ڈاکٹر میمونہ حمزہ بہترین لکھاری

حریم ادب : آپ کا تعارف ؟
ڈاکٹر میمونہ حمزہ : میرا نام میمونہ حمزہ ہے۔ بچپن راولپنڈی میں گزرا، شادی ہو کر کوٹلی آزاد کشمیر گئی، پھر مظفرآباد، پھر انگلستان، کچھ عرصہ پاکستان رہنے کے بعد کویت، قازقستان، اور اب سعودی عرب جہاں سے پاکستان بھی آنا جانا لگا رہتا ہے۔ تعلیم بھی کئی مراحل میں حاصل کی ہے، شادی کے بعد بعد بی اے اور ایم اے اسلامیات کیا، اور پھر بی ایس، ایم فل اور پی ایچ ڈی عربی ادب میں کی۔ کئی مرتبہ تدریس کے شعبے کو اپنایا اور حالات بدل جانے پر چھوڑ دیا۔ ڈگری کالج مظفر آباد اور اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں پڑھایا، اللہ تعالی کے دین کی دعوت کا کام تسلسل سے جاری ہے۔ الحمد للہ

حریم ادب : قلم سے دوستی کیوں اور کیسے ہوئی؟ اپنے مقصد میں کس حد تک کامیابی ملی ؟
ڈاکٹر میمونہ حمزہ : لکھنے کا آغاز ڈائری لکھنے سے ہوا، مجھ سے بڑی بہن کی شادی ہو گئی تو ان کی یاد میں لکھنا شروع کیا، کالج میں اردو کی پروفیسر نے ایک مرتبہ شعر کی تشریح کرنے پر بہت حوصلہ افزائی کی، تو کچھ اعتماد ملا، اسلامی جمعیت طالبات کے صوبائی مضمون نویسی کے مقابلے میں تیسرا انعام حاصل کیا، جبھی کبھی کبھار لکھا۔ 1996 میں مجلہ خواتین میگزین میں لکھنے کا آغاز کیا، اور 2005 میں عربی ادب کو ادرو کے قالب میں ڈھالنا شروع کیا، اور پھر انشائیہ، افسانہ ، سفرنامہ، جیسی اصناف میں طبع آزمائی کی، جو لکھا رسائل میں بھی شامل ہوا اور مختلف ویب سائٹس پر بھی۔۔۔ الحمد للہ جہاں بھی تحریر بھیجی اچھا ریسپانس ملا۔قارئین کے دل پر کیا اثر ہوا، یہ تو وہی بتا سکتے ہیں۔ البتہ میری قلم سے دوستی پکی ہے، میں اس کے بغیر جینے کا تصور نہیں کر سکتی، اور مجھے اس تعلق پر فخر ہے۔
حریم ادب : 3۔ آپ کی تحریریں ہمارے معاشرے میں شہرت پانے والے لغو اور نقل شدہ ادب سے بالکل مختلف ہیں، آپ کو نہیں لگتا کہ اس طرح نام اور مقام بنانے میں طویل وقت درکار ہے؟

ڈاکٹر میمونہ حمزہ :
تحریر ادیب کی تخلیق ہے، وہ اس کے اندر نمو پاتی ہے، اور اس کی ذات کا آئینہ ہوتی ہے، میں آفاق اور اپنے اندر کی سچائی بیان کرتی ہوں، میں نے لکھتے ہوئے ان موضوعات کا انتخاب نہیں کرتی جن کی ادب کی تجارتی منڈی میں مانگ ہے، بلکہ میں وہ لکھتی ہوں جس کی میرے اندر تحریک پیدا ہو، جسے لکھنا اور جس کا ابلاغ معاشرے کی ضرورت ہو۔ اس حوالے سے کسی خاص مقام تک پہنچنا اور ناموری پانا میرا ٹارگٹ نہیں ہے، البتہ میں لکھتے ہوئے اللہ تعالی سے دعا کرتی ہوں کہ اس میں قوت تاثیر پیدا کر دے، اور اسے قبولیت عطا فرما دے۔ تحریر لکھنے کے مرحلے میں بہت بے چین ہوتی ہوں، اور لکھنے کے بعد پرسکون ہو جاتی ہوں، اسے ارسال کرنے کے بعد میرا کام مکمل ہو جاتا ہے، آپ خود نہیں جانتے آپ کے قلم سے نکلی تحریر قارئین کے یہاں کیا درجہ پائے گی۔ النتہ میرا تجربہ ہے کہ جو تحریر دل سے نکلتی ہے وہ دل میں ہی جگہ پاتی ہے۔

حریم ادب : 4۔ آپ کی کاوشوں میں اس مقام تک پہنچنے میں آپ کے اہل خانہ خصوصا شوہر باپ، بھائی اور بیٹوں کا کیا کردار ہے؟
ڈاکٹر میمونہ حمزہ : گھر میں ہمیشہ حوصلہ افزائی ہوئی، کسی نے بھی قلم پر قدغن نہیں لگائی، ابو جان کی زندگی میں کم لکھا، مگر وہ خوش ہوتے تھے، میرا پہلا ترجمہ کردہ افسانہ بھائی نے پوسٹ کیا، مذاق بھی اڑاتے رہے بچوں کے سامنے: "تمہاری امی نے عربی ادب کی بے ادبی کی ہے"، بیٹوں کو شاعروں کی مانند زبردستی سنانا پڑتا ہے، البتہ تکنیکی تعاون دے دیتے ہیں، ابھی بیٹے نے ویب پیج بنا کر دیا ہے، اور کچھ بھی مشکل پڑے، مدد کرتا ہے، اور شوہر تو بہت ہی مددگار ہیں، لکھنے کے لئے وسائل فراہم کرنا، کتابین خرید کر دینا، بلکہ چھپوانے کے لئے رقم، ہر مرحلے پر انکا تعاون رہا، میرے لکھے کو سن بھی لیتے ہیں اور اچھا مشورہ بھی دیتے ہیں، اس لحاظ سے میں بہت خوش نصیب ہوں۔

حریم ادب : ۔ آپ کس معاشرے کی نمائندگی کرتی ہیں نیز آپ آج کی عورت کو کیا دلوانا چاہتی ہیں؟ عزت، دولت، شہرت
ڈاکٹر میمونہ حمزہ : میں مسلمان معاشرے کی نمائیندہ ہوں، جہان علمی جہالت بھی ہے، اور اس سے بھی بڑھ کر جاہلانہ رویوں کا عفریت ہے جس نے خیر اور شر کی کشمکش میں خیر کو بہت دھندلا دیا ہے، سماجی رویے، اور رسوم و رواج نے آزاد انسانوں کو قید کر رکھا ہے، جہاں جہاں لوگ ان زنجیروں کو توڑ کر اس قید سے نکلنا جاہ رہے ہیں وہاں سیکولر اور الحاد ماڈرن ازم کے خوشنما لبادے میں ایک اور دلدل میں دھکیل رہا ہے۔ ایک جانب عورت کو قرآن سے شادی، اور جبری نکاح جیسے چیلنجز کا سامنا ہے، تو دوسری جانب بے قید آزادی کے نعرے ہیں، آزادی کے نام پر عورت سے اس کے گھر کی چار دیواری اور اس کی محفوظ پناہ گاہ کو ڈھا دینے کی تیاری ہے، اس کے محرم رشتوں پر عدم اعتماد کی فضا بنائی جا رہی ہے۔ تعلیمی نصاب ان موضوعات پر مناسب رہنمائی نہیں کرتا اور میڈیا سچائی کے نام پر گندگی کو پھیلا رہا ہے۔ میں عورت کی عزت کو سب سے قیمتی شے تصور کرتی ہوں، اور اسے غزت کی مسند دلوانا چاہتی ہوں۔ عورت کے لئے ایسا گھر میرا خواب ہے جہاں وہ اعتماد سے رہے، جہاں سب اس کی صلاحیتوں کے معترف ہوں، اسے اپنی شخصیت کو نکھارنے کا موقع ملے، اس کی خوابیدہ صلاحیتوں کو جلا ملے، وہ صنف مقابل کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے آگے بڑھے، نہ کہ ان کی صفوں کو پھلانگتے ہوئے۔

حریم ادب : کتنی مرتبہ آپ کو احساس ہوا کہ میں حجابی نہ بوتی ۔۔؟
ڈاکٹر میمونہ حمزہ : حقیقت یہ ہے کہ مجھے کبھی بھی ایسا دل نہیں چاہا، بلکہ ہمیشہ مجھے اس پر اطمینان کا احساس ہوا، اس وقت بھی جب میں اسلامی جمہوریہ پاکستان میں تھی، اور اس وقت بھی جب انگلستان جاتے ہوئے میں جہاز میں واحد حجابی تھی۔ میں چار سال تک انگلستان میں رہی، اور برقع اور نقاب لیتی رہی، میں بچوں کو خود سکول چھوڑنے اور لینے جاتی تھی، میں وہاں کے مالز میں بھی گئی، لائبریریوں اور پکنک پوائنٹس پر بھی، تنہا بھی اور بچوں اور شوہر کے ساتھ بھی، ٹرین، بسوں اور جہاز کے سفر میں بھی، لوگ مجھے ڈراتے بھی، کو "گورے پسند نہیں کرتے یہ حجاب اور نقاب"، میں ہنس کر کہہ دیتی: "میں بھی پسند نہیں کرتی ان کے مختصر لباس، اور ان کا شراب نوشی کرنا"، لیکن کبھی ایک لمحے کے لئے بھی میں نے حجاب اتارنے یا اپنی زندگی محدود کرنے کا نہیں سوچا۔ میں چھے برس تک قازقستان جاتی رہی، وہاں کا ماحول بھی بالکل مختلف تھا، تاہم مجھے کبھی کسی نے تنگ نہیں کیا، مسلم غیر مسلم سب نے احترام ہی کیا۔

حریم ادب : 7۔ کون سے رویے ، مزاج اور مطالبات آپ کو تکلیف دیتے ہیں؟
ڈاکٹر میمونہ حمزہ : مجھے جاہلانہ رویے تکلیف دیتے ہیں، منکسر المزاج لوگ اچھے لگتے ہیں، تند خو اور سخت گیر رویہ پسند نہیں۔ مجھے ایسے مطالبات پسند نہیں جو اپنی حیثیت کا خیال رکھ کر نہ کئے جائیں، یا اپنی حدود اور حق سے زائد کا تقاضا ہوں۔
حریم ادب : 8۔ آپ آج کی عورت سے کیا چاہتی ہیں اس کو کیسے اور کہاں دیکھنا چاہتی ہیں؟
ڈاکٹر میمونہ حمزہ : اکیسویں صدی کی عورت کو میں بہت باخبر، پختہ اور ذمہ دار دیکھنا چاہتی ہوں، باخبر اس حوالے سے کہ وہ اپنا مقصد زیست پہچانتی ہو، پختہ یوں کہ اسے اپنے ٹارگٹس معلوم ہوں، وہ محض پروپیگندے سے متاثر ہونے والی نہ ہو، بلکہ ہر ایشو کو سائنسی بنیادوں پر پرکھنے والی ہو، اس کی زندگی کا ہر گوشہ قرآن و سنت کی تعلیمات سے مزین ہو، اسے رب کی عنایات کا علم ہو، وہ صابر و شاکر ہو، اور "اللہ کی اطاعت میں جیو اور جینے دو " کے اصول پر گامزن ہو۔
حریم ادب : 9۔ آپ کو عورت ہونے پر فخر ہے کیونکہ ۔۔۔۔
ڈاکٹر میمونہ حمزہ : اس نے مجھے سکون کا ذریعہ بنایا، اس مجھے تخلیق کے عمل میں حصہ دار بنایا، اس نے مجھ سے وہ کام لئے جو کوئی مرد نہیں کر سکتا، اس نے میری پرورش کرنے والے کی مدد کا وعدہ کیا، اس کے بنی صلی اللہ علیہ وسلم نے میری پرورش کرنے والے کو بشارت دی۔

مجھے عورت ہونے پر فخر ہے کیونکہ میرے وجود سے کائنات میں رنگا رنگی ہے، میرے باپ نے میرا نام "میمونہ " رکھا، جس کے معنی ہی برکت کے ہیں، مجھے فخر ہے کہ میرے ماں باپ نے مجھے کبھی بھی مجھے بوجھ نہیں سمجھا، ہاں، مجھے دیکھ کر ان کی آنکھیں چمک اٹھتی تھیں۔
میرے شوہر کھانے کا عمدہ حصہ میرے سامنے رکھ دیتے ہیں، بچوں کو میرا خیال رکھنے کی تلقین کرتے ہیں۔ اور سب سے بڑھ کر مجھے اس بات پر فخر ہے کہ قدم قدم پر آسانیاں لوٹتے ہوئے جب میں رب کے سامنے حاضر ہوں گی تو وہ میرے ہر عمل پر مرد کے برابر اجر دے گا ۔۔۔
حریم ادب :10۔ وہ پیغام جو آپ اپنی تحریروں کے ذریعے دینا چاہتی ہیں؟
ڈاکٹر میمونہ حمزہ : اپنے آپ کو پہچان لیں، رب کو جان جائیں گے، کھوکھلے نعروں کے اور باطل ترغیبات کے پیچھے نہ بھاگیں، یہ سب سراب ہیں، دنیا کی سب سے بڑی سچائی یہی ہے کہ اللہ کو مانیں، اس کے دیے ہوئے نظام حیات ہی میں ہماری فلاح ہے، آج مہلت ہے، اللہ کی طرف رجوع کر لیں.
حریم ادب : ۔11۔ اے کاش ۔۔۔
ڈاکٹر میمونہ حمزہ : (ذاتی خواہش) ہمارا گھرانا جنتی گھرانا بن جائے۔ (اجتماعی) مسلمان متحد ہو جائیں، بیت المقدس آزاد ہو جائے، اور دیگر مسلمان مقبوضہ علاقے بھی۔۔۔۔
حریم ادب پاکستان
(حریم ادب نے یہ انٹرویو یوم خواتین کے موقع پر کیا)