امریکا، مسلم دنیا اور کرونا وائرس- راؤ زبیر

کرونا وائرس کا ایک کیس کیا رپورٹ ہوا، دوڑیں لگ گئی ہیں،ہر بندہ ڈاکٹر بن گیا ہے، پیاز، ہری مرچ، آلو سے توڑ بتائے جا رہے ہیں، سوشل میڈیا پر ایک کہرام مچا ہوا ہے،سندھ حکومت نے تو جیسے ریڈ الرٹ جاری کر دیا ہے،پوری قوم، بشمول وزراء سلطنت ایک پیج پر ہیں اور کرونا کا توڑ سوچنے کے لئے سر جوڑے بیٹھے ہیں۔

ویسے جان لیوا وائرس کچھ کرے نا کرے پر قوم کو متحد ضرور کر دے گا۔متحد ہونا مجبوری بھی تو ہے نا، کیونکہ کرونا نہ امیر دیکھتا ہے نہ غریب، نہ وزیر نہ فقیر، اس لئے ایک ہی صف میں کھڑے ہیں وزیر و مشیر و عوام،ذرا ایک لمحہ فرض کریں،یہ کرونا بالفرض امریکا ہے۔

اور ہمارے چھوٹے چھوٹے شہر مسلم ممالک، اور یہ ذاتیں/ قبیلے مسلم دنیا کے باسی،اب سوچیں یہ کرونا یعنی امریکا نا کالا دیکھتا ہے نا گورا، نہ سندھی نہ اردو، نہ ہی اسے کسی شہر یعنی مسلم ملک پر ترس آتا بلکہ وہ جسے چاہتا ہے اپنا شکار بنا لیتا ہے تو کیا ہمیں پھر بھی یہ گمان رہے گا کہ میں چونکہ کوہ قاف سے آیا ہوں اور کرونا /امریکا سے میرا یارانہ ہے تو مجھے تو کچھ نہیں ہونے والا، نہیں نا؟

بلکہ اپنی اپنی باری پر سب شکار ہونے والے ہیں،اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ جیسے ہم سب کرونا پر ایک پیج پر ہیں اسی طرح اپنے ظاہری اور باطنی دشمن پر نظر رکھیں، متحد ہو جائیں۔

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئے

نیل کے ساحل سے لیکر تابخاک کاشغر