ہماری خواتین - سونیا بلال

خواتین کا لفظ سنتے ہی ذہن میں کیا آتا ہے؟اتنے خوب صورت مناظر گھوم جاتے ہیں کہ دل محبت ، عقیدت اور فخر سے سرشار ہو جاتا یے اور آنکھیں نم ہو جاتی ہیں . حسین مناظر ۔۔۔ محبت، ایثار ، بہادری ، حیاء ، علم ، تقوی سے مزین خواتین کے بارے میں پڑھے گئے واقعات کے تخیلاتی مناظر ... ہمارے لئے مشعل راہ ۔۔۔۔۔۔ ہماری خواتین...

پہلا منظر اس عظیم الشان بیوی کا ہے جنھوں نے اپنی محبت ، اپنی دولت، اپنی زندگی اپنے شوہر پر یوں نچھاور کی کہ رہتی دنیا کے لئے مثال بن گئیں ، اور جب بیوی ایسی ہو تو پھر شوپر اس کی جدائی کے سال کو عام الحزن (غم کا سال ) کیوں نہ کہے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا ، جن کے گلے کا ھار سالوں بعد بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں میں آنسو لے آیا مالدار خاتون تاجر ، تسلی دیتیں محبوب بیوی، اپنا مال اللہ کے راستے میں قربان کرتیں سخاوت کی مثال جن کو جبرئیل علیہ السلام اللہ کا سلام پہنچاتے ہیں. "وہ محبت اور قربانی کی مثال بن کر مجھے بتاتی ہیں کہ ایک بیوی کیسی ہوتی ہے". اگلا منظر مجھے کھینچ کر حضرت سمیہ رضی اللہ عنہا کہ طرف لے جاتا ہے , جی ہاں اسلام کی پہلی شہید ،. "جنھوں نے مجھے سکھایا کہ کیسے حق پر ڈٹ جانا ہے" اسلام لانے کے جرم میں ان کو فیملی کے ساتھ رسیوں سے باندھ دیا جاتا اور کوئی ظلم ، کوئی طاقت ان کو ضعیف عمر میں بھی راہ حق سے ہٹا نہ سکی اور ابوجہل کی طرف سے برچھا مار کر شہید کر دیا گیا ۔۔۔

منظر بدل کر اماں عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے گھر آتا ہے جہاں سے علم کے خزانے پھوٹے اور رہتی دنیا تک ہمیں معطر کرتے رہیں گے ، چھوٹی سی عمر اور ذہانت و قابلیت کا حسین امتزاج ، ہماری محسنہ جنھوں نے گھریلو نبوی زندگی کے ہر پہلو پر روشنی ڈالی "انھوں نے مجھے سمجھایا کہ عورت کے لئے علم۔کتنا ضروری اور اہم یے "منظر گھوم کر خاتون جنت سیدہ فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا کے گھر لے جاتا یے جن کی سب سے بڑی شان یہ ہے کہ نہ انھوں نے کبھی کسی نا محرم کو دیکھا ، نہ کبھی کسی نا محرم نے انھیں دیکھا ، سبحان اللہ ... جنتوں کی ملکہ چکی پر آٹا پیس رہی ہیں کبھی اپنے شوہر کے گھر کی صفائی کر رہی ہیں، کبھی مشکیزے میں پانی بھر کر لا رہی ہیں "سیدہ رضی اللہ عنہا کی خوبصورت زندگی نے مجھے حیا اور خدمت کا درس سکھایا"اور وہ جو کچھ لوگ کہتے ہیں نا کہ خواتین کمزور ہوتی ہیں ، انھوں نے شائد ہماری بہادری کی داستانیں نہیں سن رکھیں حضرت صفیہ ، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی تھیں ، ان کا قصہ سنا ؟

غزوہ خندق کے موقع پر صحابیات رضی اللہ عنہم کو نبی علیہ السلام نے ایک قلعہ میں رہنے کا حکم فرمایا اور خود تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ باہر خندق کی کھدائی میں مصروف ہو گئے مدینے کے بدنیت یہودیوں نے معاہدوں کی خلاف ورزی کر کے موقع کا فائدہ اٹھا کر عورتوں پر حملہ کی نیت سے خبر لینے کے لئے ایک جاسوس بھیجا ، حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کو معلوم ہوا تو ایک خیمے کا کھونٹا ہاتھ میں لیا اور اس کا سر کچل دیا اور سر کاٹ کر دیوار پار موجود یہودیوں کے مجمع پر پھینک دیا اور وہ گھبرا گئے کہ یقینا اندر مرد موجود ہیں ، حضرت خنساء رضی اللہ عنہا ، عرب کی بہترین شاعرہ ، ان کا وہ منظر مجھے کھینچتا ہے جس میں وہ قادسیہ کی جنگ میں اپنے بیٹوں کو پہلے قران کی آیات سناتی ہیں اور خون میں جوش پیدا کرنے والی ایک تقریر فرماتی ہیں اور ماں کے ایمان افروز اشعار پڑھتے ہوئے نمبر وار پر بیٹا آگے بڑھتا ہے اور دشمنوں کو سبق سکھاتے ہوئے جام شہادت نوش کرتا جاتا ہے اور ان چار شہداء کی والدہ خنساء رضی اللہ عنہا خبر سن کر شکرانہ ادا کرتی جاتی ہیں، سبحان اللہ

اور وہ منظر خیبر کی جنگ میں حضرت ام زیاد رضی اللہ عنہا سمیت چھ صحابیات جو جنگ کے میدان میں پہنچ گئیں، رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ناپسندیدگی پر فرمایا کہ ہم زخمیوں کو دوا دیں گی ، مجاھدین کو تیر پکڑانے میں مدد کریں گی اور مرہم پٹی کریں گی تو ان کو ٹھہر جانے کی اجازت ملتی ہے ، ولولہ ، جوش، ایمان، بہادری اور حنین کی لڑائی میں ام سلیم رضی اللہ عنہا خنجر ساتھ لئے پھرتیں کہ اگر کوئی کافر قریب آیا تو جہنم واصل کر دوں گی. اور احد کی لڑائی کا منظر جب حضرت عائشہ اور حضرت ام۔سلیم رضی اللہ عنہما مستعدی سے مشک میں پانی بھر کر لاتیں اور زخمیوں کو پلاتیں اور حضرت ام حکیم رضی اللہ عنہا جن کی روم کے سفر کے دوران ہی شادی ہوئی اور دشمنوں کے حملہ کرنے پر جنگ کے دوران خاوند شہید ہو گئے اور خود نھوں نے سات آدمیوں کو تن تنہا قتل کیا. اور حضرت ام عمارہ کی بہادری ، سبحان اللہ ، ہر لڑائی میں شریک رہیں، زخمیوں کو پانی پلانے پر ، دوا دینے کا کام سرانجام دیتیں اور اسی دوران ایک جنگ میں ان کا کندھا زخمی ہو گیا اور کسی جنگ میں ڈھال پکڑ کر دشمنوں کے وار روکتیں اور ان کے گھوڑوں پر حملہ کرتیں، جن وہ گرتے تو نمٹا دیتیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی ہمت کی تعریف اور دعا فرمائی ، جنگ یمامہ میں شہید ہوئیں ۔۔۔۔۔

نو عمر اسماء رضی اللہ عنہا والد اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ہجرت کے پڑاو غار ثور پر کھانا لے کر جایا کرتیں، جہاں جاتے ہوئے آج جوان مرد بھی ہانپ جاتے ہیں ۔ کس نے سکھائیں ان سب کو یہ خدمت ، قربانی ، حیا، بہادری، علم ایمان کی طاقت نے اور اسلام کی قوت نے ۔دین کے لئے قربانیوں کے قصے سنے ؟؟بہت خوبصورت منظر ہیں ۔ حضرت عمرو بن جموح پاوں سے لنگڑے تھے، ان کے چار بیٹے احد میں شریک ہو رہے تھے لیکن ان کو لوگوں نے کہا آپ معذور ہیں، آپ خود شرکت نہ کریں تو بیوی نے ابھارنے کے لئے طعنہ کے طور پر کہا کہ آپ لڑائی سے بھاگ رہے ہیں تو فورا ہتھیار لے کر اٹھے اور جنگ میں شریک ہوئے ، وہ صحابیات تھیں، اپنے شوہروں کو اللہ کے راستے میں بھیجنے والی، ابھارنے والی ۔۔۔۔۔ وہ جانتی تھیں کہ ہمارے شوہرصرف باپ اور خاوند پی نہیں بلکہ اللہ کے بندے اور رسول اللہ کے امتی بھی ہیں اور ان پر اللہ اور دین کا بھی حق ہے۔ واللہ وہ عظیم خواتین یہ قربانیاں نہ دیتیں تو آج ہمیں کلمہ کی دولت ماوں کی گودوں میں نہ ملتی ، دین اسلام کی داعیہ ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ بہن کی دعوت دین پر مسلمان ہوئے اور حضرت عثمان غنی خالہ کی دعوت دین پر حضرت اسماء و عائشہ رضی اللہ عنہما کے دادا ، جو مدینہ کی ہجرت کے وقت مسلمان نہیں ہوئے تھے ،

اپنے بیٹے صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت کے بعد پوتیوں کے پاس آئے اور کہا تمھارا باپ ( جو اسلام سے پہلے نہایت مالدار تاجر تھے لیکن اپنا سب کچھ اللہ اور رسول اللہ پر قربان کر دیا ) تم لوگوں کے لئے کیا چھوڑ گیا ، گزارہ کیسے ہو گا تو نوعمر اسماء ایک ٹھال میں چھوٹی پتھریاں ڈال کر رومال سے ڈھک کر لے آتی ہیں ، نابینا دادا ہاتھ لگا کر ان کو درہم سمجھ کر مطمئن ہو جاتے ہیں
کس نے سکھایا یہ توکل ، حکمت اور قربانی اس نو عمر بچی کو ۔۔۔ہماری صحابیات رضی اللہ عنہم نے گھروں کو بھی سنبھالا اور اولاد کی شاندار تربیت کا فریضہ بھی نبھایا ، شوہروں کو دین کی خدمت کے لئے بھیجا اور تن تنہا ذمہ داریاں بھی اٹھائیں، پردے اور حیا کی علمبردار بھی تھیں اور علم و حکمت کے خزانے بھی ، مہمان کے آنے پر خدمت و ایثار کی داستانیں بھی ہیں اور صدقہ و خیرات کی شاندار مثالیں بھی ، سادگی بھی ہے، متانت بھی ، خدمت بھی ہے محبت بھی ، تقوی بھی یے اور بہادری بھی ، تقریر بھی اور حکمت بھی ۔کتابوں کے کئی کئی ابواب پر لکھی گئی سنہری داستانیں اور چند سطری تحریر میں کہاں سما سکتی ہیں. ہمارے سر فخر سے بلند ہیں ۔۔۔ رضی اللہ عنہم و رضوا عنہ