کرونا وائرس پاکستان کی دہلیز پر - قادر خان یوسف زئی

چین سے دنیاکے 26ممالک میں پھیلنے والا کرونا وائرس، ایران میں داخل ہوچکاہے اور موصولہ اطلاعات کے مطابق اس سے ایران میں ہلاکتوں و وبا سے متاثر ہ افراد کی تعداد اور ہلاکتوں میں اضافہ ہورہا ہے۔ پاکستان کے پڑوسی ملک بھارت و افغانستان میں بھی کرونا وائرس داخل ہوچکا ہے۔

جس طرح ایران سے افغانستان اور پاکستان شہریوں کی آمد و رفت با آسانی ہوتی ہے، اس کے بعد پاکستان میں کرونا وائرس کی وبا آنے کے خدشات میں اضافہ ہورہا ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے کرونا وائرس کے قابو پانے کی کوششوں میں ناکامی کا انکشاف کرتے ہوئے متاثرہ ممالک کو مزید وسائل استعمال کرنے کی ہدایت کی ہے، بل گیٹس نے افریقہ میں وبا پھیلنے کی صورت میں بدترین ہلاکتوں کے خدشات ظاہر کئے ہیں، جس کی بنیادی وجہ صحت عامہ کے انتظامات میں کمی کا سامنا ہے۔

اسی طرح پاکستان میں ابتدائی انتظامات کی تیاریاں تو کرلی گئی ہیں، لیکن گذشتہ دنوں ایک ایسی ویڈیو سوشل میڈیا میں وائرل ہوئی، جس میں کچھ سرکاری اہلکار، مسافر حضرات کو کرونا وائرس کے نام پر پریشان کررہے تھے۔ تاکہ اُ ن سے رقم وصول کی جاسکے۔ یہ ایک غیر ذمے دارنہ و قابل مذمت عمل تھا، حکومت کی جانب سے اس قسم کے اقدامات روکنے کی اشد ضرورت ہے۔

افغانستان، ایران اور پاکستان آنے جانے کے لئے قانونی طریقہ کار کے علاوہ غیر قانونی طریقہ کار بھی اختیار کئے جاتے ہیں، جس سے ان خدشات کو تقویت مل رہی ہے کہ قانونی طریقے آنے والے مسافروں کو تو چیک کیا جاسکتا ہے، لیکن ایران و افغانستان کی ایسی گذرگاہیں بھی ہیں جہاں سے غیر قانونی طور پر افراد آتے جاتے ہیں، افغانستان میں تو جنگی حالات کا سامنا ہے، ایران سے افغانستان یا بھارت سے ایران و افغانستان بھی آمد ورفت پر کئی تحفظات ہیں، بھارت، ایران اور افغانستان میں باقاعدہ کرونا وائرس کی وبا سے متاثرہ افراد کی تصدیق ہوچکی ہے، اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ کرونا وائرس کی وبا، پاکستان کی دہلیز پر ہے۔

وفاق نے بلوچستان کی حکومت کے ساتھ فوری طور پر ہنگامی صورتحال سے نپٹنے کے لئے اقدامات تو کرلئے ہیں، لیکن پاک، ایران و افغانستان کے کھلے بارڈروں سے غیر قانونی افراد کے آنے جانے و اسمگلنگ کے باعث ان خدشات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ کرونا وائرس، دونوں ممالک کے راستے پاکستان میں داخل ہوسکتا ہے۔ ایران، کرونا وائرس کی روک تھام کی صلاحیت رکھتا ہے، لیکن جس طرح چین اور ترقی یافتہ ممالک میں کرونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہا ہے اور وبا کو کنٹرول کرنے میں ناکامی کا سامنا ہے، اس سے عالمی صحت عامہ کے اداروں نے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   کرونا وائرس ، پاکستان نے دنیاسے کیا سیکھا - شیخ خالد زاہد

اطلاعات سامنے آئی ہے کہ ایران و عراق جانے والے زائرین کی بڑی تعداد براستہ تفتان جاتی ہے اور ایران کے تاریخی و اہم شہر”قم“ میں قیام بھی کرتے ہیں، تشویش ناک صورتحال یہ بھی ہے کہ کرونا وائرس کی وبا نے ایران کے شہر ”قم“ سب سے زیادہ متاثر ہے۔

کرونا وائرس کو عالمی سیاست میں پوائنٹ اسکورنگ کے لئے بھی استعمال کیا جارہا ہے، ایک جانب امریکی اعلیٰ حکام نے وبا کو امریکی معیشت کے لئے بہتر قرار دیا تھا تو اب امریکا کی جانب سے روس پر الزام عاید کیا جارہا ہے کہ کرونا وائرس کے بارے میں گمراہ کن پروپیگنڈے کے پیچھے روس کا ہاتھ ہے۔ عالمی سیاست میں کسی بھی ملک کا جو بھی کردار رہا ہو، اس اَمر سے قطع نظر پاکستان کے لئے یہ خبر ضرور تشویش ناک ہے کہ ایران میں کرونا وائرس کی وبا کی موجودگی کی تصدیق ہوگئی ہے۔

ایران و عراق جانے والوں کی ایک بڑی تعداد روزانہ قانونی طریقہ سے سرحد پار کرتے ہیں، جن کی تعداد تفتان سرحد پر400 سے700کے قریب روزانہ بتائی جا رہی ہے، جبکہ غیر قانونی طور پر آنے جانے والوں کی تعداد یقیناََ طور پر اس سے زیادہ ہوگی، کیونکہ انسانی اسمگلنگ میں یورپ جانے کے لئے ایران کا راستہ اختیار کرکے بڑی تعداد غیر قانونی و خفیہ مقامات سے جاتی ہے، نیز اسمگلنگ کے کاروبار میں ملوث افراد بھی سینکڑوں کی تعداد میں غیر قانونی آمد و رفت کرتے ہیں۔

پاکستان میں صحت عامہ کی صورتحال تسلی بخش ہرگز قرار نہیں دی جاسکتی، جہاں کتوں کے کاٹنے کی ویکسن ملنا، جوئے شیر لانے کے مترداف ہو، وہاں کسی بھی وبا کو کنٹرول کرنے کے لئے حکومتی اقدامات کو بارہا آزمایا جاچکا ہے، ڈینگی بخار سمیت کئی وبائی امراض میں سینکڑوں مریضوں کے جاں بحق ہونے کے درد ناک مناظر قوم بھولی نہیں، اسی طرح سرکاری اسپتالوں میں ایمرجنسی کی صورت میں مریضوں کو ناکافی سہولیات کی عدم فراہمی و بدترین صورتحال بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   اداروں میں ہم آہنگی، وقت کی اہم ضرورت - شہزاد سلیم عباسی

شاید یہی وجہ تھی کہ پاکستان نے چین میں طالب علموں و شہریوں کو وطن واپسی سے روکا ہوا ہے کیونکہ حکومت اچھی طرح جانتی ہے کہ مملکت میں وبائی امراض سے نپٹنے کی سہولیات نہیں ہے، کرونا وبا بے قابو ہوئی تو جس طرح پولیو مہم کے ساتھ ہورہا ہے کہ ریاست کی تمام تر کوشش کے باوجود ناکامی کا شکار ہو رہی ہے، اسی طرح کرونا وائرس جیسی خطرناک وبا، خدانخواستہ پاکستان میں پھیلنا شروع ہوگئی تو اس کے بھیانک نتائج آنا شروع ہوجائیں گے، جس پر قابو پانے کی اہلیت موجودہ حکومت میں نہیں۔

ایران اس وقت بدترین معاشی پابندیوں اور کئی ممالک میں براہ راست خانہ جنگیوں میں الجھا ہوا ہے، امریکا کے ساتھ تنازع و کشیدگی کے سبب ایرانی عوام کو مسائل کا سامنا ہے، متعدل و ترقی پسند امیدواروں کو عام انتخابات میں پابندیوں کے سبب قدامت پسند امیدواروں کی کامیابی کے امکانات زیادہ ہیں۔ سیاسی حالات ایران میں ساز گار نہیں ہے، مہنگائی، بے روزگاری اور سیاسی صورتحال پر کئی بار بڑے بڑے احتجاجی مظاہرے ایران میں ہو تے رہتے ہیں، ایرانی حکومت اپنی تمام تر مشکلات و عالمی پابندیوں کے سبب داخلی حالات کو کنٹرول کرنے کی کوشش کررہی ہے، تاہم کرونا وائرس کی وبا نے ترقی یافتہ اور محفوظ ترین قرار دیئے جانے والے ممالک کو بھی اپنی لپیٹ میں لے ہواہے۔

ان حالات میں پاکستان نے سختی کے بجائے سرحدوں کی نگرانی سمیت قانونی و غیر قانونی آمد ورفت کو کنٹرول کرنے میں سہل پسندی کا مظاہرہ کیا تو اس کے نتائج قیامت خیز ہوسکتے ہیں۔ کچھ عرصے کے لئے زمینی سفر پر پابندیوں کے بعد زائرین، ایران و عراق جانے کے لئے فضائی سفر اختیار کریں تو یہ ان کے لئے بھی بہتر ہوگا۔ مذہبی مقامات پر زائرین کی آمد کو عارضی طور پر پابندی لگائے جانا احسن اقدام ہے، تاکہ انسانی غفلت کی وجہ سے پاکستان کی دعوام اس ناگہانی وبا سے بچ سکے۔

پاکستان صحت عامہ کی سہولیات میں خود کفیل نہیں ہے، اہم ادویات تک بیرون ملک سے منگوا پڑتی ہیں، حفاظتی ماسک و اہم ادوایہ ابھی سے بلیک مارکیٹ میں فروخت ہو رہی ہیں، لہذا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے کہ کسی مصلحت و لاپرواہی کے سبب بڑی آفت سے محفوظ رکھنے کے لئے پاکستان احتیاطی تدابیر اختیار کرے۔