یہ وقت ہے اسلام کو لوگوں پر عیاں کرنے کا - فائزہ حقی

کورونا واٸرس ، جس کی شدت اور خوفناکی سے پوری دنیا پریشان ہے ۔مسلم ایغور پر صرف انکے ایمان کی وجہ سے ان پر آگ وآہن برسانے والےاسی مرض کی شدت سے پریشان ہوکر مسجد کے در پر جاپہنچے اور نمازیوں سے استدعا کی کہ ”اپنے رب سے اس مرض کے خاتمے کی دعا کریں “ یعنی اس دین کی حقانیت کا اندازہ انکو بھی ہے ہی۔

اب اطلاعات کے مطابق ہر ذی روح دوسری ذی روح سے پریشان وبرگشتہ ہے ۔حتیٰ کہ اپنے پالتو جانوروں کو بھی اپنے سے جدا کیا جارہا ہے ۔ہر جان دوسری جان کو مشکوک نظروں سے دیکھنے پر مجبور ہوچکی ہے۔ایسے میں اسلام کی صرف ایک شق یعنی ”صفاٸ نصف ایمان ہے“ کو ساری دنیا کے سامنے لایا جاۓاور اس دین کی برکات اپنے عمل کے ذریعے ساری دنیا کو دکھاٸ جاٸیں تو میرا نہیں خیال کہ دنیا اسلام کی طرف ایسے ہی نہ لپکے جیسا کہ آگ لگنے والے علاقے میں لوگ اپنی جانیں بچانے کی خاطر محفوظ جگہ کی طرف لپک لیتے ہیں ۔اور حقیقت بھی یہی ہے ۔لیکن ہمارے طرزعمل کی وجہ سے ساری انسانیت اس عظیم ترین راستے سے محروم ہے ۔

ابھی معلوم ہوا کہ چین میں تمام عبادت گاہوں پر بھی پابندی لگا دی گٸ ہے اور حفظ ماتقدم کے طور پر ساری مساجد ،بودھ پگوڈوں ،اسٹوپاز ،چرچز سمیت ان تمام عمارتوں کی تالا بندی کردی گٸ ہے جہاں بھی لوگوں کے میل جول کا شک ہو ۔لیکن مساجد کے منتظمین نے درج بالا حدیث نبوی کے تحت اس بندش کو ماننے سے گریز کردیا لیکن اس کے لۓ احتیاطی تدابیر تو مالک حقیقی نے بھی بتاٸ ہی ہیں اور ان جگہوں پر وضو خانوں ، غسل خانوں اور مساجد کے اندر داخلے کے اوقات میں اسپرے کروانے کے احکامات پر سختی سے پابندی کیجانی چاہیۓ ۔

اور اسلام میں صفاٸ ستھراٸ کی اہمیت پر ہر جگہ پورے زوروشور سے روشنی ڈالی جانی چاہیۓ کہ ہر بندہ اسلام کے اس آدھے ایمان سے شناسا ہوجاۓ ۔ اللہ صاحب نے اپنے بندوں کیلۓ کیا حرام کیا اور کیوں ؟ اس کی بھی وضاحت موجودہ خوفناک صورتحال بخوبی کررہی ہے بس ہمارے اشارے کی دیر ہے۔اور حلال میں کتنی آسانیاں چھپی ہیں اور کتنی خوشیاں اور مسرتیں پوشیدہ ہیں انکا اظہار بھی اگر ہم ہی کریں گے تو ہوگا ۔

یہ بھی پڑھیں:   عورت کا گھر سے باہر نکلنا - تزئین حسین

موجودہ دور کے یہ تمام سانحات ہمیں مدد فراہم کرتے ہیں کہ ہم اپنی بات میں وزن پیدا کریں کہ اسلام ہی دین فطرت ہے اور جو بھی اس راہ سے اپنے قدم ہٹانے کی مشقت کرے گا وہ دنیا میں بھی اسی طرح منہ کے بل گرے گا جسطرح ہم مبینہ مستقبل کی سپر پاور کو زمیں بوس ہوتا محسوس کررہے ہیں ۔ بس بات ہم مسلمانوں کے سمجھ آنے کی ہے کہ ہمارے اوپر کتنی بھاری ذمہ داری ہے اور ہمیں تمام دنیا کی بدلتی ہوٸ صورت حال کو کس طریقے سے استعمال کرنا ہے۔

اسلام کو مختلف ناموں سے منسوب کرکے اسلام کے بہترین اصول وضوابط سے جان چھڑانے کی مشقت کیجاتی ہے ۔اور یہ مشقت ہمارے ہی لۓ ایسے ہی نقصان دہ ہے جیسے زہر کتنا ہی خوش رنگ وخوش نما ہو ، رہے گا زہر ہی اور کام بھی وہی دکھاۓ گا ۔