ٹرمپ کا دورہ بھارت اور جنوبی ایشیا میں امن کا خواب - آصف خورشید رانا

عالمی بساط پر کیا کھیل کھیلے جارہے ہیں اس کا اندازہ کرنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جارہا ہے۔ کرونا وائرس کی تباہی چین کے بعد ایران، افغانستان، کویت،بحرین اور عمان تک پہنچ چکی ہے اب کون جانے کس ملک میں کتنی تباہی پھیلے گی اور کون کون سے ملک کی سرحد اس خطرناک وائرس سے محفوظ رہ سکے گی۔

سوشل میڈیا پر اس حوالہ سے کئی افواہیں گردش کررہی ہیں لیکن اس کا حقیقت سے کیا تعلق ہوسکتا ہے یہ کہنا قبل از وقت ہے تاہم یہ بات طے ہے انسان ہی انسان کی تباہی کا سامان کرنے میں مصروف ہے۔بائیولوجیکل ہتھیارایک حقیقت ہیں جو انسان کی ہی ایجاد ہیں اور انسان ہی اس کا نشانہ ہیں۔میکاولی نے انسانی فطرت کے متعلق کہا تھا کہ بنیادی طور پر انسان خودغرض اور اپنے مفادات کا اسیر ہے۔ تاہم موجودہ حالات میں بات مفادات سے بڑھ کر طاقت کی ہوس میں بدل چکی ہے۔

اس ہوس نے انسان کو اس نہج تک پہنچا دیا ہے کہ وہ اپنی بقا ء اور مفادات کے لیے انسانیت کا قتل کرنے پر تلا ہے۔اب دنیا میں یہی ہو رہا ہے طاقت، مفادات اور ذاتی بقاء کے گرد گھومتی انسانی خواہشات نے دنیا کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیاہے۔ دنیا میں بظاہر انسانیت کا پرچار کرنے والے حتی ٰ کے جانوروں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والوں کے اپنے حکمرانوں کے ہاتھ سات سمندر پار لاکھوں انسانوں کو قتل کرنے سے رنگے ہیں لیکن یہی حکمران دنیا کو انسانیت کا سبق پڑھا رہے ہوتے ہیں۔

ایک طرف طاقت کی ہوس کا کھیل ہے تو دوسری طرف مذہب کے نام پر قتل و غارت گری ہے۔دنیا میں امن کے قیام کے لیے قائم کیے گئے اداروں کی کارکردگی محض اجلاس، قراردادوں تک محدود ہو چکی ہے یا پھر ان کے قوانین کے زد میں کمزور ریاستیں آجاتی ہیں۔شام، فلسطین، بھارت، کشمیر، یمن، افغانستان جنگوں کی زد میں ہیں تو افریقہ کے ممالک میں بھوک کا ناچ ہے۔ جو بچ جاتے ہیں کرونا جیسے وائرس یا دیگر آفات کی لپیٹ میں آجاتے ہیں۔

قطع نظر ان سب کے اس وقت جنوبی ایشیا میں ہونے والی سیاسی ہلچل کی بحث جاری ہے۔ افغانستان میں امریکہ کا طالبان کے ساتھ امن معاہدہ ہونے کے قریب ہے لیکن اس کے بعد کیا ہوگا ابھی کچھ واضح نہیں ہے۔ جس طرح دنیا کے بڑے اداروں سے دہشت گرد قرار ددیے گئے طالبان اور جن کی خاطر افغانستان کے لاکھوں لوگوں کو تباہی کی طرف دھکیلا گیا اب انہی کے ساتھ امن معاہدے کے بعد کون کس سے جواب طلب کر سکے گا کہ اگر امریکہ بہادر نے اٹھارہ سالوں بعد اپنی شکست تسلیم کرنی تھی تو ان لاکھوں بے گناہ افغانیوں کا کیا قصور تھا جو طالبان کے خلاف جنگوں میں شہید کر دیے گیے۔

یہ بحث بھی اپنی جگہ جاری ہے کہ اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری کا دورہ پاکستان کامیاب رہا یا امریکہ بہادر کے صدر ٹرمپ کا دورہ بھارت امن کے قیام کے لیے راہ ہموار کرے گا۔دونوں دورے اپنے اپنے اختتام کو پہنچ چکے ہیں۔اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری نے اپنے دورہ پاکستان کے دوران نہ صرف پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف لڑی جانے والی جنگ کی تعریف کی بلکہ لاکھوں پناہ گزین افغان مہاجرین کی میزبانی پر بھی خراج تحسین پیش کیا۔ دہشت گردی کے خلاف لڑی جانے والی طویل جنگ کے نتیجے میں پاکستان کی قربانیوں کو تسلیم کرتے ہوئے تسلیم کیا گیا کہ آج کا پاکستان کل کے پاکستان سے بہت بہتر ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   طبی سامان کی برآمد محدود کرنا ایک “غلطی” ہوگی، کینیڈا اور امریکا آمنے سامنے

اسی دوران جنرل سیکرٹری نے کشمیر کے مظلو م مسلمانوں کے لیے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کرنے کی بات بھی کی جن پر گزشتہ ستر سالوں میں کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔ بھارت کے زیر قبضہ کشمیر میں صورتحال تو گزشتہ بہتر سالوں سے ہی کشمیر مسلمانوں کے لیے بھیانک رہی ہے جب چناروں کی وادی پر بھارت نے اپنے لاکھوں فوجیوں کے ذریعے قبضہ کر لیا تھا لیکن گزشتہ سال 5اگست کے اقدامات کے بعد دنیا کو بھارت کی سفاکی اور ریاستی دہشت گردی کا کچھ ادراک ہونا شروع ہوا ہے۔5اگست کے بعد بھارت نے مقبوضہ وادی کو جیل کا درجہ قرار دیتے ہوئے کرفیو کا نفاذ کر رکھا ہے تاکہ مسلمانوں کی نسل کشی کی بھیانک داستان دنیا کے کانوں تک نہ پہنچ پائے۔

کشمیر کی تاریخ میں یہ وہ سیاہ ترین دن تھا جب بھارت نے کشمیریوں کی خصوصی حیثیت کے قوانین کا خاتمہ کرتے ہوئے اسرائیلی طرز پر مسلمانوں کی آبادی کو ختم کرتے ہوئے اسے ہندو اکثریتی علاقے میں تبدیل کرنے کی پختہ بنیاد رکھ دی۔ مقبوضہ کشمیر میں سخت ترین کرفیو کے نفاذ کے ساتھ ہی آٹھ ملین سے زائد انسانوں کا رابطہ دنیا سے ختم کر دیا گیا۔ مقبوضہ کشمیر کی گلیوں، چوکوں چوراہوں میں بھارتی غنڈوں کا راج نظر آنے لگا۔ مقبوضہ کشمیر سے باہر رہنے والے کشمیریوں کا اپنے پیاروں سے رابطہ منقطع ہو گیا۔

اب یہ انسان نما وحشی بھارتی درندہ جس گھر میں چاہتے داخل ہو کر معصوم بچوں، خواتین کو یرغمال بنالیتے اور انہیں مختلف قسم کے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بناتے، جسے چاہتے گھروں سے اغوا کر لیتے اورانہیں اپاہج کرکے گھروں میں چھوڑ دیتے، دوکانوں، مکانوں کو آگ لگا کر بے بسی کا تماشہ دیکھتے اور قہقہے لگا کر اپنی جبلت کو تسکین دیتے۔یہ تو اللہ بھلے کرے کچھ عالمی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کا جنہوں نے اپنی جانوں کا خطرہ مول لیتے ہوئے ان مجبورومقہور مسلمانوں پر ہونے والے ظلم و سربریت کے مظاہروں کو دنیا تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا کیا اور تب جا کر دنیا کو محسوس ہونا شروع ہو کہ چناروں کی وادی کس طرح سے ایک ریاستی دہشت گردی کا نشانہ بن کر جل رہی ہے۔

الجزیرہ، ٹی آر ٹی کے بعد نیویارک ٹائمز اور واشنگٹن ٹائمز سمیت دیگر عالمی نیوز چینلز کی رپورٹوں نے دنیا کو جنجھوڑنے کی کوشش کی۔ لندن سے لے کر امریکہ تک اور مختلف مسلم ممالک میں مسلمانوں کی اس بے رحمانہ نسل کشی کے خلاف کچھ آوازیں بلند ہونا شروع ہوگئیں لیکن معیشت کے گرد گھومتے مفادات نے دنیا کو محض رسمی بیانات تک محدود رکھا ہوا ہے اور ابھی تک کشمیریوں کے لیے عملی اقدام کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی۔ اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری بھی یہاں رسمی بیانات دینے کے بعد واپس جا چکے ہیں۔

دوسری طرف امریکی صدر ٹرمپ کا دورہ بھارت ایسے وقت میں ہو ا جب بھارت خود اپنی ہی جلائی ہوئی آگ میں جل رہا ہے۔ ہندو انتہا پسندی نے بھارتی معاشرے کو اس قدرجکڑ لیا ہے کہ دہلی سرکار خود وہاں کی اقلیتوں اور بالخصوص مسلمانوں کے قتل عام میں مدد کرتی نظر آرہی ہے۔ ایک طرف امریکی صدر گجرات میں کھڑے ہو کر بھارتیوں کو نمستے کر رہے تھے تو وسری طرف اسی وقت دہلی میں مسلم کش فسادات کا سلسلہ اپنے عروج پر تھا۔ باوجوداس کے کہ مودی حکومت نے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ اپنے تعلقات اس حد تک مضبوط کر لیے ہیں کہ امریکہ کو بھی بھارتی ریاستی دہشت گردی کہیں نظر نہیں آتی تاہم بھارتی سرزمین پر کھڑے ہو کر پاکستان کے حق میں بات کرنے پر بھی مودی سرکار بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئی۔

یہ بھی پڑھیں:   طبی سامان کی برآمد محدود کرنا ایک “غلطی” ہوگی، کینیڈا اور امریکا آمنے سامنے

ہندو انتہا پسند وں کے نرغے میں گھری دہلی سرکار نے پاکستان کی تعریف کا غصہ شاہین باغ میں بیٹھے احتجاجی مظاہرین پر نکالا۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق سرکاری سرپرستی میں ہونے والے مسلم فسادات میں درجنوں مسلمانوں کو شہید کیا جا چکا ہے۔ بھارتی پولیس کی سرپرستی میں انتہا پسند غنڈوں نے احتجاج کے لیے بیٹھے مظاہرین پر حملہ کرکے قتل وغارت گری کے نئے سلسلہ کی بنیاد رکھ دی جس کے بعد مسلمان گھروں دوکانوں اور تجارتی مراکز پر مسلسل حملے کیے جارہے ہیں۔

امن کو قائم کرنی والی پولیس یا تو خاموش تماشائی ہے یا پھر بلوائیوں کے ساتھ مل کر قتل و غارت گری میں شامل ہو چکی ہے۔ متعدد پٹرول پمپس، سرکاری املاک، دوکانوں اور بسوں کو نذر آتش کر دیا گیا ہے۔اب اگلا نشانہ مذہبی مقامات ہیں جن میں ایک مزار کو تو کل ہی آگ لگا دی گئی تھی۔ ایک طرف دہلی جل رہا ہے تو دوسری طرف چناروں کی وادی پر بھارتی غنڈوں کی راج نظر آرہا ہے لیکن افغانستان سے امن قائم کرنے کی خواہش سے طالبان سے معاہدے کرنے والی ٹرمپ انتظامیہ ان فسادات سے بے نیاز بھارت سے کئی دفاعی معاہدے کرنے کے لیے بے تاب ہے۔

دنیا یہ سمجھنے سے عاری کیوں ہے کہ افغانستان میں طالبان سے امن معاہدہ کرکے جنوبی ایشیا اور دنیا میں امن قائم نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس کے لیے جنوبی ایشیا میں ریاستی دہشت گردی کو ختم کرنا ہو گا۔ دراصل بھارت میں قائم مودی سرکار اس وقت جنوبی ایشیا کے لیے ایک ایسا خطرہ بنتی جا رہی ہے جسے اگر روکا نہ گیا تودیگر خطے بھی اس کی لپیٹ میں آسکتے ہیں۔ امریکہ ایشیا پیسفک میں بھارت کو چین کے مدمقابل کھڑا کرنے میں مصروف ہے لیکن بھارت کے اندر موجود آزادی کی تحریکیں بھارت کے وجود کو اندر سے کمزور سے کمزور کرتی جارہی ہیں ایسی صورت میں امریکہ کے مفادات بھی زمین بوس ہو جائیں گے۔

لیکن ان مفادات سے بھی بڑا خطرہ انسانیت کو ہے اگر بھارت کی یہ روش جاری رہی تو بوکھلاہٹ میں اس کے انتہا پسند عناصر اپنے حکمرانوں کے ذریعے ایسی تباہی لا سکتے ہیں جس کے اثرات شاید صدیوں تک موجود رہے ہیں۔ امریکہ سمیت دنیا طالبان سے معاہدے کے بعد جس امن کا خواب دیکھ رہی ہے وہ اپنی تعبیر سے پہلے ہی ڈراؤنا خواب بن کر دنیا کے سامنے آجائے گا۔