یونیسکو سے فریاد - اوریا مقبول جان

بھارت میں وزیر اعظم نریندر مودی کے برسر اقتدار آنے سے قبل یا اسکے فوراً بعد کشمیر، بھارتی مسلمانوں اور پاکستان کے حوالے سے جو خدشات ظاہر کئے جا رہے تھے ، ایک ایک کرکے وہ سبھی درست ثابت ہو رہے ہیں۔ غالباً2014 ء اور 2015ء میں جب ان خطرات سے آگاہ کرانے کیلئے میں نے مودی کا کشمیر روڑ میپ ، کشمیر میں ڈوگرہ راج کی واپسی وغیرہ جیسے موضوعات پرکالم لکھے توکئی افراد نے قنوطیت پسندی کا خطاب دیکر مجھے یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ کانگریس کی کمزور اور پس وپیش میں مبتلا سیکولر حکومت کے برعکس بھارت میں ایک سخت گیر اور خبط عظمت کے شکار حکمران کو رام کرنا یا شیشے میں اتارنا زیادہ آسان ہوگا ۔

اس سلسلے میں بار بار 1977 ء سے 1979 ء کی مرارجی ڈیسائی کی جنتا پارٹی حکومت اور پھر 1998ء سے 2004ء تک بھارتیہ جنتا پارٹی کی زیر قیادت اٹل بہاری واجپائی کے دور کی یاد دلائی جاتی تھی۔ حیرت تو مجھے تب ہوئی جب ڈوگرہ راج کی واپسی کے کالم پر آزاد کشمیرسے تعلق رکھنے والے چند دانشور وں نے تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کالمز میں لکھی ہوئی پیش گوئیوں کے صحیح ثابت ہونے سے خود مجھ پر ہی لرزہ طاری ہوجاتا ہے۔ ان کالمز کے ماخذ خیالی گھوڑے نہ ہی کوئی بشارت غیبی تھی، بلکہ مختلف لیڈروں کی آف دی ریکارڈ یا آن دی ریکارڈ بریفنگ پر مبنی معلومات ہوتی تھیں۔ مجھے یاد ہے 2014 ء کے عام انتخابات سے قبل جب موجودہ وزیر داخلہ امیت شاہ کو اہم انتخابی صوبہ اتر پردیش کا انچارج بنایا گیا ، تو راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر مرحوم ارون جیٹلی نے قومی میڈیا کے چند چنیدہ صحافیوں اور دہلی کے دیگر عمائدین سے ان کو متعارف کروانے اور ملاقات کیلئے اپنی رہائش گاہ پر ضیافت کا اہتمام کیا تھا۔ اس سے قبل شاہ گجرات صوبہ کے وزیر داخلہ کی حیثیت سے فسادات، سہراب الدین اور انکی اہلیہ کا پولیس انکاونٹر کروانے اور اسکی پاداش میں جیل کی ہوا کھانے اور پھر عدالت کی طرف سے تڑی پار ہونے کیلئے ہی مشہور تھے۔

اس تقریب میں مجھے یاد ہے کہ وہ ہندوستان ٹائمز کے ایک ایڈیٹر ونود شرما پر خوب برس پڑے کہ وہ ہر وقت ان کے خلاف ہی کیوں لکھتے رہتے ہیں۔ ان کی گفتگو سے اندازہ ہوگیا تھا کہ مودی کا دور اقتدار واجپائی حکومت سے مختلف ہوگا۔ واجپائی حکومت میں جارج فرنانڈیز ، جسونت سنگھ اور دیگر اتحادیوں کی شکل میں جو ایک طرح کا کشن تھا، اسکی عدم موجودگی میں ہندو انتہاپسندو ں کی مربی تنظیم آرایس ایس اپنے ایجنڈہ کو لاگو کرنے میں اب کوئی پس و پیش نہیں کریگی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اکثریت ملتے ہی وہ کشمیر کے حوالے سے بھارتی آئین کی دفعہ 370کو پہلی فرصت میں ختم کر واکے ہی دم لیں گے۔ ان کا ایک اور رونا تھا کہ جموں و کشمیر اسمبلی میں وادی کشمیر کو عددی برتری حاصل ہے۔

اسلئے اسمبلی حلقوں کی حد بندی کچھ اس طرح کروانے کی ضرورت ہے کہ جموں کے ہندو علاقوں کی سیٹیں بڑھ جائیں، جس سے ان کے مطابق سیاسی طور پر کشمیرپر لگام لگائی جاسکے۔ اسکے علاوہ ان کا مشورہ تھا کہ بھارتی مسلمانوں کو بھی سوچ بدلنی پڑے گی ۔ اس سے قبل انڈین ایکسپریس سے وابستہ ایک رپورٹر نے مشرقی اتر پردیش کے شاہ کے دورہ کے دوران کارکنوں کے ساتھ ان کی ایک میٹنگ میں رسائی حاصل کی تھی۔ جہاں وہ ان کو بتا رہے تھے کہ مظفر نگر اور اسکے نواح میں ہوئے فسادات کا کس طرح بھر پور فائدہ اٹھا کر ہندو ووٹروں کو بی جے پی کے حق میں لام بند کرایا جائے۔

بقول رپورٹر انیرودھ گھوشال،و ہ کارکنوں کو خوب کھر ی کھوٹی سنا رہے تھے، کہ مظفر نگر فسادات کا دائرہ دیگر ضلعوں تک کیوں نہیں بڑھایا گیا، تاکہ مزید انتخابی فائدہ حاصل ہوجاتا۔ جیٹلی کے گھر پر ہوئی اس ملاقات میں ان کے جس ارادہ نے سب سے زیادہ میرے ذہن میں خطرے کی گھنٹی بجائی وہ ان کایہ بیان تھا کہ بھارت کی سبھی زبانوں کو زندہ رہنے کا حق تو ہے ، مگر ان کا رسم الخط ہندی یا دیوناگری میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے بھارت کو مزید انٹگریٹ کرنے میں مدد ملے گی۔ کشمیری زبان کا خاص طور پر ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کشمیری مسلمانوں کی منہ بھرائی کرکے اس زبان کو واپس شاردا یا دیوناگری اسکرپٹ میں لانے میں پچھلی حکومتیں لیت و لعل سے کا م لیتی آرہی ہیں۔ پچھلے ماہ 26جنوری کو بھارت کے یوم جمہوریہ کے موقع پر حکومت کی طرف سے اخباروں کو جاری ایک اشتہار پر نظر پڑی ۔ یہ اشتہار بھارتی آئین میں تسلیم سبھی 22شیڈولڈ زبانوں میں شائع کیا گیا تھا۔ بغور دیکھنے پر بھی کشمیر ی یا کاشرٗ زبان نظر نہیں آئی۔ بعد میں دیکھا کہ کسی نامعلوم رسم الخط میں لکھی ایک سطر کے نیچے انگریزی میں لکھا تھا کہ یہ کشمیر ی زبان ہے۔

یعنی سرکاری طور پر باضابط کشمیری یا کاشرٗ کا رسم الخط شاردا میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اب اس میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش ہی نہیں رہی کہ ریاست جموں و کشمیر کو تحلیل کرنے کے بعد اب کشمیری عوام کی غالب اکثریت کے تشخص ،تہذیب و کلچر پر بھارتی حکومت نے باضابط طور پر کاری ضرب لگائی ہے۔پچھلے سال اگست میں ریاست کو تحلیل کرکے اسکو مرکز کے زیر انتظام علاقہ بناکر اس کے آئین کو بھی منسوخ کرنے کے ساتھ ریاست کی سرکاری اور قومی زبان اردو کا جنازہ نکال دیا گیا تھا۔ اردو اب کشمیر کی سرکاری زبان نہیں ہے۔ چونکہ اس علاقے پر اب بھارت کی مرکزی وزارت داخلہ کی براہ راست عملداری ہے، اسلئے اب جموں ،کشمیر و لداخ کی سرکاری زبان ہندی ہے۔پچھلے سال ہی بی جے پی کے چند عہدیداروں نے ایک عرضداشت میں مطالبہ کیا تھا کہ علاقائی زبانوں کا رسم الخط ہندی میں تبدیل کرکے ملک کو جوڑا جائے۔ اس کی زد میں براہ راست کشمیری (کاشئر) اور اردو زبانیں ہی آتی ہیں، جو فارسی۔عربی یعنی نستعلیق رسم الخط کے ذریعے لکھی اور پڑھی جاتی ہیں۔

اسی طرح چند برس قبل ایک موقع پر قومی سلامتی مشیر اجیت دوبال نے کہا تھا کہ کشمیر مسئلہ کا حل تہذیبی جارحیت اور اس خطہ میں ہندو ازم کے احیاء میں مضمر ہے۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ پچھلے سال کشمیر میں گورنر انتظامیہ نے کشمیری ثقافتی لباس پھیرن پابندی لگادی تھی۔ پہلے تو اسے سیکورٹی رسک قرار دیا گیا جسکے بعدتعلیمی و سرکاری اداروں میں عام لوگوں اور صحافیوں کے پھیرن پہن کر داخل ہونے پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔حیرت تو اس بات پر ہے کہ وزیر اعظم مودی جب بھی کسی صوبہ کے دورہ پر ہوتے ہیں تو وہاں کے مقامی لباس و روایتی پگڑی پہن کر عوامی جلسوں کو خطاب کرتے ہیں۔ کبھی کھبی مقامی زبان کے چند الفاظ ادا کرکے عوامی رابطہ بناتے ہیں۔ بس کشمیر یوں کے لباس و زبان سے انکو بیر ہے۔ کسی قوم کو ختم کرنے کیلئے صدیوں سے قابض طاقتوں کا وطیرہ رہا ہے کہ اسکو اسکی تاریخ و ثقافت سے دور کردو۔ کشمیریوں کی نسل کشی کیساتھ کشمیر کی ثقافت کو بھی ختم کرنا اسی منصوبے کا حصہ ہے۔ (جاری ہے)