روہی‘ ٹوبے اور پیلوں- خالد مسعود خان

یہ جو صحرائے چولستان ہے‘ یہ وسیب اور خواجہ فرید کی ''روہی‘‘ ہے۔ خواجہ غلام فرید نے اس خشک اور بے آب و گیاہ سینکڑوں میل پر مشتمل ریت کے سمندر کو اپنی شاعری میں سمو کر ایسے رنگ میں رنگ دیا ہے کہ یہ بے رحم صحرا خوبصورتی کا استعارہ بن گیا ہے‘ اسی روہی کے حوالے سے خواجہ نے ''پیلوں‘‘کو شاعرانہ تعلی سے اس مقام تک پہنچا دیا ہے کہ میں خود حیران ہوتا ہوں کہ پیلوں میں ایسی کیا بات ہے کہ روہی کی حسین جٹیاں گاتی ہیں کہ ''آ چنوں رل یار‘ پیلوں پکیاں وے‘‘ (اے دوست! آؤ مل کر پیلو چنتے ہیں)۔ میں نے بچپن میں پہلی مرتبہ پیلوں کھانے کے لیے شہادت کی انگلی اور انگوٹھے کو ملا کر اسے اٹھانے کے بعدتھوڑا زور سے پکڑا تو ایک ہلکی سی ''پچاک‘‘ ہوئی۔ پیلوں پھٹا اور ہلکا جامنی سیال‘ جس میں نہایت باریک بیج تھے ‘میرے منہ پر گرا۔ ہاتھوں میں صرف پیلوں کا چھلکا رہ گیا۔ ایمانداری کی بات ہے کہ پیلوں سے تعلقات تو اسی لمحے خراب ہو گئے۔ ایک سرائیکی کہاوت ہے کہ ''بھاندے دی ہر شے بھاندی اے‘ تے أن بھاندے دی کئی شے نئیں بھاندی‘‘ (جو اچھا لگے تو اس کی ہر چیز اچھی لگتی ہے اور ناپسندیدہ کی ہر چیز بری لگتی ہے) ۔سو ‘اس پہلے تجربے کے طفیل پیلوں سے تو تعلقات خراب ہو ہی گئے تھے‘ اس کا ذائقہ بھی اچھا نہ لگا۔

چھوٹی چھوٹی جھاڑیوں پر سبز سے ہلکے اور پھر گہرے جامنی رنگ میں تبدیل ہو جانے والا یہ صحرائی ''پھل‘‘ مٹر کے چھوٹے دانے کے برابر ہے۔ میں نے اسے پھل واوین میں اس لئے لکھا ہے کہ مجھے پیلوں پھل نہ لگنے کے باوجود اس کا کوئی مناسب متبادل لفظ بھی نہیں مل رہا۔یاد رہے کہ میں نے بڑے ہو کر ایک بار پھر پیلوں کو کھا کر اس سے تعلقات خوشگوار کرنے کی کوشش کی‘ مگر یہاں ایک پنجابی کہاوت آڑے آ گئی کہ ''کھاؤ من بھاندا‘ تے پاؤ جگ بھاندا‘‘ یعنی کھاؤ وہ جو دل کو بھائے اور پہنو وہ جو زمانے کو بھاتا ہو۔ سو‘ پیلوں سے کھانے پینے کی حد تک ناطہ ٹوٹ گیا۔ میں ویسے بھی کھانے کے معاملے میں صرف اور صرف زبان کی سنتا ہوں کہ آخر قادر مطلق نے یہ شے منہ میں بیکار نہیں لگائی۔
میں پھل ویسے ہی بہت کم کھاتا تھا ‘پھر سات سال پہلے پھل کھانا بالکل ہی چھوڑ دیئے۔ کامل چار سال تو یوں رہا کہ اپنی پسندیدہ ترین کھانے والی شے انور رٹول آم کی ایک قاش بھی منہ میں نہ ڈالی‘ پھر یوں ہوا کہ تین سال پہلے گھر میں آموں کی سب سے شوقین چھوٹی بیٹی نے آم کھانے سے انکار کر دیا اور وہ بھی اس طرح کہ چھلکا اتار کر‘ آم کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر کے میرے پاس لے آئی اور سامنے رکھ کر کہنے لگی؛ اگر آپ کھائیں گے تو میں کھاؤں گی ‘وگرنہ اسی طرح پڑے رہیں گے۔ قسم تو کھائی نہیں تھی۔ بس جیسے چھوڑے تھے‘ ویسے ہی کھا لئے۔ اب پھل کھا لیتا ہوں‘ لیکن ایسے کہ سیزن میں پہلی بار کینو ملک خالد کے ساتھ دھوپ میں بیٹھ کر دو ہفتے پہلے کھایا۔ چیکو پسند تھا ‘لیکن اسے خریدنے کا اہتمام کون کرے؟ چھوٹی بیٹی کو چیکو پسند نہیں‘ لہٰذا کئی سال سے چیکو نہیں کھایا۔

اسد اور چھوٹی بیٹی کیلا بالکل نہیں کھاتے۔سو‘ اس پھل کا گھر میں داخلہ ممنوع ہے۔ آج کل گھر صرف سٹرابری اور سٹرس (کنو‘ مالٹا اور مسمی) آتا ہے۔ چولستان ڈیزرٹ ریلی سے واپس آ کر میں نے ایسے ہی بیٹھے بیٹھے چھوٹی بیٹی سے پوچھا کہ کیا اس نے پیلوں کبھی کھایا ہے؟ وہ بڑی حیرانی سے مجھے دیکھنے لگ گئی اور پھر پوچھا کہ یہ کیا ہوتا ہے؟ مجھے یاد آیا کہ چوک شہیداں والے گھر کے پاس اماں حجانی کے کھیتوں کے ساتھ ایک ٹیلہ تھا‘ جس پر دو تین پرانی قبریں تھیں اور اس جگہ کو ''شہیداں‘‘ کہا جاتا تھا۔ لوگ دن میں بھی یہاں کم ہی جاتے تھے‘ لیکن ہم یہاں بلاجھجک مغرب تک کھیلتے تھے۔ یہاں گوندی کے درخت ہوتے تھے اور پرانی فلور مل کی دیوار کے ساتھ پیلوں کے پودے ہوتے تھے۔ میرے علاوہ دیگر بچے بڑے ذوق و شوق سے پکے ہوئے پیلوں چن چن کر کھاتے تھے۔ایک ہندو کی چھوڑی ہوئی وسیع و عریض فلور مل آہستہ آہستہ پہلے میدان بنی۔ آخری نشانی اینٹوں والی بلند و بالا ہشت پہلو چمنی تھی۔ آخر میں وہ بھی زمین بوس ہوئی اور پھر شہر کے ریلوے سٹیشن کے پہلو میں واقع ریلوے مال گودام سے متصل اس فلور مل کا وسیع میدان کالونی میں بدل گیا۔ ہر جگہ یہی ہو رہا ہے۔ محسنؔ نقوی نے کیا خوب کہا ہے۔؎

کبھی تو محیط حواس تھا‘ سو نہیں رہا
میں تیرے بغیر اداس تھا‘ سو نہیں رہا
میری وسعتوں کی ہوس کا خانہ خراب ہو
میرا گاؤں شہر کے پاس تھا‘ سو نہیں رہا
قارئین! ایک بار پھر معافی کا خواستگار ہوں۔ کہاں سے کہاں چلا گیا‘ میں کیا کروں؟ شاید یہ بڑھتی ہوئی عمر کے سبب ایسا ہو رہا ہے۔ وللہ عالم۔ بات ہو رہی تھی کہ میں نے چھوٹی بیٹی سے پوچھا کہ اس نے کبھی پیلوں کھایا ہے؟ مجھے علم ہے کہ پیلوں کو اردو میں ''پیلو‘‘ کہتے ہیں‘ مگر جو مزا پیلوں لکھنے‘ بولنے اور پڑھنے میں ہے ‘وہ پیلو میں نہیں۔ سو ‘میں اسے پیلوں ہی لکھ رہا ہوں۔
عشرے گزرے میں لال سوہانرا کے ریسٹ ہاؤس میں ٹھہرا ہوا تھا۔ سردیاں تھیں اور رات کڑاکے کی سردی پڑ رہی تھی۔ ریسٹ ہاؤس کے سامنے نہر کے پار وسیع و عریض جھیل تھی۔ خود بنائی ہوئی جھیل۔ اس جھیل کی سطح پر ہزاروں کنول کے پھول تھے۔ میری دونوں بیٹیاں تب بالکل چھوٹی تھیں۔ میں نے کنول کا بڑا چھاج نما پتا توڑا اور اس پر چلو بھر پانی ڈالا۔ پانی اس پتے پر ایسے پھسلتا تھا‘ جیسے پارہ ہاتھ پر۔ پتا بالکل خشک تھا۔

بچوں کو تو گویا کھیل مل گیا۔ اس ریسٹ ہاؤس سے میاں نواز شریف کے حوالے سے بڑی کہانیاں تھیں اور وہاں کے چوکیدار پوچھے بغیر سرگوشیوں میں یہ کہانیاں سناتے تھے۔ اللہ جانے کتنا سچ اور کتنا جھوٹ۔ کتنا مرچ مسالا اور کتنی حقیقت۔ اس ریسٹ ہاؤس کے ایک طرف لائن سفاری تھی اور دوسری طرف صحرا۔ چولستان‘ تھل اور تھر۔ یہ تینوں ریگستانوں کی شکل‘وضع قطع اور بناوٹ ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ علی الصبح ہم ریگستان میں نکل گئے۔ ساتھ گائیڈ تھا کہ ہم راستہ نہ بھول جائیں۔ صحرا میں راستہ بھولنا بڑا خوفناک ہے۔ ہمارا ایک دوست شکار کے دوران جیپ خراب ہونے اور پھر راستہ بھول جانے کے باعث پیاس اور گرمی سے اپنی جان سے چلا گیا تھا۔
ہم ایک ٹوبے پر (ریگستان میں بارش کے پانی پر مشتمل تالاب) گاڑی سے اترے‘ کنارے پر بیٹھے آدھ آدھ کلو وزنی گلے پھلاکرٹرانے والے مینڈک پانی میں کود گئے۔ کومل سارہ نے پوچھا؛ یہ پانی کس کام آتا ہے؟ میں نے کہا؛ یہاں پانی زندگی ہے۔ یہ پانی سامنے والی آبادی (چند گھروں پر مشتمل صحرائی دیہات) کے رہائشی مرد و زن اور بچے پیتے ہیں۔ ان کی گائیں اور بکریاں پیتی ہیں۔ سارہ نے پوچھا؛ یہ مینڈکوں والا پانی؟ میں نے کہا ؛بالکل یہی پانی۔

سارہ کہنے لگی ؛مجھے پیاس لگی ہے‘ مگر یہ پانی نہیں پیوں گی۔ سامنے والے گھر سے ایک خاتون ایلومینیم کے جگ میں روہی کی گائے کا دودھ لے آئی۔ بچوں نے پہلے تو انکار کیا ‘پھر پی لیا۔ دودھ پی کر پوچھنے لگے ؛یہ کس چیز کا دودھ تھا؟ میں نے کہا؛ گائے کا۔ سوال ہوا ایسا دودھ ملتان میں کیوں نہیں ملتا؟ میں نے کہا ؛یہ دودھ صرف روہی میں ہی مل سکتا ہے۔ روہی میں کوئی غربت سی غربت ہے‘ لیکن دل اتنا بڑا کہ دودھ کے پیسے دیئے تو خاتون نے لینے سے صاف انکار کر دیا۔ سارہ نے پوچھا ؛یہاں نہ سبزہ ہے‘ نہ پانی‘ نہ نوکری کی سہولت ہے‘ نہ کاشتکاری‘ نہ کاروبار اور نہ ہی کوئی کام‘ لوگ اس گرمی میں (دن چڑھتے ہی دھوپ کی تمازت نے اپنا رنگ دکھانا شروع کر دیا تھا) اس صحرا میں کیوں رہتے ہیں؟ کہیں اور کیوں نہیں چلتے جاتے؟ میں نے کہا؛ یہ بات ابھی میری سمجھ میں نہیں آئی‘ تمہیں کیا بتاؤں! سچی بات ہے کہ یہ بات آج بھی میری سمجھ سے بالاتر ہے‘ لیکن روہی کی گائے کا دودھ آج بھی ویسا ہی لذیذ ہے اور مزیدار ہے۔ اتنا مزیدار کہ مثال دینے کیلئے کوئی مثال ہی سمجھ میں نہیں آ رہی۔