کیاموت کو ملتوی کیاجاسکتا ہے- پروفیسر جمیل چودھری

18ستمبر2013ء وہ دن تھا جب گوگل جیسی بڑی کمپنی نے اپنے ماتحت ایک ادارہ بنایا۔اسے کلیکو(Calico)کانام دیاگیا۔اس کے صدر بل مارس تھے۔اس ادارے کے ایک ماہر Lary Pageنے ادارے کو اس طرح واضح کیا۔Health,well being and longevityاس ادارے میں بایوٹیک، خوراک ،اورانفارمیشن ٹیکنالوجی کے ماہرین کوبھرتی کیاگیا۔

فنڈز بھی بڑی مقدار میں مختص کئے گئے۔ایسے ہی Human longevityکے نام سے ایک اور ادارہ بھی بنا اس کاقیام بھی2013ء میں ہی ہوا۔اس کامقصد بھی بڑھاپے سے لڑنے کی وجہ بتایاگیا۔اس ادارے کو80ملین کی رقومات مل چکی ہیں۔ادارے کو دنیا کی نامور یونیورسٹیوں کے ماہرین کاتعاون حاصل ہے۔ان اداروں کے قیام کامقصد جیساکہ اوپر نظر آرہا ہے ایک ہی ہے۔کہ انسان کولمبے عرصے تک صحت مند رکھاجائے اورعمر میں اضافہ کیاجائے۔ایک امریکی سروے کے مطابق1900ء تک انسان کی اوسط عمر40سال تھی۔لیکن20۔ویں صدی عیسوی کے آخر تک اوسط عمربڑھ کر 70سال ہوچکی ہے۔ اور اب یہ باتیں ہورہی ہیں کہ اس اوسط عمرکو2050ء یا2100ء کے آخر تک150تک لایا جائے اور اسی طرح اس سے بھی آگے۔ آخر2۔صدیوں تک انسان کوعین صحت مند اورہرطرح کے کام کا اہل بنایاجائے۔حکماء اورماہرین قدیم عرصے سے اس طرح کی سوچیں اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کچھ سائنسدان ایسی بھی سوچ رکھتے ہیں کہ بعد از موت ابدیت کاتصور کو آخر اسی زندگی میں کیوں نہ اختیار کیاجائے۔

بطورمسلمان توہمارا عقیدہ بالکل واضح ہے کہ جب اﷲ تعالیٰ کا حکم آئے گا ۔توفرشتہ روح قبض کرنے کے لئے حاضر ہوجائے گا۔اس کوملتوی نہیں کیاجاسکتا۔آج ہم ایک مفکر پروفیسر یوول نوح ہراری کے خیالات سے دوستوں کومتعارف کرانا چاہتے ہیں۔کسی بات کوماننا یاانکار کردینا ہرایک کاحق ہے۔لیکن جانکاری میں تو کوئی ہرج نہیں ہے۔ پروفیسر نوح ہراری کی اب تک3۔کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔دنیامیں یہ کتابیں دھڑا دھٹر فروخت ہورہی ہیں۔دوستوں کومیں یہ بتاتاچلوں کہ اب ان تینوں کتابوں کے رواں اردو ترجمعے ہوچکے ہیں۔ہراری بھی اس خیال کے ہیں کہ انسان کی عمربڑھائی جائے اور انسانوں کو صدیوں کاانسان بنایاجائے۔آیئے ان کے خیالات سنتے ہیں۔جدید سائنس اورجدید معاشرہ موت وحیات کے بارے میں ایک بالکل مختلف تصور رکھتے ہیں۔ یہ موت کوکوئی مابعد الطبیعاتی اسرار نہیں سمجھتے نہ ہی وہ موت کوزندگی کاماحصل سمجھتے ہیں۔جدید انسان موت کو ایک تکنیکی مسٔلہ سمجھتا ہے۔جسے وہ حل کرنے کی کوشش کررہا ہے۔وہ کس حد تک کامیاب ہوتا ہے۔ یہ ایک علیحدہ بات ہے۔

ہراری نے اس منظر کویوں بیان کیا ہے۔آخری وقت فرشتہ انسان کو تھپکی دیتا ہے اور کہا ہے "آؤ" وہ شخص درخواست کرتا ہے کہ نہیں ابھی نہیں۔بس ایک برس رک جاؤ ایک ماہ یا ایک دن۔لیکن وہ اپنا چغہ پہنے پھنکارتا ہے۔نہیں تمیں اسی وقت چلنا ہے۔اور یوں ہم مرجاتے ہیں۔لیکن درحقیقت انسان اس لئے نہیں مرتے کہ کوئی کالا چغہ پہنے ان کے شانوں کوتھپتھپاتاہے۔یا یہی خد اکی رضا ہے۔یاموت اس عظیم کائناتی منصوبے کاکوئی لازمی جزو ہے۔انسان ہمیشہ کسی تکنیکی خرابی کی وجہ سے مرتے ہیں۔دل خون کی فراہمی بندکردیتا ہے۔اہم شریان چربی کے ذخائر کی وجہ سے بندہوجاتی ہے۔سرطانی خلیے جگرمیں پھیل جاتے ہیں۔ پھیپھڑوں میں جرثومے پلنے لگتے ہیں۔اوران تکنیکی خرابیوں کی وجہ کیا ہے؟۔دل اس لئے خون فراہم کرنابند کردیتا ہے کہ دل کے پٹھوں تک کافی اکسیجن نہیں پہنچتی۔میرے پھیپھڑوں میں جراثیم اس لئے بھرے تھے۔کہ زیرزمین ریل میں کوئی مجھ پر چھینک رہاتھا۔ اس میں مابعدالطبیعاتی توکچھ نہیں۔یہ تو سب تکنیکی خرابیاں ہیں۔(یہ سب خیالات پروفیسر نوح ہراری کے ہیں) اورہرتکنیکی مسٔلہ کاایک تکنیکی حل ہوتا ہے۔موت پرقابو پانے کے لئے ہمیں دوبارہ ظہور کی ضرورت نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   خوف کا بت توڑ دیجئے - عصمت گل خٹک

تجربہ گاہ میں چند سرپھرے بھی یہ کرسکتے ہیں۔اب مختلف شعبوں کے انجینئرز موت پر حاوی ہونے کے لئے تیارہورہے ہیں۔ہم سرطانی خلیوں کوکیموتھراپی یانینوروبوٹ سے ختم کرسکتے ہیں۔ہم پھیپھڑوں میں جراثیم کواینٹی بایوٹیک سے مارسکتے ہیں۔اگردل خون فراہم کرنابند کردے۔تو اسے دواؤں اوربجلی کے جھٹکے سے دوبارہ چلاسکتے ہیں۔اگراس سے بھی کام نہ بنے تو ہم ایک نیادل لگا سکتے ہیں۔یہ درست ہے کہ فی الحال ہم ہرتکنیکی خرابی کاحل نہیں جانتے۔لیکن اسی وجہ سے ہم سرطان کی تحقیق جرثوموں،جینیات اور نینو ٹیکنالوجی پراتنا خرچ کررہے ہیں۔عام افراد جوکسی سائنسی تحقیق میں مصروف نہیں ہیں۔ وہ بھی اب موت کو ایک تکنیکی مسٔلہ سمجھنے لگے ہیں۔جب کوئی عورت کسی ڈاکٹر کے پاس جاکر سوال کرتی ہے ڈاکٹر مجھ میں کیاخرابی ہے؟ توڈاکٹر کاجواب اس قسم کا ہوسکتا ہے کہ تمیں فلو ہے یاتپ دق ہے یاتمیں سرطان ہے۔ ڈاکٹر یہ کبھی نہیں کہے گا کہ تمہیں موت لاحق ہے۔اورہم سب یہ سمجھتے ہیں کہ فلو،تپ دق اورسرطان تکنیکی مسائل ہیں۔جس کاہم کسی دن تکنیکی حل تکنیکی حل دریافت کرلیں گے۔

جب لوگ کسی آندھی،کارکے حادثے،یاجنگ میں مارے جائیں تو اسے بھی ہم ایک تکنیکی مسٔلہ سمجھتے ہیں۔اگر حکومت کوئی بہتر پالیسی اپنا لیتی، تو اسے روکا جاسکتاتھا۔اگرمیونسپل کمیٹی نے اپنا کام بہتر انداز میں کرلیاہوتا۔اگر عسکری کمانڈر نے زیادہ عقلمندانہ فیصلے کئے ہوتے توموت سے بچاجاسکتاتھا۔ موت تحقیقات اور نالش کاایک خودکار ذریعہ بن گئی ہے۔یہ کیسے مرگئے یقیناً کہیں کسی سے غلطی ہوتی ہے۔انسانی حقوق کاعالمی اعلانیہ یہ نہیں کہتا۔کہ انسانوں کوبس 90۔برس تک جینے کی اجازت ہے۔یہ توبس یہ کہتا ہے کہ انسانوں کوزندہ رہنے کاحق ہے۔اس حق کی کوئی آخری تاریخ مقرر نہیں۔لہذا اب سائنس دانوں اورمفکروں کی ایک بڑھتی ہوئی اقلیت ان دنوں زیادہ کھلے عام یہ کہنے لگی ہے کہ جدید سائنس کاسرکردہ عمل انسانوں کولازوال جوانی عطاء کرنا ہے۔اس کی اہم مثالیں بڑھاپے کے ماہر آبری ڈی گرے اورکئی علوم کے ماہرموجد کرزویل ہیں۔2012ء میں کرزویل کوگوگل انجینئرنگ کا ڈائریکٹر مقررکیاگیا ہے۔ اور ایک سال بعدگوگل نے ایک ذیلی ادارہ کلیکو قائم کیا(اس کاذکرشروع میں آیا ہے)جس کا بیانیہ مقصدموت کاحل تلاش کرنا ہے۔

جنوری2015ء کے ایک انٹرویو میں بل میرس نے کہا تھا کہ اگرآج آپ مجھ سے یہ پوچھیں کہ کیا پانچ سوبرس تک زندہ رہنا ممکن ہے تو اس کاجواب اثبات میں ہے۔بل میرس ان جرات مندانہ الفاظ کو سچ ثابت کرنے کے لئے بہت رقم خرچ کررہا ہے۔گوگل کے تحت قائم کمپنی اس کام پربہت خرچ کررہی ہے۔جس میں درازی عمرکے کئی منصوبے شامل ہیں۔اس خواب میں سلی کون وادی کے دوسرے ستارے بھی شامل ہیں۔Paybalکے بانی پیٹرتھیل نے حال ہی میں قبول کیاہے کہ وہ دائمی حیات کے خواہش مند ہیں۔جینیائی انجینئرنگ،طبی افزائش،نینو ٹیکنالوجی جیسے میدانوں میں تیز رفتارترقی کی وجہ سے زیادہ امید افزاء پیشین گوئیاں ممکن ہیں۔کرز ویل اورڈی گرے کہتے ہیں۔کہ ہروہ شخص جس کے پاس پیسہ اور ایک صحت مند جسم ہو اس کے لئے2050ء کے بعد ہردس سال بعد موت کوٹال دینا ممکن ہوجائے گا۔کرذویل اورڈی گرے کے مطابق ہردس سال بعد ہم ایک کلینک میں داخل ہونگے اوراپنی تجدید نو کرائیں گے۔اس سے نہ صرف ہماری بیماریاں ختم ہونگیں بلکہ روبہ زوال خلیات دوبارہ پیداہوجائیں گے۔ ہمارے ہاتھوں دماغ اور آنکھوں کا درجہ بلند کردیاجائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:   کورونا وائرس سے اتنی اموات ہمارے لیے ایک گہرا زخم ہے، اطالوی وزیر اعظم جوسیپی کونٹے

ابتداء میں ہمیں زیادہ آسان نصب العین مقرر کرنے چاہیئے مثلاً عمرکو دگناکرنا،20۔ویں صدی میں ہم نے اوسط عمرتقریباً دگنی کردی ہے۔40 سے70سال۔لہذا21 ویں صدی میں ہم اسے دوبارہ دگنا کرکے 150سال تک لے جاناچاہئے۔یہ ابدیت سے توبہت دورکی بات ہے لیکن انسانی معاشرے میں انقلاب پیداکردے گی۔اول تو یہ خاندان کی ہئیت ،اذدواج اوروالدین سے اولاد کے تعلق کوبدل دے گی۔ذرا پیشوں کابھی جائزہ لیجئے۔
آج ہم یہ فرض کرتے ہیں کہ آپ عمر کی دوسری یاتیسری دہائی میں کوئی پیشہ سیکھ لیتے ہیں۔اورپھر بقایا زندگی اسی پیشہ سے وابستگی میں گزار لیتے ہیں۔عموماً زندگی کو تحصیل علم اور پھرکام کے ادوار میں تقسیم کردیاجاتا ہے۔لیکن اگر آپ150برس زندہ رہیں توپھریہ فرسودہ ہوجائے گا۔بالخصوص ایک ایسی دنیا میں جومسلسل نئی ٹیکنالوجی سے سیراب ہورہی ہو۔لوگوں کی پیشہ ورانہ زندگی بہت طویل ہوگی۔اورانہیں مسلسل اپنے آپ کوتازہ کرناہوگا۔باربار نوے برس کی عمر میں بھی۔اس طرح لوگ65برس کی عمر میں ریٹائر نہیں ہونگے اورنہ ہی نئی نسل کواس انوکھے خیالات اورامنگوں کے لئے جگہ دیں گے۔

ماہرطبیعات Max Plankکاقول بہت مشہور ہواتھا کہ سائنس ایک وقت میں ایک ہی جنازہ اٹھاتی ہے۔ اس کامطلب تھاکہ جب ایک نسل ختم ہوتی ہے تب ہی نئے نظریات کوموقع ملتا ہے کہ پرانے کی جڑاکھاڑ پھینکے۔اگرچہ گوگل کی ذیلی کمپنی کلیکو غالباًکسی ایک دریافت سے اپنے کوابدیت نہیں دے سکے گی لیکن یقینا خلیاتی حیانیات، جینیاتی طب،اور انسانی صحت کے میدانوں میں اہم دریافتیں کرے گی۔لہذاگوگل کی نئی نسل موت پر اور زیادہ سے زیادہ بہتر محاذ سے حملہ آور ہوگی۔اگرچہ ہم موجودہ صدی میں توکوئی بڑی کامیابی حاصل نہ کرسکیں۔لیکن آنے والی22۔ویں صدی میں اس شعبے میں کوئی بڑا کارنامہ سرانجام دیئے جانے کاامکان نظر آتاہے۔دوستو ۔ میں نے پروفیسر ہراری کے خیالات سے آپ کو متعارف کرایاہے۔ جس کام کے لئے بڑے سائنسدانوں اورسرمایہ کاروں نے ملکر ادارے بنائے ہیں۔اس کانتیجہ کب نکلنا شروع ہوتا ہے۔ابھی تک کی اطلاع کے مطابق کوئی نئیProductمعرض وجود میں نہیں آئی۔جس سے انسانی عمرکی اوسط ایک جمپ لگاکر بہت آگے چلی جائے ۔ لیکن ہرکوشش کاکوئی نہ کوئی نتیجہ تونکلتا ہی ہے۔دیکھئے کیاہوتا ہے۔

ٹیگز