عورت کو کہاں ہونا چاہیے۔قدسیہ مدثر

''ارے نہیں بھئی میں گھر بیٹھنے کے لیئے بنی ہی نہیں ہوں'' نیہا کا موڈ بگڑ رہا تھا ''اچھا تو پھر کس لیئے بنی ہو؟'' حامد کے لہجے میں بھی تیزی آئی ..
''میں نے اتنی تعلیم کیا اس لیئے حاصل کی تھی کہ چولہے چکی میں جھونک دوں؟'' نیہا نے وہی پرانی دلیل دی .''کیوں کیا چولہا چکی کرنے سے تعلیم غائب ہو جاتی ہے؟'' سوال کے جواب میں ایک اور سوال حاضر تھا .''ہاں بالکل ہو جاتی ہے۔ بس میں کچھ نہیں جانتی مجھے جاب کرنی ہے'' نیہا کے لہجے میں اس بار ضد تھی۔

''تو بچوں کو کس کے حوالے کرو گی؟'' ..''اماں ہیں ناں۔ وہ دیکھ لیں گی'' ..''یار بچے اماں کی نہیں تمہاری ذمہ داری ہیں'' ''کیوں میں اکیلے یہ ذمہ داری کیوں اٹھاوں؟ یہ آپ کے بھی بچے ہیں''۔۔۔۔۔۔۔اس طرح کی بحثیں ہمارے گھروں میں اب اکثر ہونے لگی ہیں۔ اس طرح کی بحثوں کا کوئی حاصل نہیں ہوتا۔ جھگڑے بڑھتے ہیں اور گھروں سے سکون اور برکت ایک ساتھ ہی اپنابوریا بسترا سمیٹ کر کوچ کر جاتے ہیں۔ ہمارے سامنے جب بھی کوئی مسئلہ آتا ہے تو جب تک ہم اس کے پیدا ہونے کی وجہ دریافت نہیں کر لیتے تب تک اس کا حل بھی تلاش نہیں کر سکتے۔ ہماری تعلیم یافتہ عورت کے دماغ میں یہ فتور کہاں سے آگیا ہے کہ وہ تعلیم حاصل کر لے گی تو دفتر کی کرسی اس کا درست مقام ہو گا اور گھر کا کچن اس کے سٹینڈرڈ سے کوئی نیچے کی چیز ہو گا؟؟؟ اس عورت کو یہ کس نے سکھایا ہے کہ بچے پالنا، برتن کپڑے دھونا یا کھانا بنانا ماسیوں کے کام ہوتے ہیں اور تعلیم یافتہ عورت اگر یہ کام کرے تو اس کی توہین ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔؟اس نکتے سے ہم کیا نتیجہ نکال سکتے ہیں سوائے اس کے کہ تعلیم اپنے ساتھ شعور کے نام پرغرور لاتی ہے۔ سٹیٹس کا کیڑا دماغ میں گھساتی ہے۔ منہ زور بناتی ہے حالانکہ درست سمت میں حاصل کی گئی تعلیم تو حقوق و فرائض کی پہچان دیتی ہے۔ محنت کی عظمت سمجھاتی ہے ۔ عاجزی بڑھاتی ہے۔ تمیز اور سلیقہ سکھاتی ہے۔

اب ایک مسلمان عورت کو ڈگری لینے کے بعد یہ لگتا ہے کہ گھر اس کی جگہ نہیں تو پھر وہ اپنے خالق سے سوال کرے کہ اس نے عورت کو کیوں یہ حکم دیا کہ اپنے گھروں میں ٹک کر بیٹھو۔ پھر اس نے عورت کو کمانے کی فکر سے کیوں آزاد رکھا۔۔۔ اس لیئے کہ گھر کا ڈپارٹمنٹ چلانا ایک بھاری ذمہ داری ہے ۔ یہ آسان کام نہیں۔ بغیر چھٹی یہ دن رات کی ڈیوٹی عورت جیسی ہستی کو اس لیئے دی گئی ہے کہ وہی اس کی اہل ہے۔ ارے عورت گھر بیٹھ کر خود کو ضائع نہیں کرتی بلکہ اپنا درست استعمال کرتی ہے۔ اس کا گھر،گھر والے اور بچے سب اس کی توجہ سے سنور جاتے ہیں۔ اگر تعلیم یافتہ عورت اپنی صلاحیتیں گھر پہ لگائے۔ اپنے بچوں کو پڑھائے ۔ اپنے ارد گرد کے لوگوں کو کچھ اچھا سکھانے پہ کام کرے اور خود کو مزید بہتر انسان بنانے کے مستقل عمل میں مصروف رہے تو اسے یہ کیسے لگ سکتا ہے کہ وہ خود کو ضائع کر رہی ہے۔ یہ بھی جاب ہے۔ اس کی تنخواہ روپوں میں نہیں ملتی ۔ اس کے بدلے روحانی سکون اور اخروی اجر ملتا ہے۔ مجھے اکثر لگتا ہے کہ وہ عورتیں بہت خوش قسمت ہیں جن کا اپنے گھر میں دل لگتا ہے۔ وہ اپنے صحیح مقام پر ہیں۔ وہ اسی کے لیئے بنی ہیں اور اسی میں ان کی عظمت ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com