ستاروں سے آگے - پروفیسر جمیل چودھری

انسان جب اوپر کی طرف دیکھتا ہے۔حیرانی ہی حیرانی۔اوپر جانے اور جانکاری کاشوق صدیوں سے ہے۔مطالعات تو صدیوں سے تھے۔لیکن20۔ویں صدی میں اس نے کامیابی کے مراحل طے کرناشروع کئے۔بات خلاء میںچکر لگانے سے شروع ہوئی تھی۔

تب پہل روس نے کی تھی۔پھر امریکہ نے چاند پر اترکر سب کوپیچھے چھوڑ دیا۔یہ قصہ اب قدیم لگتا ہے۔کئی دہائیوں سے اب رخ ستارے مریخ کی طرف ہے۔امریکہ کی پہلی گاڑی1997ء میں اتری تھی اورآخری Rover۔6اگست2012ء کوپہنچا۔تب اتارے جانی والی گاڑی کانام Cuorisityتھا۔تب پہنچنے کا وقت 8۔ماہ15۔دن تھا۔اور آئندہ مشن کے اعلان میں یہ وقت7۔ماہ بتایاجارہا ہے۔ان پروگراموں سے یہ اظہار ہورہا ہے کہ انسان اپنی صلاحیتوں کوبھرپور انداز سے استعمال کررہا ہے۔

سورج کے اردگرد8سیارے گردش کررہے ہیں۔علم نجوم کے ماہرزمین پربیٹھ کر ہی ان ستاروں کے انسانوں پر اثرات کیسے پڑھیں گے؟۔یہ معلوم کرتے رہتے ہیں۔بہت سے لوگ اس شعبہ سے دلچسپی رکھتے ہیں۔لیکن جوقومیں سائنس اورٹیکنالوجی میں بہت آگے بڑھ چکی ہیں۔وہ ان سیاروں تک پہنچنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔امریکہ کے ساتھ ساتھ روس اورچین بھی خلائی ٹیکنالوجی میں کافی ترقی یافتہ ہیں۔

مریخ کی طرف روانہ ہونے کے لئے امریکہ کا5 واں مشن تیاریوں کے آخری مراحل میں ہے۔اس دفعہ کے منصوبے میں کافی مشکل کام شامل ہیں۔2012ء میں اترنے والی گاڑیوں کی Videoمیرے ذہن میں اب تک یاد ہے۔گاڑی میں ایسے بلیڈ لگے ہوئے تھے جومٹی کھود رہے تھے۔تب اس گاڑی سے آنے والی معلومات سے یہ معلوم ہواتھا کہ وہاں قدیم زمانے سے خشک جھیلیں موجود ہیں۔اوربہتے ہوئے پانی نے کچھ ٹیلے بھی بنا دیئے تھے۔گاڑی میں نصب طاقتور آلات2سال تک معلومات ارسال کرتے رہے تھے۔ناسا نے مریخ پر آواز کے سگنل بھیجے اور ادھر سے واپس بھی آئے۔اس دفعہ مشن روانگی کیTentativeتاریخوں کا اعلان کردیاگیاہے۔یہ17۔جولائی سے لیکر5۔

اگست2020ء ہے۔کینڈی سپیس سنٹر فلوریڈا میں تمام اشیاء پہنچائی جارہی ہیں۔مریخ تک پہنچنے کادورانیہ اس دفعہ7۔ماہ بتایاجارہا ہے۔روانگی کے لئے ایسے موقع کاانتظام کیاجارہا ہے جبکہ سیارہ زمین اور مریخ کے درمیان کم ازکم فاصلہ ہو۔گاڑی لے جانے والے خلائی جہاز کا راستہ نقشہ کے ذریعے واضح کیاگیاہے۔زمین سے روانہ ہونے والا خلائی جہاز مریخ کے ایک طرف سفرکرکے اس کے بالائی حصہ پر آئے گا۔اورجگہ کاتعین قدیم زمانے کی خشک جھیل کے قریب ہے۔اب زمانہ طاقتور اورذہین روبوٹ کاہے۔اس مشن میں بھی یہی روبوٹ اپنی کارکردگی دکھائے گا۔روبوٹ میںChopperلگائے گئے ہیں۔یہ مٹی کی کٹائی کرکے اسے چھوٹی چھوٹی ٹیسٹ ٹیوبوں میں ڈالے گا۔جھیل کے ساتھ ساتھ قریبی بنے ہوئے مٹی کے ٹیلوں سے بھی نمونے لئے جائیں گے۔

اس ساری صورت حال کو آپ گھر بیٹھے دیکھ رہے ہونگے۔جھیل میں ہوسکتا ہے کہ قدیم زمانے کی مچھلیوں یاکسی دیگر جانور کےFossilsموجود ہوں۔انہیں بھی باریک کرکے نالیوں میں ڈالا جائے گا۔موجودہ مشن کا اس دفعہ ایک ہی مقصد ہے کہ یہ معلوم کیاجائے کہ کیا کسی زمانے میں مریخ پرزندگی موجود رہی ہے؟۔اب تک کے مطالعات کے مطابق مریخ پر 4۔بلین سال پہلے پانی بہت واضح شکل میں تھا۔اب صرف شمال اور جنوب میں برف نظر آتی ہے۔جیسے زمین کے شمال اورجنوب میںبرف کے پہاڑ ہیں۔23اقسام کے خصوصی طاقتور کیمرے اور بہت سےAntinasبھی بھیجے جارہے ہیں۔یہ تمام سازوسامان مریخ اورزمین کے درمیان رابطے کاکام سرانجام دیتے رہیں گے۔

سگنلز 20منٹس کے بعد وصول ہوںگے۔اب سے پورے ایک سال بعد اس مشن کومریخ پرلینڈ کرنا ہے۔اترنے کاوقت ہی سب سے زیادہ احساس ہوتا ہے۔یہ وقت صرف7۔منٹس ہیں۔اسکی پلاننگ بہت سی سمجھ داری اور احتیاط سے ہوتی ہے۔مشن کی کامیابی کاانحصار پلاننگ کے تحت بحفاظت اترنے میں ہے۔پھرروبوٹ اپنے فرائض سرانجام دینا شروع کردے گا۔6۔پہیوں والی گاڑی بھی ابھی سے دکھائی جارہی ہے۔ٹیسٹ ٹیوبس اس دفعہ نہیں بلکہ آئندہ جانے والا مشن واپس لیکر آئے گا۔پھراس مٹی کے مطالعات شروع ہونگے۔زندگی کے آثار تلاش کئے جائیں گے۔8۔سیاروں میں صرف مریخ ہی کے طبعی حالات زمین سے ملتے جلتے نظر آتے ہیں۔

مریخ کاجوحصہ سورج سے چمک رہاہوتا ہے۔وہاں درجہ حرارت 14ڈگری ریکارڈ کیاگیا ہے۔اوررات والے حصے میں شدید ٹھنڈ ہوتی ہے۔مریخ سے آنے والے سگنلز20۔منٹس میں ناساسنٹر میں پہنچنے لگیں گے۔زمین اورمریخ کا فاصلہ ہروقت ہی بدلتارہتا ہے۔دونوں مختلف Orbitsمیں رہتے ہوئے سورج کے گرد گردش میں ہیں۔دونوں کی اپنی محوری گردشیں بھی ہیں۔جب دونوں قریب ہوتے ہیں توفاصلہ 5کروڑ44لاکھ کلومیٹر بتایاجاتا ہے۔زیادہ سے زیادہ26کروڑ67لاکھ کلومیٹر بھی ہوتا ہے۔یہ فاصلہ ہروقت تبدیل ہورہاہوتا ہے۔خلائی جہاز بھیجنے کاپروگرام بناتے وقت ان تمام تفصیلات کومدنظر رکھاجارہا ہے۔کم ازکم فاصلہ ہی فائدہ مند ہوتا ہے۔

انسانی عقل اگر کوئی اسے استعمال کرے بڑے کارنامے سرانجام دے سکتی ہے۔دنیاکی عقلمند اورترقی یافتہ قومیں سالہاسال سے یہ کام کرتی چلی آرہی ہیں۔سائنسی مہمات ٹیکنالوجی کی مہارت کے ساتھ ساتھ بے شمار فنڈز بھی مانگتی ہیں۔ایسی مہمات کے اخراجات بھی اربوں ڈالرز پرمشتمل ہوتے ہیں۔ہم انسانی،عقل،سمجھ،فہم،سائنس اورٹیکنالوجی میںکمال اپنے سامنے Liveدیکھ رہے ہیں۔ہم کہہ سکتے ہیں کہ انسان اب عام انسان نہیں بلکہ سپرمین بن چکاہے۔

مصنوعی ذہانت کااستعمال بڑھنے سے انسان کی موجودہ ہئیت بدلتی جارہی ہے۔پروفیسر نوح ہراری کے مطابق21۔ویں صدی کے آخر میں موجودہ انسان کی ہئیت بہت بدل جائے گی۔اسکی جسمانی اورذہنی صلاحیتوں کوکئی گنا بڑھانے کی تیاریاں جاری ہیں۔عمر بھی موجودہ اوسط70سال سے بڑھ کر 150سال کی جانے والی ہے۔پھر انسان صدیوں کاانسان بن جائے گا۔یہ تفصیلات کسی اور کالم کے لئے اٹھارکھتے ہیں۔مریخ پرگزشتہ لیبارٹری کے اترنے کے ایک سال بعدسروے کرایاگیاتھا۔اور71۔فیصد امریکی انسان کو مریخ پر بھیجنے کے حامی تھے۔اگرناسا سنٹر کوفنڈز اورسہولیات ملتی رہیں تو انسان آئندہ20تا30سال میں مریخ پرپہنچ جائے گا۔

اورحیرت سے اردگرد کی فضاؤں کودیکھ رہاہوگا۔اور کبھی وہاں بڑی آبادی ہوگئی توتہذیب اورکلچر بالکل مختلف ہونگے۔پروفیسر سٹیفن ہاکنگ بھی2۔وجوہات کی بناء پر انسان کو کسی اور ستارے پر آباد ہونے کامشورہ دیاکرتے تھے۔وہ بتایاکرتے تھے کہ انسان نے موجودہ سیارے پر آبادی کو بہت بڑھالیا ہے اور یہ سیارہ زمین اب اربوں انسانوں کابوجھ نہیں اٹھا سکتا۔وسائل بہت زیادہ استعمال ہوچکے ہیں۔دوسری وجہ وہ یہ بتایاکرتے تھے۔

کہ موجودہ کرۂ ارض پرملکوں نے آپس کی تباہی کے بے شمار ہتھیار بنالئے ہیں۔کسی بھی وقت کچھ بھی ہوسکتا ہے۔لہذا زمین کو چھوڑ دینے میں ہی انسان کی بقاء ہے۔تسخیر کائنات کاعمل ترقی یافتہ قوموں نے شروع کررکھا ہے۔مسلم قوم کے تو ذہنوں میں یہ باتیں نہیں آتیں۔چلیں دوسروں کوپہنچتے اوراترتے تودیکھتے ہیں۔البتہ ہمارے شعراء نے اپنی خواہش کااظہار توکیاتھا۔

ـؔعروج آدم خاکی کے منتظر ہیں تمام

یہ کہکشاں ،یہ ستارے،یہ نیلگوں افلاک