اقوام متحدہ کے جنرل سیکٹری انتونیو گوتریس کا دورہ پاکستان - صبا احمد

انتونیو گوتریس جنرل سیکٹری قوام متحدہ پاکستان کے چار روزہ دورے پر آۓ ھیں۔ اپنے وفد کے ساتھہ وہ افغانستان کے مسٸلے کو حل کرنے اور امن قاٸم کرنے کے لیے خطے میں اور ایل ۔او سی کا دورہ بھی کریں گے ۔اب پا کستانیوں کی نظریں ان دو مسٸاٸل کے حل پر لگی ھیں ۔

مسٸلہ کشمیر بڑی اہم صورت اختیار کرچکا ھے ۔کرفیو اور ا شیا۶ خوردو نوش ک عدم دستیابی گھر گھر تلاشی نوجوانوں کی گرفتاری اور خواتین کی حفاظت اور سنگین صورت اختیار کرتے جارھے ھیں ۔پری دنیا کو تشویش ھونا شروع ھو رھی ھے ۔

١٠فروری مقبول بٹ شہید کی شہادت ھوٸ تھی ۔ بھارتی حکومت نے اسے پھانسی دی تھی ۔اور جیل کے احاطے میں اس دفن کیا مقبوضہ کشمیر میں یوم سیاہ بناے کی کال بھی تھی ١١اور ١٢ فروری کو بھی ۔ پاکستان نے ٥فرورے کہ ٢٠کلو میڑھ لمبی ھاتھوں کی زنجیر بناکر جماعت اسلامی نے یک جہتیں کا اظہار کیا ۔اپنے کشمیری بھاٸیوں سے جو ٢٠٠دن سے قید میں ھیں ۔

کرفیو کی وجہ مودی نے 1 کڑورانسانوں کو جیل میں قید کررکھا ھے ماٶں کی گودیں اور دھرتی ویران ھیں ۔بچے بوڑھے شہید کبھی کلیسڑ بم بیلٹ گن گولیاں اور ڈنڈوں سے مارا جاتا ھے ان کی اپنی سرزمین پر ۔وہ بے یاروں مددگارھیں ۔مقبوضہ کشمیر میں مودی ھٹلر کے نقش قدم پر چل رھا ہے ھندتوا یا انتا پسند ریاست بنانے کے لیے ۔بھارت نے مسلمانوں کو بھارت کی شہریت کی حقوق سے دستبردار کر دیا وہ ان کو nrc نہیں دے گا ۔ دنیا کے سب سے بڑے ادارے کے جنرل سیکڑی کا دورہ اللہ کرے ان دونوں ملکوں کے لیے خوش آٸین ثابت ھو ۔

برف پوش پہاڑ بہتے جھرنے گنگناتی نندیاں سبز ے کی مخمل وادیاں خوشبوں اور پھولوں سے اٹی وادی دلگیر میں مظلوم کشمیریوں کے خون اور شہادت کی خوشبویں مہک رھی ھیں ۔ ۔مگر گھر قبرستان ھیں موت جیسی خاموشی چھاٸ ھے ۔ جب سے بھارت نے شق ٣٧٠ کو ختم کرکے وہاں کر فیو لگایا ھے ۔ لوگوں کو ادویات اور نیہں مکمل لاک ڈاٶن سے زندگی مفلوج ھو گی ھے ۔سوشل میڈیا بند ھے دنیا سے ان کا رابطہ ختم کر دیا گیا ھے تاکہ دنیا کو ان کی خبر نہ ملے ۔ تعلیمی ادارے بند خواتین کی عصمت دری ھو رھی ھے ۔

ان کی الگ ریاستی حیثیت ختم کر کے اسے بھارت کا حصہ قرار دیا ھے ۔ جب کے اقوام متحدہ نے ١٩٤٨ میں وہاں ریفرنڈم کروانے کی قرار داد منظور کی تھی اب ٧٢ سال گزرنے کو ھیں مگر بھارت اسپرعمل پیرا ہونے کو تیار نہیں ھے۔ اقوام متحدہ بھی خاموش تماشاٸ بنا ھے ۔ ۔اتنے سالوں تک جبکہ قاٸد اعظم نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا ۔دونوں ملکوں میں کشیدگی کا باعث بھی ھے ۔

یہ بھی پڑھیں:   کرونا وائرس‘عالمی معیشت خطرے میں - حاجی محمد لطیف کھوکھر

مگر قیام پاکستان کے وقت ہری سنگ کشمیر کے راجہ نے انگریزوں اور بھارت کے ساتھ مل کر ا س مسٸلے کو التوا میں ڈالا۔ دھوکے سے بھارت کے حوالے کر دیا ۔بھارتی فوج تب سے بچارے کشمیریوں پر ظلم وستم کرکے ان کی آزادی کی آواز اور تمنا کو دبا رھے ھیں ۔

پچاس سال بعد اب دو مرتبہ اقوام متحدہ کا اجلاس کشمیر کے مسٸلے کے لیے بلایا گیا ھے بھارت کے بڑھتے ظلم وستم اور شق ٣٧٠ے ختم کرنے بھارت کون ھوتا وہاں قبضہ کرنے والا ۔کرفیو لگانے والا ٢٠١٦سے نوجوانوں نے برہان ظفر کے ساتھہ سوشل میڈیا سے اس تحریک کا آغاز کیا ۔دنیا تک کشمیر کی فریاد پہچانے کے لیے ۔اسکی شہادت کے بعد مجاہدین اسکے مشن کولے کر آگے بڑھہ رھے ھیں ۔

ساتھ شق ٣٥اے کے اب بھارتی لوگ یہاں جاٸیداد بھی خرید سکتے ھیں اور شادیاں بھی کرسکتے ھیں ہر طرح سے خطرہ بڑہونٹا گیا ھے کشمیریوں کے لیے ۔
پہلے اس کی اجازت نہں تھی ۔دونوں شق میں ان کی بنیادی حیثیت ختم کر دی گی یہ کشمیری قوم کے لیے قابل قبول نہیں ۔یقیناًً ان کےلیے اپنی سرزمین پر آزادی بنیادی اکاٸ کی حثیت رکھتی ھے

۔آزادی قوموں کی میراث و پہچان ھوتی ھے ۔ان کی تہزیب رسم ورواج اور مذہب کی علمبردار ھوتی ھے ۔ ۔بھارت ان سے ان کی شناخت چھین رہا ھے مگر اتنی پابندیوں کے باوجود دنیا تک بھارت کے ظلم وستم کی بازگشت اسوقت دنیا کے کونے کونے میں پہنچ رھی ھے ۔حریت قیادت ان کے رہنما جیلوں میں بند ھے ۔سید گیلانی جیلوں میں بند ھے ۔

لندن کی پارلیمنٹ کی رکن بھارت آٸ ان کو ایر پورٹ سے واپس بھیج دیا بھارتی حکومت نے کیونکہ وہ کشمیر کے حق میں بات کرتی ھے ۔لندن میں مسلم سکالز نے کھلا خطہ لکھا ھے ۔ اقوام متحدہ کو بھارت کے وہ کشمیر پر سے کرفیو ختم کرے انسانی بنیادی حقوق دے ۔اس مسٸلے کا حل نکالے ۔ ان کو آزادی دے ۔

اٹلی پیرس میں بھی احتجاج کیا گیا ھے ۔ بھارت کے خلاف ۔انسانی جیل بنادیا ھے ۔ کشمیر کو دنیا کی جنت کہا جاتا ھے ۔مگر دنیا کی جنت کو نظر ۔لگ گی ھے ۔اب اقوام متحدہد کےجنرل سیکٹری پاکستان کے دورے پر آۓ ھیں ایل ۔او ۔سی یعنی آزاد کشمیر کی لاۓن آف کنٹرول کا دورہ کریں گے اور حال ھی میں ترک صدر نے بھی پاکستان کا دورہ کیا ۔کشمیر کی بگڑتی صورت حال پر بھی بات چیت ھوٸ اتنے طویل کرفیو سے لوگوں کی زندہ رہنا مشکل کر دیا ھے کاروبار بند ھیں کہاں سے کھاٸیں کچھہ گھنٹوں کے لیے بازار اور تجارت ھوتی ھے ۔

یہ بھی پڑھیں:   کرونا وائرس‘عالمی معیشت خطرے میں - حاجی محمد لطیف کھوکھر

ایسا کب تک چلے گا ساری دنیا بھارت کو کرفیو ہٹانے کے لیے زور دے رھی ھے ۔مگر مودی کے سر پر جوں نہیں رینگ رہی ١٩٨دن ھوگے۔دنیاۓتاریخ میں اتنا طویل کرفیو نہی کسی ملک میں لگا ۔تاریخ کا طویل ترین کرغیو ھے ۔مگر انسان ھیں یہ لوگ بیمار ھوتے ھیں مرتے ھیں آۓ روز مگر بھارت کچھہ سمجھنے کو تیار نہیں ۔ان حالات میں اب عالمی برادری اور اقوام متحدہ کو عملی قدم اٹھانے چاھیے یوں ٨٠ہزار لوگوں کی زندگیوں کا معاملہ ھے ۔

جنگل کا قانون تو مودی صاحب نہ چلا ٸیں یہ ان کا اندرونی معاملہ بھی نہیں یہ انسانیت کا اور جیتے جاگتے لوگوں کی بقا کا معاملہ سنگین صورت حال اختیار کر چکا ھے ۔ادھر لاٸن آف کنترول پر بھارتی اشتعال انگیزی بڑھتی جارہی ھے ۔دس معصوم شہریوں کو فاٸرنگ سے شہید کیا ۔جن میں معصوم بچے بوڑھی اور خواتین بھی شامل ھیں ۔ان حالات میں پاکستان کا کیا موٸقف اور لاٸحہ عمل ھو گا بڑی اھمیت کا حامل ھے ۔

انتو نیو گوتریس نے کہا کہ کشمیر کی آزادی کا فیصلوں اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق ھونا چاھیے وہ دنیا کے سب سے بڑے ادارے کے سربراہ ھے کیا ان کے بس میں نہیں ریفرنڈم جو اقوام متحدہ نے وعدہ کیا تھا پھر یہ کام کون کرے گا ۔رجب اردوان ترکی صدر اور مہاتے ملاٸشیا کے چاٸنا اور روس انہوں نے بھی مسٸلہ کشمیر کی حمایت کی ھے ۔تواب دیر کیوں ھے ۔عالمی برادری اور اقوام متحدہ بھارتی حکومت پر زور ڈال سکتے ھیں ۔

مگر کشمیر کی آزادی کیوں سوالیہ نشان بنی ھوٸ ھے ۔؟افغانستان سے امریکی فوج کا انخلا۶ وہاں امن اور افغان مہاجرین کی واپسی چالیس سال سے وہ پاکستان میں رہ رہے ھیں ۔پاکستان نے کتنی قربانیاں دی ھیں افغانستان کے لیے پہلے روس کے خلاف اس کا ساتھہ دیا اب امریکہ سے وہاں امن قاٸم کرنے کے لیے بات چیت کر رہا ھے۔

اقوام متحدہ کے جنرل سیکثری کا دورہ پاکستان میں نسٹ یونیورسٹی کااور لاھور کی یونیورسٹی کا اورکروز میزاٸیل رعد ٢کا کامیاب تجربہ کیابتانے کے لیے کہ پاکستان ساٸنس اور ٹیکنالوجی میں کسی سے بھی کم نہیں ہماری یونیورسٹی میں کا معیار دنیا کی اچھی ھوتا ھے ۔شاھی مسجد اور قلعہ مغل بادشاہوں کے دور حکومت مندر اور گوردوارہ مسلمانوں کا اقلیتوں کے ساتھ حسن سلوک اور مذہبی آزادی کو ظاہر کرتا ھے ۔

کرتار پور راہداری کاجانا اتونیو گوتریس کا سکھہ کمیونیٹی بھی بھارت سے علیحدگی چاھتی ھے ریفرنڈم کا مطالبہ کر رھی ھے ۔پاکستانی حکمران کہ ررھے ھیں کے عوام کو خوش خبریں ملے گی ۔اور وہ بیتاب ھیں کے افغان اور کشمیری بھاٸیوں کی مشکلات کے حل کے لیے ۔