دیر سے شادی - محمودفیاض

شادی ہمارے معاشرے میں ابھی تک دو خاندانوں کی مکمل ری ایڈجسٹمنٹ کا نام ہے۔ اس میں کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مغرب میں شادی کو دو افراد کا معاملہ بنا دیا گیا ہے اور اسکے اپنے مسائل ہیں مگر وہ ہمارا ایشو نہیں ہے اس وقت۔

پچھلے دنوں ایک اٹھارہ سالہ لڑکے کو اپنی ہم عمر لڑکی پر پیار آیا اور اس نے کھانا پینا چھوڑ دیا ۔ تین دن کی بھوک ہڑتال کے بعد خاندان والے مان گئے کہ افورڈ کر سکتے تھے۔ شادی ہوگئی۔ اتنی بڑی بات نہیں تھی ، مگر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے لیے بڑی بات ہونے سے زیادہ دیگر کئی نفسیاتی عوامل ہوتے ہیں۔ جیسے دو ٹکے کی لڑکی کو فیمنسٹوں کے فضول ضد نے آسمان سے لگا دیا۔ اسی طرح اس شادی میں خاص بات اگر تھی تو ہمارے نوجوانوں کی فرسٹریشن کا اظہار تھا۔

جو اپنے سے کم عمر ایک لڑکے کو شادی کرتے دیکھ کر حسد و رشک کے جذبات کا شکار ہوئے اور اس واقعے کو وائرل کر دیا۔ لڑکپن کی شادی ہمارے یہاں ہرگز نئی بات نہیں ہے۔ میں نے جب میٹرک کیا تو ہمارے دو ہم جاعتوں کی منگنیاں ہو چکی تھیں ، جن میں سے ایک کی شادی اس سال میں ہوگئی تھی۔ اسی طرح سول انجنئرنگ کے ڈپلومہ کے مکمل کرتے وقت میری عمر انیس سال تھی، جب میرے دادا نے پوری کوشش کی کہ میرا گھر بس جائے۔

بات تقریباً طے ہو چکی تھی، کہ میں نے فیصلہ سنا دیا کہ میں تین سال مزید شادی نہیں کر سکتا، منگنی، نکاح کرنا چاہیں تو کردیں۔ مگر ابھی رخصتی ممکن نہیں۔ میرے دادا تو بالاخر مان گئے اور میری شادی پر اصرار چھوڑ دیا ، مگر میرے ایک کالج فیلو کی شادی اسی عمر میں کر دی گئی۔ مجھے ابھی تک یاد ہے کہ جب ہم اس کلاس فیلو سے ملے تو اس نے واضح طور سے کہا کہ سب خیریت کے باوجود جب اسکی دلہن کچھ کھانے پینے، یا سرخی پوڈر ( تب تک بیوٹی پارلر اتنے عام نہیں ہوئے تھے ) کی فرمائش کرتی ہے تو اسکے لیے پیسوں کا انتظام کرنا مشکل ہو جاتا ہے ۔

یہ سب مثالیں اس لیے عرض کی ہیں کہ کم عمری کی شادی ہرگز ایک کرامت نہیں جو موجودہ جوڑے کی شکل میں سوشل میڈیا پر ظاہر کیا جا رہا تھا۔ بلکہ پاکستان کے اکثر دیہات میں کچھ عرصہ پہلے تک کم عمر لڑکے لڑکیوں کی شادیاں کردینا عام بات تھی، بلکہ لڑکی کی عمر سولہ سے نکل جاتی یا لڑکا اکیس سے پھلانگ جاتا تو والدین کو باقاعدہ فکر ہوتی۔ بہت جگہوں پر تو بچپن کی منگنی کر کے لڑکی کے بالغ ہونے کا انتظار کیا جاتا تھا ۔

دیر سے شادی کی وبا شہروں میں اس وجہ سے وجود میں آئی کہ لڑکیوں کو ایسا دولہا چاہیے جو ویل سیٹلڈ ہو، اور لڑکی کے ماں باپ کو انسانیت و شرافت سے زیادہ اس بات کی فکر تھی کہ انکا داماد انکی بیٹی کی فنانشل انشورنس کر سکتا ہے یا نہیں۔ پڑھا لکھا ہونے کی شرط بھی تھی۔ سو لڑکوں کی شادی کی عمر اکیس سے پچیس ہوئی، پھر تیس، اور اب پینتیس بھی نارمل لگتی ہے۔ ایسے میں ایک قطر سے آئی اوورسیز فیملی کے لڑکے کی خواہش کو اس کے والدین نے جو پورا کر دیا ہے تو اس کے پیچھے کوئی نظریاتی، یا سماجی انقلاب نہیں ہے۔

یہ ایک عام واقعہ ہے جس کا اثر کسی بھی صورت میں چند روز سے زیادہ کا نہیں ہونا تھا۔ اور ویسا ہی ہوا۔ دیر سے شادی ایک عذاب ہے۔ انسان کی جنسی ضرورت ایک حقیقیت ہے۔ اسکا حل نکاح کو آسان بنانے میں ہے۔ لڑکوں اور لڑکیوں کی اس رشتے کی تربیت میں ہے۔

کچھ لڑکے اٹھارہ سال میں بھی میچور ہو سکتے ہیں کہ وہ شادی کا بار اٹھا سکیں اور کچھ مرد چھتیس سال میں بھی اس رشتے کی زمہ داری سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں۔