وہ آیا، اس نے دیکھا، اور فتح کرلیا - اسامہ شفیق

اگر یہ بات کسی پر صادق آتی ھے تو کراچی میں وہ نام نعمت اللہ خان کے علاوہ کوئی اور نہیں۔ ستم رسیدہ اور زخم خوردہ شہر کہ جس کو اپنوں نے مضمحل کردیا تھا 2001ء کے بلدیاتی انتخابات میں ایک دھماکے کے صورت میں اس شہر کو ایک مسیحا میسر آیا کہ جس نے اس شہر کے نہ صرف زخم پر مرھم رکھا بلکہ تباہ حال شہر کو دوبارہ سے روشنیوں کا شہر بنانے کی ٹھانی اور اس کو عمل کے قابل میں ڈھال کر دکھا دیا۔

یہ کارنامہ نعمت اللہ خان صاحب نے جوان عمری میں نہیں بلکہ اس پیرانہ سالی میں انجام دیا کہ جب لوگ ملازمت سے ریٹائرڈ ھونے کے بعد آرام کرتے ہیں۔ فولادی قوتِ ارادی رکھنے والا یہ شخص پہلی بار دوبارہ سے آبادی اور نئے سرے سے زندگی کا آغاز نہیں کررھا تھا بلکہ اس سے قبل پندرہ سال کی عمر میں وہ پاکستان ھجرت کرتے ھوئے اپنا سب کچھ ھندوستان میں چھوڑ کر آنے کے بعد اس شہر میں اپنی زندگی کو ایک بار پہلے بھی نئے سرے سے استوار کرچکا تھا۔

لیکن اب چیلنج بڑا تھا پورے شہر کی آبادی و بحالی اور وہ بھی عالم اسلام کا سب سے بڑا شہر۔ لیکن جہاں اللہ کی تائید ھو، اور عزم صمیم کے ساتھ دیانت اور امانت مقدم ھوتو ایسے معجزے رونما ھوتے ہیں۔ نعمت اللہ خان نے 4 سال میں کراچی میں جو کچھ کیا وہ ان کی ھمت کے ساتھ قدرت کا معجزہ بھی ھے۔ لیکن معجزے بھی اللہ کے برگزیدہ بندوں کے ھاتھوں ھی رونما ھوتے ہیں۔ میں نے خود کراچی کے شہروں کے دل میں نعمت اللہ خان کے لیے محبت کے وہ جذبات دیکھے ہیں جو شاید اس سے قبل صرف الطاف حسین کے حصے میں آئے تھے۔

نعمت اللہ خان صرف خدمت کا استعارہ بن کر سامنے نہیں آئے بلکہ انھوں نے اپنی نظریاتی کمٹنٹ پر کبھی کوئی سودے بازی نہیں کی۔ سٹی گورنمنٹ نے نشترپارک کراچی میں فہم القرآن کا پروگرام ترتیب دیا تو کچھ حلقوں نے اس پر تنقید کی اور کہا کہ ناظم شہر کا کام ترقیاتی کام کروانا ھے درس قرآن کروانا نہیں۔ اس پر نعمت اللہ خان نے کہا میں اس شہر کا ناظم ھوں اس شہر کی ترقی کے ساتھ ساتھ میری ذمہ داری یہ بھی ھے کہ میں اس شہر میں بسنے والوں کی ذھنی بالیدگی اور تربیت کا بھی بندوبست کروں اور میرا یہ کام ھے میں اس سے پیچھے نہیں ھٹ سکتا۔

یہ بھی پڑھیں:   شہر قائد میں بابائے کراچی رخصت ہوئے- حسین اصغر

جماعت اسلامی نے طے کیا کہ پرویزمشرف کے ریفرنڈم کی مخالفت کرنی ھے پورے ملک میں اس کام کے لیے شہری حکومتوں کو ٹاسک دیا گیا لیکن مسئلہ یہ تھا کہ کراچی میں نعمت اللہ خان ناظم تھے اب ان سے کون بات کرے؟ اس مقصد کے لیے گورنر سندھ محمد میاں سومرو کو نعمت اللہ خان کے پاس بھیجا گیا کہ وہ ان کو قائل کریں۔ نعمت اللہ خان اور محمد میاں سومرو کے مراسم بہت اچھے تھے سومرو صاحب نے بات کی کہ میرا نکاح مولانا سید ابوالاعلی مودودی نے پڑھایا ھے اور میں بھی جماعت کا ھی کارکن ھوں اب آپ ضد چھوڑ دیں اور ریفرنڈم کی صرف حمایت کا اعلان کردیں۔ نعمت اللہ خان نے کہا اگر آپ جماعت اسلامی کے کارکن ہیں تو آپ کو بھی جماعت کے فیصلے پر عمل کرنا چاھئے اور آپ بھی میرے ساتھ اس ریفرنڈم کی مخالفت کریں اور ایک اور پیش کش پر کہا کہ میں چار سال کی شہری نظامت پر اپنے چار دھائیوں پر مشتمل نظریاتی تعلق کو قربان نہیں کرسکتا۔

اس دور میں کہ جب لوگ ایک کونسلر کے لیے بھی اپنے نظریاتی تعلق کو قربان کر دیتے ہیں نعمت اللہ خان نے اپنے اس بڑے منصب کی بھی پروا نہیں کی کہ جس کی سزا ان کو 2005ء میں دی گئی کہ جب نعمت اللہ خان دوبارہ جیت گئے تو ایک آمر کی انا کی خاطر ان کی فتح کو شکست میں تبدیل کردیا گیا۔لیکن نقصان کس کا ھوا اس شہر کا اور کس کا ! لوگ کہتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ ملک سے کرپشن کا خاتمہ چاھتی ھے تو میں پوچھتا پھر کیوں کرپشن سے پاک، وژنری، با صلاحیت نعمت اللہ خان کو زبردستی ھرواکر کر کرپٹ ٹولے کو اس شہر پر کس نے مسلط کیا ؟ کیا وہ اسٹیبلشمنٹ نہیں تھی؟

نعمت اللہ خان لوگوں کی محبت اور مغفرت کی دعاؤں میں اپنے رب کے حضور پیش ھوگئے۔ لیکن مجھے مختار مسعود یاد آتے ہیں انھوں نے لکھا "بڑے لوگ انعام کے طور پر دیئے جاتے ہیں اور سزا کے طور پر روک (اٹھا لیئے) جاتے ہیں"۔ بڑے لوگ تیزی سے رخصت ھورھے ہیں بونے بڑی مسندوں پر براجمان ہیں اللہ اس شہر پر رحم فرمائے۔ کیونکہ اب اس شہر کی نعمت کی لوگوں نے بڑی بے قدری کی ھے۔