پاکستانیوں کیلئے ترکی میں ملازمتیں،اور ہماری سفارتکاری - بلال ایوب بٹ

#CareerFair

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ہنر اور ہنرمندوں کی ہر جگہ طلب اور قدر ہوتی ہے۔ لیکن یہ ہنرمندوں پہ منحصر ہے کہ وہ کس انداز میں اپنا ہنر پیش کرتے ہیں۔ اگر پروفیشنلزم برقرار رکھتے ہوئے ہنرمندی سرانجام دے جائے گی تو ہنر اور ہنرمند دونوں کی عزت ہو گی بصورت دیگر ہنرمند سے ایک عام مزدور کیطرح برتاؤ کیا جائے گا جسطرح معاشرے میں ہنرمند کے مقابلے میں غیرتجربہ کار مزدور کیساتھ روا رکھا جاتا ہے۔

اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ پاکستانی ہنرمندوں نے دنیا کے مختلف خطوں میں اپنا آپ منوایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اربوں روپیہ زرمبادلہ کی صورت میں ہر مہینے پاکستانی معیشت کا اہم حصہ بنتا ہے۔ بالخصوص عرب ممالک میں کم از کم نصف کروڑ پاکستانی اپنی تعلیم اور ہنر کے بل بوتے پر برسر روزگار ہیں۔ اور فارن ریمیٹینس کیصورت میں پاکستانی معیشت کو سہارا دئیے ہوئے ہیں۔

لیکن دوسری جانب ہمارے ہمسائے بھارتی ہنرمندوں نے جو مقام عرب ممالک میں بنا لیا(چاہے محنت و لگن کے بل بوتے پر یا محنت کے ساتھ ساتھ بےجاہ کی جی حضوری کے بل پر[دبئ وغیرہ میں]) لیکن بہرحال انہوں نے عربوں کا وہ خاص اعتماد حاصل کر لیا ہے جو کہ پاکستانی تارکینِ وطن اپنی خودی یا بعض دفعہ بےجاہ اکڑ کیوجہ سے حاصل کرنے میں ناکام رہے،۔ جہاں تک میرا ناقص خیال ہے، ہم(تارکینِ وطن) کے رویے ہمارے سفارتی تعلقات پر گہرے اثرات چھوڑتے ہوتے ہیں۔

غالب گمان ہے کہ عرب ممالک انہیں(پر اعتماد) انڈین ملازمین کی وجہ سے انڈیا کیساتھ اپنی سفارتی پالیسیاں مرتب کرتے وقت اس بات کا بخوبی خیال رکھتے ہیں کہ انکے فیصلوں سے(انکے پر اعتماد ملازمین کے وطن) انڈیا کو کوئی پریشانی نہ ہو،جبکہ پاکستان کا معاملہ ایسا بالکل نہیں، بعض دفعہ حساس صورتحال میں بھی سفارتی سطح پر عرب ممالک پاکستان کی حمایت کیلئے اس گرمجوشی کا مظاہرہ نہیں کرتے جسکی پاکستان امید لگائے بیٹھا ہوتا ہے۔ اب میرے مطابق اسکی بھی دو وجوہات ہیں۔

پہلی اور اھم وجہ یہ کہ گزشتہ چند دہائیوں سے پاکستان کے حکمران سفارتی محاذ پہ انتہائی سستی و کاہلی کا مظاہرہ کرتے رہے، ذاتی تعلقات و مفادات کو قومی مفادات پہ ترجیح دیتے رہے۔
دوسری وجہ عرب میں موجود اکثریتی پاکستانیوں کے غیر محتاط رویے اور بےجاہ اکڑپن۔پھر ہمیں یہ شکوہ ہوتا ہے کہ جی عرب ممالک ملازمتوں میں پاکستانیوں پر انڈین کو کیوں ترجیح دیتے ہیں؟۔ اور اگر پاکستانیوں کو ملازمت دے بھی دیں تو اکثر اونچے درجے پہ انڈین کو رکھتے ہیں اور پاکستانی اسکے ماتحت۔۔وغیرہ وغیرہ۔

*خیر ان سب باتوں کو قصہ ماضی سمجھتے ہوئے مثبت سوچ کیساتھ آگے بڑھنے کا انتہائی اھم موقع میسر ہے۔(نوٹ:جو بھی کسی ملک میں کام کر کے معاوضہ لیتا ہے وہ اپنی محنت کا بدل لیتا ہے خیرات نہیں۔ اسلئے ہمیں ریال خور، لیرہ خور جیسے طعنوں سے اجتناب برتنا چاہیے۔ شکریہ)اب پاکستان کیلئے ایک ایسا میدان کھلا ہے، جہاں روایتی حریف بھارت کا تاحال دور دور تک کوئی امکان نہیں، کہ کہیں یہ ہماری ملازمتوں پہ قابض نہ ہو جائیں۔

جی ہاں خطے کا مضبوط اور پاکستان کا نڈر دوست، اھم برادر اسلامی ملک #ترکی پاکستانیوں کیلئے ملازمتوں کے دروازے کھولنے جا رہا ہے۔(اب پتہ نہیں یہ کرم نوازیاں خالصتاً برادرانہ جذبہ کے تحت ہیں یا پھر۔۔۔۔۔۔۔)خیر ھم حسنِ ظن ہی رکھتے ہیں ۔ کل 21فروری 2020ء بروز جمعہ لاہور کے ایک مشہور پانچ ستارہ ہوٹل #PC میں ترکی کے پرائیویٹ سیکٹر کی جانب سے ایک کیرئیر فئیر (آسان الفاظ میں ملازمتوں کا میلہ) کا انعقاد کیا گیا، جسکی تشہیر سوشل میڈیا پر پہلے سے کی گئی تاکہ میلے کی رونق برقرار رہے۔

کافی نوجوان خواتین و حضرات نے اس میلہ میں شرکت بھی کی۔ جہاں مختلف ترکی کمپنیوں کی نمائندگی کیلئے ترک اور پاکستانی خواتین و حضرات موجود تھے، اور آنیوالے(ملازمت کے متلاشی) نوجوانوں کی راہنمائی کر رہے تھے۔ان ترک کمپنیوں کو مختلف شعبہ جات میڈیا، مارکیٹنگ&فنانس اور انجینئرنگ وغیرہ سے منسلک تجربہ کار ہنرمند افراد کی تلاش ہے، جن میں سافٹ وئیر انجینئر اور الیکٹرک انجینئر سرفہرست ہیں۔

مطلوبہ تعلیم و تجربہ:

»تعلیم کم از کم گریجویشن/ کہیں 14 اور کہیں 16 سالہ مطلوب ہے۔

»انگریزی زبان پہ مناسب عبور ضروری ہے۔

ملازمت کے حصول کیلئے آنیوالوں کو بتایا گیا کہ

#پاکستان_میں_کوئی_دفتر_نہیں ان کمپنیوں کا۔(اور شائد پاکستانی ریکروٹنگ ایجنسیوں پہ اعتماد بھی نہیں ہے۔ شائد اسی لئے

#ملازمت_کیلئے_درخواستیں جمع کرنا/کرانا، ٹیسٹ اور انٹرویو وغیرہ کا انعقاد اور اس کے بعد فائنل سیلیکشن تک کا سارا کام آن لائن Online ہو گا۔

اب جو پاکستانی ہنرمند افراد ترکی میں ملازمت کے خواہشمند ہیں اور مذکورہ بالا شعبہ جات میں مطلوبہ تعلیم اور تجربہ رکھتے ہیں، وہ ان کمپنیوں

(Turkish Airlines, TRT, Havelsan, GNC,

Hayat Kimya, Albayrak Holding)

کی ویب سائٹ یا ای میل کے ذریعے آن لائن اپلائی کر سکتے ہیں۔لیکن ہمیں ھمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ ہم جس ملک بھی جائیں، ہم وہاں اپنے ملک کے نمائندے اور سفیر کی سی حیثیت رکھتے ہیں،(شرمناک بات سننے میں آئی کہ لاہور میں منعقدہ اس کیرئیر فئیر میں کچھ پاکستانی نوجوان ترک خواتین سے نمبر مانگتے رہے، اب سوچیں اس نیچ اور گھٹیا حرکت سے کیا تاثر پیدا ہو گا پاکستان کے متعلق ان مہمان ترکوں کا۔۔ اسکے علاوہ کچھ صاحبان تو وہاں ٹک ٹاک ویڈیوز بنانے میں لگے ہوئے تھے) یاد رہے غیرسنجیدگی کا مظاہرہ کرنے والے سبھی تعلیم یافتہ تھے، ہمارے تعلیم یافتہ لوگوں کا یہ عالم ہے تو پھر ہم شکوہ کرتے ہیں کہ دنیا ہماری عزت کیوں نہیں کرتی۔

یاد رہے ہمارے رویے، ہماری حرکات ہی وہ چیزیں ہیں، جس سے دوسرے لوگ ہمارے ملک کے متعلق سوچ قائم کریں گے۔ ہمیں اخلاقیات اور ایمانداری کا دامن تھام کے رکھنا ہے، تاکہ ہماری وجہ سے ہمارے ملک پہ کوئی دوسرا انگلی نہ اٹھائے۔کیونکہ ملکوں کے تعلقات قومی مفادات کی بناہ پر قائم ہوتے ہیں، چاہے کتنے ہی اچھے اور قریبی دوست ملک ہوں، اپنی قوم اور قومی وقار سے زیادہ کوئی دوست یا برادر ملک عزیز نہیں ہوتا۔الله تعالیٰ ملت اسلامیہ کو خیر پہ متحد فرمائے۔آمین