پی ایس ایل میں کسے سپورٹ کروں؟ محمد عامر خاکوانی

پی ایس ایل کے حوالے سے ابھی تک طے نہیں کر سکا کہ کس ٹیم کا سپورٹر بننا ہے۔ ان ٹیموں میں ایسا کچھ بھی نہیں جو دل موہ سکے اور آدمی بے اختیار سپورٹر بن جائے۔ جب تک مصباح الحق اسلام آباد یونائٹیڈ کے کپتان تھے، میں مصباح کی وجہ سے اس کا حامی رہا۔ کوئٹہ گلیڈایٹر سے بھی کچھ ہمدردی رہی۔

پچھلا سیزن گومگو میں گزرا۔ اس بار بھی یہی لگ رہا ہے ۔ میچز البتہ دیکھنے شروع کر دئیے اور بعض اوقات تو خون کھول اٹھتا ہے۔کراچی کنگز مجھے اس بار اچھی مضبوط ٹیم لگ رہی تھی، مگر پچھلے میچ سے اندازہ ہوا کہ وہ بابر اعظم پر بہت زیادہ انحصار کر رہے ہیں، جس میچ میں وہ جلدی آئوٹ ہوجائے ، اس میں ٹیم بیٹھ جاتی ہے، سب سے بڑی خامی اس کا خودغرض کپتان ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ پہلے میچ میں اس نے اچھی بیٹنگ کی مگر عماد وسیم صرف اپنے کھیل سے غرض رکھتا ہے، اس میں وہ صلاحیت نہیں کہ ٹیم کو چلا سکے۔

پچھلے سیزن میں عماد نے دانستہ عمر خان جیسے نوجوان مگر عمدہ سپنر کو نقصان پہنچانے کی پوری کوشش کی، ایک میچ میں تو اسے کھلا کر بائولنگ تک نہ کرائی، صرف اسی جرم میں عماد وسیم کو ہمیشہ کے لئے کپتانی سے ہٹا دینا چاہیے تھا۔ عماد کو شائد یہ خطرہ لگتا ہے کہ کوئی لیفٹ آرم سپنر کامیاب ہوگیا تو قومی ٹیم میں اس کی موجودگی خطرے میں پڑ جائے گی۔ اسے یہ بھی سمجھ نہیں آ رہی کہ افتخار احمد اچھی فارم میں ہے اور لمبے چھکا لگا سکتا ہے، وہ اسے اتنا لیٹ بھیج رہا ہے کہ افتخار زیادہ کچھ نہیں کر پا رہا۔ پچھلے میچ میں افتخار سے بائولنگ بھی نہیں کرائی، ارشد اقبال کو بار بار اوور دیتا رہا جو ناکام ہورہا تھا۔ عماد کے ہوتے ہوئے کراچی کنگ کے لئے فائنل تک پہنچنا آسان نہیں۔

اسلام آباد یونائٹیڈ کے لئے اس بار پھر سے حمایت کرنے کا جی چاہ رہا ہے، وجہ اسکا پرجوش اور قائدانہ صلاحیتوں سے مالا مال کپتان شاداب خان ہے۔ پچھلے میچ میں شاداب نے لیڈنگ فرام فرنٹ کی اعلیٰ مثال قائم کی اور جاندار ہٹنگ کر کے اپنے فیصلے کو درست ثابت کیا، بائولنگ بھی اچھی کرائی، سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ میچ کے انتہائی جذباتی سنسنی خیز لمحات میں بھی بالکل پرسکون بیٹھا رہا۔ یہ اچھے لیڈر کی خوبیاں ہیں، مصباح خود بھی پرسکون رہنے والا کوچ ہے۔

اسلام آباد میں آخری نمبر تک فائٹنگ سپرٹ ہے ، یہ آگے جا سکتی ہے۔پشاور زلمی میں کرنٹ ہے، بائولنگ اس کی اچھی ہے، ٹاپ آرڈر بھی کلک کر رہی ہے، مگر زلمی کا معاملہ بھی وہی ہے کہ اہم میچز میں کامران اکمل یا اس کے ٹاپ پرفارمر ٹھس ہوجاتے ہیں۔ زلمی ویسے آگے تک جاتا نظر آ رہا ہے۔ زلمی کے حوالے سے مجھے ایک بات کا شبہ تھا، اب کنفرم ہوتا لگ رہا ہے کہ وہاب ریاض بال ٹمپرنگ کرتا ہے۔ مجھے خود حیرت تھی کہ وہاب کی گیند پی ایس ایل میں سوئنگ بھی ہوتی ہے، ریورس سوئنگ یارکر بھی کراتا ہے جبکہ انٹرنیشنل کرکٹ میں یہ بات نظر نہیں آتی۔ اب اس عماد وسیم اور سرفراز دونوں نے یہی الزام لگایا ہے۔

ملتان سلطان کا مالک جس قدر عقل وہوش سے عاری ہے، ویسی اس کی ٹیم کھیل رہی ہے۔ جس شخص کو اتنا معلوم نہ ہو کہ کپتان اسے بناتے ہیں جس کی ٹیم میں جگہ بنتی ہو۔ شان مسعود کی قومی ٹی ٹوئنٹی ٹیم میں جگہ نہیں بنتی، کبھی بھی شائد نہ بنے۔ اسے ملتان نے کپتان بنا دیا، معلوم نہیں کیوں؟ پھرا ن کی ٹیم میں بھی وہ بیلنس نہیں جیسا کہ ہونا چاہیے ۔ پچھلی بار شعیب ملک کپتان تھا، اس بار اس کی چھٹی، حالانکہ ملک نے لیگز میں اچھا پرفارم کیا۔ ملتان سلطان آخری دونوں نمبروں میں سے کسی ایک کا امیدوار لگ رہا ہے، اس بار انہوں نے کوچ اچھا لیا ،مگر چند دنوں میں کوچ کیا کر سکتا ہے ؟

کوئٹہ گلیڈی ایٹر میں ہمیشہ کی طرح سپارک ہے، سرفراز اس بار پرفارم کرنے کے موڈ میں ہے، شان واٹسن ، جیسن رائے کسی بھی بڑے میچ میں پرفارم کر سکتے ہیں جبکہ معین خان کے بیٹے نے ہر ایک کو حیران کر دیا ہے، انورعلی بھی ٹھیک کھیل رہے ہیں، سب سے بڑھ کر پی ایس ایل کے دو تیز ترین بائولرز نسیم شاہ اور حسنین وہاں ہیں، سرفراز ٹی ٹوئنٹی میں بائولرز کو بہت اچھا استعمال کرتا ہے۔ کوئٹہ بھی ٹاپ فور میں آئے گی، فائنل تک جا سکتی ہے۔ پلے آف یا فائنل میچز میں تو وہی بات ہے کہ جو اس دن اچھا کھیلے گی، جیت جائے گی، اس میں کچھ مقدر کا کردار بھی ہوتا ہے۔ کوئٹہ بہرحال پرفارم کرنے کی نیت سے آئی ہے۔

سب سے بڑھ کر یہ کہ عمر اکمل کی نحوست ٹیم سے دور ہوچکی ہے۔ اب یقیناً کچھ نہ کچھ اچھا ہی ہوگا۔لاہور قلندر کی ہمیشہ کی طرح سمجھ نہیں آ رہی۔ ایک تو مجھے یہ پتہ نہیں چل سکتا کہ عاقب جاوید نے رانا برادران پر کیا جادو چلا رکھا ہے؟ عاقب اچھے بائولنگ کوچ ہیں،مگر بطور ہیڈ کوچ وہ اپنے آپ کو منوا نہیں سکے۔ ان کی غلطیوں کی وجہ سے ہر بار لاہور قلندر کمزور کمبی نیشن کے ساتھ میدان میں اترتے ہیں ، ہر بار آخری نمبر پر ٹیم رہتی ہے، مگر رانا فواد اگلی بار پھر عاقب ہی کو سب ذمہ داری سونپ دیتا ہے۔

رانا ایک سوراخ سے آخر کتنی بار ڈسا جائے گا؟ عاقب اچھا بائولنگ کوچ ہے، اس نے قلندرز کے لئے نئے اچھے فاسٹ بائولرز تلاش کئے، یہ کریڈٹ عاقب کا ہے۔ شاہین شاہ سے حارث رئوف اوراس بار نیا فاسٹ بائولر دلبر، یہ سب اچھے ہیں، مگرعاقب کی خامی یہ ہے کہ وہ پی ایس ایل کے مضبوط سپن اٹیک نہیں بنا پاتا۔ تین چار اچھے فاسٹ بائولرز کھلا دیں، آپ بیٹنگ پچز پر کوالٹی سپنرز کے بغیر میچ نہیں جیت سکتے، سپنر وکٹ لے کر دیتے ہیں، فاسٹ بائولرز بہت بار بریک تھرو نہیں لے پاتے۔

ان کے پاس حفیظ ہی سپنر بچا ہے جو اوسط درجے کا بائولر بن چکا، سمت پٹیل چلا ہوا کارتوس ہے، پچھلا میچ ہرانے میں اس کا اہم حصہ رہا۔ سہیل اختر کو کپتان بنانا ایک اور انتہائی احمقانہ فیصلہ ہے۔ جو کھلاڑی انٹرنیشنل سطح پر کھیلا ہی نہیں وہ بڑے سٹارز سے کس طرح کام لے سکتا ہے؟ کیا سہیل اختر محمد حفیظ کو کچھ کہہ سکتے ہیں یا دیگر غیر ملکی کھلاڑیوں کو؟ قلندرز کے پاس حفیظ ایک اچھی چوائس تھی، حفیظ قومی ٹیم میں بھی آ چکا تھا، اس نے پرفارم بھی کر دیا۔ وہ تجربہ کار کپتان بھی ہے اور پی ایس ایل میں خود کو منوانے کے لئے کوشش بھی کرتا۔ سہیل اختر غریب پر اس کی اوقات سے زیادہ بوجھ ڈال دیا گیا۔ قلندر کی ناکامیوں میں قسمت سے زیادہ ان کی اپنی غلطیوں کا حصہ ہے ۔

لاہور قلندر کی ناکامی ہم لاہوریوں کے لئے شدید فرسٹریشن اور شرمندگی کا باعث بنتی ہے۔ لاہور جیسا شہر جس کا قومی ٹیم میں اتنا بڑا حصہ ہے، وہ پی ایس ایل میں اتنا ناکام ثابت ہوگا، یہ کبھی سوچا نہیں تھا۔ میرا چھ سالہ بیٹا عبداللہ پی ایس ایل کے میچز دلچسپی سے دیکھ رہا ہے، اسے ہر ٹیم کا نام یاد ہے، کپتانوں کو وہ شکل سے پہچان لیتا ہے۔ وہ پچھلے دو برسوں سے کوئٹہ گلیڈی ایٹر کا حامی ہے، زلمی کے لئے بھی اس کا نرم گوشہ ہے۔

اپنی ماں کو وہ ہمیشہ یہ کہتا ہے کہ آپ ملتان سلطان کی حمایت کرو، ملتان کا حشر دیکھ کر وہ ظاہر ہے یہ غلطی نہیں کرتی، وہ اسلام آباد کی حامی ہے ۔ عبداللہ سے اگلے روز بات ہو رہی تھی، اسلام آباد کے میچ میں میں نے کہا کہ لاہور قلندر کو جیتنا چاہیے ، اس پر بڑا برا سا منہ بنا کر کہنے لگا کہ قلندر تو بالکل ہی نہیں جیتیں گے، ان کی سپورٹ نہ کریں۔

میں نے کہا کہ تم قلندر کے لئے دعا تو کرو، بڑی بے چارگی سے عبداللہ نے جواب دیا، بابا دعا تو میں اس کے لئے بہت زیادہ کرتا ہوں، مگر لاہور قلندر دعا سے بھی نہیں جیت رہے۔ تو آخری بات یہی ہے کہ قلندروں پر دعا بھی بے اثر ثابت ہو رہی ہے۔

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */