ویمن ورکرز ویلفئیر ٹرسٹ - آفتاب اقبال

پچھلے دنوں مجھے ڈاکٹر فیاض عالم کے ساتھ کراچی میں ورکنگ ویمن ویلفئیر ٹرسٹ کے دفاتر کے دورے اور قیادت سے گفتگو کا موقع ملا تو ایک عمدہ کام اور مخلص لوگوں کی کاوشوں کے بارے میں آگہی ملی۔

یہ ٹرسٹ گزشتہ پچیس سال سے پاکستان کے مختلف حصوں میں خواتین کے لیے روزگار، تعلیم، صحت اور انسانی حقوق کے تحفظ کے شعبوں میں خدمات انجام دے رہا ہے۔ ٹرسٹ کی خاص بات یہ ہے کہ نہ صرف اس کی خدمات سے مستفید ہونے والوں کی سو فیصد تعداد خواتین پر مشتمل ہے بلکہ اس کا نظم و نسق بھی مکمل طور پر خواتین ہی چلارہی ہیں۔ ایک اور اہم بات یہ ہے کہ ٹرسٹ نے اپنی خدمات کا دائرہ صرف شہری علاقوں تک ہی محدود نہیں رکھا ہے بلکہ دیہی علاقوں میں بھی اس کی رضاکار پہنچ رہی ہیں۔ اس طرح انہوں نے خواتین کی زندگی کی عملی حقیقتوں سے اپنا ربط استوار کررکھا ہے، جو قابل تعریف بات ہے۔

کراچی کے علاقے سرجانی ٹائون میں قائم تربیتی مرکز کے ذریعے، یہ ٹرسٹ اب تک ہزاروں لڑکیوں کو ہنرمند بنا کر اپنے قدموں پر کھڑا کرچکا ہے۔ یہاں سے فارغ التحصیل درجنوں طالبات اپنے اپنے کاروبار چلا رہی ہیں اور اس طرح نہ صرف خود اپنا روزگار کمارہی ہیں بلکہ اپنے خاندانوں کی کفالت بھی کررہی ہیں۔

شان دار بات یہ ہے کہ تربیتی مرکز میں بچیوں سے کوئی فیس نہیں لی جاتی۔ اس کے برعکس انہیں تمام کتابیں، کاپیاں اور معااون اشیاء بھی مفت دی جاتی ہیں اور تمام خدمات کے کوئی پیسے نہیں لیے جاتے۔ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ آج کل کے مہنگے دور میں، بچیوں کے لیے یہ کتنی بڑی نعمت ہے کہ انہیں حکومتِ سندھ سے منظور شدہ، فنی و تیکینیکی تعلیم کے مرکز سے بالکل مفت ایک معیاری سند مل جائے جو ان پر روزگار کے دروازے کھول دے۔

صرف کراچی شہر میں ہی نہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ٹرسٹ نے سندھ کے پانچ دیہاتوں کو اپنی توجہ کا مرکز بنایا ہے اور وہاں کے ڈھائی سو خاندانوں میں موجود بچیوں اور عورتوں کو سلائی کڑھائی اور روایتی کشیدہ کاری کی تربیت دینے کے بعد، گھر بیٹھے روزگار کمانے کے نظام سے منسلک کیا ہے۔ اب ٹرسٹ کی طرف سے 5 دیہات میں 750 سے زیادہ خواتین کو مفت کپڑا، دھاگے، سوئیاں، فرمے اور دیگر آلات فراہم کیے جارہے ہیں۔ اس کے علاوہ انہیں جدید فیشن ڈیزائنرز کی طرف سے تیار کردہ ڈیزائن بھی بطور نمونہ دئیے جاتے ہیں تاکہ یہ دیہی خواتین اپنے گھر میں ہی، جدید علوم اور ٹرینڈز سے آگاہ ہوسکیں۔

معلومات اور وسائل کی فراہمی کے بعد، ٹرسٹ کے رضاکار، خواتین سے تمام اشیاء باقاعدہ خریدتے ہیں اور انہیں محنت کا معقول معاوضہ ادا کرتے ہیں جو بازار کے نرخ کے مساوی ہے۔ عام طور پر، این جی اوز اندرونِ ملک کی دیہی خواتین سے جو کام کراتی ہیں، اس کا انہیں معقول معاوضہ نہیں دیتی ہیں۔ مگر ٹرسٹ کی اس بارے میں پالیسی قابل تعریف ہے کہ یہاں خواتین کی غربت میں کمی کو ہدف بنایا گیا ہے اور انہیں خاطرخواہ رقم ادا کی جاتی ہے جس سے ایک جانب ان دیہی خواتین کا استحصال نہیں ہوتا تو دوسی جانب انہیں باعزت طریقے سے، نئے انداز کی سلائی کڑھائی کی مہارت بھی حاصل ہورہی ہے۔

ٹرسٹ کی طرف سے نوجوان بچیوں میں قائدانہ صلاحیتوں کے فروغ کے لیے لیڈرشپ پر ٹریننگ ورکشاپس بھی ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ خواتین کو درپیش مسائل اور چیلنجوں کے بارے میں رائے عامہ کو متحرک کرنے کے لیے پیروکاری یا ایڈووکیسی کے اجتماعات بھی منعقد کیے جاتے ہیں جن میں ہر سال سیکڑوں خواتین شریک ہوتی ہیں۔ اس بار بھی عالمی یومِ خواتین کی مناسبت سے 7 مارچ 2020 کو کراچی میں ایک سیمینار کا انعقاد ہورہا ہے جہاں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی خواتین شریک ہوں گی اور اپنی رائے کا اظہار کریں گی۔

ٹرسٹ کی صدر محترمہ عابدہ پروین ایک فعال اور دردمند خاتون ہیں۔ مجھے خواتین کی ترقی اور معاشی عمل میں شرکت کے ذریعے استحکام کے بارے میں ان کی خدمات اور خیالات کو جان کر خوشی ہوئی۔ یقینی طور پر ہمیں ایسی مزید خواتین کی ضرورت ہے جو نہ صرف آگے بڑھ کر دوسروں کے لیے راہیں ہموار کریں۔

بلکہ مستقبل کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے درست سمت میں قافلے کی قیادت بھی کریں۔میری طرف سے ویمن ورکرز ویلفئیر ٹرسٹ کے لیے نیک تمنائیں اور مزید ترقی کی دعائیں۔ ٹرسٹ کے فیس بُک پیج پر اپنے دورے کی ایک جھلک دکھاتی ہوئی تصویر کا میں مشکور ہوں۔