں واقع ایک جامع مسجد میں آگ لگ گئی۔ جلتی ہوئی مسجد کے ارد گرد’’جئے شری رام‘‘ اور ’’ہندوؤں کا ہندوستان‘‘ کے نعرہ لگانے والے ہجوم نے مسجد کے مینار پر ایک ہنومان کا جھنڈا رکھاہوا تھا۔ اس کے بعد ٹویٹر پر سامنے آنے والی ویڈیو فوٹیج میں ، ہجوم میں سے ایک ہاتھ میں ہندوستانی پرچم کے ساتھ مینار پر چڑھتا ہوا نظر آتا ہے۔ وہ میناروں کے ایک حصے کو نیچے کھینچنے کی کوشش کرتا ہے، لیکن بظاہر کامیاب نہیں ہوتا ہے۔ بھارت میں 20 کروڑ مسلمانوں نے گزشتہ دو روز بہت ازیت و کرب میں گزارے ۔ کئیوں کے کاروبار ختم ہوگئے۔ ایک مسلمان کی جوتے کی دکان کو مع سامان کے آگ کے شعلوں کے حوالے کردیا گیا۔ متاثرہ شخص کا کہنا تھا کہ مجھ سمیت مارکیٹ میں تمام کاروباری مسلمانوں کا یہی حال ہے۔

ہماری مسجد کے احاطے کے اندر اور آس پاس کی دکانوں کو لوٹ لیا گیاہے۔ مقامی لوگوں نے ایک خبررساں ایجنسی ’’دی وائر‘‘ کو بتایا کہ لٹیرے اس علاقے کے رہائشی نہیں تھے اور وہ بنیادی طور پر ہندو تھے ۔ وہ دہلی کی گلیوں میں مقیم مسلمانوں کے گھروں کے دروزے توڑ کر اندر گھستے رہے اور انہیں تشدد کا نشانہ بناتے رہے۔ ان کایہ بھی کہنا تھا کہ تشدد کے دوران جائے وقوعہ پر فائر فائٹرز موجود تھے ، لیکن پولیس کہیںنظر نہیں آ سکی،جس کے بعد مقامی لوگوں کا پولیس سے بھی خطرہ بڑھ گیا ہے۔ مودی سرکار کا متنازع شہریت بل گلے کی ہڈی ثابت ہورہا ہے جس کی رو سے اقلیتوں کے ساتھ کھلی جنگ چھڑ چکی ہے۔ مودی کی پالیسیاں بھارت کو تقسیم کی طرف لے جارہی ہیںجس کے بعدکئی ریاستوں میں بغاوت کی لہر دوڑ چکی ہے۔ آج وہاں کی اقلیتی برادری ، اپوزیشن جماعتوں نے بھی خدشہ ظاہر کردیا ہے کہ مودی بھارت کے ٹکڑے کرنے کے درپے ہے۔ وہ ہندوؤں کا بھارت بنانا چاہتا ہے،چاہے اس کے لیے مودی کو گجرات جیسے فسادات ہی کیوں نہ دہرانے پڑیں۔ان کا کہنا تھاٹرمپ کے دورہ بھارت میں مودی کا نظریہ زمین بوس ہوچکا ہے۔