یہ نقل نہیں اثر ہے - لطیف النساء

اھدنا الصراط المستقیم ہم میں سے ہر کوئی الحمد للہ پڑھتے ہیں لیکن بعض دفعہ اتنا شعوری احساس نہیں کرتے کہ ہم کیا مانگ رہے ہیں ؟ کیونکہ ہم نے دعا جو مغز العبادہ ہے عبادت ہے اس کو ہم نے ایک عادت بنا لیا ہے ۔ بہر حا ل پیغام میں لکھا تھاکہ ان صاحب کی عمر 95 سال تھی اور بقول انکے انکی والدہ کی عمر 105سال تھی ۔

پھر وجہ جانی تو معلوم ہوا کہ ہر لمحہ اپنے رب کو یاد رکھتے ہوئے منہ میں لقمہ ڈالنے سے پہلے بسم اللہ پڑھ لینا چا ہئے چاہے کو ئی بھی چیز ہو پانی کا ایک قطرہ ہی کیوں نہ ہو کیونکہ اللہ نے کوئی چیز بے مقصد اور بلاوجہ نہیں بنائی ہر چیز میں ایک حکمت ہے اور اس میں فا ئدے اور نقصان دونوں پوشیدہ ہیں ۔ جب ہم کوئی بھی چیز بسم اللہ پڑھ کر منہ میں ڈالتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اس میں سے نقصان نکال دیتا ہے ۔ ہمیشہ بسم اللہ پڑھ کر کھا ئو اور پیو اور دل ہی دل میں بار بار خالق کا شکریہ ادا کرتے رہو اور جب ختم کر لو تو بھی ہاتھ اٹھا کر شکر ادا کرو تو کبھی بیمار نہ پڑو گے آج ہمیں اپنا انداز تناول پرکھنے کی ضرورت ہے ۔

پھر انہوں نے اپنی صحت برقرار رکھنے کا آخری نسخہ یہ بتا یاکہ اگر کسی کے ساتھ بیٹھ کر کھا نا کھا رہے ہو تو کبھی بھول کر بھی پہل نہ کرنا چاہئے کتنی بھی بھوک لگی ہو ۔ پہلے سامنے والے کی پلیٹ میں ڈالو اور وہ جب تک لقمہ اپنے منہ میں نہ رکھ لے تم نہ شروع کرو۔ پھر ان سب باتوں کا فائدہ بھی کیا خوب ان معمر صاحب نے بتا یا کہ اس طرح کرنے سے کھانے کا یعنی تمہارے کھانے کا صدقہ ادا ہو جائے گااور ساتھ ہی اللہ بھی راضی ہو گا تم نے پہلے اس کے بندے کا خیال کیا ۔

گویا یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ غذا جسم کی اور بسم اللہ روح کی غذا ہے ۔ اس طرح کھانا کھا یا جائے تو یقینا انسان بیمار نہیں پڑے گا اور صحت مند رہے گا ۔ یقینا جائزہ لیا جا ئے تو یہ بظا ہر چھوٹی چھوٹی باتیں کتنی اہم ہیں جن سے ہم تو کیا ہمارے بڑے اور چھوٹے بھی محروم ہیں ۔ حکمت اور دانائی کی باتیں تو ہمارا اثاثہ ہیں جدھر سے ملے حا صل کرلیں عمل کریں اور آگے بڑھائیں ہر طرح استعمال کریں تا کہ اچھی باتیںسب لوگوں کو جاننی چاہئیں کسی بھی عمر میں ملی ہوں الحمد للہ ہمیں خوشی خوشی قبول کرکے عمل کرنا اور سب کو سکھانا چاہئے ۔ اس کا یہ فائدہ ہے کہ ہم خواتین اکثر وبیشتر بہت بے صبری اور زبان کی تیز ہوتی ہیں ۔

کھانا پکانے سے لیکر لگانے تک کافی اہتمام کرتی ہیں۔ مگر اکثر شوہر حضرات یا بیٹے ، بھائی ، بابا عین اسی وقت غائب ہو جاتے ہیں کہ جی کوئی باتھ روم چلے گئے ۔ کسی نے موبائل تھام لیا توگ کوئی ٹی وی میں مصروف ہوگئے اور یوں کھانا بھی ٹھنڈا ہو جاتا ہے مگر صنف نازک کا پارہ لبریز ہوجا تا ہے بسا اوقات کئی افراد اس تکلیف کا شکار، چند لمحوں کے لئے صحیح ہو جا تے ہیں ۔ ایسے میںمنہ سے گولہ بارود ہی نکلتا ہے جو حضرات کو بسا اوقات اتنا تپا دیتا ہے کہ اس کے آگے کھانا تو کیا دوسروں کی روح بھی ٹھنڈی ہونے لگتی ہے۔

معذرت کے ساتھ میرے محترم حضرات کو بھی اس بات کا دیہان رکھنا چاہئے کہ کھانا لگا یا جا رہا ہے تو تھوڑی سی مدد بھی کر لی جا ئے اور پھر خود اہل خانہ کا انتظار کرے بچوں کو بھی روکے رکھیں کہ امی کو آنے دیں ۔ سب ایک ساتھ دعا پڑھ کر کھانا کھائیں تو پیار محبت اور عزت کی اس فضامیں کھانا کھا نا بھی بہترین عبادت بن جاتا ہے اور کھانے کی بے ادبی بھی نہیں ہوتی ہے۔ اخلاق محبت ، محنت ، خلوص خودبخود فروغ پاتا ہے ۔

غلطی کا اعتراف کرنا عقل مندی اور اللہ کی ہدایت ہے تو پھر ہم سب کو ایک دوسرے کو معاف کرتے ہوئے ان باتوں پر عمل پیرا ہونا چاہئے ۔ چراغ سے چراغ جلتا ہے مطلب دیئے سے دیا جلتا ہے ۔ پہلے بھی اور آج بھی دسترخوان یا ٹیبل ہی وہ خاص جگہیں ہیں جہاں لوگ خوشی سے یکجا ہوتے ہیں تو ہمیں اس موقع پر اپنی اسلامی اقدار کا مکمل خیال رکھنا چاہئے اور وہ بھی صرف گھر میں ہی نہیں ہر جگہ ۔ شادی ، بیان ، دیگر تقریبات کے علاوہ ہوٹلوں یا کسی بھی مجلسوں میں اسے فروغ دینا چاہئے کیونکہ میں نے بچوں بڑوں کو کھلے راستوں میں کھاتے دیکھا ہے ۔

باتوں کے ساتھ قہقہوں کے ساتھ غافل انداز میں اور تو اور آجکل تو چھوٹے بڑے بچے موبائل میں اتنا محو ہو کر کھانا کھاتے ہیں کہ اگر ان سے پوچھا جائے کہ انہوں نے کیا کھا یا تو خبر بھی نہ ہو گی کیا کھا یا ؟ سوا ئے چند ہاتھ میں مستقبل ٹھہری ہوئی چیزوں جیسے پیزا ، سینڈوچ یا کوئی ڈرنک ور نہ تو چھوٹے بچے بالکل نہیں جانتے مائیں موبائل دکھا دکھا کر منہ میں نوالہ ڈالتی جاتی ہیں اور کہتی ہیں کہ اس کے بغیر تو وہ کھانا بھی نہیں کھاتا۔

گویا اماں بھی ابا بھی موبائل کے آگے فیل کیوں ایسا ہی ہے نا ؟ گھر گھر کی کہانی ، ہر گھر کی زبانی۔ کیا کریں مجبوری ہے ، نہیں نہیں یہ مجبوری نہیں کمزوری ہے ۔ اقدار کی ،ا یمان کی کہ ہم پڑھ کیا رہے ہیں کر کیا رہے ہیں ؟ مانگ کیا رہے ہیں کر کیا رہے ہیں ؟ تجزیہ تو ہمیں خود ہی کرنا ہے ۔ ہم پہلے خود درست ہونگے تو ہماری اولاد رست ہوگی ورنہ ایک نہ شد دو شد ہوتا ہے ۔ ہم تھوڑا بگڑے تو پتا چلاآگے پورا ماحول بھی بگڑ گیا ۔

ایسی صورت میں بچوں کو یا نئی نسل کو برا کہنا یا الزام دینا مزید بری بات ہوگی ۔ برائیوں کو درگزر کر کے ہمیں آپؐ کے قول کے مطابق زندگی سے موت تک ہر لمحہ دوسروں کی خیر خواہی میں گزارنی ہوگی ۔ اسی لئے قولی نہیں عملی اقدام کی ضرورت دور حا ضر میں کئی گنا زیادہ ہے کیونکہ وائرس میڈیا زیادہ مئوثر ہے اس کو قابو میں رکھنا آج کی ضرورت اور اہمیت ہے ۔