تنہائی کے سات سال- رؤف کلاسرا

پھر وہی اکیس فروری جس سے میں سارا سال چھپنے کی کوشش کرتا ہوں۔
وہی منظر آنکھوں میں بس سا گیا ہے کہ دور ہسپتال کے ایک بیڈ پر نعیم بھائی بے جان لیٹے ہوئے ہیں اور ڈاکٹر میرے سامنے ان کے ڈیتھ سرٹیفکیٹ پر دستخط کے لیے ایک کاغذ اور پین آگے سرکاتا ہے۔ میں ترچھی نظروں سے ہسپتال کے اس بیڈ کو دیکھنے کی کوشش کرتا ہوں‘ شاید وہ کوئی کروٹ لے لیں۔ کچھ دیر تک میں اس سرکاری کاغذ کو دیکھتا رہا۔ ڈاکٹر کو بھی جلدی نہ تھی۔ پھر وہ خود ہی بولنے لگے کہ ہم نے revive کرنے کی کوشش کی ‘ ایک دفعہ وہ واپس بھی آئے ‘لیکن دوبارہ دل ساتھ چھوڑ گیا ۔ میں نے کاغذ سے آنکھیں اُٹھا کر ڈاکٹر کو دیکھا جس نے اپنے تئیں انہیں بچانے کی کوشش کی تھی۔ پھر نظریں بیڈ کی طرف اُٹھ گئیں۔ مجھ سے اس کاغذ پر چند لکیریں نہیں کھینچی جارہی تھیں۔ شاید کہیں کوئی امید ابھی تھی۔ ہاتھ کاغذ کی طرف بڑھتا اور رک جاتا۔ میں نے آخری بار بیڈ کی طرف دیکھا جہاں نعیم بھائی کا بے جان جسم پڑا تھا۔ پھر امید بھری نظروں سے ڈاکٹر کو دیکھا‘ ڈاکٹر نے دھیرے سے نفی میں سر ہلایا۔میں نے چپکے سے چند لکیریں ڈیٹھ سرٹیفکیٹ پر کھینچ دیں۔

ایک لمبا تنہائی کا سفر اب شروع ہورہا تھا۔میرے اندر ایک عجیب سا مجرمانہ احساس ابھرا کہ رات گئے اس ہسپتال میں لانے کے بجائے انہیں دوسرے ہسپتال لے جاتے جہاں دل کے علاج کی بہتر سہولتیں تھیں تو شاید وہ بچ جاتے۔ یہاں تو ہارٹ اٹیک کے مریض کو بجلی کے جھٹکے سے revive کرنے کا سسٹم بھی نہیں تھا۔ رات گئے جونیئر ڈاکٹر بے چارہ کیا کرسکتا تھا۔ جتنا بس میں تھا اس نے کوشش کی ۔
ان سات برسوں میں بہت کچھ بدل گیا ہے۔ میں نے اپنے اندر بہت تبدیلیاں محسوس کیں۔ ایک تو مجھے لگا کہ میرا میچورٹی کا سفر کہیں رک گیا تھا۔ رہی سہی کسر ڈاکٹر ظفر الطاف کی موت نے پوری کر دی۔ نعیم بھائی اور ڈاکٹر ظفر الطاف وہ دو لوگ میری زندگی میں تھے جن سے میں بہت متاثر تھا۔ دونوں نے میری گروتھ میں بہت اہم کردار ادا کیا ۔ دونوں کتابوں کے رسیا اور انسان دوست تھے۔ بچپن ہی سے نعیم بھائی کو کتابوں میں غرق دیکھا تو برسوں بعد ڈاکٹر ظفر الطاف کو بھی کتابوں میں گم پایا۔ ان دونوں سے گفتگو کا مزہ آتا۔ ہر دفعہ نئی کتاب اور نئی باتیں۔ مجال ہے آپ ان کی محفل میں بور ہوجائیں۔ ایک دفعہ نعیم بھائی کا فون آیا‘ کہنے لگے: لگتا ہے تم نے کتابیں پڑھنا کم کر دی ہیں؟ پوچھنے لگے کہ آخری دفعہ کب کتاب پڑھی تھی؟ میں نے پوچھا خیریت؟ کہنے لگے: کل تمہارا پروگرام دیکھ رہا تھا تو لگا تم چڑچڑے سے ہورہے ہو۔ اس کا مطلب ہے تم کتابوں سے دور ہورہے ہو۔ میں خاموش ہوگیا کیونکہ واقعی جرنلزم کے چکر میں دو تین ماہ سے کوئی کتاب نہیں پڑھی تھی۔میں نے کہا: ویسے کتاب کا چڑچڑے پن سے کیا تعلق ؟ بولے: بہت گہرا تعلق ہے۔

کتاب آپ کے ذہن کو وسعت دیتی ہے‘ دل کو نرم کرتی ہے۔ لٹریچر انسان کو انسان دوست بناتا ہے۔ کتابیں پڑھتے پڑھتے ایک دن آپ کو احساس ہوتا ہے کہ آپ کے اندر غصہ یا چڑچڑا پن کم ہورہا ہے‘برداشت کا مادہ بڑھ رہا ہے‘ آپ دوسروں کی بات بہتر سمجھنے لگتے ہیں۔ آپ خود کو اس بندے کی جگہ رکھ کر سوچنے کے قابل ہوجاتے ہیں۔ پھر آپ خود کو سمجھاتے ہیں کہ اس کے پاس اتنی ہی سمجھ ہے اور وہ اس کے مطابق ری ایکٹ کررہا ہے تو اس میں اس بندے کا کیا قصور؟ اس طرح آپ بھی اتنی ہی سمجھ رکھتے ہیں جتنی آپ کے اندر گنجائش ہے۔ ہوسکتا ہے آپ ٹھیک ہوں‘ ہوسکتا ہے وہ ٹھیک ہو۔ دنیا میں ویسے بھی کچھ فائنل نہیں ہوتا۔ حقائق اور حالات بدلتے رہتے ہیں۔ اس لمحے ہوسکتا ہے آپ سچے ہوں‘ ممکن ہے اگلے لمحے اگلا بندہ درست نکلے۔ ہاں کچھ یونیورسل حقائق ہوتے ہیں ‘وہ ہزاروں سال ویسے ہی رہتے ہیں۔ وہ چاہے غار کے دور کا انسا ن ہے یا آج کے دور کا ‘ کیونکہ انسانی جبلت آج بھی وہی ہے جو ہزاروں سال پہلے تھی۔ انسان نے ترقی کے ساتھ ساتھ خود کو تہذیب یافتہ کر لیا ہے‘ لیکن پھر بھی انسانی جبلت اس پر حاوی ہوجاتی ہے اور وہی کرتا ہے جو ہزاروں سال پہلے کرتا تھا۔ وہ آج بھی حسد‘ محبت‘ نفرت کا شکار ہوتا ہے۔وہ کافی دیر تک بولتے رہے۔

میںچپ چاپ سنتا رہا۔ کہنے لگے: خود کو دوسروں کی جگہ رکھ کر سوچنا شروع کرو تو زندگی بہت بہتر ہو جائے گی اور تمہارے اندر تلخی‘ چڑچڑا پن کسی حد تک کم ہوگا۔کہنے لگے امریکن ناول‘ The Great Gatsby کبھی پڑھنا‘ اس کا پہلا فقرہ ہی اس فلاسفی کے دریا کو کوزے میں بند کردیتا ہے۔ جب ناول نگار کا کردار بات یہاں سے شروع کرتا ہے کہ جب میں ابھی جوان ہورہا تھا تو میرے باپ نے ایک نصیحت کی تھی کہ بیٹا اگر زندگی میں تمہارا کسی پر تنقید کرنے کو دل چاہے تو اپنے آپ کو یہ بات یاد دلانا کہ ہوسکتا ہے اس دنیا کے لوگوں کو وہ Advantageنہ ملے ہوں جو تمہیں ملے ہیں۔
اس وقت تو مجھے ان کی بات پوری طرح سمجھ نہ آئی ‘لیکن جوں جوں میری عمر بڑھنا شروع ہوئی تو یہ بات سمجھ آنا شروع ہوئی۔ مجھے اب ان کے جانے کے بعد سمجھ آئی ہے کہ وہ اتنے کُول کیوں تھے۔ وہ کیوں بہت سی باتوں کو نظر انداز کرنے پر یقین رکھتے تھے۔ کئی دفعہ میں ان سے ان کے اس رویے پر اُلجھ بھی پڑتا تو مسکرا دیتے۔ اب میں خود کو ان کے اسی فیز میں پاتا ہوں۔ ان سات برسوں میں اندر اندر ہی خود سے لڑتا رہا ہوں‘ لیکن اب بھی لگتا ہے کہ انسانی نفسیات اور جبلت پر قابو پانا آسان نہیں۔ایک دفعہ وہ کراچی میں تھے‘ ان کا رات گئے فون آیا۔ خوش تھے‘ کہنے لگے: یار تیری وجہ سے میری چائے مفت ہوگئی ہے۔

میں نے پوچھا :کیسے؟ کہنے لگے: یہاں ایک امتحان دینے آیا ہوں‘ جب پڑھ پڑھ کر تھک جاتا ہوں تو ایک ہوٹل پر کچھ دیر چائے پینے آجاتا ہوں۔ کچھ دیر ٹی وی بھی دیکھ لیا۔ آج اتفاقاً ہوٹل کا مالک بیٹھا تھا۔ اسے چائے کا کہہ کر میں ٹی وی دیکھنے لگ گیا۔ تمہارا پروگرام لگا ہوا تھا۔ تھوڑی دیر بعد مالک میرے پاس آیا اور پوچھا یہ آپ کا کیا لگتا ہے؟ میں نے کہا: چھوٹا بھائی ہے...بولا: مجھے بھی یہی شک ہوا تھا۔ آج سے آپ کی چائے فری ہوگی۔کہنے لگے: مجھے اندازہ نہ تھا کہ لوگ تمہیں اس طرح لائیک کرتے ہیں۔ میں چپ رہا کیونکہ شروع کے سالوں میں انہیں میرا صحافی بننا پسند نہ تھا۔
آخری رات میرے ساتھ اسلام آباد میں تھے۔ کہنے لگے: یار اب جب لوگ تمہارے حوالے سے پوچھتے ہیں تو اچھا لگتا ہے۔ میں ہنس پڑا کیونکہ یہ بات ان سے منوانے کیلئے میں نے کتنے جنگل‘ دریا‘ صحرا عبور کیے تھے کہ ان کی نظروں میں سرخرو رہوں۔ انہوں نے ہمارے والدین کی وفات کے بعد اپنے بھائی بہنوں کیلئے جو ذاتی قربانیاں دی تھیں‘ کہیں انہیں یہ نہ لگے کہ وہ سب کچھ ضائع چلاگیا ۔

برسوں بعد ڈاکٹر ظفر الطاف کے ہونہار بھتیجے رافع الطاف کا فون تھا۔ رافع ‘ اب لاہور میں خود بھی بڑا وکیل ہے۔ کہنے لگا: اسلام آباد ہوں کدھر ہیں؟ فوراً چل پڑا۔کیفے ٹیبل پر کافی دیر تک ڈاکٹر ظفر الطاف کی باتیں ہوتی رہیں۔ رافع کہنے لگا: چاچو کو فوت ہوئے چار سال گزر گئے لیکن اندر سے ایک دکھ اور احساسِ جرم نہیں جاتا۔ میں چونک پڑا‘ پوچھا: خیریت؟ بولا: یار تمہیں پتہ ہے چاچو کو کلثوم ہسپتال لے گئے تھے۔ میں فیصلہ نہ کرسکا کہ مجھے انہیں اے ایف سی شفٹ کرنا چاہیے تھا‘ شاید ان کی جان بچ جاتی۔میں ہنس پڑا... رافع میری ہنسی پر کچھ حیران ہوا اور بولا رئوف بھائی خیریت: میں نے کہا :میں چھ سال سے اس بوجھ کے ساتھ جی رہا ہوں کہ اگر ہم نعیم بھائی کو کلثوم ہسپتال لے جاتے تو شاید بچ جاتے اور آج تم کہہ رہے ہو کہ کلثوم ہسپتال کی بجائے اگر اے ایف سی لے جاتے تو ڈاکٹر صاحب بچ جاتے۔میں نے کہا: چھوڑو یہ سب باتیں‘ جانے والوں نے جانا ہوتا ہے۔ ہم اپنے عزیزوں اور پیاروں کو یوں اچانک جاتے نہیں دیکھ سکتے اور جب ہم بے بس ہوجاتے ہیں تو خود کو الزام دے کر اپنا دکھ مزید گہرا کر لیتے ہیں۔میں اور رافع الطاف اسلام آباد کی اس ڈھلتی شام دیر تک ایک دوسرے کا احساسِ جرم کم کرنے کے کوشش میں لگے رہے‘ لیکن پتہ ہم دونوں کو تھا کہ یہ زخم کبھی نہیں بھریں گے۔
آج گائوں کے قبرستان میں چار سُو پھیلی اداسی کے درمیان نعیم بھائی کی قبر پر کھڑے یاد آیا‘ تنہائی کے سات سال بیت گئے تھے۔