نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم - افشاں نوید

آج فجر کے بعد کا وقت تھا ۔ 'پیام صبح' ٹی وی پروگرام میں عالم دین فرما رہے تھے کہ جنت کے بھی درجات ہونگے۔ صدیقین ، صالحین٫شھداء اور کم سے کم جنتی کا بھی درجہ ہوگا۔ چائے کپ میں انڈیلتے ہوئے یکبارگی دل نے سرگوشی کی کہ ۔مولا مجھے بھی یہ کم سے کم درجہ بخش دیجیے گا محروم نہ رکھیے گا۔اتنے میں مولانا پھر گویا ہوئے۔

کم کبھی نہ مانگئے گا۔ہمیشہ جنت الفردوس کا سوال کیجیے گا۔اسلام مانگنے کی تعلیم میں بھی اعلیٰ ترین پر فوکس کرتا ہے یعنی متقیوں کا امام بننے کی دعا حالانکہ خود متقی ہونا ہی کتنے نصیب کا مقام ہے۔جنت مانگو تو کوڑا رکھنے کی جگہ نہیں سب سے اعلیٰ باغ الفردوس کا سوال کرو۔ ایک صحابی رضہ نے فرمایا کہ میری خواہش ہے کہ جنت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہوں۔فرمایا تو پھر نفس کو مار کر سجدوں سے میری مدد کرو(مفہوم حدیث) ۔ یعنی سجدوں کی کثرت جنت میں میرے قرب کا سبب بنے گی۔اور سجدے بھی وہ جو نفس کی قربانی چاھتے ہوں۔یعنی اسوقت جب نفس پر گراں ہوتی ہو صبح کی بیداری ۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم امت سے جس درجہ کی محبت فرماتے تھے آپ کی کتنی خواہش ہوگی کہ امتی جنت کے حقدار قرار پائیں پھر نسخہ بھی بتا دیا کہ سجدوں کی کثرت سے وہ مقام نصیب ہوسکتا ہے۔سجدہ تو تھا ہی قرب حاصل کرنے کے لیے۔ سجدہ کر اور قریب ہوجا(القلم)۔یہ الگ بات کہ ہمارے سجدے ہمیں کتنا قرب دیتے ہیں؟ ہماری تو نماز میں ہی توانائی کا اتنا خزانہ پوشیدہ تھا کہ ہم سے زیادہ کوئی قوی ہوسکتا تھا نہ ہم پر غالب اگر ہم اپنی نمازوں کو توانائی کا ذریعہ بناتے۔

ایک ایک ذکر جو نماز میں کیا جاتا ہے اعلیٰ ترین ذکر ہے۔تب ہی تو نماز اور صبر سے "قوت" پانے کا حکم ہے آزمائش کی گھڑیوں میں۔خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب زمینی آسمانی آفات ہوں یا انفرادی مشکلات۔ہمیشہ مسجد کی طرف دوڑ لگاتے تھے۔مسجدیں ان کی غم کشائی کو کافی تھیں۔جب کہ ہم مزاروں کی مجاوری کو نجات کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔وہاں سجدے کیے جاتے ہیں۔ہمارے ظرف کے پیمانے بدلے تو قوموں کی برادری میں ہمارا مقام بھی بدل گیا!! آج ہم سے کوئی اپنا دکھ بیان کرے کبھی ہم کہتے ہیں کہ۔۔نماز سے مدد لو یا نماز کو سمجھ کر پڑھو۔نماز ہر درد کا درماں ہے۔آخر کوئی تو بات ہے کہ نماز پڑھنے والوں کو بار بار اقامت الصلاۃ کی تلقین۔سات سو بار نماز کا حکم دیا گیا۔اتنی شدت کی کوئی تو وجہ ہوگی۔نظام صلواۃ کا قیام تو دور کی بات ہم تو انفرادی زندگی میں نماز کو "قائم"نہیں کرسکے۔ ہم نمازوں سے غافل لوگوں کی تعریف بہت اچھا مسلمان کہہ کر کرتے ہیں کہ معاملات کے کھرے تھے بس نماز روزے کی پابندی نہ تھے مرحوم۔جب کہ فرمایا گیا کہ "مومن اور کافر کے بیچ فرق ہی نماز کا ہے".

کبھی سال میں ایک بار بھی ہم والدین بچوں سے یا کوئی دوست اپنے دوستوں سے پوچھتا ہے کہ "اور سناؤ نمازوں کا کیا حال ہے؟" خلفائے راشدین تو حکومتی ذمہ داری پر تعینات کرتے ہوئے فرماتے تھے کہ "اگر نماز درست ہوئی تو تمام امور مملکت درست رہیں گے"۔ آج حکومتی زعماء پر اتنی تنقید ہوتی ہے کبھی کوئی کہتا ہے کہ سارے بگاڑ کی جڑ یہ ہے کہ یہ نمازوں سے غافل لوگ ہیں۔ معاشرتی فساد کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے نماز کے خزانے سے جھولی بھرنا چھوڑ دی۔ہم نماز پڑھتے بھی ہیں تو ایسے نہیں کہ اس سے قوت پائیں۔علماء و مفسرین تو کہتے ہیں کہ جس کی نماز درست ہوگی اسی کا دین درست ہوگا۔آپ کے تعلق باللہ کا آئینہ ہی نماز ہے۔ ہم روٹی کے محتاج ہوگئے آٹے کی قلت،کبھی بلڈنگ گرنے کے حادثے،کبھی زہریلی گیس سے ہلاکتیں ۔ سارا دن میڈیا لعنت ملامت کرتا ہے حکومتی ذمہ داران کو۔یہ کوئی بھی نہیں کہتا کہ چلو مسجد سے ٹوٹا تعلق جوڑیں۔ہمارے بے حس حکمران ہماری شقاوت کا عذاب ہیں ۔ ہماری شقاوت کا بین ثبوت خالی مسجدیں ہیں۔نہ دنیا ہی ملی نہ جنت کے راستوں کا نشان پاسکے۔