معدومیت کے خطرے سے دوچار زبانیں

پاکستان لسانی تنوع کے حوالے سے خاصا زرخیز ملک ہے۔ یہاں 74 زبانیں بولی جاتی ہیں جن میں سے 66 مقامی اور آٹھ غیر مقامی زبانیں ہیں۔ یہ زبانیں چار مختلف لسانی خاندانوں سے ہیں جن میں ہند یورپی (اردو، پنجابی،سرائیکی، سندھی، پشتو وغیرہ)، دراوڑی (براہوی)، چینی تبتی (بلتی) اور بروشسکی شامل ہیں۔ ماہرین لسانیات کے مطابق پاکستان میں بولی جانے والی 74 زبانوں میں سے 30 زبانیں شمالی پاکستان یعنی چترال، سوات، گلگت اور کشمیر میں بولی جاتی ہیں۔

قومی زبان اردو، سرکاری زبان انگریزی اور بڑی زبانوں پنجابی، سندھی، سرائیکی، پشتو، بلوچی اور براہوی کے علاوہ شینا، کشمیری، ہندکو اور بلتی اہم علاقائی زبانوں میں شمار ہوتی ہیں، تاہم یہ بات حیران کن ہے کہ یہاں سب سے زیادہ بولی جانے والی پنجابی زبان کو بھی ماہرین معدوم ہونے والی زبانوں میں شمار کرتے ہیں کیونکہ اس کی سرکاری اور سماجی سطح پر سرپرستی نہیں ہو رہی۔ اسلام آباد میں مقامی زبانوں کے تحفظ اور ان کے فروغ کے لیے قائم ادارے ’فورم فار لینگویج انیشیٹیو‘ کے سربراہ فخر الدین اخونزادہ کے مطابق پنجابی دنیا کی 10 بڑی زبانوں میں شامل ہے۔ پاکستان میں پنجابی بولنے والے کروڑوں میں ہیں لیکن اس کے باجود یہ خطرے سے دوچار ہے کیونکہ ’یہ کہیں پڑھائی نہیں جاتی اور حکومت کی سرپرستی بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔‘ ’پنجابی زبان کے خطرے میں ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پنجابی بولنے والے خاندانوں میں لوگ اپنے بچوں کے ساتھ پنجابی نہیں بولتے اس لیے دنیا کی ایک بڑی زبان ہونے کے باوجود اس کے بولنے والوں کی تعداد میں کمی ہو رہی ہے۔‘

فخرالدین کے مطابق جو زبانیں فوری طور پر معدومیت کا شکار ہیں ان میں گلگت بلتستان میں بولی جانے والی سب سے چھوٹی زبان ڈومیکی سرِفہرست ہے جس کے بولنے والوں کی تعداد 300 سے بھی کم رہ گئی ہے۔ اس کے علاوہ شمالی پاکستان کی متعدد بولیوں کے بولنے والوں کی تعداد اب محض چند ہزار تک محدود ہو گئی ہے اور ماہرین ان کو بچانے کے لیے ہنگامی اقدامات تجویز کرتے ہیں۔ سوات میں بولی جانے والی ’بدیشی زبان‘ اس وقت مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے اور اس کو بولنے والا اب کوئی نہیں رہا۔ فخرالدین نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’قریباً 30 سال پہلے بدیشی بولنے والے درجنوں افراد موجود تھے تاہم اب یہ زبان کوئی نہیں بولتا۔‘ ان کے مطابق یہ زبان سوات کی وادی بشی گرام میں بولی جاتی تھی۔ ’ایتھنولاگ‘ جو کہ زبانوں کا ریکارڈ رکھنے والا ادارہ ہے کے مطابق بھی یہ زبان معدوم ہو چکی ہے اور اس کو بولنے والا کوئی شخص باقی نہیں ہے۔ فخر الدین کے مطابق بدیشی کا تعلق ہند ایرانی زبانوں کے خاندان سے ہے۔ بدیشی کی قریبی زبانوں میں ہنزہ اور پامیر میں بولے جانے والی ’وخی‘ اور چترال میں بولی جانے والی زبان ’یدغا‘ شامل ہیں۔ سوات میں معدومیت کے خطرے سے دوچار مقامی زبانوں کے تحفظ کے لیے قائم ادارے ’ادارہ برائے تعلیم و ترقی‘ کے سربراہ زبیر توروالی نے بھی بدیشی زبان کے معدوم ہونے کی تصدیق کی۔ ’اس زبان کے بولنے والے ہمارے علاقے کے قریبی گاؤں سے تھے اس لیے ہمیں پتا ہے کہ ان کو مکمل زبان نہیں آتی تھی بلکہ اس زبان کے کچھ الفاظ آتے تھے۔‘ دلچسپ بات یہ ہے کہ بدیشی کی قریبی سمجھی جانے والی زبان یدغا بھی معدومیت کے شدید خطرے سے دوچار ہے۔

معدومیت کے فوری خطرے کا سامنا کرنے والی زبانوں میں گلگت بلتستان میں بولی جانے والی زبان ڈومیکی سرِفہرست ہے۔ فخرالدین اخونزادہ کے مطابق ’ڈومیکی بولنے والے افراد کی تعداد 300 سے بھی کم رہ گئی ہے اور یہ زبان معدوم ہونے کے قریب تر ہے۔ اسی طرح پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی وادی نیلم میں بولی جانے والی زبان کنڈل شاہی بھی ختم ہونے کے شدید خطرے سے دوچار ہے۔‘ ماہر لسانیات ڈاکٹر خواجہ عبدالرحمان، جو کنڈل شاہی زبان کو محفوظ کرنے پر کام کر رہے ہیں، کا کہنا ہے کہ ’اس زبان کے بولنے والوں کی تعداد 400 سے بھی کم رہ گئی ہے۔‘

’فورم فار لینگویج انیشیٹیو‘ کی تحقیقات کے مطابق سوات میں ’اشوجو‘ زبان کو بھی معدومیت کے شدید خطرے کا سامنا ہے اور اس کے بولنے والے تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔ شمالی پاکستان کے علاقے چترال میں کھوار کے علاوہ 10 مادری زبانیں بولی جاتی ہیں جن میں کلاشہ، یدغا، پالولہ، شیخانی، دامیلی، گواربتی، واخی، مداک لشٹی، گوجری اور پشتو شامل ہیں۔ فخرالدین کے مطابق ’چترال میں بولی جانے والی تمام زبانیں معدومیت کے خطرے سے دوچار ہیں تاہم ان میں کلاشہ، یدغا اور گواربتی کو انتہائی خطرے کا سامنا ہے۔ یدغا چترال کے علاقے لٹکوہ کے چند گاؤں میں بولی جاتی ہے جبکہ کلاشہ مشہور کیلاش قبیلے کی زبان ہے۔‘

چھوٹی زبانوں کے معدوم ہونے کی وجوہات کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ ’پاکستان میں اردو اور سندھی کے علاوہ کسی زبان کو حکومتی سرپرستی حاصل نہیں اور ان زبانوں پر اور ان میں تحقیق اور تصنیف کا کام نہ ہونے کے برابر ہے۔
فخرالدین کے مطابق کوہستان میں تین چھوٹی زبانیں ’بٹیری‘، ’گاؤرو‘ اور ’چلیسو‘ بھی معدومیت کے شدید خطرے سے دوچار ہیں۔ کوہستان ہی میں بولی جانے والی زبان انڈس کوہستانی بولنے والوں کی تعداد اگرچہ سات لاکھ کے قریب ہے لیکن اس زبان کا انداز تحریر حال ہی میں بنا ہے۔

چترال میں زبانوں کے تحفظ اور فروغ کے لیے قائم غیر سرکاری ادارے ’مدرٹنگ انیشیٹیو فار ایجوکیشن اینڈ ریسرچ‘(میئر) کے سربراہ فرید احمد رضا کا کہنا ہے کہ کلاشہ زبان میں رسم الخط موجود ہے، سکول میں پڑھائی جاتی ہے لیکن اس کے باوجود یہ زبان معدومیت کے شدید خطرے سے اس لیے دوچار ہے کہ اس کو بولنے والے کیلاشی لوگ تیزی سے اپنا مذہب تبدیل کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’کلاشہ علاقے کی واحد زبان ہے جسے لکھنے کے لیے رومن رسم الخط یعنی (رومن سکرپٹ) استعمال کیا جاتا ہے۔‘ ’حکومتی سطح پر مقامی یا مادری زبانوں کے تحفظ اور فروغ کے حوالے سے اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔‘ فخرالدین اخونزادہ کے مطابق ’پاکستان میں مادری زبانوں کے حوالے سے کچھ سال پہلے تک حکومتی سرپرستی نہ ہونے کے برابر تھی۔‘ ’کسی زبان کو ختم کرنے کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ ریاست یا حکومت اس کی ترویج اور ترقی کے اقدامات نہ کرے اور اسے کہیں پڑھایا نہ جائے۔‘