جب ہی تو میری جان ہے- لطیف النساء

حسین نظارے منظم اشیاء ، منظم شیلف اور منظم ترتیب سے لگی شیلف میں کتابیں ، الماری میں طریقے سے لگے کپڑے ، کچن میں بھی مقررہ جگہ بھی رکھی ہو ئی چیزیں ، کھانے کے ٹیبل پر بھی مطلوبہ چیزیں پاک صاف طریقے سے رکھی ہوئی چاہئیں ، واش روم ہو یا بیڈ اپنی اپنی جگہوں پر طریقے سے رکھی ہوئی ایک الگ مزہ ہی دیتی ہیں ۔

اسی طرح جب لوگ بچے بڑے کنگھی کئے ہوئے صاف ستھرے حلیے میں نظر آئیں تو دل خوش ہو جاتا ہے۔ ظاہر ہے صفائی اور طہارت سے نظروں کو ہی سرور نہیں ملتا بلکہ اس سے توروح کو بھی سکون ملتا ہے ایک خوشی کا احساس ہمیشہ ہر کسی کو لبھاتا ہے ۔ صفائی ستھرائی کا ایک الگ ہی مزہ ہے ۔ فطرت میں انسان کے صفا ئی ہے اس لئے اسے صاف ستھرا ماحول اور ہر جگہ صفائی پسند آتی ہے اس لئے ہی کہا گیا ہے کہ صفائی نصف ایمان ہے۔ جب ہی تو یہ میری جان ہے۔

ہم کیسے پانی کو پانی کے گلاس کو چیک کرکے پینا پسند کرتے ہیں ۔ اسی طرح کھانے پینے کی اشیاء کو بھی اگر صاف ستھرے برتنوں میں لیا جا ئے پھر فروٹ بھی دھلے ہو ئے صاف ستھرے ہوں تو دل بہت خوش ہوتا ہے اور ظاہر ہے جو بات ہمیں پسند ہے وہی دوسروں کو بھی لبھاتی ہے ۔ میری ممانی مرحومہ جب بھی میں ان کے گھر جاتی گھر کی ایک ایک چیز چمکتی ہوئی اپنی جگہ پر رکھی ہو ئی ہوتی تھی ۔ کسی کو دعوت دیتی تو سب سے پہلے درو دیوار ، صوفہ ، کرسیاں ، میز پوش کو صاف کرتی ۔ پلنگ کی چادریں تکیے ترتیب سے طے کئے ہوئے ۔ باورچی خانہ تو پوچھیں ہی نہیں ! صاف ستھرے کپڑے پکڑنے پونچنے کے لئے لٹکے ہوئے مصنوعی پھولوں میں کبھی میں نے مٹی دھول نہیں دیکھی ۔

جب بے جان اشیاء کی صفائی کا یہ تاثر ہمیں نہال کر دیتا ہے تو مجھے خیال آیا کہ واقعی جسمانی طہارت ہمیں یقینا ہزارہا بیماریوں سے بچاتی ہونگی اور یقینا خیالات اور نیتوں کی طہارت تو ہمیں دونوں جہاں میں عا فیت عطا کرے گی ۔ لیکن ساتھیوں یہ کیا ؟ صرف ہم خود صاف ر ہیں ہمارا گھر صاف ستھرے رہے باقی جگہ کی ہمیں فکر ہی نہ ہو دوسروں سے ہمیں کوئی مطلب یا غرض نہ ہو ایسا تو ہو نہیں سکتا ۔ یہ شہر اور یہ ملک بھی ہمارا بڑا گھر ہے ۔ اس کی صفا ئی ستھرائی کا بھی ہمیں و یسے ہی خیال ہونا چاہئے ۔ آج ہی کی بات ہے ۔ میرے گھر کے نیچے ایک بیوٹی پارلر اور ایک سیلون ایک اسٹیٹ ایجنسی ہے ۔ انہوںنے اپنے چھجے ہماری بالکنی کے نیچے ناجائز طور پر لگا لئے ہیں اوپر تین منزلہ فلیٹ ہیں ۔

بجلی اور ٹیلیفون کی تاروں کا جال بنا ہوا ہے ۔ اوپر فلیٹ والے نہ جانے کیا کیا پھینکتے ہیں کہ ان چھجوں پر تھیلیاں ، گندے کپڑے ، چیتھڑے ، پیپرز، بوتلیں اور ردی کاغذ ، ڈبے، بوتلیں گرتی رہتی ہیں اور یوں ایک کچرا خانہ گیلری سے نظر آتا ہے ۔ بسا اوقات کھانے پینے کی چیزوں اور کچرے کی وجہ سے وہاں بلیاں بھی آجا تی ہیں جو گیلری سے گزر کر گھر میں بھی آجاتی ہیں اور اس طرح سب کو تکلیف ہوتی ہے ۔ لوگ تھیلی نیچے ڈال کر معمولی سبزی یا دوسری معمولی اشیاء تک نہیں لے سکتے ، ہر کام کے لئے نیچے جانا پڑتا ہے ۔ ناجائز لگائے گئے چھجے سب کی تکلیف کا باعث ہیں ۔ سب ہی بلڈنگ کے لوگ ایک فیملی کی طرح ہر ایک کی تکلیف اور دکھ سکھ کا احساس کریں تو یہ صورت حال کبھی پیدا نہ ہو ۔

سیڑھیوں پر بھی جگہ جگہ چیونگم ، کاپیوں کا کاغذ ، چپس ، چاکلیٹ کے ریپرز نہ خود پھینکیں ، نہ دوسرے ۔ تو سیڑھیاں صاف ستھری کتنی اچھی لگتی ہیں ۔ یہ ہمارا ایک فریضہ ہے جسے اللہ کی خا طر کریں۔ دل سے کریں تو ہر بندہ خوش خرم ہو گا اپنے بچوں کو بھی شروع سے اچھی تربیت دیںکہ وہ ہر بڑے کی بات ماننی چاہئے ۔ وہ محلے یا بلڈنگ کا کوئی بھی فرد کو آپکی اصلا ح چاہتا ہے آپکو ہمیشہ خوش اور پاکیزہ دیکھنا چاہتا ہے ۔آپ کا خیر خواہ اور دوست ہے ۔

برائی کو دیکھ کر خاموش رہنا بھی جرم ہے ۔ بہر حال بڑی ہی مشکلوں سے دکانوں کے لگے ہوئے شیڈ چھجے صاف کروا کر مجھے خیال آیا کہ اس عمل سے دوسروں کوبھی خبر دار کر وں کہ خدارا اپنے آپ کو اپنے ماحول کو صاف ستھرا رکھیں کہ یہ مفت میں آپ کو نصف ایمان مل رہا ہے اس کی قدر کریں ۔ باقی توحید ، رسالت اور یوم آخرت پر یقین کامل اور آپکے عمدہ اخلاق اور عبادات آپکو اچھے مسلم، مومن اور انشاء اللہ محسن بناتی جائیگی ۔ پاکیزہ اور نیک اخلاق معاشرے کا ہی نہیں انسانیت کا حسن ہوتے ہیں ۔ بری زبان برا انداز برا لباس اور بر ا کردار آپ کو کیسے سکون دے سکتا ہے ؟کیونکہ یہ بھی ایک طرح گندگی ہے غلاظت ہے ۔

ہر دم ہمیں اپنا آپ اپنا ماحول صاف ستھرا رکھنے کی ضرورت ہے اور یوں آہستہ آہستہ ہمارا ایمان بڑھتا ہے ۔ کردار نکھرتا ہے۔ ماحول دوست مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ محبت اور خلوص جنم لیتا ہے اور یوں ہمارے اپنے مثبت عمل سے جسمانی، قلبی اور روحانی طہارت سے پورا ماحول خوشگوار اور پرسکون ہو جاتا ہے ۔ ہمیں معاشرتی طور پر صفائی کی عادت اپنانی ہوگی جیسے ماں ایک بچے کو صاف ستھرا رکھ کر خوشی محسوس کرتی ہے ۔ اسی طرح ہر فرد کو اپنا ما حول صاف ستھرا رکھنا ہو گا ۔ کچرا کوڑا اپنے گھروں میں ڈبے میں رکھیں اس کو لے جا کر باہر مقامی کچرا کونڈی میں پھینکیں ادھر ادھر نہ پھینکیں ، گندی نالیاں ، گٹر کبھی بھی کھلا نہ رکھیں اور نہ ہی ادھر ادھر تھوکتے پھریں ۔

پان سے تو ہر کوئی اپنی جان چھڑائے ۔ گٹکا اور دیگر سپاری ، چھالیہ اور نہ جانے کیا کیا چبانے والی چیزوں یہاں تک کہ چیونگم بھی ہر گز نہ کھائیں ۔ اس سے کہیں زیادہ بہتر ہے کہ آپ ہر وقت کچھ نہ کچھ پڑھتے ہیں ۔ سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم اور استغفر اللہ وغیرہ سے زیادہ بہتر ہے ۔ پناہ مانگتے رہیں ، دعا مانگتے رہیں اور دوسروں کے لئے نمونہ بنیں ۔ حکومتی اداروں اور دیگر کمیونٹی ممبران سے تعاون کریں کہ ہمارا دوسروں سے تعاون ہی ایک مخلصانہ مرحلہ ہے اور اسی طرح دوسروں کا ہمارے ساتھ تعاون ایک طرح سے معاشرے کا سدھار ہے یہی سدھار ہمارے معاشرے کو پاکیزہ اور ماحول کو صاف ستھرا کر سکتا ہے۔

اپنی بے کار ناکارہ گاڑیاں ، سائیکلیں ، موٹر سائیکلیں ، گھروں کے باہر کھڑی کھڑی زمین میں دھنس چکی ہوتی ہیں ارد گرد کچرا جمع ہو جاتا ہے۔ زنگ آلود ، گردو غبار سے اٹی ہوئی یہ گاڑیاں ، جگہ جگہ برا منظر پیش کر رہی ہو تی ہیں اسی طرح ناکارہ فرنیچر کے ڈھیر کچرا کونڈی ، چیتھڑے ، درختوں کے ارد گرد ، عمارتوں کے کونوں میں گھروں کی دیواروں کی آڑ میں لگے کچرے کے ڈھیر کس طرح ماحول کو بگاڑتے ہیں ۔ کچرے کے بڑے بڑے ڈبے رکھے ہیں ۔ مگر کچرا ان سے دور بکھرا پڑا ہوتا ہے ۔ مکھیاں ، بلیاں، کتے عجیب سا ماحول پیش کر رہے ہو تے ہیں ۔ ان مناظر کو یکسر بدلنا ہو گا ۔ شعوری طور پر ڈبوں میں برابر سے کچرا ڈالیں ۔

مستقل بنیادوں پر کچرا ٹکانے لگانے کا مستقل انتظام کریں تو یہ سب جگہ صاف ستھری ہو گی ۔ بچوں کو بھی ڈسٹ بن میں کچرا ڈلوانے کی عادت ڈالیں ۔ گاڑیوں سے بھی ، بسوں سے یا پیدل چلتے کبھی کچرا ادھر ادھر نہ پھینکیں ۔ دوافروش اور دیگر دکاندار بھی کچرا ٹھکانے لگانے کا مناسب انتظام رکھیں نہ کہ اپنی ہی دکا ن کے سامنے پھینکیں ۔ اگر سامنے سے کھلی گندے پانی کی نالیاں ہوں تو اللہ کی خاطر کسی سے اجر کے ملے میں نہیں اللہ کی خاطر اپنے ایمان کو بڑھانے کے لئے خیر سگالی کے طور پر اپنی مدد آپ سے ان کھلی نالیوں یا نالوں کو بند کرنے کا انتظام کریں ۔ آپ یقین کریں آپ کا ایک مخلصانہ قدم جو سکون آپ کو دے گا وہ کہیں سے نہیں مل سکتا ۔ معاشرے کو بدلنے کے لئے مجھے سب سے پہلے خود کو بدلنا ہو گا ۔

ـ"خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی

نہ ہو جس کو خیال خود اپنی حالت بدلنے کا "

اس لئے ہمیں پہلے اپنے آپ کو ، اپنے جسم کو ، نیت کو ، ارد گرد کو گھر کو ، گھر والوں کو صفا ئی اپنانی ہو گی ، شعوری طور پر دیکھتے ہی دیکھتے ما حول بدلتا جا ئے گا ۔ انشا ء اللہ پھر وہ وقت بھی آجا ئیگا کہ آپ کا یہ بڑا گھر آپ کا شہر ہمارا اور آپ کا بڑا گھر یہ ملک صفائی ستھرائی میں دنیا میں پہلے نمبر پر ہو گا انشا ء اللہ اور کیوں نہ ہو ۔ الحمد للہ ! ہم مسلمان ہیں ۔ صفائی ہمارا ایمان ہے تو ہمیں تو ہر لمحہ اپنا ایمان بڑھانا ہے تا کہ ہم دونون جہاں میں عافیت پائیں ۔ "ہمت مرداں مدد خدا "۔