نعمت اللہ خان صاحب چلے گئے- ملک جہانگیر اقبال

سال تھا 2003 یا 2004 ، ہم محلے والے گیٹ کے باہر کھڑے کسی کا انتظار کر رہے تھے ، آنے والے مہمان کی میزبانی ابو کے ذمے تھی لہٰذا میرا جوش کچھ زیادہ ہی بڑھا ہوا تھا ، پہلے ایک گاڑیوں کا قافلہ آیا جس میں چمچماتی بڑی بڑی گاڑیاں تھیں ، میرے دوست چِلائے کہ یو سی ناظم آگئے ہیں ..

یہ دیکھ کر اپنے ساتھ کھڑے دوست کو غرور بھری نگاہوں سے دیکھا کہ ابو نے مجھے بتایا تھا ہمارے اصل مہمان پورے شہر کے ناظم ہیں ، یہ سوچ سوچ کر ہی دل میں لڈو پھوٹ رہے تھے کہ میرا دوست (جسکے والد پیپلز پارٹی کے علاقائی عہدیدار تھے) اپنے یو سی والے چھوٹے سے ناظم کی گاڑی پہ اتنا اچھل رہا ہے جب ہمارے والے پورے کراچی کے ناظم کی یہ لمبی گاڑی گیٹ سے داخل ہوگی تو اسکی شکل دیکھنے لائق ہوگی اور پھر میں اگلا پورا سال اِسے اپنے مہمان کی شان و شوکت کے قصے سنا سنا کر اسکا جینا حرام کروں گا ، ابھی یہ سب خیالات بُن ہی رہا تھا کہ شور مچنے لگا " ناظم صاحب آرہے ہیں ، ناظم صاحب آرہے ہیں .." ہاتھوں میں پکڑا پھولوں کا ہار ٹھیک کیا اور دماغ میں ریہرسل کرنے لگا کہ کیسے ہار پہنا کر مصافحہ کروں گا وغیرہ وغیرہ ... یکایک گیٹ سے ایک پولیس موبائل نمودار ہوئی .. پھر کچھ واجبِ نظرانداز موٹرسائیکل اندر آئے اور پھر آمد ہوئی شہر ناظم کی شاندار .... یہ کیا؟ یہ کیسی ماچس کی ڈبیا جیسی گاڑی ہے؟ یو سی ناظم لینڈ کروزر پہ آیا اور پورے شہر کا ناظم اس چار فٹ کی گاڑی پہ ؟

یکایک پھولوں کا ہار پیٹھ پیچھے کرلیا کہ اتنے بڑے شہر کے ناظم اور گاڑی ایسی پھٹیچر؟ دوست کمینگی مسکراہٹ کے ساتھ مسکرا رہا تھا اور میں مارے شرم اُسکی طرف دیکھنے سے کترا رہا تھا ... بجھے دل سے ناظمِ شہر کو ہار پہنایا اور مردار سا مصافحہ کیا جواباً اُنہوں نے گال تھپتھپایا اور ابو کے ساتھ آگے بڑھ گئے جہاں یو سی ناظم اور کونسلر وغیرہ کاٹن کے سوٹ و واسکٹ زیب تن کیے کسی ریاست کے والی لگ رہے تھے جبکہ ہمارے ناظمِ شہر انکے سامنے کوئی فریاد گزار بزرگ .. ابو یہ کیسے ناظم تھے ؟ مجھے تو نہیں اچھے لگے ... گھر داخل ہوتے ہی ابو سے گِلہ کیا .."خیر ہو؟ " ابو نے مسکرا کر پوچھا حالانکہ وجہ اُنہیں معلوم تھی . آصف (میرے دوست) کے یو سی ناظم دیکھے آپ نے؟ اور اب ہمارے شہر کے ناظم کو دیکھیں . انکے پاس تو گاڑی بھی چھوٹی ہے .. میں لگ بھگ رونے لگا تھا .. " میرے بچے یہ نعمت اللہ خان صاحب ہیں انکی گاڑی چھوٹی ہے اور کردار وہاں موجود تمام رئیسوں سے لاکھوں گنا بڑا ہے ، جب آپ کسی مسند میں جا بیٹھیں جہاں مخلوقِ خدا آپکی زمہ داری ہو وہاں بڑی گاڑیاں نہیں بڑے کردار انسان کی شان و شوکت طے کرتے ہیں ،

آج تم نے بڑی گاڑیوں میں چھوٹے لوگ اور چھوٹی سی گاڑی میں بہت بڑے آدمی کو دیکھا ہے ..." ابو نے مسکرا کر جواب دیا اور بھلا کیوں نہ مسکراتے؟ علاقے کے وہ مسائل جو ناظم و کونسلر حضرات محض فنڈز کا ذاتی استعمال بروئے کار لانے کی کوششوں کیوجہ سے نظرانداز کیے بیٹھے تھے اُسے ناظم صاحب نے ذاتی دلچسپی سے اپنی نگرانی میں حل کرنے کا کہ دیا تھا اور بقول ابو جی کے نعمت اللہ خان صاحب زبانی جمع خرچ نہیں کرتے جو کہ رہے ہیں وہ کر کے بھی دکھائیں گے ... میں اس وقت بچہ تھا لہٰذا ابو کی باتیں میرے سر سے گزر گئیں ، مجھے عرصہ دراز تک نعمت اللہ خان صاحب سے دِلی شکوہ رہا کہ انہوں نے دوستوں کے سامنے اپنی چھوٹی گاڑی کیوجہ سے میری بے عزتی کردی ہے .. پر جوں جوں وقت گزرتا گیا شعور کی پختگی کے ساتھ اُس لفظ " کردار " کی تعریف سمجھ آتی گئی ، سمجھ آتا گیا کہ بڑی گاڑی میں چھوٹا بندہ ہونے سے لاکھ درجہ بہتر اور قابل فخر بات ہے کہ چھوٹی گاڑی میں موجود بندے کا کردار بڑا ہو ، وہ يو سی ناظم جس کے پاس اُس وقت ایک لینڈ کروزر تھی آج تین لینڈ کروزرز ہیں پر کیا فرق پڑتا ہے؟

کون جانتا ہے اُسے؟ پر میں اور میری آنے والی کئی نسلیں یہ بات فخر سے بتائیں گی کہ ہمارے ابو/ نانا / دادا/پردادا ملک جہانگیر اقبال نے ایک بار نعمت اللہ خان صاحب سے ہاتھ ملایا تھا اور عظیم نعمت اللہ خان صاحب نے ان کا گال تھپتھپایا تھا ... اللہ آپ پر ویسے ہی رحمت کرے اور خیر و سلامتی والا معاملہ فرمائے جیسا آپ نے اُسکی مخلوق کے ساتھ تب فرمایا جب آپ کراچی کے ناظمِ اعلیٰ تھے اور واٹر بورڈ سمیت ایسے کئی ادارے آپکے زیرِ دست تھے جس میں ایک معمولی پانی چور بھی کروڑوں روپے ماہانہ کما لیتا ہے ، وہ تمام پارک بھی آپ ہی کے زیرِ نگرانی تھے جہاں سترہ اٹھارہ گریڈ کا افسر ارب پتی بن جاتا ہے ، کراچی کی وہ زمینیں بھی آپکے ایک سائن کی مار تھیں جہاں ٹٹھ پنجئے کھربوں کما گئے پر آپ.. آپ نے اُس وقت بھی چھوٹی گاڑی میں اپنا کردار بڑا رکھنا زیادہ پسند کیا ، جب تک کراچی قائم رہے گا یا کراچی میں کوئی ایک بھی صاحبِ کردار ، احسان شناس زندہ رہے گا نعمت اللہ خان صاحب کا نام زندہ رہے گا . اللہ پاک آپکی نئی منزل مبارک کرے۔ آمین