پاکستان میں تاخیر سے شادیوں کا رجحان ، نتائج واثرات اور ان کا حل ۔ حمیدہ بتول

عروج ایک 30 سالہ نوجوان لڑکی ہے - اس نے دو مضامین میں ایم-اے کیا ہوا ہے - وہ اپنا سکول کامیابی سے چلا رہی ہے - دو سال کے اندر سکول میں طلباء کی تعداد ڈبل ہوگئی ہے - وہ بہت خوش ہے - لیکن اب تک وہ غیر شادی شدہ ہے -

حصول تعلیم کے دوران اچھے رشتے آتے رہے لیکن وہ نہ مانی - بعد میں اسے اپنا کیرئیر بنانا تھا تو شادی ٹلتی رہی - اب اس کی امی بہت پریشان ہیں کیونکہ اس کے لئے آنے والے رشتے بہت کم ہو گئے ہیں - جو رشتہ آتا ہے وہ تعلیمی اور معاشی لحاظ سے اس کے لیول سے کم ہوتا ہے اس لئے ابھی تک شادی کا معاملہ حل نہیں ہو سکا -

ہمارے معاشرے کے پچاس فیصد گھرانوں کا یہ المیہ ہے کہ بچوں کی شادیاں تاخیر کا شکار ہوتی چلی جا رہی ہیں - بڑھتی عمر کے ساتھ یہ مسائل گھر میں اچھی خاصی ٹینشن پیدا کر دیتے ہیں - یہ مسائل بچوں اور بچیوں دونوں کے ساتھ ہیں لیکن مخصوص معاشرتی ماحول کی وجہ سے بچیاں اس کا ذیادہ شکار ہوتی ہیں - ایک سروے کے مطابق پچھلے 25 سال میں اس شرح میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے - پاکستان میں تاخیر سے شادیاں ہونے کی وجوہات جاننے کے لئے ایک سروے کیا گیا جس میں پاکستان کے شہری علاقوں کی 156 خواتین سے معلومات اکٹھی کی گئیں -

ان وجوہات میں ذات، مردوں اور عورتوں میں تعلیم کا فرق، کچھ گھرانوں میں بنیادی ضروریات کا پورا نہ ہونا، لڑکیوں کا اعلی تعلیم حاصل کرنا اور پھر پیشہ ورانہ ذندگی اختیار کرنا، مہنگی شادیاں، اسلام کے علم کی کمی، عورتوں کاشادی اور شوہر کے بارے میں بہت ذیادہ توقعات وابستہ کرنا، سوشل میڈیا اور میرج بیورو کے فراڈ کیسز، طلاق کا ڈر، شادی کا فیصلہ نہ کر سکنا شامل ھیں - مردوں میں دیر سے شادی کی وجوہات میں کیرئیر بنانا، زیادہ دولت حاصل کرنا، خاندان کی زمہ داروں کو اٹھانے کے قابل ہو جانا، اپنے ماں باپ اور بہن بھائیوں کی کفالت کی زمہ داری، ایک خاص سٹیٹس (گھر، گاڑی وغیرہ ) کا حاصل کر لینا شامل ھیں -

بعض مرد زمہ داریاں نہ اٹھانے والے کی وجہ سے شادی میں تاخیر کرتے ھیں اور بعد میں انھیں شریک زندگی کی ضرورت کا احساس ہوتا ہے لیکن اب کافی دیر ہو چکی ہوتی ہے - اسی سروے کے مطابق دیر سے شادی کے مثبت اور منفی دونوں قسم کے نتائج ھیں - منفی نتائج میں زہنی، جسمانی اور طبی نقصانات شامل ھیں - دیر سے شادی لڑکوں اور لڑکیوں دونوں میں ڈپریشن اور زہنی خلفشار پیدا کرتی ہے -

لڑکیوں میں اکیلے رہ جانے کا خوف اور فیملی بنانا جو کہ ہر انسان و جانور کی فطرت ہے اس سے محروم رہ جانے کا خوف ہے - یہ خوف مردوں میں بھی پیدا ہو جاتا ہے - جبکہ ان دونوں میں عزت نفس کا مجروح ہونا اور اپنے اوپر اعتماد میں کمی اور احساس کمتری کے رجحانات بھی پیدا ہو جاتے ہیں - جسمانی طور پر اور طبی طور پر بھی لڑکیاں دیر سے شادی کے نتیجے میں ماں بننے کے دوران مسائل کا شکار ہو جاتی ھیں جبکہ مردوں اور عورتوں دونوں میں بانجھ پن کےامکانات بھی بڑھ جاتے ھیں - آجکل طبی پیچیدگیاں اتنی بڑھ گئی ہیں کہ ڈاکٹر 35 سال کے بعد ماں بننے سے منع کر رہے ھیں اس طرح یہ مسائل اور بھی سنگین ہوتے جا رہے ہیں -

وہ مکہ کی کامیاب اور امیر ترین خاتون تھیں - اچھا گھر، اچھی زندگی، بچے سب کچھ انہیں حاصل تھا - ان کی باوقار شخصیت اور معاشرتی حیثیت کی وجہ سے کئی معززین حتی کہ ابو جہل (عمر بن ہشام ) نے بھی رشتے کا پیغام بھیجا مگر انہوں نے انکار کر دیا- حضرت خدیجہ رضی اس بے داغ کردار کے نوجوان کی پہلے ہی تعریف سن چکی تھیں - اب و اس کی کاروباری معاملہ فہمی اور کردار کی خوبیاں پرکھنا چاہتی تھیں، انہوں نے میسرہ کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے معاون کے طور پر تجارتی سفر میں بھیج دیا -

جب اس نے واپس آ کر تفصیل سے آپ کی شخصیت کے پہلو انہیں بتائے تو انہوں نے اعتراف کر لیا کہ یہی وہ شخص ہے جو ان کی روح کا ساتھی بن سکتا ہےاور ان کی زندگی میں مسرتوں اور خوشیوں کا سفیر بن سکتا ہے - اور جب ان کا نکاح نبی اکرم ص کے ساتھ ہوا تو ابو جہل نے جل کر کہا " اسے قریش کے یتیم کے سوا کوئی اور نہیں ملا "
یہ ہیں ھماری امی خدیجہ رضی اور اسلام کی خاتون اول - یہ بہترین کیرئیر وومن ہیں - ان کی زندگی اور شریک زندگی کے لیے ان کے معیار دیکھئے - یہی دراصل قابل عمل نمونہ ہے اور زندگی کو خوشی اور سکون سے معمور کر نے کا نسخہ بھی -

اس بات کی ضرورت ہے کہ تعلیمی نظام، میڈیا اور والدین کی تربیت کے ذریعے بچوں کی اس پہلو سے تربیت کی جائے - انھیں اچھے ازدواجی تعلق کے اجزا سے آگاہ کیا جائے اور یہ سمجھایا جائے کہ محبت محض ایک جذبہ نہیں ہےبلکہ یہ ایک ذمہ داری قبول کرنے کا سوچا سمجھا فیصلہ ہے - ایک میچور تعلق اور رشتہ کے بنیادی اجزا میں متفقہ مقاصد (common goals ) , اکٹھے رہنے کا مخلصانە جذبہ (A sincere desire to be together ) اور اپنے متعلقہ رشتوں پر اپنی پوری توجہ اور قوت کو فوکس کرنا ( Focusing attention and energy on one and same persons ) شامل ہے-

حضرت عائشہ رضی لڑکیوں کے ساتھ کھیل رہی تھیں. ان کی انا آئی اور ان کو بلا لے گئی - حضرت ابو بکر صدیق رضی نے نکاح پڑھایا - پانچ سو درہم مہر مقرر ہوا -
آج ہماری تقریبات کا حال کسی سے ڈھکا چھپا نہیں. ہزاروں کا مہر، لاکھوں کا جہیز اور منگنی اور دوسری رسموں پر اس قدر خرچ کہ دیوالہ پٹ جائے لیکن کرتے وہی ہیں جس پر آخر سب روتے ہیں -

اگر یہ سب نام ونمود کے لیے کرتے ہیں تو سوچیں کہ حضرت ابوبکر وقت کے رئیس اور حضرت عائشہ با عزت ترین خاتون ہیں. اگر داماد کی خوشنودی کے لیے کرتے ہیں تو نبی کریم ص جیسا عالی مرتبت داماد کون ہو گا؟ معاشرے کو ان مجبوریوں سے نکالنے کے لیے معاشرتی ڈھانچے کی اصلاح کی ضرورت ہے. اسی میں ہمارے ایمان کی بھی خیر ہے اور دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائی اسی میں ہے -