آنکھ حیران ہے کیا شخص زمانے سے اُٹھا - محمد عبدالشکور

اُس نے بہت کٹھن حالات میں کراچی کی میئر شپ سنبھالی ۔ سندھ کا گورنر عشرت العباد ایم کیو ایم کا نمائندہ تھا اور ایم کیو ایم جب چاہتی شہر کو لاک ڈاؤن کر دیتی تھی ۔ خوف و ہراس کا عجیب عالم تھا ۔ طرُفہ تماشہ یہ کہ ملک میں جنرل مشرف حکمران تھا ، جسے جماعت اسلامی ایک آنکھ نہ بھاتی تھی ۔

نعمت اللہ خاں نے بہت حوصلے، تدبر اور منصوبہ بندی سے اپنی ٹیم کے ہمراہ کراچی شہر کی قسمت بدلنے کے کام کا آغاز کیا۔ پھر اوور ہیڈ برج بننے شروع ہوئے۔ پارکوں کی رونقیں بحال ہوئیں، صحت اور صفائی کے محکموں میں غیر معمولی بہتری آئی اور کراچی ایک بار پھر روشنیوں کا شہر بنتا چلا گیا۔ کسی نئے ٹیکس کو متعارف کرائے بغیر کراچی کا بجٹ چار گنا بڑھ گیا۔ ان خوبصورت تبدیلیوں نے دل و دماغ بھی مسخّر کرنے شروع کر دئے۔ مشرف کا لب و لہجہ بدلا اور نعمت اللہ کے کام کی تعریف کئے بغیر نہ رہ سکا۔ عشرت العباد نے تو بارہا خراجِ تحسین پیش کیا۔ شہر کا کٹّڑ سے کٹڑ مخالف بھی اس اُجلے کردار کو سرِ عام یا زیرِ لب قبول کرتا چلا گیا۔ ایک انٹرنیشنل سروے نے ایشیا کے چار شہروں کے سن 2000 کے پہلے عشرے میں غیر معمولی کارکردگی دکھانے والے چار میئرز کے نام شائع کئے۔ یہ نام بالترتیب یوں تھے، استنبول کے مئیر طیب اردگان، تہران کے مئیر احمدی نژاد ، کراچی کے مئیر نعمت اللہ خاں اور شنگھائی کے مئیر۔۔ نعمت اللہ کراچی کی مئیر شپ سے فارغ ہوئے تو انہوں نے الخدمت فاؤنڈیش کے رضاکاروں کو منظم کرنے کا آغاز کیا۔ اسی عرصے میں آزاد کشمیر اور کے پی میں تاریخ کا خوفناک زلزلہ آیا۔ خان صاحب نے اپنے بے لوث ورکرز کے ہمراہ محبت، خدمت اور عزم و ہمت کی نئی داستانیں رقم کیں۔

یہ بھی پڑھیں:   شہر قائد میں بابائے کراچی رخصت ہوئے- حسین اصغر

اس عرصے میں الخدمت ریلیف اور بحالی کی ایک بڑی تنظیم کے طور ہر اُبھری۔ خاں صاحب پیرانہ سالی کے باوجود میلوں پیدل چلتے، پانیوں اور برفوں میں اُترتے، متاثرین کو سنبھالتے اور اپنے ہمراہی رضاکاروں کو عزم و ہمت کا پیکر بناتے جاتے۔ تھر (سندھ) میں قحط سالی نے پنجے گاڑے تو خاں صاحب اونٹوں اور کیکڑوں پہ سوار ہو کر وہاں پہنچتے رہے، قحط اور خُشک سالی نے زیر زمیں پانی بھی پہنچ سے بہت دور کر دیا۔ تب خاں صاحب نے تھر پارکر کے دیہاتوں میں پانی کے سینکڑوں کنویں کھُدوائے، کئی مقامات پرانسانوں اور مویشیوں کے لئے غذا اور دوا کے بندوبست کئے۔ ہندوؤں اور مسلمانوں میں کسی تمیز کو روا رکھے بغیر وہ ہر ضرورت مند کے مسیحا بنے۔ تھری لوگ انہیں بلا امتیاز اپنا گُرو اور پیر مانتے تھے۔مجھے اس غظیم انسان کے ساتھ آسٹریلیا سفر کی سعادت ملی۔ کراچی سے اعجاز اللہ خاں اور راشد قریشی بھی ہمراہ تھے۔دونوں ہی خاں صاحب کی خدمت بیٹوں کی طرح کرتے رہے۔ ہم ان کے چہرے پر طویل سفر اور پیرانہ سالی کے باعث تھکن کے آثار دیکھتے تو انہیں کچھ آرام کر لینے کا مشورہ دیتے، جسے وہ اکثر ہنس کر ٹال دیتے اور ساتھ ساتھ چلنے پر اصرار کرتے۔

ہمیں سِڈنی سے ملبورن کا سفر درپیش تھا جو سڑک کے راستے تقریباً دس گھنٹے کا تھا، ہم نے سوچا خاں صاحب کو بائی ایر بھج دیا جائے اور باقی سب لوگ بائی روڈ جائیں۔ ٹکٹ کا بندوبست ہو گیا۔ خاں صاحب کو پتا چلا تو انہوں نے بائی ایر جانے سے انکار کر دیا اور ہمارے ہمراہ بائی روڈ جانے پر اصرار کیا۔
ہمیں مجبوراً ان کی بات ماننا پڑی ۔راستے میں ہم جب آرام کے لئے رُکتے تو خاں صاحب ہمیں مخاطب کر کے کہتے۔” دیکھو میں تمہیں فریش لگ رہا ہوں یا نہیں؟” سچ یہ ہے کہ خاں صاحب کے اس عزم و ہمت کے مقابلے میں ہم سب جوان ہیچ تھے۔ نعمت اللہ خاں یقیناً ایک بڑے انسان تھے، آٹھ سال کی عمر میں یتیم ہوئے۔ سترہ سال کی عمر میں پیدل چل کر تن تنہا پاکستان پہنچے، کئی راتیں فٹ ہاتھ پہ گزاریں، پھر جھونپڑی میں شفٹ ہوئے ، ٹائپ کرنا سیکھا، کلر کی کی، سٹریٹ لائٹ میں پڑھا ، ایل ایل بی کا امتحان پاس کیا۔بالآخر ٹیکس لاء میں مہارت حاصل کی۔جماعت اسلامی کا حصہ بنے اور پھر اس مشن کو زندگی کا اوڑھنا بچھونا بنا لیا۔
نام و نمود سے بے نیاز صاف ستھرا اور اُجلا کردار لئے آج اپنے چہیتے رب کے پاس پہنچ گئے ہیں، ایسے عالم میں کہ ملک اور شہر کراچی کا ہر باشندہ نم ناک آنکھوں سے اس کے صاف ستھرے کردار کی گواہی دینے کے لئے تیار کھڑا ہے۔
ایک سورج تھا جو تاروں کے گھرانے سے اُٹھا
آنکھ حیران ہے، کیا شخص زمانے سے اُٹھا