سچائی - رومانہ گوندل

موت اس زندگی کا اختتا م ہے اور مٹی کے وجود کا دوبارہ مٹی ہونے کا نام ہے ۔ موت ایک تکلیف دہ حقیقت ہے ۔ جس کو قبول کرنا ہر انسان کے لیے ہی مشکل ہوتا ہے لیکن یہ وہ لمحہ ہے جہاں آکے بادشاہ سے فقیر تک سب ہی بے بس ہو جاتے ہیں ۔ کیونکہ انسان چاہے یا نہ چاہے اسے یہ حقیقت قبول کرنا پڑتی ہے ۔

ویسے تو ہرانسان اپنی پیدائش سے ہی جانتا ہوتا ہے کہ اس زندگی کا اختتام موت پہ ہو گا۔ لیکن ایک سچائی جس کا تصور کو ئی بھی انسان اپنی زندگی میں نہیں کرتا ،وہ یہ ہے کہ اس دنیا میں اس کی کوئی حیثیت نہیں ۔ اس کے ہونے نہ ہونے سے ذرہ برابر فرق نہیں پڑتا۔ لیکن یہی حقیقت ہے کہ ایک انسان دنیا میں سو سال گزار تا ہے لیکن اس کے جانے سے کچھ نہیں بدلتا ، کچھ نہیں رکتا ۔ یہ وہ حقیقت ہے جس کو ایک زندہ انسان کبھی قبو ل کر ہی نہیں سکتا۔ کیونکہ انسان اگر یہ سچائی قبول کرے تو وہ یہ سوچنے پہ مجبور ہو جائے گا جیسے ان سو سال کا ، جو وہ اس دنیا میں گزار کے جائے گا ، کچھ حاصل ہی نہیں ۔

بہرحال یہی سچائی ہے کہ جس نام کو اونچا کرنے میں ، جس جسم کو بچانے اور سجانے میں زندگی لگا دیتے ہیں وہ ایسے مٹی ہو جاتا ہے ، جیسے کبھی تھا ہی نہیں ۔ کیونکہ کوئی بھی انسان دنیا میں اپنی جگہ بنانے نہیں آتا، نہ دنیا کے نظام کو روکنے آتا ہے۔ بلکہ ہر انسان دنیا میں ؒ اپنا فرض نبھانے آتا ہے وہ کام کرنے جو اس کے ذمے ہوتے ہیں ۔ اس دنیا کو آگے چلانے آتا ہے روکنے نہیں۔ اور وہ کام کرنے کے بعد خاموشی سے دنیا چھوڑ جاتا ہے ۔ یہی طے شدہ نظام ہے ۔

یہ بھی پڑھیں:   زندگی میں خوشی کی اہمیت - رانا اعجاز حسین چوہان

یہ سچائی ہے چس کو ہم تلخ کہیں یا خوبصورت لیکن ہوتا یہی ہے کہ ہر انسان کو دنیا میں صرف اپنا کردار ادا کرنا ہوتا ہے انسان یاد کئے جانے کے لیے آتا ہی نہیں یا یوں کہنا چاہیے کہ کوئی انسان دوسروں کو یاد کرنے کے لیے نہیں آتا وہ اپنے حصے کا کام کرنے آتا ہے۔ اگر کر جاتا ہے تو دنیا میں نام زندہ رہتا ہے ، نہیں تو تاریخ بڑی بے رحمی سے ورق الٹ دیتی ہے ۔جس دنیا کو آج ہم دیکھ رہے ہیں ۔

اس کو یہاں تک پہچنانے میں ان لوگوں کا ہاتھ ہے جن کا جسم مٹی ہو چکا ہے اور چند ایک کے علاوہ کسی کا نام بھی ہم نہیں جانتے اور وہ چند ایک وہ تھے جو کچھ بڑا کر کے گئے ہیں ، اپنے نام نہیں کام کی وجہ سے یاد کئے جاتے ہیں۔اس لیے انسان کو یہ حقیقت قبول کر لینی چاہیے ۔ لوگوں کو آپ کی صلاحیتیوں اور قابلیت سے کو ئی لینا دینا نہیں ہوتا ۔ تاریخ رقم کرنے والے عمل لکھتے ہیں۔

آپ دنیا میں اپنے جانے کے بعد اس عمل اور اس نیکی سے رہ جاتے ہیں جو کر کے جاتے ہیں اپنے اندر ذہانت کے سمندر لے کے خوبصورت چہرے کے ساتھ، پڑھ لکھ کے اگر عمل نہیں کرتے تو ہم زندہ ہوتے ہوئے بھی مر چکے ہیں۔ کسی مفکر نے کیا خوب کہا ہے کہ آپ کو عمل سے یاد کیا جاتا ہے ورنہ تاریخ کو اس غرض نہیں کہ تم مسجد میں بیٹھے تھے یا شراب خانے میں۔