عابدہ بانو سے ایک تحریری ملاقات

سوال نمبر 1: آپ کا تعارف؟
عابدہ بانو : فل ٹائم ماں ہوں میں 5 بچوں کی الحمداللہ، ایک تھراپسٹ اور این ایچ ایس میں بحیثیت مسلم چیپلن کے طور پر رضاکارانہ کام کرتی ہوں، اس کے علاوہ ورکشاپس اور ٹریننگ کرواتی ہوں.

سوال نمبر 2 : آپ کی زندگی میں ہونے والے اہم واقعات جس کی وجہ سے آپ میں تبدیلی آئی اور کچھ کر گزرنے کا عزم کیا؟
عابدہ بانو : مولانا مودودی کا لٹریچر اور جمعیت۔ ہر فرد کو تحریک دینے والے محرک ہیں شرط یہ ہے کہ کوئی طلبگار ہو، لوگوں کے رویے اور حالات ہمیشہ وہ کورس اور ڈگریاں ثابت ہوتی ہیں جو ہر ایک کی زندگی کو تبدیل کرتی ہیں مثبت یا منفی ۔ میری ایک بچی کی معذوری اور بیماری نے زندگی کو ایک نیا رخ دیا پھر اس کی وفات کے بعد دوسری بچی کو بھی اسی بیماری کا ہونا ایسا سانحہ ثابت ہوا کہ جس نے مجھے مجبور کیا کہ میں تمام راستے اور طریقے سیکھوں اور جانوں جس سے میں دوسری بچی کی زندگی بچا سکوں۔اور الحمدللہ میں اس میں کافی حد تک کامیاب رہی ہوں اور اب دوسری ماوں کی بھی معاونت کرتی ہوں جو کسی خاص بچے کی دیکھ بھال کرتی ہوں.

سوال نمبر 3 : اپنے اہل خانہ خصوصا شوہر اور بیٹے کی طرف سے کیسا تعاون ملا؟
عابدہ بانو : شوہر اور بیٹا بلکہ بیٹیاں بھی شامل کرنا چاہوں گی کیونکہ بیٹیوں کا تعاون بھی اسی قدر اہمیت رکھتا ہے میرے لیے۔ مگر خیال رہے کہ ازدواجی زندگی کے اپنے امتحانات ہوتے ہیں اور یہ ایک ایسا شعبہ ہے کہ جس کے لیے کو ئی کورس یا ٹریننگ میسر نہیں، بغیر لائسنس اور تجربے کے آپ گاڑی کسی کے حوالے نہیں کرتے کیونکہ ایسا کرنے سے اس کی اپنی زندگی اور دوسروں کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہوگا تو بغیر کسی ٹریننگ کے ازدواجی تعلق قائم ہو تو جاتا ہے مگر چیلنجز اس خوبصورت رشتے کو مشکل بنا سکتے ہیں، اس میدان میں بہت کام کی ضرورت ہے جو ہم سب کو کرنا ہے اپنے اپنے پلیٹ فارم پر.

سوال نمبر 4 : انگلینڈ (دنیا کا ماڈرن ترین ملک)، اس میں ایک پاکستانی حجابی، مذہبی، رحجان رکھنے والی خاتون عابدہ بانو کو کیسے زندگی گزارنی ہے؟
عابدہ بانو :حجابی اور مذہبی رحجان ایک مغربی معاشرے میں رہنے کو آسان کرتا ہے اور میری نظر میں یہ دونوں عناصر مددگار ہیں. یہ غیر مسلموں کے ساتھ رواداری سکھاتے ہیں. اپنے غیر مسلم پڑوسی یا کولیگ کے ساتھ حسن معاشرت کا درس دیتے ہیں. اسی کا میں نے انتخاب کیا کہ مسلم چیپلن کے طور پر ہسپتالوں میں رضاکارانہ طور پر کام کروں. میرا کام محض ہر مریض کی تیمارداری کرنا ہے، اس علاقے میں پہلی مسلمان چیپلن خاتون ہوں جسے حجاب کے ساتھ کام کرنے کا شرف حاصل ہے.

سوال نمبر 5 : کبھی اپنے عورت ہونے پر دکھ یا شرمندگی محسوس کی؟
عابدہ بانو : عورت ہونے پر دکھ یا شرمندگی نہیں بلکہ فخر ہے کہ مجھے بھی اسی رب نے بنایا ہے جس نے مرد کو بنایا اور مجھے بھی تکریم دی ولقد کرمنا بنی آدم کہہ کر.

سوال نمبر 6 : آپ آج کی عورت سے کیا چاہتی ہیں؟ اس کو کہاں اور کیسا دیکھنا چاہتی ہیں؟
عابدہ بانو : آج کی عورت بہت باصلاحیت ہے، آج کی عورت کو ہر میدان میں دیکھ کر خوشی ہوتی ہے. گھر کے ادارے سے لے کر سیاست تک کلچر اور دین کا فرق سمجھ کر چلتی ہے. حالات کا تقاضا ہو تو محتاجی کی زندگی کے بجائے حضرت شعیب کی بیٹیوں کی طرح جانوروں کی دیکھ بھال یا کھیتی باڑی۔ جہاں مردوں کا غلبہ ہو وہاں بھی کام کرتی ہیں، حضرت موسی کی طرح کوئی قابل بندہ نظر آئے تو اپنے والد یا باس سے بات کر کے اس کو ملازمت دلوا دیتی ہیں، یعنی بہترین حکمت عملی اور قائدانہ صلاحیتوں کا استعمال، اور حیا و حدود کا احترام.

سوال نمبر 7 : آپ کے خیال میں ہم خواتیں سب سے زیادہ کوتاہی کہاں اور کیسے کرتی ہیں اور اس کے نتائج کیا نظر آتے ہیں؟
عابدہ بانو : میں کوتاہیوں پر نہیں بلکہ خوبیوں پر کام کرنے کی قائل ہوں کہ جس چیز پر محنت ہو گی وہی کام کرے گی Work on your strength not weaknesses because what you pay attention to , is what you get move of ہمارے پاس جو بھی بہنیں آتی ہیں میں ان سے کم از کم تین صلاحیتوں کے بارے میں پوچھتی ہوں۔ کوتاہی کی اگر بات کرنا ہی ہے تو خود کے لئے وقت نکالیں، جو کام کر کے خوشی ملتی ہے وہ ضرور کریں، خواہ وہ اپنے پسندیدہ کپ میں چائے پینا ہی کیوں نہ ہو. کسی دن خود کے لیے کچھ پکائیں اور اپنی دعوت کریں، یعنی اپنے وقت اور حالات کے مطابق جو بھی ممکن ہو ضرور کریں اور یہ عمل روزانہ کی بنیاد پر ہونا ضروری ہے، چاہے اس کا دورانیہ پانچ منٹ کا ہی کیوں نہ ہو، ورنہ آپ کی حالت اس شخص جیسی ہو جائےگی جو صبح سے شام تک آری سے درخت کاٹ رہا تھا مگر کاٹ نہ سکا، کیونکہ آری کند تھی، پڑوسی نے مشورہ دیا کہ آرے کو تیز کر لو تو بولا کہ وقت نہیں ہے.

سوال نمبر 8 : الحمدللہ آپ کامیاب خاتون کے طور پر جانی جاتی ہیں. آج آپ شہرت، پیسے، ہمت کے لیے کسی کی محتاج نہیں، پھر بھی آپ کو شوہر، بھائی، بیٹے جیسے رشتوں کی ضرورت محسوس ہوتی ہے؟
عابدہ بانو : اللہ نے بحیثیت انسان ہمیں ایک دوسرے کا محتاج بنایا ہے، ایک روٹی کا لقمہ جو میں منہ میں ڈالتی ہوں، اس میں کتنے انسانوں کا حصہ ہے؟ کس نے بیج بویا؟ کس نے کاشت کیا؟ کس نے لاری چلائی؟ آٹا پیسنے سے لے کر دکانوں تک آنے میں ان تمام انسانوں کی محتاج ہوں، خواہ وہ لباس ہو یا مکان یا کسی ڈاکٹر کا نسخہ، ہم ایک دوسرے کے مقابل نہیں بلکہ معاون ہیں۔ میڈیا ہمارے درمیان جنگ کروانا چاہ رہا ہے، اس جنگ میں سب کی ہار ہے اور جیت صرف تعاون اور ایک دوسرے کی مدد کرنے میں ہے، اور کھلے دل سے اپنے شوہر کی محتاجی کا اعتراف کرتی ہوں.

سوال نمبر 9 : اپنی سرگرمیوں کے بارے میں کچھ بتانا پسند کریں گی نیز ان سب کے ساتھ ایک ماں اور بیوی کا کردار کیسے بھر پور ادا کر پاتی ہیں؟
عابدہ بانو : یہ سرگرمیاں یا کوئی بھی جاب اس کردار میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں. ہاں بس میانہ روی کی ضرورت ہے. میرا جاب ٹائٹل ہے کہ "میں خواب اور امید بیچتی ہوں "I am a dream and hope merchandise

میرا دعوی ہے کہ آپ مجھے اپنی زندگی کا ایک گھنٹہ دیں، باقی تمام کام میرا ہے. آخر میں آپ کا شکریہ کہ یہ موقع فراہم کیا کہ میں خود کو ظاہر کر سکوں.

ٹیگز
WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com