کٹے، مرغیاں بکریاں اور عمران پر تنقید کرنے والے ڈیجیٹل منگول - آصف محمود

شام سے دوست احباب چند تصاویر واٹس ایپ کیے جا رہے ہیں ۔ ایک تصویر میں عمران خان ایک خاتون کو ’’ کٹا‘‘ یا ’’کٹی‘‘ دے رہے ہیں اور دوسری تصویر میں چند بکریاں ۔ واٹس ایپ پر ان تصاویر کے ساتھ تمسخرانہ اور طنز بھرے فقرے بھی موصول ہو رہے ہیں ۔ میں کل سے یہ میسجز پڑھ رہا ہوں اور سوچ رہا ہوں اس قوم کا احساس کمتری کتنا شدید ہو چکا ہے۔

جون اور جولائی میں بھی جس معاشرے کے وکیل اور اینکر ٹو پیس سوٹ پہن کر اور ساتھ ایک عدد ٹائی لٹکا کر منظر عام پر آتے ہوں ، پنجاب کا ڈومیسائل رکھ کر بھی جس معاشرے میں پنجابی میں بات کرنا توہین سمجھا جاتا ہو ، قریبا 70 فیصدلوگوں کے زراعت سے وابستہ ہونے کے باوجود جس ملک میں ’’پینڈو‘‘ کا لفظ طعنے کے طور پر استعمال ہوتا ہو، مرعوبیت کے مارے اس ماحول میں بھینس ، بکری ، مرغی اور کٹے کے ذکر پر احباب بد مزہ ہو جائیں ، ان کے منہ کا ذائقہ خراب ہو جائے اور انہیں کٹے کی بو سے کمر کے اوپر کے حصے میں خارش ہونے لگے تو حیرت کیسی؟

صف ماتم بچھی ہے ، ہائے ہائے عمران نے یہ کیا کردیا ۔ یاروں نے سر پیٹنا شروع کر دیا ہے کیا اس ڈیجیٹل دور میں کٹوں اور بکریوں سے اکانومی بہتر ہو سکے گی ۔ موبائل کمپنیوں نے انٹر نیٹ کے سستے پیکجز کیا دیے ، ڈیجیٹل تہذیب کے نومولود فرزندوں نے خود کو بل گیٹس کا پوتا اور ایڈم سمتھ کا نواسا سمجھنا شروع کر دیا ہے ۔ رجال کارکے بس میں ہو یہ نادرا کے ریکارڈ میں جائے پیدائش بھی بدل لیں کہ دنیا ہمیں پینڈو ہونے کا طعنہ نہ دے ۔

اب سستے انٹر نیٹ کے اس دور میں جب دنیا گلوبل ولیج بن چکی ہے ہمارا وزیر اعظم کٹوں ، بکریوں ، انڈوں اور مرغیوں کی بات کرنے لگ جائے تو ان ڈیجیٹل میووں کی تو ناک کٹ جائے۔چنانچہ یہ ڈیجیٹل میوے منگولوں کی طرح یلغار کیے ہوئے ہیں : ہاؤ ہو ہاؤ ہو۔

عمران خان سے معیشت نہیں سنبھل پا رہی ، یہ ایک حقیقت ہے ۔ ’ترکش‘ کے قاری گواہ ہیں عمران خان پر جس شدت سے تنقید ہو سکتی ہے یہاں کی گئی ۔ لیکن عمران کو جو تازہ طعنہ دیا جا رہا ہے یہ احساس کمتری کے عارضے کے سوا کچھ بھی نہیں۔اس بات کو درست پیرائے میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔

معیشت کی بہتری کے لیے بلاشبہ میگا پراجیکٹس کی ضرورت ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں بظاہر معمولی اور غیر اہم نظر آنے والے پراجیکٹس کی کوئی اہمیت نہیں ۔ دونوں چیزیں ساتھ ساتھ چلتی ہیں ۔ شہروں میں رہنے والے نوجوانوں کے لیے ہو سکتا ہے کٹے ، مرغیاں اور بکریاں انتہائی حقیر اور معمولی چیز ہوں لیکن یہ دیہی معیشت کا ایک انتہائی اہم جزو ہیں ۔ دریا کنارے بیٹھے آدمی کو اس شخص کی پیاس کا اندازہ نہیں ہوتا جسے ہر پہر پیاس بجھانے کے لیے کنواں کھودنا پڑتا ہو۔دیہی علاقوں میں آج بھی ایسی عورتیں مل جاتی ہیں جن کی گزر اوقات کا واحد ذریعہ چند بکریاں اور ایک آدھ گائے بھینس ہوتی ہے۔

گاؤں ہی کیا ، ادھر اسلام آباد چک شہزاد میں ، ایک درخت تلے دو بکریاں بندھی ہوتی ہیں۔ایک بوڑھی ماں بڑی مشکل سے چل کر آتی ہیں اور انہیں چارہ وغیرہ ڈالتی ہیں۔ چارہ کیا ہوتا ہے کسی درخت کی چند شاخیں ۔ میرے اور آپ کے لیے یہ بکریاں تفنن طبع کا سامان ہو سکتی ہیں ،ان ماں جی کی یہ کل کائنات ہیں۔ان کی معیشت کے سارے اعداوشمار ان بکریوں سے جڑے ہوں گے اور ان کے آدھے ادھورے خوابوں کو پورا کرنے کا یہ واحد وسیلہ ہوں گی۔

کسی روز کوئی جا کر ان ماں جی کو بتائے کہ وزیر اعظم پروگرام کے تحت آپ کو چار بکریاں دی جا رہی ہیں تو ہو سکتا ہے یہ ان ماں جی کی زندگی کی سب بڑی خوشیوں میں سے ایک ہو اور وہ چند راتیں مستقبل کے امکانات کی خوشی میں سو بھی نہ سکیں۔

جو لوگ دوستوں کی محفل میں ہر دوسرے ویک اینڈ پر پورے بکرے کی سجی کھا جاتے ہوں ان کے لیے یہ مذاق ہی ہو گا ۔ لیکن ذرا غور فرمائیے جن لوگوں کو عمران نے کٹے اور بکریاں دیں ان کی آنکھوں میں خوشی کے ڈورے تھے ۔ یہ اللہ کی عطا ہے کہ کسی کو دریا بھی کم لگتے ہیں اور کسی کی آنکھیں دو گھونٹ پانی پر جذبہ تشکر سے بہہ پڑتی ہیں ۔ آپ کے دریاؤں کی طغیانی آپ کو مبارک ، کسی کے دو گھونٹ پانی کو مذاق کا عنوان نہیں بنانا چاہیے۔

یہ پراجیکٹ اصل میں ان محروم لوگوں کے لیے ہے جن کے پاس معاشی امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ان غریب بیواؤں کو کیا لیپ ٹاپ اور آئی فون دیے جائیں کہ سستے انٹر نیٹ کے ذریعے وہ بھی سارا سارا دن فیس بک پر دانشوری کریں؟

ناقدری کے باوجود رورل اکانومی ایک زندہ حقیقت ہے۔ہماری جی ڈی پی کا یہ پچاس فیصد ہے۔ سترہ ملین لوگ اس سے وابستہ ہیں۔اس پر توجہ دی جائے تو یہ قیمتی زر مبادلہ کا ایک بڑا ذریعہ بن سکتی ہے۔پاکستان ایک زرعی ملک ہے ۔ کوئی پلاننگ کی جاتی تو سعودیہ عرب کے آگے ہر بہار میں کشکول رکھنے کی بجائے کہا جا سکتا تھا کہ حج کے موقع پر سارا لائیو سٹاک آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ سے منگوانے کی بجائے ایک حصہ ہم سے بھی لے لیجیے ۔لیکن کون کرے ؟ ہمیں تو ’’ پینڈو‘‘ کہلواتے شرم آتی ہے۔ یہاں نیم خواندہ جاگیر دار اسمبلی پہنچتے ہیں تو دلچسپی کے میدان میں زراعت کی بجائے ’’ سپیس سائنس‘‘ لکھ دیتے ہیں تا کہ سند رہے وہ پینڈو نہیں ہیں۔

ملک کے اندر بھی دیہی اکانومی کے لیے امکانات کا جہاں آباد ہے۔، سرمایہ کار کے برائلر کھا کھا کر ہم نے مر جانا ہے لیکن دیسی مرغیوں کے وسیع فارم بنا کر مارکیٹنگ نہیں کرنی ۔ سرمایہ کار کی سہولت کے لیے یہاں یہ تماشا بھی ہوا کہ گڑ تیار کرنے پر باقاعدہ پابندی لگائی گئی تا کہ شوگر ملوں کو گنا مل سکے۔

وہ آج تک کسان کا استحصال کر رہے ہیں۔ مصنوعی انڈوں کی ہم بہت بڑی مارکیٹ بن چکے، ہر سال یہاں 18 ہزار ملین انڈے فروخت ہوتے ہیں۔لیکن کسان کی حوصلہ افزائی کسی نے نہیں کہ وہ بڑے پیمانے پر دیسی انڈا مارکیٹ کر سکے۔

آپ عمران کا مذاق اڑائیے ، میں تو اس کا شکریہ ادا کروں گا۔ ٭٭٭٭٭

Comments

آصف محمود

آصف محمود

آصف محمود اسلام آباد میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں، روزنامہ 92 نیوز میں کالم لکھتے ہیں، روز نیوز پر اینکر پرسن ہیں اور ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.