سانپ کے زہر سے کینسر کا علاج دریافت کرنے کا دعویٰ

نیویارک: امریکا کے تحقیقی اور طبی ماہرین نے سانپ کے زہر سے کینسر کا علاج دریافت کرنے کا دعویٰ کردیا۔یونیورسٹی آف کورینا اور یو این سی ڈیپارٹمنٹ آف بایولوجی (حیاتیات) کے ماہرین نے کینسر کی روک تھام اور اس کے علاج کے حوالے سے ایک تحقیقی مطالعہ کیا۔

ماہرین کا دعویٰ ہے کہ انہیں تحقیق کے دوران کینسر کا موثر طریقہ علاج مل گیا جو سانپ کے زہر میں چھپا ہوا ہے۔تحقیقی ماہرین کے مطابق کسی بھی سانپ کے زہر میں سیکڑوں ایسے اجزا شامل ہوتے ہیں جو کینسر کا باعث بننے والے وائرس سے لڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا میں پائے جانے والے تمام سانپوں کے زہر سے کینسر کی دوا تیار کی جاسکتی ہے۔ تحقیق کے دوران ماہرین نے امریکا اور برطانیہ میں استعمال ہونے والی اُس دوا کا مشاہدہ بھی کیا جو سانپ کے زہر سے تیار کی جاتی ہے اور لوگ اسے مختلف بیماریوں میں استعمال کرتے ہیں۔

تحقیقی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر اسٹیفن کا کہنا تھا کہ مطالعے کے نتائج سامنے آنے کے بعد میرا اس بات پر یقین ہوگیا کہ سانپ کے ذریعے کینسر کا علاج ممکن ہے اور اس کے زہر میں موجود اجزا کسی بھی قسم کے سرطان سے لڑنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔

ڈاکٹر اسٹیفن نے دعویٰ کیا کہ تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ جن لوگوں پر کبھی سانپ نے کاٹا اور اُن کے جسم میں تھوڑا بھی زہر پھیلا تو ایسے لوگوں کے جسم میں موجود خلیات میں کینسر سے لڑنے کی صلاحیت پیدا ہوئی۔

تحقیق کے دوران سانپوں اور اُس کے زہر کے حوالے پی ایچ ڈی کرنے والے ٹینر ہاروے کا کہنا تھا کہ ’یہ تحقیق ہمارے لیے بہت مددگار ثابت ہوسکتی ہے کیونکہ سانپ کا زہر اُسے مارے بغیر بھی حاصل کیا جاسکتا ہے‘۔

ماہرین کے مطابق سانپ کا زہر انسان کے پٹھوں اور دل کو مضبوط بناتا جبکہ اس کی وجہ سے جسم میں خون کی روانی بھی بہتر ہوتی اور مرے ہوئے خلیات متحرک ہوجاتے ہیں۔